کالم

اب قادری صاحب کے ’’جن‘‘ دھرنا دیں گے؟

علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے اطلاعاً ارشاد کیا ہے کہ میں نے ’’جن‘‘ رکھے ہوئے ہیں جس مقام پر وہ ہیں وہاں انفارمیشن ڈس انفارمیشن اور مس انفارمیشن یکجا ہوتی ہیں اور کہنے والا یکجا ہو جاتا ہے۔ عمران خان کے ایک عاشق زار نے کہا کہ مجھے مس انفارمیشن پسند ہے کہ اس میں مس آتا ہے اور آج کل مس صاحبان ہمارے آس پاس بہت ہوتی ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ عمران کے جلسے وغیرہ میں باجے اور باجیاں ہوتی ہیں۔ عمران کے جلسے میں اکثر لڑکیاں ہوتی ہیں۔ وہ یقیناً عمر میں مولانا صاحب سے چھوٹی ہوتی ہوں گی۔ وہ ان کی باجیاں کیسے ہو گئی ہیں۔ مولانا ان کے باجے ہیں؟
قادری صاحب نے ارشاد کیا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس کے احکامات اور فیصلوں کی فائلیں میرے ’’جن صاحبان‘‘ مجھ تک پہنچا دیتے ہیں۔ ان میں وہ فائل بھی آ گئی ہو گی کہ نواز شریف کسی صورت بھی استعفیٰ نہیں دیں گے تو علامہ صاحب نے سوچا پھر دھرنے کا کیا فائدہ ہے؟ بے چارے مرید اور مریدنیاں موسموں کی سختیاں برداشت کر رہے تھے۔ یہ لوگ کمٹڈ اور جانثار تھے اور تھیں۔ عمران کے ہاں تو کوئی دھرنا نہیں تھا۔ اسے زیادہ سے زیادہ دھرنا نما کہہ سکتے ہیں۔ لوگ شام کو آ جاتے تھے اور بھیگتی رات میں واپس چلے جاتے تھے۔ عمران کا معمول بھی ایسا ہی تھا۔ اس دھرنے میں شرکت معمولی بات تھی۔ ہم بھی جب گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھتے تھے تو نیو ہوسٹل سے پڑھ پڑھ کے تھک ہار کے شام کو نکلتے تھے۔ کوئی پوچھتا تو بہت احترام اور مشرقی آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہتے ذرا انارکلی تک چلے آں۔ کہتے ہیں کہ عمران کے جلسوں میں ہجوم عاشقاں کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے۔
ایک خیال یہ بھی تھا کہ قادری کا دھرنا ختم ہو گیا تو عمران کا دھرنا خود بخود ختم ہو جائے گا۔ ڈیل کی باتیں بہت ہوئیں۔ ایک ستم ظریف کہنے لگا ڈیل نہیں گرانڈیل کہئے۔ ڈیل دو فریقوں میں ہوتی ہے۔ ایسے موقعے پہلے بھی آتے رہے مگر دھرنا ختم کرنے کا اعلان اچانک اور یکایک ہوا رات کے وقت دھرنے والوں اور والیوں کو ہدایت کی گئی کہ سامان باندھو اور گھروں کو جاؤ۔ وہ بہت مایوس ہوئے۔ کچھ عورتیں اور لڑکیاں رونے بھی لگ گئیں۔ کچھ کے پاس واپسی کا کرایہ بھی نہ تھا۔
یہ سب معاملہ ان جلسوں کے بعد شروع ہوا جو عمران نے قادری کو بتائے بغیر شروع کرا دیئے تھے۔ اندر اندر سے ایک مقابلہ تو قادری صاحب اور عمران خان کا ہے۔ آخری مقابلہ بھی ان دونوں کا ہو گا۔ حکومت کس کی ہو گی اور وزیراعظم کون ہو گا؟ ایک میان میں دو تلواریں کیسے سمائیں گی۔ دھرنے میں تو سما گئیں۔ ابھی تلواریں پہلے سے میان میں تھیں۔ میان کا نون کا نقطہ نکال دیا جائے تو نون غنہ بن جاتا ہے اور باقی میاں رہ جاتا ہے۔
اتنی برداشت کے لئے ’’صدر‘‘ زرداری مشہور تھے۔ مگر میاں نواز شریف آگے نکل گئے ہیں جو زبان ان کے لئے استعمال ہوئی وہ کسی عام آدمی کے لئے استعمال ہوتی تو قیامت آ جاتی۔ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے مگر بے تحاشا صبر کا اجر عام لوگوں کو کبھی نہیں ملا۔ جبر کے خلاف صبر بھی ایک جبر ہی ہے جو اپنے آپ پر کیا جاتا ہے۔ آدمی کسی کا گریبان نہیں پکڑ سکتا مگر اس کا زور اپنے گریبان پر تو چلتا ہے۔ اب ہاتھ گریبانوں تک بھی جانے لگے ہیں۔ حکمرانوں اور سیاستدانوں کے لئے بھی اچھا ہے کہ وہ خود صورتحال کو سنبھال لیں۔ نواز شریف نے صبر کیا اور انہیں اجر مل رہا ہے تو وہ دوسرے صبر کرنے والوں کا بھی ساتھ دیں اور محروم لوگوں کے لئے کچھ کریں۔
