کالم

اب کیا ہو گا؟

بہاولپور میں جلسہ عام کے بعد عمران خان کی طرف سے حکومت سے چند سوالات کے ساتھ 14 اگست کے موقع پر ملین مارچ کا اعلان ہو چکا ہے۔ یہ ملین مارچ حکومت کے خلاف تحریک انصاف کی طرف سے طبل جنگ ہے۔ ادھر حکومت کی طرف سے وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید جوابی پریس کانفرنس کر چکے ہیں۔ ساتھ ساتھ حکومتی وزراء کی طرف سے بھی بیانات کے گولے داغے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کی آل پارٹی کانفرنس بھی ہو چکی ہے جو بظاہر سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ایک نکاتی ایجنڈے کے حوالے سے تھی۔ اس کانفرنس میں اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں نے شرکت کی سوائے پیپلز پارٹی کے۔ پیپلز پارٹی بیانات کی حد تک انتخابی دھاندلیوں کے حوالے سے تحریک انصاف کے مؤقف کی حمایت بھی کرتی ہے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر اظہار افسوس بھی کرتی ہے مگر عملی طور پر تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے ساتھ کھڑا ہونے کے لئے تیار نہیں۔ اس کا مؤقف یہ ہے کہ وہ حکومتی تبدیلی کے کسی غیرآئینی طریق کار کی حمایت نہیں کرتی۔ بڑی مشکل سے جمہوریت کو پٹڑی پر چڑھایا گیا ہے۔ اب اسے ڈی ریل نہیں کرنا چاہئے۔ پیپلز پارٹی کے اس رویے کو سیاسی اور عوامی حلقوں کی طرف سے فرینڈلی اپوزیشن قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان عوامی تحریک کی کانفرنس کے اختتام پر جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا اس میں وزیراعلیٰ پنجاب سے استعفے کا مطالبہ کیا گیا۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی انکوائری سپریم کورٹ کے ایسے بنچ سے کروانے کا مطالبہ کیا گیا جس پر شہداء کے ورثاء کو اعتماد ہو۔ یہ آل پارٹیز کانفرنس بظاہر ایک نکاتی ایجنڈے پر کال کی گئی تھی مگر اس میں تمام سیاسی امور زیربحث آئے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا یہ کانفرنس آنے والے دنوں میں حکومت مخالف گرینڈ الائنس بننے کا پیشہ خیمہ ثابت ہو گی۔ گوکہ ڈاکٹر طاہرالقادری اس حوالے سے تردید کر چکے ہیں مگر جب کانفرنس میں شریک شاہ محمود قریشی سے اس حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے تردید نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا اس حوالے سے ابھی واضح مؤقف اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ بہت سی باتیں ہوئی ہیں۔ ساری صورت حال اسلام آباد جا کر بیان کروں گا پھر پارٹی جو فیصلہ کرے گی اس پر عمل کیا جائے گا۔ جب شیخ رشید صاحب سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا دونوں کو آخرکار ایک ہونا پڑے گا۔ الگ الگ چلیں گے تو دونوں مارے جائیں گے۔
ڈاکٹر طاہرالقادری نے شاید اسی حکمت عملی کے تحت انقلاب کا نعرہ چھوڑ کر صرف سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے اے پی سی کا اجلاس بلایا تھا تاکہ ان کے انقلابی ایجنڈے سے متفق نہ ہونے والی سیاسی جماعتیں بھی شرکت کر سکیں۔ ہو سکتا ہے مستقبل میں دونوں جماعتیں ’’حکومت گراؤ‘‘ کے ایک نکاتی ایجنڈے پر اتفاق کر لیں۔ شیخ رشید اس سلسلے میں سنجیدگی سے کوششیں کر رہے ہیں۔ مگر دوسری طرف حکومتی وزراء کے رویے میں سنجیدگی نظر نہیں آتی۔ وہ تحریک انصاف اور دوسری جماعتوں کو اپوزیشن ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ وہ صرف پیپلز پارٹی کو ہی حقیقی اپوزیشن مانتے ہیں جو اس وقت مسلم لیگ (ن) کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔ حکومتی وزراء کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے علاوہ بیشتر حکومت مخالف جماعتوں کی پارلیمنٹ میں کوئی نمائندگی ہی نہیں ہے لہٰذا ہم انہیں سیاسی جماعتیں ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ بعض سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو وہ سیاسی یتیم قرار دے رہے ہیں۔ گفتگو کی حد تک ان کی بات ٹھیک ہے مگر کیا کیا جائے چھوٹی چھوٹی سیاسی ٹولیاں جب ایک اکائی کی شکل اختیار کرتی ہیں تو وہ مضبوط سٹیٹ پاور کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ یہی صورت حال ان دنوں درپیش ہے۔ ان کی اہمیت نہ ہوتی تو حکومت کو ڈاکٹر طاہرالقادری کے طیارے کا کبھی رُخ نہ موڑنا پڑتا۔ اس سے طوفان وقتی طو رپر ٹلا ہے مگر ختم نہیں ہوا۔ حکومتی وزراء کا یہ بھی کہنا ہے کہ کچھ عناصر حکومت کے ترقیاتی منصوبوں کو رکوانا چاہتے ہیں، جو ہم نے لوڈشیڈنگ اور بے روزگاری کے خاتمے کے لئے شروع کر رکھے ہیں۔
گزشتہ حکومت سے نجات ملی تو نئی حکومت سے امید بندھی تھی مگر عام آدمی کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملا۔۔۔ عوام کو اس بات سے غرض نہیں کہ تحریک انصاف کے ساتھ کیسے دھاندلی ہوئی، ڈاکٹر طاہرالقادری کا انقلاب کیا ہے۔ وہ تو ان مسائل کے گرداب سے نکلنا چاہتے ہیں اور ان مسائل کا ذمہ دار حکومت کو سمجھتے ہیں۔ اس لئے جو بھی حکومت کے خلاف نعرہ لگائے گا لوگ اسے نجات دہندہ سمجھ کر اس سے امید جوڑ لیں گے۔ یہی وجہ ہے حکومت مخالف تحریک زور پکڑ رہی ہے۔
ایک وقت تھا ایسی تحریک کو شروع ہونے سے پہلے ہی ختم کیا جا سکتا تھا۔ اگر ابتدا میں ہی ان انتخابی حلقوں کی گنتی کروا دی جاتی جن پر تحریک انصاف کے تحفظات تھے۔ نتیجے میں بے شک چار چھ سیٹیں کم ہو جاتیں تو تحریک انصاف کا احتجاج وہیں دم توڑ جاتا اور حکومت کا جمہوری تسلسل چلتا رہتا، مگر وزراء کی غلط مشاورت بگاڑ کا سبب بنی۔ اب صورت حال اور طرف چلی گئی ہے۔ ستمبر اکتوبر کے مہینے اسٹیبلشمنٹ میں تبدیلیوں کے مہینے ہیں۔ حکومت سمجھتی ہے کمزور اپوزیشن اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی۔ وہ یہ مشکل وقت آسانی سے گزار لے گی ۔ اس کے بعد ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جائے گی۔ ادھر حکومت مخالف تحریک کو ہوا دینے والی قوتیں ستمبر اکتوبر سے پہلے کچھ کر گزرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
رمضان کا مہینہ ان کے لئے عبادت اور تیاری کا مہینہ ہے۔ حکومت کے لئے سوچ بچار کا مہینہ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا حکومت حالات کو کنٹرول کر سکے گی، کیا عمران خان ، طاہرالقادری اور دیگر اتحاد ایک ہو جائیں گے؟ یا عمران خان۔۔۔ اکیلے ہی سونامی برپا کریں گے؟۔۔۔کیا یہ ساری صورت حال عوام اور ملک کے لئے مثبت تبدیلی کا سبب بنے گی؟ یا عوام مسائل کی سولی پر یونہی لٹکے رہیں گے؟
نہ جانے ملک کا کیا حال ہونے والا ہے
سیاسی ذہنوں سے بو آ رہی ہے سڑنے کی

Leave a Reply

Back to top button