تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

اجوائن : صحت تندرستی اور طاقت کا بھرپور خزانہ

اجوائن ایک طبی مسالہ ہے جس میں کاربوہائیڈریٹس، فیٹ، پروٹین، فائبر، موئسچر، منرلز، کیلشیم، فاسفورس، آئرن، کوبالٹ، کوپر، آئیوڈین، میگنیشیم، تھائیمائین اور ریبو فلاون پایا جاتا ہے، اسی لیے ماہرین غذائیت کا کہنا ہے کہ چھوٹے بیجوں کی شکل میں یہ ایک صحت کے لیے بھر پور خزانہ ہے۔

زمانہ قدیم سے ہی انسان اجوائن کو دوا کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔اجوائن ایک خود رو اور قابل کاشت پودا ہے۔جو ایران، مصر، افغانستان اور پاکستان میں کاشت کیا جاتا ہے۔ اسکی بو مخصوص قسم کی اور ذائقہ تیز ہے۔ اجوائن کے بیجوں میں تیل یا روغن بھی پایا جاتا ہے۔ اسکے تیل کا رنگ بھورا بھی ہوتا ہے اور بے رنگ بھی ہوتا ہے۔

اجوائن کا رنگ سیاہی مائل بھورا ہوتا ہے۔ اجوائن کی دو مشہور اقسام ہیں۔ اجوائن دیسی اور اجوائن خراسانی جبکہ بعض اطباء نے اس کی چار اقسام بتائی ہیں۔اجوائن دیسی کی پہچان یہ ہے کہ اس کے پتے کسی حد تک دھنیا کے پتوں سے مشابہت رکھتے ہیں۔ ان میں کچھ تیزی اورتلخی ہوتی ہے۔ اس کا پودا سوئے کے پودے کی طرح ہوتا ہے۔ جبکہ اس کے چھوٹے چھوٹے، سفید چھتری کی طرح ملے ہوئے پھول ہوتے ہیں۔ پھولوں کے بعد چھوٹے چھوٹے بیج لگتے ہیں۔ یہی بیج اجوائن کہلاتے ہیں۔

طب کی دنیا میں اسکی بہت اہمیت ہے۔ برصغیر میں ہا ضمے کی دوائی کے طور پہ صدیوں سے استعمال کی جارہی ہے۔ نزلہ زکام کے لئے اجوائن بہت موثر علاج ہے۔ آدھے سر کے درد کے لئے اجوائن کے بیجوں کا دھواں لینا انتہائی فائدہ مند ہے۔ جوڑوں کے درد اور سوزش میں اجوائن کا تیل کی مالش کرنا بہت مفید ہے۔

اجوائن میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
اجوائن ایک طبی مسالہ ہے جس میں کاربوہائیڈریٹس، فیٹ، پروٹین، فائبر، موئسچر، منرلز، کیلشیم، فاسفورس، آئرن، کوبالٹ، کوپر، آئیوڈین، میگنیشیم، تھائیمائین اور ریبو فلاون پایا جاتا ہے، اسی لیے ماہرین غذائیت کا کہنا ہے کہ چھوٹے بیجوں کی شکل میں یہ ایک صحت کے لیے بھر پور خزانہ ہے۔

اجوائن کے طبی فوائد:

قدرتی اینٹی آکسیڈنٹ:
صدیوں سے استعمال کی جانے والی اجوائن مجموعی صحت پر مثبت طریقے سے اثر انداز ہوتی ہے، اسے قدرتی اینٹی آکسیڈنٹ بھی کہا جاتا ہے، نہار منہ اس کے قہوے کے استعمال سے وزن میں کمی سمیت جلد صاف ہوتی ہے اور جسم سے مضر صحت مادوں کا صفایا بھی ہوتا ہے جس کے نتیجے میں کئی وائرل بیماروں سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

معدے کی صحت ضامن:
اجوائن قہوہ پینے سے معدے کی صحت بہتر ہوتی ہے، کارکاردگی میں اضافہ ہوتا ہے اور متعدد بیماریوں کی جڑ قبض کی شکایت سے بھی چھٹکارہ ملتا ہے، اجوائن قہوہ پی لینے سے غذاجلدی ہضم ہوتی ہے، بد ہضمی کی صورت میں اجوائن قہوے کا استعمال نہایت مفید ثابت ہوتا ہے۔

ماؤں کا دودھ بڑھائے:
یہ خواتین اور بچوں کی خاص دوا سمجھی جاتی ہے پیٹ کی خرابی میں اسکا پانی بہت مفید ہے اسکا استعمال یوٹرس کو مضبوط بناتا ہے ہاضمہ فورا ٹھیک کرتا ہے اجوائن کا پانی پینے سے پیٹ فورا ٹھیک ہو جاتا ہے یہ دودھ پلانے والی ماؤں میں دودھ کی مقدار بڑھاتی ہے-

انفیکشن سے نجات:
اجوائن میں اینٹی سیپٹک، اینٹی مائیکروبیل اور اینٹی پیرا سائیٹک خصوصیات پائی جاتی ہیں جس کے نتیجے میں انسان ہر قسم کے انفیکشن اور وائرل بیماری سے محفوظ رہتا ہے، اجوائن قوت مدافعت کی کارکاردگی بڑھاتی ہے۔

سانس کے مسائل:
اجوائن کا استعمال سانس کی نالی، پھیپڑوں کی صحت کے لیے بہتر ثابت ہوتی ہے، جن افراد کو دھول مٹی سے الرجی ہوتی ہے وہ اس کے قہوے سے مستفید ہو سکتے ہیں جبکہ اس کا استعمال دمے کے مریضوں کے لیے بھی نہایت مفید ثابت ہوتا ہے۔