عمران تو ہوائی جہاز پر بیٹھ کر تین چار گھنٹوں میں واپس دھرنے میں پہنچ جاتا ہے۔ قادری صاحب آن روڈ ہیں۔ بلٹ پروف گاڑی چلتی بھی آہستہ سے ہے۔ وہ کیسے اسی دن واپس آتے۔ انہیں برادرم نوید خان نے مشورہ بھی دیا کہ دھرنوں کو سمیٹیں۔ لوگوں سے جلسوں میں ملاقات کریں اور دو دن کے لئے دھرنے دیں۔ اس طرح دھرنوں کے آگے حکمرانوں کو دھر لیا جائے گا۔ یہ دھر رگڑا کا پروگرام بنے گا۔ مگر ابھی قادری صاحب صرف وضاحتیں کر رہے ہیں۔ نوید خان کہتا ہے کہ اگر ڈیل وغیرہ ہوتی تو عوامی لیگ میں کیسے ہوتا۔ میں نے عمران خان کو اسی طرح کی صورت میں چھوڑ دیا ہے۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ قادری صاحب لاہور کے جلسے میں آ کے دو دن کے لئے گھر میں ماڈل ٹاؤن رہے اور واپسی پر فوراً اعلان کر دیا۔ ماڈل ٹاؤن میں شہیدوں کی روحوں سے قادری کا مکالمہ ہوا ہو گا۔ اپنے جن صاحبان سے بھی مشورہ کیا ہو گا۔ انہوں نے اچھا کیا۔ یہ صرف حکمرانوں پر مہربانی نہیں ہے۔ اپنے مریدوں اور مریدنیوں پر بھی ترس کھایا گیا ہے۔ محرم آ گیا اور محروم لوگ عہد کربلا میں زندہ ہیں۔ دھرنے میں کئی ایسی خواتین و حضرات تھے جو آسمان کی طرف دیکھتے تھے اور قادری صاحب کے کنٹینر کی طرف۔
عمران نے ایک دفعہ یہ بھی کہا کہ اگر نواز شریف اپنے عزیزوں کے سب اثاثے جینوئن طریقے سے ظاہر کر دے تو دھرنا ختم کر دیا جائے گا۔ یعنی نواز شریف کے استعفیٰ والی بات تو رہ گئی ہے۔ عمران خان کے نمبر دو شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر حکومت سنجیدہ ہے تو ہم استعفیٰ کی بات کو ایک طرف کر کے بھی بات کرنے کو تیار ہیں۔ دو نمبر کامیابیاں حاصل کرنے والے شاہ محمود سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ ضمنی انتخاب میں ہر جگہ ن لیگ جیت گئی ہے۔ مگر ملتان میں کیسے ہار گئی ہے؟ شیخوپورہ میں ایم پی اے عارف سندھیلہ ن لیگ کیلئے چٹان کی طرح ڈٹے ہوئے نظر آئے۔ ہاشمی کے انتخابی نشان بالٹی میں کئی لوٹے سما سکتے ہیں مگر شیر نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ یہ بات بھی قادری صاحب کے لئے غو رطلب ہے کہ نواز شریف نے اپنے وزیروں اور ساتھی سیاستدانوں کو منع کیا کہ وہ قادری صاحب کے خلاف کوئی بیان بازی نہ کریں۔ سنا ہے نواز شریف کی والدہ ماجدہ نے اپنے طور پر قادری صاحب کو فون کیا۔ اگر یہ بات سچ ہے تو قادری صاحب کو مبارک ہو کہ انہوں نے ایک بزرگ اور محترم خاتون کی بات کو آنر کیا۔ اگر بڑے میاں صاحب صاحب زندہ ہوتے تو شاید یہ نوبت بھی نہ آتی۔ جو کچھ شریف برادران کے پاس ہے سب کچھ بڑے میاں شریف کا ہے۔ وہ دنیا سے چلے گئے تو یہاں کس نے ہمیشہ رہنا ہے؟
مریم نواز نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ استعفی دو تحریک اب چندہ دو تحریک میں بدل گئی ہے۔ حیرت ہے کہ مریم بی بی نے کبھی قادری صاحب کے لئے کوئی بات نہیں کہی۔ ہمیشہ مکافات عمل کی بات عمران خان کے لئے کی ہے۔ مکافات عمل تو ہر کسی کے لئے ہوتا ہے۔ اس کی کئی نشانیاں ان کے اپنے گھر میں بھی ہیں؟
قادری صاحب سے گذارش ہے کہ وہ اپنے ’’جن صاحبان‘‘ سے کوئی بڑا کام لیں مگر آج کل کے ’’جن‘‘ بھی بڑا کام کرنے کے قابل نہیں رہے۔ ایک تربوز دریا میں بہتا ہوا آ رہا تھا۔ کسی نے پکڑ لیا، توڑا تو اندر سے جن نکلا ’’کوئی حکم میرے آقا؟‘‘۔ آدمی نے فوراً کہا مجھے اسلام آباد میں کوئی پلاٹ لے دو۔ جن نے قہقہہ لگایا اور کہا میں اس قابل ہوتا تو خود تربوز میں رہتا؟
ایک ٹی وی چینل کے ایم ڈی معروف شاعر اعجاز ثاقب نے بتایا کہ جب کہیں لڑکی کا جن نکالتے نکالتے اسے مار ڈالا گیا تو ہم خبر چلائی ’’جن‘‘ نہ نکلا جان نکل گئی۔

Leave a Reply

Back to top button