تازہ ترینسپیشل

آگ، روم اور نیرو کی بانسری…… عبدالستار چودھری

نیرو کا پورا نام لوئیس ڈومی ٹیس اہینو ماربس تھا۔ وہ ایک اوباش انسان تھا جو اپنی ماں کی بے پناہ سازشوں کے نتیجے میں تخت نشین ہوا تھا

زمانہ قدیم میں روم کی ایک خاتون، ایگری پینا نے نیرو نامی بچے کو جنم دیا۔ جب نیرو جوان ہوا تو بادشاہ بننے کیلئے عصری روایات کے مطابق اس کا شادی شدہ ہونا ضروری تھا تاکہ اس کی بیوی ملکہ بن کر امور سلطنت چلانے میں اس کی معاونت کر سکے۔ چنانچہ نیرو کو جنم دینے والی ایگری پینا ہی اس کی بیوی بن کر تخت نشین ہوئی اور اس کا دل بھی بہلاتی رہی۔

نیرو رومن سلطنت کا وہ حکمران تھا جس کے ایذار سانی کے انداز آج بھی جدید خیال کیے جاتے ہیں۔ وہ اپنی مردم کش خصلت کی تسکین کیلئے ظلم کا ایسا بازار گرم کرتا تھا جس کے تصور سے ہی کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے۔ یہی وہ شخص تھا جس نے محض انسانی چیخوں کی ”موسیقی“ سننے کے لیے رومن شہر کو نذر آتش کرا دیا۔ ان تمام مظالم او بُری عادتوں میں اس کی ماں ایگری پینا بھی شامل تھی۔ وہ اپنے انسانیت سوز عزائم کی تکمیل کے لیے بڑے سے بڑا گناہ کر گزرتی اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے غلاموں تک سے تعلقات قائم کرنے کو معیوب نہیں سمجھتی تھی۔

نیرو کا پورا نام لوئیس ڈومی ٹیس اہینو ماربس تھا۔ وہ ایک اوباش انسان تھا جو اپنی ماں کی بے پناہ سازشوں کے نتیجے میں تخت نشین ہوا تھا۔ اسے دراصل سیاست سے کوئی دلچسپی نہ تھی بلکہ وہ تو موسیقار بننا چاہتا تھا۔ اس کے نزدیک موسیقی ہی زندگی کی معراج تھی۔ یہ تو نیرو کا ایک فلسفی استاد تھا جو اسے حکومت چلانے کے طور طریقے سمجھانے میں کامیاب ہو گیا۔ استاد نے بڑی عقلمندی اور دوراندیشی سے نیرو کو روم کا بادشاہ ہونے کا احساس دلایا۔ نیرو کے دماغ پر عورت یوں سوار تھی اس نے اپنی سگی ماں سے بھی تعلقات استوار رکھے اور آخرکار اسے قتل بھی کر دیا۔

ایگری پینا کے قتل کے بعد نیرو نے اپنے مصائب، اوتھو کی بیوی پوپیا کو داشتہ بنا کر محل میں رکھ لیا۔ پوپیا ایک عیار عورت تھی، اس نے دوسری عورتوں کے متعلق نیرو کے یوں کان بھرے کہ ان سب کو قتل کرا دیا۔ اور خود نیرو سے شادی کر لی جو اس کے نخروں کا غلام بن کر رہ گیا۔ نیرو طبعاً ایک موسیقار تھا، اس کے کانوں میں ہر وقت موسیقی کی آوازیں گونجتی رہتی تھیں۔ ایک بار اس نے ایک زخمی پرندے کو درد سے کراہتے سنا تو اسے عجیب سرور حاصل ہوا۔ اس نے درباریوں کو حکم دیا کثیر تعداد میں مختلف پرندے پکڑ کر اس کے پاس لائے جائیں۔ پرندے جونہی دربار میں لائے جاتے، نیرو ان کے جسم گرم سلاخوں سے دغواتا اور اپنے جذبات کی تسکین کرتا۔ جب پرندے درد سے چیختے تو نیرو کی روح تسکین پاتی۔ اس کی یہ سنگ دلی صرف پرندوں تک ہی محدود نہ رہی بلکہ حاملہ عورتوں تک جا پہنچی۔ ایک بار وہ جھونپڑیوں کے پاس سے گزر رہا تھا کہ اس نے ایک حاملہ عورت کو درد سے کراہتے دیکھا، اور حکم دیا کہ شہر اور جھونپڑیوں کی تمام حاملہ عورتوں کو ایک جگہ اکٹھا کیا جائے۔ مصائبوں نے حکم کی تعمیل کی اور چند دنوں میں ایسی تمام عورتوں کو لے آئے۔ انہیں ستونوں کے ساتھ باندھ کر ان کے پیٹوں پر ڈنڈے مارنے کا حکم دیا گیا۔ جب یہ بے بس عورتیں درد سے بلبلاتیں تو نیرو ان کی چیخوں کے ساتھ بانسری کی لَے اور سُر ملانے کی کوشش کرتا۔
اپنے ناآسودہ جذبوں کی تسکین کے لیے وہ رات گئے اپنے چند اوباش ساتھیوں کے ہمراہ قحبہ خانوں کی طرف نکل جاتا اور اپنی پسند کے مطابق تسکین پاتا۔ راستہ میں اگر کوئی اکیلی عورت دکھائی دیتی تو اوباش ساتھی اسے برہنہ کر کے نیرو کو پیش کرتے۔ ایسے ہی ایک رات ایک رکن پارلیمنٹ کی بیوی رات گئے اکیلی اپنے گھر جا رہی تھی، نیرو نے اسے بھی بے آبرو کر دیا۔ جب اس کے خاوند کو پتہ چلا تو اس نے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر دربار ہی میں نیرو کی پٹائی کر دی اور پارلیمنٹ سے استعفیٰ دے دیا۔ ایسا کرنا اس کے قتل کا سبب بن گیا۔

