تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

آکاش بیل: معذور بچوں کیلئے قدرت کا خاص تحفہ

آکاش بیل کو وٹامن اے اور وٹامن کے کا بھرپور خزانہ کہا جاتا ہے۔ان کے علاوہ کیلشیم، میگنیز، میگنیشیم، اور دیگر مرکبات پائے جاتے ہیں۔

یہ ایک معروف بیل ہے اور تقریبا ہر شہر گاؤں میں نظر آجاتی ہے۔ اس کے کئی نام ہیں۔ جیسے آکاس یا آکاش بیل،امبر یا امر بیل، افتیموں، نیلی تار، امر لتہ ہوائی پودا، درخت پیچاں وغیرہ۔ لیکن معروف نام آکاس بیل اور امر بیل ہیں۔چونکہ اس کا تعلق زمین سے نہیں ہوتا اور یہ ہمیشہ اوپر ہی کو چڑھتی ھے۔ اس لیے یہ آکاس بیل کہلائی یعنی اوپر بلندی اور آسمان کی طرف جانے والی بیل۔ اس کا سائنسی نام Cuscutaceae ہے جبکہ انگریزی میں Cuscuta کہتے ہیں۔

یہ ایک ایسا پودا ہوتا ہے کہ جس کی نہ توکوئی واضع طور جڑ ہوتی ہے اور نہ ہی پتے ہوتے ہیں۔ اس کا رنگ زرد ہوتا ہے اور یہ بے شمار تاروں والے دھاگے جیسی ہوتی ہے۔ یہ بیل درختوں سے لپٹ جاتی ہے اور ان سے اپنی خوراک حاصل کرتی ہے۔ تاہم آکاس کی بیل کی چھوٹی چھوٹی نہ نظر آنے والی جڑیں مہمان پودے کا رس چوستی ہیں جس کیی وجہ سے پودے کی بڑھوتری رک جاتی ہے اور یہ پروان چڑھتی رہتی ہے۔ یہ بیل جس درخت کو چمٹ جائے اسے تھوڑے ہی عرصے میں سکھا دیتی ہے۔ بغیر جڑ اور پتوں کے پھلنے پھولنے والی یہ بیل سائنسی اصطلاح میں Parasite پودا کہلاتا ہے۔

انگریزی میں یہ مرکب لفظ ایک لاطینی اور ایک یونانی لفظ کے اتصال سے بنا ہے اور اس کی وضاحت میں یہ مثال بھی دلچسپ ہے کہ سولہویں صدی عیسوی میں ایسے شخص کو parasitos کہا جاتا تھا جو (اپنی بجائے) دوسروں کی میز پر جاکر کھانا کھائے۔ ویسے علم نباتات کی رُو سے یہ Parasite ایک ایسی قسم کے پودے ہوتے ہیں جو اپنی غذا آپ تیار کرنے کی بجائے کسی دوسرے پودے سے حاصل کرکے پھلتے پھولتے ہیں۔

آکاش میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
آکاش بیل کو وٹامن اے اور وٹامن کے کا بھرپور خزانہ کہا جاتا ہے۔ان کے علاوہ کیلشیم، میگنیز، میگنیشیم، اور دیگر مرکبات پائے جاتے ہیں۔

آکاش بیل کے طبی فوائد:
آکاش بیل خون کو صاف کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ اس کو سائے میں خشک کیا جاتا ہے اور اس کے بعد استمال میں لائی جاتی ہے۔
سب سے اچھی اکاش بیل وہ ہوتی ہے جو نیم کے درخت پر چڑھی ہوئی ملے۔ کچھ حکماء اس کو خاص نظر سے دیکھتے آئے ھے۔ اور وہ یہ با خوبی جانتے ہے کہ نیم کے درخت پر چڑھی ہوئی یہ بیل خاص فوائد سے مالا مال ہوتی ہے۔

گردوں کی طاقت:
آکاش بیل گردوں کی امراض کیلئے ایک اکسیر دوائی کا کام کرتی ہے۔ یہ گردوں کو طاقت بخشتی ہے۔ گردوں کی ورم کو تحلیل کرتی ہے۔ اس کے علاوہ اس میں وٹامن اے اور وٹامن کے پایا جاتا ہے۔ یہ جگر اور تلی کو بھی طاقت دیتی ہے۔ یہ یرقان بھی قدرتی علاج ہے۔

