سیلف ہیلپ

آسان زندگی…… سید ثمراحمد

کون ہے جو آسان زندگی نہیں چاہتا؟کون ہے جو آسانی کو پسند نہیں کرتا؟ ہر شخص کی خواہش ہے کہ اس کی زندگی خوبصورت اور سہل انداز میں گزرے۔ یہ ایک جائز اور فطری خواہش ہے۔ لیکن فی زمانہ لوگوں کی ایک کثیر تعداد اس کی تلاش میں سر ٹکراتی پھرتی ہے اور خانماں برباد ہے۔ کیا یہ ایک سراب ہے جو موجود نہیں لیکن اپنے پیاسے کو مارے جاتا ہے؟ کیا یہ ایک خوشنما دلدل ہے کہ نکلنے کے لیے جتنے ہاتھ پاؤں مارو مزید دھنستے چلے جاؤ؟ہم آج یہ ثابت کریں گے کہ یہ سراب ہے نہ دلدل بلکہ ایک قابل ِحصول منزل ہے۔ ہر وہ شخص جو مضبوط ارادے کے ساتھ اس مضمون کو اپنا لے گا، اپنی زندگی میں اسی لمحے سے فرق محسوس کر لے گا۔ ہم گلشنِ حیات میں کینسر کے اس ناسور کی نشان دہی کیے دیتے ہیں اور علاج کے لیے یقینی نسخہ بھی بتائے دیتے ہیں۔
گھُمن گھیری
معاشیات کی اہم اصطلاح ہے جسے سب خواہشات کے چکر یا Vicious Circle کے نام سے جانتے پہچانتے ہیں۔ یہ ایک وسیع اصطلاح ہے۔ ہم اپنے موضوع سے مطابقت کے لیے اسے’معیارِزندگی کے بت‘کا نام دیتے ہیں۔ شریعت ِ اسلامیہ میں اسے ہوائے نفس کی غلامی کہتے ہیں۔ اسے سرکل کا نام اسے لیے دیا گیا کہ سرکل کا سفر اور سفر (Suffer) کبھی ختم نہیں ہوتے۔ انسان خواہشات کے جالے میں ریشم کے کیڑے کی مانند پھنس جاتا ہے جو بالآخر دم گھوٹ کے اس جان لے لیتا ہے۔ لائف سٹائل میں آگے نکل جانے کی ضد رات کا چین اور دن کا قرار چھین لیتی ہے۔ یہی وہ ناسور ہے جس کو جسم سے علاحدہ کر دینا زندگی میں حرارت اور صحت بخش خون دوڑانے کا باعث ہو سکتا ہے۔ خواہش، مہران کے بعد ہنڈا، پھر مرسیڈیز پھر رولس رائس۔ مری اور ناران میں فلیٹ پھر سوئٹزرلینڈ اور وینس میں اپارٹمنٹس، تمام حدیں توڑتی چلی جاتی ہے۔ میچنگ اور کنٹراسٹ کپڑوں اور جوتوں سے بھری الماریاں۔ مہنگا ترین انٹیرئیر (Interior) جسے دیکھتے ہی اوسان خطا ہونے لگیں۔ غرض واش روم سے لے کے ایپرن تک ہر چیز ایسی منفرد اور مہنگی ہو کہ دوسرے نظر ڈالتے ہی مرعوب ہو جائیں اور ان کی آنکھوں میں نظر آنے والی حسرت ہمارے وحشی دل کو ”سکون“ دے جائے۔ سوال ہے کہ کیا ان بے چاروں اور کوتاہ فہموں کی زندگیوں کو یہ سکون ملتا بھی ہے؟ اگر ملتا ہے تو ان سے ھَل مِن مزید کی بدبو کیوں اٹھتی ہے۔ جان لو کہ سکون صرف بھلے دل کو ملتا ہے۔ جب یہ سکون ہی حاصل کرنا کامیاب زندگی کی تصویر ہے تو کیوں نا اسے حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ ہم کچھ کامیاب لوگوں کی مثالیں شئیر کرتے ہیں۔ جن کو اللہ نے بہت دیا لیکن انہوں نے حقیقت پالی کہ دولت سے گدے خرید ے جا سکتے ہیں میٹھی نیند نہیں۔ لہذا یہ زندگی میں توازن پیدا کرنے میں کامیاب رہے۔ کون ہے جو ان کی کامیاب زندگی پر حرف گیری کر سکے؟
وقت کا سب سے بڑا حاکم
