مختصر تحریریں

آنسو، موتی اور ستارے

سمندر میں موتی، زمین پر موتی، ہوا اور فضا میں موتی اور آسمان…… آسمان تو موتیوں سے جھلملاتا ہے۔ چمکنے والے ننھے ستارے، دمکنے والے موتی، دُور سے نظر آنے والے، راز ہائے سربستہ، کائنات کی لامحدود وسعتوں میں جگمگاہٹیں ستاروں کے دم سے ہیں۔۔۔۔ اللہ کریم نے ستارں کو روشن شمعیں کہا ہے۔ استعارہ اور استعارہ۔ ”ہم نے آسمانوں کو مصابیح سے سجایا۔“……
سبحان اللہ، آسمان کی چادر کو موتیوں نے زینت بخشی۔ پاکیزہ موتی، سربستہ موتی، فطرت کے شاہکار موتی، تخلقیق کا افتخار موتی…… کیا کیا نقشے ہیں۔ ستارے ہیں کہ جلملاتے نظارے ہیں۔ موتی ہی موتی…… موتیوں کی لڑیاں حسن وخوبی سے فطرت نے جڑاؤ کیا ہے۔ انسان غور کرے…… سائنس اپنا کام کرے، محبت والے اپنا کام کریں ……! نگاہ کو جلوہ درکار ہے اور جلوے سُچے موتی ہیں، ہر طرف بھکرے ہوئے۔ خزانہ در خزانہ، حُسن در حُسن، لطف در لطف۔
موتیوں کے ذکر میں اُن موتیوں کا تذکرہ کیسے نہ آئے جو رات کے خاموش آنگن میں درد والے دل کی سیپ کے باطن سے ظہور کرتے ہیں اور انسان کی آنکھ سے بہتے ہیں۔ یہ آسمانِ فکر کے ستارے ہیں کہ اندر کی آگ کے انگارے ہیں۔ آنسو کیا ہیں؟ بس موتی ہیں، چمکنے والے، بہنے والے، گرم آنسو فریاد کی زبان ہیں۔ پرانی یادوں کے ترجمان ہیں ……
یہ آنسو انمول خزانہ ہیں، معصوم و پاکیزہ…… مستور دوشیزہ کے حسن سے زیادہ حسین، حور سے زیادہ مکنون۔ اور یہ خزانہ کمزور کی قوت ہے…… دل کی اتھاہ گہرائیوں سے نکلنے والا آبِ حیات کا چشمہ، سعادتوں کا سر چشمہ، آرزوؤں کے صحرا میں نخلستانوں کا مژدہ۔ آنسو…… تنہائیوں کا ساتھی، دُعاؤں کی قبولیت کی نوید، انسان کے پاس ایسی متاع بے بہا ہے، جو اسے دیدہ وری کی منزل عطا کرتی ہے۔
یہ موتی بڑے انمول ہیں۔ یہ خزانہ بڑا گرانمایہ ہے۔ یہ تحفہ‘ فطرت کا نادر عطیہ ہے…… تقربِِ الہٰی کے راستوں پر چراغاں کرنے والے موتی انسان کے آنسو ہیں“
حضرت واصفؒ علی واصفؒ کی کتاب”قطرہ قطرہ قلزم“ سے اقتباس

Leave a Reply

Back to top button