روشنی

ابو انیس حضرت صوفی برکت علی لدھیانوی ؒ …… مختاراحمد جمال

ابو انیس حضرت صوفی برکت علی لدھیانویؒ 27 ربیع الثانی1329ہجری بروز جمعرات بمطابق27 اپریل1911ء میں موضع برہمی لدھیانہ (انڈیا) میں پیدا ہوئے۔ آپؒ کے والد ِ محترم کا اسمِ گرامی میاں نگاہ بخش، جبکہ والدہ محترمہ کا اسمِ مبارک جنت بی بی تھا۔
آپؒ مادر زاد ولی تھے۔ آپؒ کی والدہ بہت ہی نیک خاتون تھیں جو آقائے نامدار ؐ کی ذاتِ مقدس پر کثرت سے درودوسلام کا نذرانہ بھیجا کرتی تھیں۔ آپؒ کے والدِ محترم بھی صالح اور نماز روزہ کے پابند انسان تھے۔ اہلِ اللہ سے محبت اور میل ملاقات ان کا خاص شغف تھا۔ اکثر ایک مجذوب کی خدمت میں حاضری دیا کرتے تھے جس نے کو یوں خوشخبری دی ”نگاہیا! تیری قسمت میں تو کچھ نہیں، البتہ تیرے ہاں ایک بیٹا پیدا ہو گا، بڑا زبردست“۔ یہ پیش گوئی آپؒ کی ولادت باسعادت سے پوری ہوئی۔
آپ کے والدِ محترم فوج میں ملازم تھے اور ان کی خواہش تھی کہ میرا بیٹا بھی فوج میں بھرتی ہو اور بڑا افسر بنے۔ اِس خواہش کی تکمیل کیلئے 9 اپریل1930ء کو بابا کریر والا کی شفارش سے صوبیدار پاکھر سنگھ راجوآنہ فوج میں بھرتی کروانے کیلئے لے کر گئے، تو عجیب معاملہ یہ ہوا کہ کوئی بھی میڈیکل ٹیسٹ وغیرہ دیئے بغیر ہی کیپٹن ڈاکٹر ایم این اے کھنہ نے آپؒ کو دیکھتے ہی فوج میں بھرتی کر لیا۔ ابتدا میں آپؒ بوائے کمپنی کیلئے بہتر سمجھے گئے، بعد میں انڈین آرمی سپیشل ایجوکیشن کورس پاس کر کے وائی کیڈٹ کے طور پر منتخب ہوئے اور ہیڈ کواٹر میں نہایت ہی اہم اور حساس ذمہ داری پر متعین کئے گئے۔ کور کمانڈر جنر ل وچ آپؒ کی باوقار اور غیر معمولی شخصیت سے نہ صرف بے حد متاثر تھا بلکہ وہ آپؒ کی تقلید میں ماہِ صیام میں روزہ کے اوقات میں کھانے پینے سے بھی گریز کیاکرتا تھا۔ فوج کے عام جوانوں میں بھی آپؒ کے حسن ِ اخلاق اور نیک صفات کے چرچے عام تھے اور آپؒ کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
آپؒ فوجی ملازمت کے دورانِ اپنے فرائض سے فارغ ہو کر اکثر اوقات کلیر شریف میں حضرت بابا فریدالدین گنجِ شکرؒ کے بھانجے اور خلیفہئ خاص حضرت علاؤالدین علی احمد صابر کے مزارِ پُرانوار پر حاضری دیتے اور ساری ساری رات مجاہدہ میں گزار دیتے۔ بالآخر آپؒ نے22 جون1945ء میں فوج سے استعفیٰ دے دیا۔ اِس نازک وقت میں آرمی سے استعفیٰ برٹش حکومت سے غداری کے مترادف تھا، جس کی سزا کالا پانی، عمر قید یا پھانسی تھی۔ ابتداء میں برٹش حکومت کی طرف سے آپؒ کو استعفیٰ کا فیصلہ تبدیل کرنے کیلئے مختلف قسم کے لالچ دیئے گئے۔ لیکن آپؒ اُن کے دام میں نہ آئے تو آپؒ کو زہر دے دیا گیا۔ خدا کی قدرت کہ آپؒ کو قے آئی اور زہر خارج ہو گیا۔