عمر بن خطاب ؓ عرب کے مشہور مدبر، سیاستدان اور صحابی امیر معاویہؓ سے ملنے شام پہنچے۔ محل دیکھ کے کبیدہ خاطر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی رومیوں پر رعب طاری کرنے کے لیے قیمتی لباس پرشکوہ محل لازمی ہیں لیکن دیکھیں اس کے نیچے اسلحہ موجود ہے۔ مگر عمرؓ نے ابودرداؓ کی جھونپڑی میں رات گزاری۔ گزرے واقعات کی یادیں تازہ کیں اور حالات حاضرہ پر تبصرے ہوئے۔ صبح میزبان نے پوچھا کہ رات کیسی رہی؟ جواب دیا، ہمدمِ دیرینہ کی محفل لازوال سرمایہ تھی۔ سر کے نیچے اینٹ رکھ کے سوتے، جہاں جگہ مل جاتی لیٹ جاتے۔ آنے والے پہچان نہ پاتے کہ مسلمانوں کا حکمران کون ہے۔ بتایا جاتا تو حیرانی سے دانتوں تلے انگلیاں داب لیتے۔ جب بیت المقدس کا قبضہ حاصل کرنے نکلے تو جہاں آواز پہنچتی کہ عمر ؓ آرہے ہیں، زمین دہل جاتی۔ یہ اپنے وقت کی سب سے بڑی طاقت کا سربراہ تھا۔ مال و دولت اس کے قدم چومتے تھے۔ فارس سے جب مالِ غنیمت مدینہ پہنچا تو حیران ہوا کہ کیا انسان اپنی عیش کے لیے اس طرح کا سامان بھی بنا سکتا ہے۔کیا کوئی اس کی زندگی سے ایک جملہ بھی بتا سکتا ہے کہ جو عدم ِتوازن کو ظاہر کرتا ہو اور زندگی میں منفی ہنگامے کو بیان کرتا ہو۔ یہ وہ شخص تھا جس کے پاس بیٹھنے والے کا دل عقیدت و محبت میں اس کے ہاتھ میں آجاتا تھا۔
امیر ترین تاجر
حضوراقدسؐ کے پاس ایک سائل آیا۔ آپؐ نے حضرت عثمانؓ کے پاس بھیج دیا۔ گلیاں تنگ تھیں، گھر چھوٹے تھے۔ سائل دروازے پر آیا تو اندر سے آواز آرہی تھی۔ بیگم تم نے رات چراغ میں بتی موٹی ڈال دی۔ جس کی وجہ سے تیل زیادہ خرچ ہو گیا۔ اس نے دل میں سوچا کہ یہ تو کنجوس لگتے ہیں میری کیا مدد کریں گے۔ دستک دی، عثمان ؓ باہر آئے، مدعا عرض کیا، انہوں نے پوری تھیلی لاکے اس کے حوالے کر دی۔ حیرانی سے پوچھا، ابھی تو آپؓ بتی موٹی ڈالنے پہ لڑ رہے تھے اور مجھے بغیر مانگے اتنا دے دیا کہ میری نسلوں کو بھی کافی ہوگا۔
جواب ملا، وہ اپنی ذات پہ خرچ تھا اس لیے احتیاط برتی، یہ اللہ کے راستے میں ہے اس لیے فکر ہی کوئی نہیں۔
امام ابوحنیفہؒ اپنے دور میں کپڑے کے کامیاب ترین تاجر تھے۔ اپنے سب شاگردوں کا خرچ خود اٹھاتے۔ اور منکسرانہ انداز میں فرماتے کہ یہ سب آپ لوگوں کا حق ہے میں کوئی احسان نہیں کر رہا۔ دولت میں گھرے ہونے کے باوجود پورے گھر میں چٹائیاں بچھی نظر آتیں۔ ہر سال بعد گھر کا فرنیچر تبدیل کرنے والے،گاڑیوں اور بنگلوں کو زندگی کا مقصد بنانے والے جانیں، دنیا کے قاتل بھنور سے نکلنے کا راستہ کیا ہے۔ امام ابن سیرین بھی چوٹی کے کاروباری تھے۔ ایک دفعہ چالیس ہزار درہم کا تیل صرف اس بنا پہ بہا دیا کہ ایک پیکنگ سے چوہا نکل آیا تھا۔ یہ ہیں وہ جن کے پاس بیٹھ کے زندگی کا مغز ہاتھ آتا ہے۔
پاکستان کی سعید روحیں