قوت باہ میں اضافہ:
اگر جوائن کو لیموں کے پانی میں رگڑ کر خشک کر کے سفوف بنایا جائے اور یہ سفوف ایک چمچہ چائے والا ہمراہ پانی دن میں ایک بار استعمال کرنے سے قوت باہ میں اضافہ ہوتا ہے۔کیونکہ لیموں عضلاتی اعصابی ہے اور اپنے اندر ترشی و تیزابیت لئے ہوئے ہے اسے مکس کرنے سے اجوائن کا مزاج بھی بدل جاتاہے۔اس لئے بعض مراحل میں یہ ہاضمہ کیساتھ ساتھ قوت باہ میں اضافے کا باعث ثابت ہوتی ہے۔

وزن میں کمی:
اجوائن کا استعمال کولیسٹرول کی سطح متوازن رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے جبکہ ذیابطیس، دل کا عارضہ اور موٹاپا بننے والی وجوہات کے خلاف موثر کردار ادا کرتا ہے۔

جوڑوں میں درد کا علاج:
جن افراد کو جوڑوں میں درد کی شکایت ہے۔ اجوائن اُن کے استعمال کے لیے بھی مفید ہے، اجوائن کا قہوہ درد کی شدت میں کمی لاتا ہے، جس سے درد میں آرام ملتا ہے۔جرنل آف انفلامیشن میں شائع ہونے والی ایک ہیلتھ رپورٹ کے مطابق جوڑوں میں درد سوجن کے باعث ہوتا ہے جبکہ اجوئن میں اینٹی انفلامینٹری خصوصیات پائی جاتی ہیں۔

اجوائن قہوہ بنانے کا طریقہ:
ایک چائے کا چمچ اجوائن، 500 ملی لیٹر پانی، 1 لیموں، ایک چائے کا چمچ سیب کا سرکہ، ایک چائے کا چمچ ہلدی پاؤڈر، ایک چٹکی کالا نمک اور ایک چائے کا چمچ شہد لے لیں۔

پانی میں اجوائن کو ابلنے تک پکا لیں، اب اس قہوے کو چھان لیں اور اس میں لیموں کا رس، سیب کا سرکہ، شہد، ہلدی اور کالا نمک شامل کریں اور اچھی طرح سے ملا کر نیم گرم استعمال کریں۔

اجوائن کے دیگر استعمال:
اجوائن کھانا ہضم کرتی ہے اور بھوک بڑھاتی ہے۔ فساد بلغم اور اپھارہ کو دور کرتی ہے۔جگر کی اصلاح کرتی ہے اور اس کی سختی میں بیحد مفید ہے۔پیشاب اور حیض کو جاری کرتی ہے۔گردہ و مثانہ کی پتھری کو توڑتی ہے۔فالج اور اعصابی کمزوری والے مریضوں کے لیے مجرب ہے۔
جسم کے زہریلے مادوں کو تحلیل کرتی ہے۔دل کو طاقت دیتی ہے اور اعصابی دردوں کے لیے بہت مفید ہے۔

اجوائن کو اگر شہد کے ہمراہ کھایا جائے تو چہرے اور ہا تھ پاؤں کی سوجن میں فائدہ دیتی ہے۔
کالی کھانسی دور کر نے کے لیے اگر اجوائن کا پانی یعنی اجوائن کو پانی میں بھگو کر اور نتھار کر پانچ روز تک صبح و شام تین تولے پینے سے صحت یابی ہوگی۔
پیٹ کے درد اور بدہضمی میں اجوائن اور نمک کی پھکی بنا کر کھانے سے شفا ہوتی ہے۔ تجربے میں آیا ہے کہ اس کی ایک خوراک ہی بہت فائدہ دیتی ہے۔
اس کا روزانہ استعمال بمقدار چھ ما شہ ہمراہ پانی بدن میں چستی لاتا ہے۔
پرانے بخار میں اجوائن دیسی چھ ماشہ، گلو تین ماشہ رات کو پانی میں بھگو کر صبح رگڑ چھان کر حسب ذائقہ نمک ملا کر استعمال کرنے سے تین سے پانچ دن کے اندر بخار دور ہو جاتا ہے۔
زکام کی صورت میں اجوائن کو گرم کر کے باریک کپڑے میں پوٹلی باندھ کر سونگھنے سے چھینکیں آتی ہیں جس سے پانی بہہ جاتا ہے اور زکام کا زور کافی حد تک کمزور ہو جاتا ہے۔
ہچکی کو روکنے کے لیے اجوائن دیسی کا قہوہ بناکر پیاجائے تو فائدہ دیتی ہے.
اجوائن کے چند دانے چبا لینے سے قے فوراً رک جاتی ہے۔ اگر منہ کا ذائقہ خراب ہو تو اجوائن کے دانے چبانے سے ٹھیک ہو جاتا ہے۔
اس کے کھانے سے کھٹی ڈکاریں آنا بند ہو جاتی ہیں۔
بھڑ یا بچھو کے کاٹنے کی صور ت میں اگر فوری طور پر متاثرہ جگہ پر اجوائن کی لیپ کی جائے تو فوراً آرام ہو جاتا ہے۔
اعصابی دردوں میں بھی اسے کامیابی سے استعمال کیا جاتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے ضرور مشورہ لیں۔

Leave a Reply

Back to top button