آپؒ اللہ کریم کے مخلص سپاہی تھے اور مظاہر ِ قدرت کی طرح اپنے کام میں وقت کی پابندی خصوصی طور پر فرماتے تھے۔ آپ ؒ فرماتے کہ ”تیرے لیے یہ ضروری ہے کہ تُو گھڑی کی طرح چلے، تیری چابی کبھی بند نہ ہو اور تُو کبھی نہ رُکے اور نہ ہی تجھے کوئی روکے اور تیرے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ تُو یہ نہ کرے، اور یہ نہ کرے، اور یہ نہ کرے“۔
آپؒ نے19ربیع الثانی1363ھ میں اپنے وقت کے مشہور بزرگ، شاہِ ولایت حضرت شیخ امیر الحسن سہارنپوریؒکے دست ِ مبارک پر بیعت کرنے کی سعادت حاصل کی۔
تقسیمِ کے بعد 27 اگست1947ء کو بھارت سے ہجرت کی اور فیصل آباد میں سالار والا ریلوے سٹیشن کے قریب ڈیرہ لگایا۔ یہ زمین آپؒ کو اپنے والد مرحوم کی زرعی اراضی کے عوض ملی تھی۔ یہ جگہ آپؒ کی تشریف آوری سے قبل بالکل ویران اور بیابان تھی۔ یہاں آپؒ نے 40 سال لگا تار جدوجہد کی، اپنے شب و روز ذکروفکر، دعوت وتبلیغ اور خدمت خلق میں گزارتے رہے۔ اورآخر یہ جگہ ذکرِ الہٰی کی خوبصورت اور نورانی صداوؐں سے گونجنے لگی۔ اور متلاشیانِ حق جوق در جوق یہاں پہنچنے لگے۔ اسی جگہ آپؒ نے وسیع وعریض مسجد، مدرسہ، قرآن محل، مینار اصحابِ بدر، لائبریری اور دارالشفاء تعمیر کرائے اور انہیں ادارہ دارالاحسان سے موسوم فرما کر دین اِسلام کے لیے وقف کر دیا۔
1984ء میں آپؒ نے یہاں سے ہجرت کر کے فیصل آباد ہی کے قریب وسوحہ سمندری روڈ پر ڈیرہ لگایا اور اِس مقام کو ”المستفیض کیمپ دارالاحسان“کے نام سے منسوب کیا گیا۔ یہاں پر بھی آپؒ نے بھرپور محنت سے ایک عالی شان قرآنِ محل، لنگر خانہ، مسجد، دفتر دارالاحسان اور مطب وغیرہ کی بنیاد رکھی۔ اور سب بڑھ کر یہ کہ آپؒ نے یہاں ایک بہت بڑا فری آئی ہسپتال بھی قائم کیا۔ جہاں سے ہزاروں لوگوں کا فری علاج ہو چکا ہے۔
آپؒ نے خدا کے سپاہی بن کر حضرت علاؤالدین علی احمد صابر کے مزار پرکھڑے ہو کر پروردگارِ عالم سے تین وعدے کیے تھے کہ ”اپنی باقی زندگی ذکر ِ الہٰی میں صرف کروں گا، دین ِ اِسلام کی دعوت وتبلیغ، اور بندگانِ خدا کی بے لوث خدمت کروں گا“۔
بانی دارالاحسان ابو انیس حضرت صوفی برکت علی لدھیانویؒ ایک غیر معمولی انقلاب آفریں شخصیت کے حامل تھے۔ یہی وجہ تھی کہ آپؒ نے اصل خانقاہی نظام کو ڈوبتے ہوئے دیکھ کر خانقاہی نظام کو نئی جہت دے کر تروتازگی بخشی۔
