انٹرویوز

آزاد نظم میری زندگی کا سہارا ہے: ڈاکٹر زاہد منیرعامر

محقق، شاعر اور صدر شعبہ اردو، جامعہ پنجاب، پروفیسر ڈاکٹر زاہد منیر عامر سے راجا نیئر کا مکالمہ

راجا نیئر
قارئین! آج ہم آپ کی ملاقات ایک ایسی علمی وادبی شخصیت سے کروا رہے ہیں جو کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ایک ہمہ جہت شخصیت، شاعر، ادیب، کالم نویس، سفرنامہ نگار، نقاد، محقق، مدون جو اپنے تمام تر تخلیقی وتحقیقی کام میں نمایاں تر دکھائی دیتے ہیں۔ وہ شخصیت ہے پروفیسر ڈاکٹر زاہد منیر عامر جو آج کل اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ اْردو کے صدر کی حیثیت سے فرائض منصبی ادا کر رہے ہیں۔ متعدد بار پاکستان کی طرف سے کئی ممالک میں علمی وادبی حوالے سے نمائندگی کر چکے ہیں۔ مصر میں بھی اْردو تدریس کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔آیئے! ڈاکٹر زاہد منیر عامر سے ملاقات میں ہونے والی گفتگو ملاحظہ فرمائیں!
سوال: ڈاکٹر صاحب سب سے پہلے آپ ہمیں یہ بتائیں کہ ادب سے آپ کی وابستگی کیسے اور کب ہوئی؟
ڈاکٹر زاہد منیر عامر: گلشن حیات میں کھلنے والا ہر پھول پہلے ہی د ن سے اپنا رنگ و روپ ساتھ لاتا ہے بعد میں اس کی دریافت کا عمل انجام پاتا رہتا ہے۔ ادب سے وابستگی کا سلسلہ بھی اسی طرح سے ہے اور جہاں تک دریافت کا عمل ہے وہ تو ہنوز جاری ہے۔ اگر آپ کے اس سوال کاتعلق بالکل ہی ظاہری سطح سے ہے تو پھر عرض ہے کہ پہلی کتاب میٹرک کے زمانہ طالب علمی میں لکھی تھی جس پر احمد ندیم قاسمی، ڈاکٹر سید عبداللہ، نسیم حجازی، ڈاکٹر وزیرآغا جیسے بزرگوں نے مضامین لکھے جس سے حوصلہ بڑھا۔
سوال: شاعر، ادیب، محقق، نقاد،کالم نویس، مضمون نگار، کمپیر، مقرر، مدون، ہمہ جہت ہونا آسان ہے کیا؟
ڈاکٹر زاہد منیر عامر:کوئی بھی شعبہ زندگی ہو محنت، مستقل مزاجی اور پابندی وقت اپنا رنگ دکھاتی ہے، مجھے ہمہ جہتی کا تو دعویٰ نہیں البتہ ان میدانوں میں اپنی سی کاوشیں کی ہیں۔
سوال: نظم نے آپ کو کب منتخب کیا، اتنی گہرائی اور گیرائی سے آشنائی کیسے ممکن ہوئی؟
ڈاکٹر زاہد منیر عامر: آپ کی یہ بات بہت اچھی لگی کہ نظم نے شاعر کا انتخاب کیا۔ حقیقت میں کوئی بھی صنف ہو جب تک انسان کے داخل میں اس کے لیے مناسبت نہیں ہو گی۔ اس کی کاوشیں رائیگاں ہی کہلائیں گی۔ داخل کی یہ مناسبت ظہور کر کے رہتی ہے”شہر میں جا کے بلا لائے گا صحرا مجھ کو“ والی بات ہے۔ میری زندگی کی شعری جہت کا آغاز تو غزل سے ہوا۔ دور ِطالب علمی ہی میں میری بعض غزلیں گائی بھی گئیں، مشاعروں میں بھی میرا تعارف غزل کے شاعرکے طور پر ہی ہوتا تھا۔ غزل کے علاوہ میں نے بہت سی پابند نظمیں بھی کہیں، اس زمانے میں انھیں بھی مقبولیت ملی جو میرے اوّلین شعری مجموعے میں اب بھی موجود ہیں لیکن ایک دن اچانک مجھ پر آزاد نظم منکشف ہو گئی یا آپ کے الفاظ میں آزاد نظم نے مجھے منتخب کر لیا۔ میں سرگودھا چھوڑ کر ایم اے کرنے کے لیے لاہور آ رہا تھا ……سرگودھا سے دلی وابستگی تھی لیکن تعلیم بھی مکمل کرنا تھی، مسرت اور ملال ایک ہی صف میں کھڑے تھے۔ اداسی کی کیفیت تھی کہ بے ساختہ نظم”آخری دن“ لکھی گئی۔”آخری دن“ میری جدید نظم سے وابستگی کا پہلا دن ثابت ہوئی۔ اس کے بعد مجھے یوں لگا کہ میں جو کہنا چاہتا تھا اب تک تو محض اسے بیان کرنے کی کوشش ہی کر رہا تھا۔ اس کا پیرایہ بیان تو اب معلوم ہوا۔ آزادنظم میری زندگی کا سہارا ہے، دنیا مایوس کرنے لگتی ہے تو نظم مجھے اپنی بانہوں میں لے لیتی ہے اور میری سانسیں بحال ہو جاتی ہیں۔ مجھے اپنے باطن کی یہ شمع اپنے کاموں میں سب سے زیادہ عزیزہے۔
سوال:آپ نے مصر میں اردو ادب کے حوالے سے کافی عرصہ خدمات انجام دیں، مقامی وغیر مقامی طلبا میں کیا فرق محسوس کیا؟
ڈاکٹر زاہد منیر عامر: میں جامعہ الازہر قاہرہ میں پاکستان چیئر پر تھا۔ وہاں بی اے، ایم اے اور پی ایچ ڈی کی سطح پر اردو کی تدریس ہوتی ہے۔ چونکہ وہاں اساتذہ مصری ہیں اس لیے وہ اردو بھی عربی میں پڑھاتے ہیں۔ نتیجتاً اردو میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کر لینے والے بھی اردو میں گفتگو پر قادر نہیں ہوتے۔ یہاں صورت حال مختلف ہے اردو ہماری اپنی زبان ہے، ہر سال بہت اچھے اور قابل طالب علم بھی آتے ہیں جو مستقبل کے ادبی منظر نامے میں نمایاں خدمات انجام دیتے ہیں۔ اگر ہم بیرون ممالک قائم اردو شعبوں کو ترقی کرتے دیکھنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ وہاں زیادہ سے زیادہ پاکستانی اساتذہ کو بھیجا جائے۔ اہل زبان اور غیر اہل زبان کی تدریس میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔
سوال: پنجاب یونی ورسٹی جیسی بڑی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہوئے، ذمہ داریوں کے باعث ذاتی زندگی تو متاثر ہوتی ہوگی؟
ڈاکٹر زاہد منیر عامر: جی ہاں انتظامی ذمہ داریوں کی قیمت تو ادا کرنا ہوتی ہے لیکن اس طرح آپ اپنے ان خوابوں کی تعبیر بھی تلاش کر سکتے ہیں جو آپ نے ان اداروں کی بابت دیکھے ہوتے ہیں جن سے آپ کا عمر بھرکا تعلق رہا ہو۔
سوال: میر سوزکی ازسرنو بھرپور دریافت کو علمی و ادبی حلقوں میں بہت سراہاگیا، تمام ترمصروفیات کے باوجود کیسے کامیابی سے ہم کنار ہوئے؟