مردانہ طاقت کا حصول:
آکاش بیل سرعت انزال کے سنگین جنسی مسائل میں نہایت مددگار بوٹی ہے۔ یہ مردانہ عضو کو طاقت دیتی ہے اور مادہ کو گاڑھا کرتی ہے۔ مرد اور عورت دونوں پر یکساں اثرات ہوتے ہیں۔ مردوں میں سپرم کی کمی دور کرنے کیلئے اس سے بہتر کوئی قدرتی جڑی بوٹی نہیں۔ یہ نامردی کے مسائل میں حیرت انگیز طور پر فائدہ مندہے۔بانجھ پن میں 15 ملی گرام روزانہ استعمال کرنے سے حیرت انگیز نتائج دیکھنے کو ملتے ہیں۔

سدا جوان رکھے:
آکاش بیل کو سدا جوانی کی بیل بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں قدرت نے مرکبات رکھے ہیں جو عمر میں اضافہ ہونے سے صحت پر پڑنے والے اثرات کو روکتی ہے۔اس طرح یہ بڑھاپے کو جلد آنے سے روکنے والی قدرتی دوا بھی کہلاتی ہے۔

شوگر اور بلڈ پریشر کا علاج:
آکاش بیل خون میں شوگر متوازن کرتی ہے اور بلڈپریشر کو نارمل رکھنے میں نہایت معاون ہوتی ہے۔

معذوری دور کرے:
آکاش بیل ان بچوں کے لئے اللہ تعالی کا خاص تحفہ ہے۔ جن بچوں کے ہاتھ پاوں ٹیڑھے ہوتے ہیں۔ ہاتھ پاؤں مسلسل ہل رہے ہوں۔ لُولے، لنگڑے ہوں ان کو ایک چھوٹا چائے کا چمچ صبح خالی پیٹ دودھ کے ساتھ اور ایک چمچ رات کو دودھ کے ساتھ تین چار ماہ استعمال کرانے سے تندرستی اور شفا ملتی ہے۔

بال کالے کرے:
آکاش بیل کو کوٹ کر اس کا پانی نکال کر تین ماہ اگر بالوں کو لگایا جائے تو بال ہمیشہ کے لئے بال سیاہ ہو جاتے ہیں۔ بال مضبوط اور گھنے ہوتے ہیں اور گرتے ہوئے رک جاتے ہیں۔

دماغی کمزوری کا علاج:
آکاش بیل کو نسخے کے مطابق استعمال کرنے سے دماغی کمزوری بھی دور ہوجاتی ہے۔ دماغی قوت حاصل کرنے کے لیے چار گرام آکاش بیل اور چھ عدد بادام کی گریاں اچھی طرح پیس کر تازہ پانی کے ساتھ ایک ماہ تک استعمال کرنے سے دماغی کمزور ی دور ہوجاتی ہے۔

نظر کی کمزوری:
اسی طرح ایک اور تحقیقی رپورٹ کہ مطابق یہ نظر کی کمزوری کو شفاء بخشی ہے اور لقوہ اور فالج کے امراض کے علاج کے لیے بھی مفید ہے۔

آکاش بیل کے دیگر فوائد:
مرگی،جنون،مالیخولیا،کابوس،پھوڑے اورپھنسیوں میں آکاش بیل کا عرق یا جوشاندہ کی شکل میں استعمال مفید ہوتا ہے۔اس کا جوشاندہ بچوں کے پیٹ میں کیڑے نکالنے کا ایک موثر شربت بھی ہے۔

اس کا تیل ناسوریا پرانے زخموں پر لگایا جائے تو زخم جلدمندمل ہو جاتاہے۔آشوب چشم میں اس کاشربت یا رس نکال کرپلانامفید ہے۔
سر درد، دردردزہ، ہڈیوں کی شکست و ریخت، بخار، گردے کا درد، پیٹ کا درد میں مفید ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Leave a Reply

Back to top button