HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » دین و مذہب » احکام ومسائل اعتکاف

احکام ومسائل اعتکاف

پڑھنے کا وقت: 8 منٹ

حافظ کریم اللہ چشتی پائی خیل……

اعتکاف بناہے عَکف جس کامعنی ہے ٹھہرنایاقائم رہناجبکہ اصطلاح شرع میں اس سے مراداللہ پاک کے گھرمیں عبادت کی نیت سے ٹھہرنے کوشرعی اعتکاف کہاجاتاہے۔حقیقی اعتکاف یہ ہے کہ ہرطرف سے یکسوہوکراورسب سے منقطع ہوکراللہ تعالیٰ سے لَولگاکے اس کے درپرمسجدکے کونہ میں بیٹھ جائے اورسب سے علیحدہ تنہائی میں عبادت اس کے ذکروفکرمیں مشغول ہوجائے یہ بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کاایک ایسا طریقہ ہے جس میں مسلمان دنیاسے لاتعلق ہوکراللہ پاک کے گھرمیں صرف اللہ پاک کی یادمیں متوجہ ہوجاتاہے۔معتکف اپنے عمل سے ثابت کرتاہے کہ میں نے حالت حیات ہی میںاپنابال بچہ اورگھربارسب کوچھوڑدیاہے اورمولاٰ!تیرے گھرہی میں آگیاہوں یہ قاعدہ قانون ہے کہ اگرگھروالاکریم اورعزت والاہوتووہ ضرورہراس شخص کی عزت واکرام کرتاہے جواسکے گھرمیں آئے خواہ وہ دشمن کیوں نہ ہو۔بھلاجوارحم الراحمین جوسب داتوںکاداتاہے خالق کائنات مالک ارض وسماوات ہے اسکے گھرمیں کوئی مسلمان جاکرپناہ لے تووہ کریم ذات اسکاکس قدراکرام فرمائیگا۔

قرآنِ پاک میں اعتکاف کاذکر
اعتکاف کی تاریخ بھی روزوں کی طرح بہت پرانی ہے۔اللہ رب العزت اپنی پاک کتاب قرآن مجیدفرقان حمیدمیں ارشادفرماتاہے۔ترجمہ! اورہم نے ابراہیم واسماعیل علیہم السلام کوتاکیدکی کہ میراگھرخوب صاف ستھرارکھناطواف کرنے والوں ،اعتکاف کرنے والوں اوررکوع وسجودکرنیوالوں کے لئے”۔ایک اورمقام پرارشاد باری تعالیٰ ہے”اورعورتوں کوہاتھ نہ لگاﺅ جب تم مسجدوں میں اعتکاف کررہے ہو”۔(سورة البقرہ۷۸۱)

حدیث پاک میںاعتکاف کاذکر
حضرت علی (زین العابدین)بن حسین اپنے والدحضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیںرسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشادفرمایا”جوشخص رمضان المبارک میںدس دن کااعتکاف کرتاہے اس کاثواب دوحج اوردوعمرے کے برابرہے”۔ (طبرانی فی المعجم الکبیر،بیہقی فی شعب الایمان)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشادفرمایا”جوشخص اللہ تعالیٰ کی رضاکے لئے (صدق وخلوص کے ساتھ)ایک دن اعتکاف بیٹھے اللہ تعالیٰ اس کے اوردوزخ کے درمیان تین خندقوں کافاصلہ کردیتاہے ہرخندق مشرق سے مغرب کے درمیانی فاصلہ سے زیادہ لمبی ہے “۔(طبرانی)حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے معتکف کے بارے میں فرمایاوہ گناہوں سے بازرہتاہے اورنیکیوں سے اسے اس قدرثواب ملتاہے جیسے اس نے تمام نیکیاں کیں۔(ابن ماجہ)حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اعتکاف کی خودپابندی فرمایاکرتے تھے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہرسال رمضان المبارک میں دس دن اعتکاف فرماتے تھے اورجس سال آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کاوصالِ مبارک ہوااس سال آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بیس دن اعتکاف کیا۔(متفق علیہ)حضورصلی اللہ علیہ والہ وسلمکے دنیاسے ظاہراََپردہ فرمانے کے بعدعام لوگوں نے اس سنت پرعمل کیااورآج تک کررہے ہیں لیکن خاص طورپرحضورصلی اللہ علیہ والہ وسلمکی یادمیں ازواج مطہرات نے اسکی پابندی کی۔ام المومنین حضرت عائشة الصدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلمرمضان المبارک کے آخری دس دن اعتکاف کیاکرتے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپصلی اللہ علیہ والہ وسلمکاوصال ہوگیا۔پھرآپصلی اللہ علیہ والہ وسلمکے بعدآپ کی ازواج مطہرات نے بھی اعتکاف کیاہے ۔(متفق علیہ)

