کالم

آپ کا۔۔۔ کیا خیال ہے؟

اداریہ لکھنا بھی ہر اخبار اور جریدے کے ایڈیٹر کی رسمی ذمہ داری ہوتی ہے جس میں وہ حالات حاضرہ کے متعلق اپنے ادارے کے موقف یا رائے کی ترجمانی کرتا ہے۔ ماہنامہ ’’ہیلوانٹرنیشنل‘‘ اب چونکہ باقاعدہ طورپر منظر عام پر آرہا ہے اس لئے ہمیں بھی اس رسمی کارروائی کے مراحل سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ آج 18فروری کے شمارے کا اداریہ لکھا جارہا ہے۔ فیصلہ نہیں ہو پا رہا ہے کہ کس مسئلے یا موضوع کے حوالے سے لکھا جائے۔ اس لئے کہ اب کوئی بھی موضوع اور مسئلہ نیا نہیں رہا۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہر پاکستانی کو ایک جیسے حالات سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ حکومتیں بدلتی رہی ہیں‘ حکمران پرانے چہروں پر نئے چہرے سجا کر نئے نئے لبادوں میں سامنے آتے رہتے ہیں مگر یہ تبدیلی ہمیشہ چہروں کی تبدیلی تک محدود رہی ہے۔ اب تو عرصہ دراز سے چہرے بھی نہیں بدل رہے بلکہ وہی حکمران باری باری اقتدار کے مزے لوٹتے رہے ہیں۔ آوے آوے اور جاوے جاوے کے نعرے سنائی دیتے رہے۔
سیاستدانوں کی جگہ فوج لیتی رہی اور فوج کی جگہ سیاستدان لیتے رہے۔ سندھ میں بے چینی ہے‘ سرحد کی اپنی سمت ہے‘ بلوچستان سلگ رہا ہے‘ پنجاب افسردہ ہے‘ وہی مہنگائی‘ وہی بے روزگاری‘ وہی رشوت‘ وہی لاقانونیت‘ لاچار اور مجبور انسانوں کی خودکشی‘ حکمران طبقے کے وعدے‘ خوشگوار مستقبل کے بہلاوے۔۔۔ سب کچھ وہی تو ہے۔ جس پر عرصہ دراز سے لکھا جارہا ہے اوراق سیاہ کئے جارہے ہیں مگر حاصل کچھ بھی نہیں۔ پرانے مسائل اور موضوعات پر طبع آزمائی کا فائدہ نہیں ہے اور نیا موضوع فی الحال دستیاب نہیں ہے۔ ہمارا خیال ہے اداریہ لکھنے کی رسمی کارروائی کو اگلے شمارے تک ملتوی کردیا جائے۔۔۔
۔۔۔ آپ کا کیا خیال ہے؟

Leave a Reply

Back to top button