آپؒ نے حضورِ اقدس ؐ کی شریعت ِ مطہرہ کی پابندی کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنایا ہوا تھا اور بندگانِ خدا کو تلقین فرماتے تھے کہ”ہمارا طرزِ حیات میرے آقا ؐ کی سنت ِ مطہرہ کے مطابق ہو۔ یہی راہ شاہراہ، اس کے علاوہ ہر راہ، کراہ۔
سابق صدرِ پاکستان ضیاء الحق نے اپنے دورِ حکومت میں ایک بار کمشنر گوجرانوالہ کو آپؒ کی خدمت میں بھیجا کہ صدر ضیاء الحق سرکٹ ہاؤس فیصل آباد میں آپؒ سے ملاقات چاہتے ہیں۔ آپؒ نے کاغذ کے ایک ٹکڑے پر یہ جواب لکھتے ہوئے کمشنر کے حوالے کیا کہ ”بادشاہوں کے درباروں پر فقیر حاضر نہیں ہوا کرتے“۔
آپؒ زندگی بھر اِس اصول پر کارفرما رہے کہ آج کا مال آج ہی ختم ہو، کل کی روزی خداوند ِ کریم کل عطا فرمائے گا۔ اور فرماتے تھے کہ ہماری روزی پرندوں کی طرح ہے جو صبح گھونسلوں سے بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو خوب سیر ہو کر لوٹا کرتے ہیں۔ مخلوقِ خدا کی بے لوث خدمت تو گویا آپؒ کا محبوب ترین کام تھا۔
آپؒ نے فرمایا کہ”ہمارے تین کام ہیں:1۔ ذکر ِ الٰہی2۔ تبلیغ ِ اِسلام، 3۔ مخلوقِ خداکی بے لوث خدمت۔ اِن کاموں کے سوا کسی چھوتھے کام میں مشغول نہیں ہونا۔ کسی کے تذکرے، تبصرے، تنقید، تنقیص یا الزام کا ہرگز برا نہ منائیں، نہ ہی بد دِل ہوں بلکہ پوری یکسوئی کے ساتھ اپنے تین بنیادی مقاصد کی طرف متوجہ رہیں۔ اگر کسی نے ایسا نہ کیا تو اُس نے نہ صرف مجھ سے قائم اپنی نسبت کی ناموس کی توہین کی بلکہ اُس نے دارالاحسان کے نصب العین کو نظر انداز کر کے اس کے وقار کو ٹھیس پہنچائی اور مجھے شرمندہ کیا“۔
آپؒ کی ذات علم و حکمت کا سمندر تھی۔ آپؒ نے بندگانِ خداکی اِصلاحِ احوال اور متلاشیانِ حق کی علمی اور روحانی تشنگی بجھانے کیلئے کی بے شمار تصانیف وتالیفات فرمائیں، جن میں انتہائی اہم اور قابل ِ ذکر ”کتاب العمل بالسنۃالمعروف ترتیب شریف“ مستند احادیث کی ایک خوبصورت ترین فقہی کتاب ہے جسے پاکستان میں پہلی اسلامی سربراہی کانفرنس میں موجود شاہانِ عالم کو تحفتاً پیش کیا گیا تھا۔ اِس کتاب کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ دنیائے اِسلام کی تقریباً سبھی یونیورسٹیوں کی لائبریریوں میں موجود ہے۔ جہاں سے دنیا بھر سے ریسرچ سکالرز اور علماء، فضلاء استفادہ کرتے رہتے ہیں۔ اِس کے علاوہ دوسری قابلِ ذکر کتاب”مقالاتِ حکمت“ کے نام مشہور ہے جو تیس جلدوں پر مشتمل ہے۔ جس کے اندر اتنہائی خوبصورت انداز سے تحریر کئے گئے چھوٹے چھوٹے مگر جامع فقرے، برجستہ محاورے اور زنگ آلود دِلوں کو جھنجوڑنے والے جملے اپنی مثال آپ ہیں۔