ڈاکٹر زاہد منیر عامر: میرسوز کا انتقال 1798ء میں ہوا۔ میں نے دوصدیوں کے بعد ان کے کل کلام کی تدوین کی۔ رسمی طور پر تو یہ میرا پی ایچ۔ ڈی کا مقالہ تھا لیکن حقیقت میں، میں پی ایچ ڈی کے لیے رجسٹر ہونے سے پہلے اور پی ایچ ڈی کی ڈگری مل جانے کے بعد بھی اس موضوع پر کام کرتا رہا یوں۔ تدوین متن کی یہ منزل ربع صدی میں جا کر مکمل ہوئی۔ تدوین متن کی شیشہ گری سے واقف لوگ ہی جان سکتے ہیں کہ یہ کام کس قدر محنت اور باریک بینی کا حامل ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کام نے میری ہڈیاں گھلا دیں مگر اس بات کی خوشی ہے کہ اردو دنیا دو صدیوں کے قرض سے سبک دوش ہوگئی۔
سوال: پنجاب یونی ورسٹی کا پرائیویٹ جامعات سے تقابلی جائزہ لینے پر معیار کے حوالے سے بہت سے تحفظات پائے جاتے ہیں۔ آپ گزشتہ ربع صدی سے بھی زائد عرصے سے یہاں تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں، آپ اس حوالے سے کیا کہیں گے؟
ڈاکٹر زاہد منیر عامر: پنجاب یونی ورسٹی ملک کی قدیم ترین اور عظیم ترین یونی ورسٹی ہے، مجھے اس ادارے کی تاریخ لکھنے کا اعزاز بھی حاصل ہے، اس سے پہلے جو جامعات قائم ہوئیں وہ محض امتحان لینے کے ادارے تھے، یہ اس خطے کی پہلی تدریسی یونی ورسٹی ہے لیکن افسوس کہ پچھلے ایک طویل عرصے سے اس کا ماحول سیاست کی آماجگاہ بنا رہا جس کے نتیجے میں وہ صورت حال پیداہوئی جس کا ذکر آپ نے اپنے سوال میں کیا ہے، خوش قسمتی سے اب یونی ورسٹی کو ایسی قیادت مل گئی ہے جس سے اساتذہ کا میرٹ اور معیار پر اعتماد بحال ہوا ہے۔ ماضی کے تمام دکھ تو شاید ابھی دور نہیں ہو سکے لیکن اصلاح کی جانب سفر شروع ہو چکا ہے۔
سوال: اس قدر مصروفیات میں زاہد منیر عامرکے حصے میں کتنا وقت آتا ہے؟
ڈاکٹر زاہد منیر عامر: وقت کی مٹھی سے مسلسل پھسلتے لمحے کہاں گرفت میں آتے ہیں۔ انسان خود بھی انہی کی طرح زندگی سے رخصتی کے سفر پر گام زن رہتاہے، زندگی میں ادب وفن کی کھڑکی کھلی ہو تو کچھ دیرسستانے اور آئینہ دیکھنے کا وقت مل جاتاہے، خدا کا شکر ہے کہ مجھے یہ موقع میسر ہے۔آئینے اگر درست تصویردکھاتے رہیں تو خود سے بھی ملاقات ہو جاتی ہے۔
سوال: عصر حاضر کے ادبی منظر نامے کو کیسا دیکھتے ہیں؟
ڈاکٹر زاہد منیر عامر: عصر حاضر کا ادبی منظر نامہ شاداب ہے، مشرق و مغرب کے بہت سے ممالک میں جانے اور دنیا کے بہت سے ممالک کے نوجوانوں کو پڑھانے کے تجربے کے بعد میرا احساس ہے کہ ہمارے خطے کی نوجوان نسل دنیا بھر کے نوجوانوں سے زیادہ تخلیقی ہے، خاص طور سے شاعری اور افسانے میں ہمارے ہاں جو ادب تخلیق ہو رہا ہے اسے عالمی ادب میں بڑے فخرسے پیش کیا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Back to top button