تازہ ترینجرم کہانیفن اور فنکار

آریان خان کیس: تفتیش کاروں پر شاہ رخ خان سے 25 کروڑ روپے کی رشوت مانگنے کا الزام

مذکورہ کیس میں این سی بی کے ایک گواہ پربھاکر سائل جو کرن گوساوی کے محافظ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، نے کہا کہ کرن گوساوی نے 25 کروڑ بھارتی روپے رشوت مانگی، 18 کروڑ روپے پر معاملہ طے ہونا تھا اور این سی بی کے زونل ڈائریکٹر سمیر وانکھیڈے کو 8 کروڑ روپے ادا کیے جانے تھے۔

بولی وڈ کنگ شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان کے خلاف منشیات کے کے کیس میں ایک گواہ نے الزام لگایا ہے کہ نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سے بی ) کے تفتیش کاروں نے آریان کی رہائی کے لیے شاہ رخ کے منیجر سے 25 کروڑ بھارتی روپے رشوت دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گواہ نے الزام لگایا کہ نجی تفتیش کار جس کی آریان خان کے ساتھ سیلفی پر اعتراضات اٹھائے گئے تھے، نے کیس نمٹانے کے لیے سپر اسٹار سے 25 کروڑ روپے رشوت مانگی۔

مذکورہ کیس میں این سی بی کے ایک گواہ پربھاکر سائل جو کرن گوساوی کے محافظ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، نے کہا کہ کرن گوساوی نے 25 کروڑ بھارتی روپے رشوت مانگی، 18 کروڑ روپے پر معاملہ طے ہونا تھا اور این سی بی کے زونل ڈائریکٹر سمیر وانکھیڈے کو 8 کروڑ روپے ادا کیے جانے تھے۔

یہ الزامات سامنے آنے کے بعد سمیر وانکھیڈے کو وسیع پیمانے پر تنقید کا سامنا ہے۔

انہوں یہ بھی الزام لگایا کہ این سی بی کے عہدیداران بشمول سمیر وانکھیڈے نے ان سے 2 اکتوبر کی صبح سویرے خالی کاغذات پر دستخط کرنے کو کہا جب این سی بی نے کروز شپ پر چھاپا مارا تھا اور آریان خان سمیت دیگر کو حراست میں لیا تھا۔

پربھاس سائل نے کہا کہ ’مجھے اس بات کا کوئی اندازہ نہیں تھا کہ میں ایک گواہ ہوں، میں این سی بی کے دفتر میں اس وقت داخل ہوا جب مجھے بلایا گیا اور کاغذات پر دستخط کرنے کو کہا گیا‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’جب میں نے خالی کاغذات پر دستخط کرنے پر اعتراض کیا تو سمیر وانکھیڈے نے مجھ سے کہا کہ دستخط کردو کچھ نہیں ہوگا‘۔

پربھاس سائل نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ کہ ’کرن گوساوی نے بھی مجھ سے دستخط کرنے کو کہا، اتنے سارے اہلکار تھے، میں کیسے بحث کر سکتا تھا؟

انہوں نے بتایا کہ انہیں کم از کم 9 خالی صفحات پر دستخط کرنے کے لیے کہا گیا تھا اور جس اہلکار نے ان کے دستخط لیے تھے اس نے ان کے آدھار کارڈ کی سافٹ کاپی بھی لے لی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے آریان خان کو کاغذات پر دستخط کرنے کے بعد ہی دیکھا تھا۔

پربھاس سائل نے کہا کہ ’آرین خان کو دیگر ملزمان سے الگ رکھا گیا تھا، میں نے ویڈیو بنائی تھی جس میں کرن گوساوی کو آریان کے ساتھ بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے جو کہ این سی بی دفتر کے اندر کی ویڈیو تھی‘۔

انہوں نے الزام لگایا ہے کہ کرن گوساوی، سیم ڈی سوزا اور شاہ رخ خان کی منیجر پوجا ددلانی نے ’ڈیل‘ کے لیے ایک گاڑی کے اندر میٹنگ کی تھی۔