آپؒ اکثر فرماتے کہ ”کسی ولایت میں نہ کشف ضروری ہے نہ کرامت لیکن ہر ولایت میں ”ذکر اللہ“ضروری ہے، اور اطاعت۔ ذکر و اطاعت تیری منزل کے دو نشان ہیں، یہ نشان گرنے نہ پائیں۔ ذکرو اطاعت کی منزلیں مستغنی عین المدارج ہوتی ہیں۔ ذکر الٰہی سے بہتر اور کوئی کمال نہیں۔ اللہ کے ذکر کیلئے کمالات وکرامات سے فارغ ہو۔ جب تک تُو کمالات و کرامات کے پھندوں سے آزاد ہو کر مٹی میں مٹی نہیں ہوتا، دین کی حقیقت سے واقف نہیں ہوتا۔ تیرا مقام خاک اور تیرا کام خدمت ہو۔ اِس سے بڑھ کر اور کوئی مقام نہیں اور اِس سے افضل اور کوئی کام نہیں۔“
آپؒ نے موجودہ دور میں اِسلام کی اصل روح کو مسخ کرنے والی عجیب وغریب خرافات اور مادہ پرستی کے باعث”نظریہئ تصوف“ پہ پڑی گرد کو بھی صاف کرنے کی کوشش فرمائی۔ یہی وجہ ہے کہ آپؒ نے اپنے بعد کوئی سجادہ نشین یا کوئی گدی نشین نہیں چھوڑا، اور نہ ہی کوئی ورثہ وغیرہ اس دنیا میں چھوڑ رکھا ہے۔ آپؒ اس حوالے سے فرماتے ہیں کہ ”فقیر کی میراث کا وارث فقیر ہی ہوتا ہے اور فقیر کے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا، مگر اللہ اور صرف اللہ“۔ مزید فرمایا کہ ”سلوک کی منزل تقویٰ کی راہ ہے۔ اس وادی میں باتیں اگرچہ کتنی حکمت بھری ہوں کوئی رنگ نہیں لا سکتی۔ جو کام روئے زمین کی باتیں مل کر بھی نہیں کر سکتیں، تقویٰ کی ایک مثال کر سکتی ہے۔ جتنی باتیں کی جاتی ہیں، کرنے والوں کا اُن پر اپنا عمل نہیں ہوتا۔ ایسی باتوں کا کیا فائدہ؟ کسی تقویٰ کا نمونہ پیش کر، باتیں سامعین کو مطمئن نہیں کر سکتیں“۔
آخر کار آپ ؒ 16 رمضان المبارک1417ھ بمطابق26 جنوری1997ء بروز اتوار بوقتِ ظہر اِس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے…… مگر آپؒ کی یادیں آج بھی اُسی طرح زندہ ہیں اور متلاشیاں ِ حق کے دِلوں میں خوب دھڑکتی ہیں۔ آپؒ کا سالانہ عرس مبارک ہر سال 16رمضان المبارک کو شریعتِ مطہرہ کی تمام تر پابندیوں کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے انتہائی شایانِ شان اور عقیدت واحترام کے ساتھ منایا جاتاہے۔ جس میں پاکستان بھر سے یارانِ شریعت وطریقت شامل ہونے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ آپؒ کے اِس دنیائے فانی سے پردہ فرمانے کے بعد آپؒ کے عظیم مشن کو آپؒ کے عقیدت مند انتہائی ذمہ داری، جوش و جذبہ اور ولولہ کے ساتھ آگے بڑھانے میں مصروفِ عمل ہیں۔

Leave a Reply

Back to top button