ادب

آہ! عمران سلیم بھی داغ مفارقت دے گئے…… محمد نوید مرزا

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں اور بردارِ عزیز اشرف سلیم اندرون بھاٹی گیٹ میں کتابوں کے ٹائٹل بنوانے اپنے دوست معروف شاعر اور مصورآغا نثار کے گھر جایا کرتے تھے، ان دنوں انہوں نے اپنے گھر میں ہی دفتر بنایا ہوا تھا اور ہم اندرون شہر کی تنگ و تاریک گلیوں سے گزرا کرآغا صاحب کے پاس پہنچتے تھے۔ ان راستوں سے گزرتے ہوئے ہمیں ایک مسکراتا ہوا چہرہ بھی ملتا تھا اور وہ شخصیت دبلے پتلے جسم والے خوبصورت شاعر عمران سلیم تھے جو اپنی کریانہ کی دوکان میں بیٹھے گاہکوں کو بھی بھگتا رہے ہوتے اور اپنی شعر سخن کی دنیابھی بسائے رکھتے تھے۔ عمران سلیم آغا نثار کے قریبی دوستوں میں سے تھے۔ پھر آغا صاحب وہاں سے نکل کر اردو بازار میں آگئے اور میرا ان سے ملاقاتوں کا سلسلہ وہیں پر ہونے لگا کبھی کبھی عمران صاحب کا ذکر ہوتا تھا اور ان کی تسلسل کے ساتھ چھپنے والی کتابوں پر بھی بات ہوتی تھی۔
عمران سلیم نے اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں یکساں مہارت کے ساتھ شاعری کی اور مشکل معاشی حالات میں بھی ادب کے ساتھ اپنی وابستگی قائم رکھی اور پوری لگن اور ریاضت کے ساتھ شعری دنیا سے اپنا تعلق جوڑے رکھا۔ انہوں نے اردو اور پنجابی کے اٹھارہ شعری مجموعے تخلیق کیے جن میں کئی ایک نعتیہ مجموعے بھی شامل ہیں۔ عمران سلیم پنجابی کے نامور شاعر منظور وزیرآبادی کے شاگرد تھے۔ چند روز قبل جب مجھے سوشل میڈیا کے ذریعے ان کی وفات کی خبر ملی تو میرے پاس افسوس کرنے کے لیے سوائے آغا نثار کے اور کوئی دوست نہ تھا۔ لہذا پہلے آغا صاحب کو فون کیا اور پھر اظہار افسوس کے لیے ان کے دفتر اردو بازار پہنچا۔ عمران سلیم کے لیے فاتحہ خوانی کی تو آغا صاحب نے بتایا کہ عمران سلیم نے مشکل حالات میں زندگی بسر کی اور 8 برس اپنے شہر سے دور کراچی میں بھی گزارے۔ پھر واپس لاہور آگئے لیکن ان کا ادبی سفر1990ء سے لے کر 2019ء تک جاری رہا۔ اپنی بیماری اور نامساعد حالات میں بھی انہوں نے شعروادب سے رشتہ قائم رکھا۔ اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ عمران سلیم ایک خوددار شخص تھے، جنہوں نے مشکل حالات میں بھی ادب کے ٹھیکیداروں اور حکومت وقت کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا اور نہ ہی شہرت اور نمایاں ہونے کے لیے شہرِ ادب میں کسی قسم کی سازش کی جو آج ہمارے کئی شعراء اور ادباء کا وطیرہ بن چکا ہے۔
عمران سلیم ادب کے ایک خاموش خدمت گار کے طور پر اپنے شعری سفر پر گامزن رہے اور جب دنیا میں ان کی سانسوں کی گنتی ختم ہو گئی تو چپکے سے خالق حقیقی سے جا ملے۔ میں عمران بھائی کے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام کے لیے دُعاگو ہوں، اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائیں (آمین)۔ آخر میں ان کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
محبت میں ذرا سی بھی چبھن اچھی نہیں لگتی
سماعت کو بھلا لگنے لگے جب شور گھنگرو کا
۰۰۰۰
میں جب اپنوں کے تیور سیکھتا ہوں
قضا کو اپنے سر پر دیکھتا ہوں
۰۰۰۰
کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے
سلیم اپنی ہی چادر دیکھتا ہوں

Leave a Reply

Back to top button