ام المومنین سیدتناعائشہ الصدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں”معتکف کے لئے شرعی دستوراور ضابطہ حیات یہ ہے کہ وہ کسی مریض کی عیادت نہ کرے،نہ کسی جنازے کے ساتھ جائے،نہ اپنی بیوی کوچھوئے اورنہ اس سے مباشرت کرے اورغیر ضروری حاجت کے علاوہ اعتکاف گاہ سے نہ نکلے۔(ہاں اگرگزرتے گزرتے بلاتوقف بیمارکی عیادت کی جائے توجائزہے)۔ ابوداﺅد
معتکف کوچاہیئے کہ زیادہ سے زیادہ وقت اللہ کی عبادت میں گزارے ۔لیکن خاص کرشب قدرکوتلاش کرنے کے لئے ،اکیس ،تئیس،پچیس، ستائیس، انتیس کی راتیں جاگ کرگزارے کیونکہ جوشخص شب قدرمیں عبادت کرتاہے تواسکے بارے میں حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے کہ آقاعلیہ الصلوٰة والسلام نے فرمایا”جوشخص لیلة القدرمیں حالت ایمان اورثواب کی نیت سے قیام کرتاہے اس کے سابقہ گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں”۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان المبارک کی آمدپرحضورصلی اللہ علیہ والہ وسلمنے ارشادفرمایا۔”یہ ماہ جوتم پرآیاہے اس میں ایک رات ایسی ہے جوہزار مہینوں سے افضل ہے جوشخص اس رات سے محروم رہ گیاگویاوہ ساری خیرسے محروم رہااوراس رات کی بھلائی سے وہی شخص محروم رہ سکتا ہے جوواقعتا َمحروم ہو”یہ رات کتنی عظمت والی ہے ۔واقعی وہ انسان کتنابدبخت ہے جواتنی بڑی نعمت کوغفلت کی وجہ سے گنوادے۔ہم معمولی معمولی باتوں کے لئے کتنی راتیں جاگ کرگزارلیتے ہیں تواَسّی80سال کی عبادت سے افضل بابرکت رات کے لئے جاگناکوئی زیادہ مشکل کام تونہیں۔

اعتکاف کی تین قسمیں ہیں 1۔ اعتکاف واجب 2۔ اعتکاف سنت 3۔ اعتکاف نفل
اعتکاف واجب وہ ہوتاہے جوکوئی شخص کسی کام کے پوراہوجانے کے لئے مانے یعنی نذرمانے اسکی مدت کم ازکم ایک دن اورایک رات ہے اس میں روزہ رکھناشرط ہے نذرپوری ہوجانے کے بعداس شخص پراعتکاف کااداکرنالازم ہوجاتا ہے۔

اعتکاف سنت وہ اعتکاف ہے جوماہ ر مضان کے آخری دس دنوں میں کیاجاتاہے۔اس کے لئے روزہ شرط ہے یہ سنت کفایہ ہے یعنی اگربستی میں ایک مسلمان نے اس سنت کواداکرلیاتوسب کیطرف سے اداہوجائے گااورسب بستی والوں کوثواب ملیگا۔اگربستی میں کسی ایک شخص نے بھی اعتکاف نہ کیاتوپوری بستی گناہ گارہوگی۔لہذاہم سب مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وقت آنے سے پہلے کسی کواعتکاف کرنے کے لئے تیارکریں ۔جوشخص اعتکاف کررہاہوتاہے وہ پوری جماعت کی طرف سے نمائندہ کی حثیثت سے بیٹھااعتکاف کررہاہوتاہے ۔اُسے چاہیے سب مسلمانوں کے لئے دعاکرے اور اہل علاقہ کوبھی چاہیے وہ اپنے نمائندہ کی ہرطرح سے خدمت کریںسب مل کراسکی ضروریات کھانے پینے کاانتظام کریں اس کے کاروباروغیرہ کی حفاظت کریں۔