دو گروپوں میں مسلح تصادم چل رہا تھا۔ زخمیوں کو اٹھانے کے لیے ایمبولینس آئیں۔ یکایک فائرنگ رک گئی۔ دونوں طرف کے لوگ اس آدمی کے احترام میں اپنی گنوں کو خاموش کرکے سلام پیش کر رہے تھے۔ اس کی گاڑیاں اپنا کام کر کے خاموشی سے چل دیں۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی پرائیویٹ ایمبولینس سروس کی گاڑیاں تھی۔ ان کا چلانے والے نے پچاس سال سے کھدر کے معمولی کپڑے زیب ِتن کیے تھے۔ حالانکہ کہ وسائل کے ساتھ آسائش سے پر زندگی گزار سکتا تھا۔ یہ سٹیل کی پلیٹوں میں کھانا کھانے والا اور معمولی گلاسوں میں پانی نوش کرنے والاہے۔ لیکن یہ برتن اس کے وجود کی برکت سے بے شمار قیمت کے حامل ٹھہرے ہیں۔ یہ عبدالستار ایدھی ہے۔ اخلاص و مہر و وفا کا پیکر۔ دردمند جب اپنی جھولی پھیلاتا تو لوگ خون پسینے کی کمائیوں سے اسے بھر دیتے۔ کون ہے جو کہے کہ یہ ناکام زندگی گزارتا تھا؟
یہ ایک خوبصورت اور اعلی تعلیم یافتہ خاتون کی کہانی ہے، مریم جمیلہ کی کہانی ہے۔ جو نیویارک کے ترقی یافتہ معاشرے میں رہتی تھی۔ عین جوانی کے عالم میں مادہ پرستانہ زندگی کے کھوکھلے پن سے بیزار ہو کے سچ کے نورکی تلاش میں نکل کھڑی ہوئی۔ پاکستان کے مشہور شخصیت سید مودودی سے متاثر ہوئی، خط و کتابت کے بعد جب مطمئن ہو چلی تو اسلام قبول کر لیا اور پچاس سال پہلے پاکستان کے غیر ترقی یافتہ معاشرے میں آبسی۔ پاکستانی ماحول سے مناسبت حاصل کرنے کے لیے اسے پتوکی بھیجا گیا۔ جہاں کی روح پرور فجر کی اذانوں کا حال اور اپنی خوشیاں وہ لکھ لکھ کے اپنے باپ کو بھیجتی رہی۔ اس نے پوری زندگی سنت نگر، لاہور کے ایک تنگ مکان میں گزار دی۔ اس کی وفات پر میری آنٹی (شاہ روز بانو)نے بتایا کہ قلعیاں اکھڑی ہوئی تھیں، معمولی سا گھر تھا۔ لیکن وہ شاد کام تھی۔ پوری زندگی اس صبر و شکر کے ساتھ گزاری کہ پاکستان بھر میں دوسری مثال کہاں ملتی ہے۔ وہ ان کے لیے سبق دے گئی جو سمجھ رکھتے ہیں اور بے مثال زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔
میں چنیوٹ میں اسے سن رہا تھا۔ جو پچاسی سال کا لڑکا تھا۔وہ اونچی سٹیج پہ بغیر سیڑھی کے چڑھ گیا تھا۔ کروڑ پتی تھا۔ کتنے ہی فراز دیکھے تھے اور آج بھی طبقہ ءِ امرا کی فہرستِ اوّل میں شامل ہوتا تھا۔ یہ حاجی انعام الہی اثر تھا۔ حجاز ہسپتا ل کے نام اپنی زندگی لگانے والا۔ اپنی پچاس کروڑ کی جائیداد وقف کر دینے والا۔ کہنے لگا، نہ پوچھو ہم امیروں کے لچھن کیا ہوتے ہیں۔ ہمارا ایک دن کا خرچ ہمارے درجہ سوم اورچہارم کے ملازمین کی مہینے بھر کی تنخواہ سے زیادہ ہوتا ہے۔ میں نے ایک سبق سیکھا ہے۔ بچوں کو اچھا مستقبل دینے کی کوشش کرو، اچھا کاروبار کرو اور پھر دولت اللہ کو قرض دے دو۔ جب ساری انڈسٹری ڈوب رہی تھی تو اس کے گروتھ ریٹ میں اضافہ ہو رہا تھا۔ یہ زندگی میں سکون کا گر سکھاتا پھرتا تھا اور اعلان کرتا تھا کہ یہ میوہ کبھی خواہشات کے پجاریو ں کو نہیں ملے گا۔
لاہور کی انہی گلیوں میں ایک اخلاق احمد بھی ملے گا۔ خدمت کرنا جس کا انگ انگ اور سانس سانس ٹھہرا ہے۔ لاہور کے تمام بڑے ہسپتالوں میں مفت کھانا فراہم کرنا۔ سرکاری سکولز کی حالتِ زار بہتر بنانا۔کتب سے لے کے یونیفارم تک مستحق بچوں تک پہنچانا۔ چھوٹے قرضوں کا نظام چلانا۔ غربت پہ دست ِشفقت رکھنا اور کسی صلے کا طلب گار نہ ہونا۔ دولت یہاں بھی موجود ہے لیکن یہ مرد ِدرویش اسے اس کی اوقات میں رکھتا ہے۔ یہ بے غرض خدمت کے خواب دیکھتا ہے اور اس کی تعبیر ڈھونڈتا ہے۔ ہیلپ لائن میں اس کا کارواں بھی آج کے نوجوان کو حقیقت کا پتہ دیتا ہے اور امید کے چراغ جلاتا ہے۔