پربھاس نے کہا کہ ’میں پوجا ددلانی کو جانتا تھا کیونکہ وہ مشہور ہیں، میں نے انہیں دیکھنے کے بعد ان کا نام بھی گوگل کیا تھا‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے کرن گوساوی کو فون پر ایک شخص بظاہر ڈی سوزا سے باتیں کرتے ہوئے سنا، جس میں ’ میں نے شاہ رخ خان کا نام سنا تھا، کرن گوساوی نے کہا تھا کہ ہم شاہ رخ کی منیجر سے 25 کروڑ کا مطالبہ کریں گے، 18 پر معاملہ طے کریں گے، 8 کروڑ این سی بی کے تفتیش کار سمیر وانکھیڈے کو دیں گے اور باقی آپس میں تقسیم کرلیں گے‘۔

پربھاس سائل نے کہا کہ ’ان سے 3 اکتوبر کو مہالکشمی علاقے سے 50 لاکھ روپے لینے کا کہا گیا تھا، جس دن این سی بی نے کروز شپ پر چھاپا مارا تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’وہاں پہنچ کر 2 آدمیوں نے انہیں ایک بیگ دیا اور جب انہوں نے کرن گوساوی اور ان کی بیوی کو وہ بیگ دیا تو اس کے بعد وہ وہاں سے چلے گئے تھے‘۔

پربھاس سائل نے کہا کہ ’کرن گوساوی نے مجھے میری تنخواہ بھی نہیں دی تھی، انہوں نے مجھے بچوں کی فیس ادا کرنے کے لیے ایک چیک دیا تھا، لیکن وہ باؤنس ہو گیا‘۔

انہوں نے کہا کہ وہ آخری بار 7 اکتوبر کو کرن گوساوی سے ملے تھے، انہوں نے مزید کہا کہ کرن گوساوی نے انہیں 21 اکتوبر کو فون کیا اور بتایا تھا کہ وہ جلد ہی سرینڈر کردیں گے۔

پربھاس سائل نے کہا کہ کروز شپ پارٹی سے قبل کرن گوساوی نے انہیں کئی تصاویر دی تھیں اور ان لوگوں پر نظر رکھنے کو کہا تھا۔

کرن گوساوی کے اپنے خلاف الزامات کی تردید کے جواب میں پربھاس سائل نے کہا کہ ان کے پاس مزید ثبوت ہیں جو وہ جلد پیش کریں گے۔

خیال رہے کہ شاہ رخ خان کے بیٹے کو اکتوبر آغاز میں ساتھیوں سمیت ممبئی کے ساحل سمندر پر ایک کروز شپ سے گرفتار کیا گیا تھا، ان پر الزام ہے کہ وہ ساتھیوں سمیت مذکورہ کروز میں ڈرگ پارٹی کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔

انہیں انسداد منشیات فورس یعنی نارکوٹکس کنٹرول بیورو نے دوستوں ارباز مرچنٹ، منمن دھمیچا، نوپور سریکا، اسمیت سنگھ، موہک جسوال، وکرانت چوکر اور گومت چوپڑا سمیت کروز پارٹی سے گرفتار کیا تھا۔

آریان خان اس وقت دیگر ساتھیوں کے ہمراہ ممبئی کے آرتھر جیل میں ہیں جبکہ ان کے ہمراہ گرفتار کی گئی دو خواتین منمن دھمیچا سمیت دوسری خاتون کو عورتوں کے جیل میں رکھا گیا ہے۔

آریان خان کی گرفتاری اور عدالت میں چلنے والی کارروائیوں کی وجہ سے ان کا کیس بھارت کا انتہائی ہائی پروفائل کیس بن چکا ہے اور مذکورہ معاملے پر سیاست دان بھی کود پڑے ہیں۔

کئی لوگ مسلمان اداکار کے بیٹے کی گرفتاری اور ان کے خلاف عدالتی کارروائیوں کو مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض لوگ مذکورہ معاملے کو نارکوٹکس فورس کی پھرتیاں کہہ رہے ہیں۔

Leave a Reply

Back to top button