اعتکاف نفل وہ ہوتاہے کہ جب مسلمان مسجدمیں داخل ہوتواعتکاف کی نیت کرے اسکی کوئی مدت اورکوئی وقت مقررنہیں اورنہ ہی اسکے لئے روزہ شرط ہے۔اعتکاف کی نیت سے جتنی دیرمسجدمیں رہے گااسکوثواب ملتارہیگااوراس کے لئے وہ کام جائزہوجائے گاجواعتکاف کی نیت نہ کرنے والے پرجائزنہیںجیسے کھاناپینا،سوناوغیرہ۔

اعتکاف کارکن اعظم
اعتکاف کارکن اعظم یہ ہے کہ انسان اعتکاف کے دوران مسجدکی حدودمیں رہے اورضروری حاجت کے سواایک لمحے کے لئے بھی مسجدکی حدودسے باہرنہ نکلے کیونکہ اگرمعتکف ایک لمحے کے لئے شرعی ضرورت (جیسے پاخانہ ،پیشاب وغیرہ)کے بغیرحدودمسجدسے باہرچلاجائے تواس کااعتکاف ٹوٹ جاتاہے ۔

اعتکاف بیٹھنے کی درج ذیل شرائط ہیں۔
مسلمان ہونا،اعتکاف کی نیت کرنا،حدث اکبر(یعنی جنابت) اورحیض ونفاس سے پاک ہونا ،عاقل ہونا،مسجدمیں اعتکاف کرنا،اعتکاف واجب (نذر) کے لئے روزہ بھی شرط ہے۔دوران اعتکاف درج ذیل امورسرانجام دینے چاہیںقرآن حکیم کی تلاوت، درود شریف پڑھتے رہنا،علوم دینیہ کاپڑھنایاپڑھانا،وعظ و نصیحت یااچھی باتیں کرنا،قیام اللیل،ذکرواذکارکی کثرت کرنا۔
اجتماعی اعتکاف میں حتی الامکان نوخیزلڑکے اورآپس میں گپ شب کرنے والے دوستوں کونیزامرداورناسمجھ بچوں کوانتظامیہ مسجد میں اعتکاف کرنے سے روکنے کی کوشش کرے تاکہ مسجدمیں اودھم بازی اورہڑاہڑی کاماحول پیدانہ ہو۔اعتکاف میں تلاوت قرآن مجیدکرنا، نعت خوانی،ذکرودرود، مسائل فقہ کامطالعہ اورمسائل کی آپس میں تکرارکرناسب جائزہے ۔اگرنفلی عبادات بجانہ لاسکے توخاموش رہ کرمسجدکی بے حرمتی وغیرہ سے بچنابہترین عبادت ہے ۔اعتکاف کرنے والااپنے پاس ضروری سامان کے علاوہ قرآن پاک کاترجمہ،نمازکے احکام،فیضان سنت،بہارِشریعت اوردیگرعلمائے اہلسنت کی مستندکتابیں ضروررکھے تاکہ یکسوئی سے انکامطالعہ کرکے انکی فیوض وبرکات حاصل کرتارہے ۔موبائل فون کابے جااستعمال ویسے بھی ممنوع ہے ۔ حالتِ اعتکاف میں ،مسجداوررمضان المبارک کی بے حرمتی کاسبب ہونے کی وجہ سے اورزیادہ ممنوع اورناجائزہے لہذااس سے اجتناب کریں ۔ناجائزباتیں مسجدسے باہربھی گناہ ہیں ۔ مسجدمیں غیرضروری جائزبات بھی نیکیوں کویوں کھاجاتی ہے جس طرح آگ خشک لکڑیوں کواورچوپایاگھاس کوکھاجاتاہے ۔لہذاجوباتوں سے نہیں بچ پاتااس کااعتکاف نہ کرناہی اسکے حق میں بہترہے ۔

جواب دیجئے