عمار وحید سلیمانی میراعزیز دوست ہے۔ایک بڑی کاروباری فیملی سے تعلق رکھتا ہے۔ ہم اس کی کمپنی کا SWOT Analysis کرنے گئے تو کنسلٹنٹ نے بتایا کہ یہ لوگ دولت کے انبار پہ بیٹھ کے ُسوٹے لگا رہے ہیں یعنی اس سے بے نیاز ہیں۔ یونیورسٹی میں پچیس کلومیٹر سے سائیکل چلا کے آجاتا۔ پہننے اوڑھنے کی نمائش سے بیگانہ عجیب و غریب آدمی۔ معلومات کا خزانہ لیکن عاجزی کا پیکر۔ اس کی حقیقت وہی جان سکتا ہے جو ہمارے ساتھ اس کے ہمراہ وقت گزارے۔ قہقہوں سے مالا مال۔کتب کا شیدائی۔ بے فکرا بھی اور فکر مند بھی۔ خودغرضوں کی دنیا میں اجنبی اور مس فٹ۔ مگرکائناتی حقیقت یہی ہے کہ تبدیلی لانے والے لوگ اس معاشرے میں مس فٹ ہی ہوتے ہیں۔ یہ خاموش زبان سے ہمیں بتاتاہے کہ اشیا سے دل نہ لگاؤ۔ ہر چلتے فیشن پر ریجھ نہ جاؤ۔آسان زندگی گزارو اور مسکراتے رہو۔
یہ طاہر مشتاق ہے۔ اب سائنس دان ڈاکٹر ہے۔ سخت حالات دیکھے۔ پھر آسانی بھی دیکھی۔ آسڑیا میں پڑھائی کے دوران منفی تیس ڈگری کی منجمد رات میں بھی اخبار پھینکتا رہا اور ہنستا ہنساتا رہا۔ اسلام اور پاکستانیوں کا مثبت امیج وہاں کے چرچوں میں جاکے ابھارتا رہا۔ قہقہہ لگاتا ہے اور زندگی کی کلفتیں تمام ہوتی نظر آتی ہیں۔ کسی ٹھیلے پہ چنے کھاتا نظر آئے گا۔ نوجوانوں کے درمیان بلا کی قوت ِ گفتار سے ترغیب دیتا نظر آئے گا۔ دنیا اس کو چکر نہیں دے سکی۔ یہ اس کے بہروپ سے آگا ہ ہے۔ یہ مجسم ِمحبت ہے۔کتب کا عاشق ہے۔ اخلاص کا سمندر ہے۔ عیش پرستی سے بغاوت کی علامت ہے۔ اور آسان زندگی کا زندہ استعارہ ہے۔ یہ سکھاتا ہے کہ میک اپ والے بڑی جلدی پہچانے جاتے ہیں۔ نیچرل لوگ متاثر کرتے ہیں۔
کون کہے گا یہ ناکام لوگ ہیں۔ کیا یہی وہ نہیں جن کا تذکرہ سن کر سر احتراماََ جھک جاتا ہے۔ جن کی زندگی رشک بھری کہلاتی ہے۔ عیش پرست کبھی پُرسکون نہیں ہو سکتا۔ اس کی زندگی پریشان رہتی ہے۔ حضورِ اعلیؐ نے فرمایا ”مومن کبھی عیش کوش نہیں ہوتا“۔ اقبال یونہی نہیں کہتا تھا کہ
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندہِ صحرائی یا مردِ کہستانی
معیار ِ زندگی کے قیدی کبھی کوئی بڑا کام نہیں کر سکتے۔ ان کی زندگیاں کسی بھی بڑے مقصد سے خالی ہوتی ہیں۔ جس وجہ سے ملک و قوم کا بوجھ ثابت ہوتے ہیں۔ عام عربوں اور پشتونوں میں شعر میں بیان کردہ خوبصورت سادگی دکھائی دیتی ہے۔ ان کی زندگیاں پیچ دار نہیں۔ آخری بات یہ ہے کہ آسان زندگی کی خواہش رکھنے والے آسان راستوں کا سفر اختیار کریں۔ اور معیار ِزندگی کی پرستش نہ کریں۔
اپنے انفرادی، نفسیاتی، روحانی، معاشرتی مسائل کے جواب کے لیے مندرجہ ذیل پتہ پر سوال لکھ کے بھیجیں یا ای میل کریں۔ منتخب سوالوں کے جواب دیے جائیں گے۔ syyed.writer@gmail.com

Leave a Reply

Back to top button