نیرو کی ان حرکتوں کی وجہ سے سارا ملک اس کے خلاف ہو گیا۔ عوام مظاہرے کرنے لگے، بغاوتوں کے منصوبے بننے لگے اور ملک افراتفری کی طرف بڑھنے لگا۔ نیرو کے ساتھیوں نے جب اسے حالات سے آگاہ کیا تو کافی سوچ و بچار کے بعد اس نے اپنے مشیروں سے کہا کہ ایک بڑی دعوت کا اہتمام کر کے عام وخاص کو مدعو کیا جائے۔ اس دعوت کیلئے جانور کاٹ کر آگ کے الاؤ میں ان کا گوشت بھونا جائے اور شراب کے مٹکے کھول دئے جائیں۔ دعوت میں نوجوان باندیوں، کنواریوں اور بیاہتاؤں کو خاص طور بلایا جائے۔ دعوت میں نوجوانوں کو خاص موقع دیا گیا کہ وہ عوام کے سامنے پورا کُھل کر کھیلیں۔ اس طرح اس طبقے کی حقیقت عوام پر کھل گئی۔

جشن کے بعد نیرو دوسرے شہر اینٹم چلا گیا جہاں اسے 19جولائی 64ء کو یہ خبر ملی کہ اس کے کارندوں نے پورے روم شہر کو آگ لگا دی ہے۔ نیرو خبر سنتے ہی ایک تیز رفتار گھوڑے پر سوار ہو کر روم کے مضافات میں پہنچا اور ایک بلند جگہ کھڑے ہو کر نظارہ کرنے اور جلنے والوں کی چیخوں کی موسیقی سننے لگا۔ ہفتہ دس دن تک شہر جلتا رہا اور لوگ کوئلہ بنتے رہے۔ نیرو نے اس آگ سے بھی اپنے مقاصد حاصل کرنے کا قصد کیا اور اپنے غلاموں سے جگہ جگہ اعلان کرا دیا کہ یہ آگ عسائیوں نے لگائی ہے۔ نیرو تو روم میں موجود نہیں تھا۔ آگ لگا کر باغیوں نے عوام کو شہنشاہ نیرو کے خلاف بھڑکانا چاہا ہے جس کی وجہ سے شہنشاہ نیرو بہت پریشان ہے۔

اس موقع پر فلاسفر سنیکا نے نیرو کو خط لکھ کر مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنی روش پر نظرثانی کرے۔ جب نیرو نے اپنی ملکہ پوپیا سے مشورہ کیا تو اس نے ملک سے فرار ہو جانے کی صلاح دی۔ چنانچہ 66ء میں نیرو نے حکومت ایک آزادکردہ غلام ہیلیس کو سونپی،خود یونان روانہ ہو گیا اور وہاں عیاشی میں وقت گزارنے لگا۔ اسی اثناء میں اسے خبر ملی کہ روم کے تمام جرنیل اس کے خلاف ہو گئے ہیں۔ نیرو یہ خبر سنتے ہی واپس لوٹا مگر ابھی اطالیہ ہی پہنچا تھا کہ صوبہ گال میں بغاوت کی خبر ملی، چنانچہ اس نے اسکندریہ جانے کا فیصلہ کیا۔ اس دوران اس کے تمام ساتھی اس کا ساتھ چھوڑ گئے۔ وہ بدحواس ہو کر چیخنے لگا، اس کی ملکہ پوپیا بھی غائب ہو چکی تھی۔ بے بسی کے عالم میں نیرو نے خود کشی کا ارادہ کر لیا۔ مرتے وقت وہ کہہ رہا تھا۔ ”افسوس یہ لوگ میرے اندر کے فنکار کو نہ پہچان سکے، یہ فنکار بھی میرے ساتھ ہی اس دُنیا سے چلا جائے گا“۔

Leave a Reply

Back to top button