تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

اخروٹ فالج اور لقوہ کو نہایت موثر علاج

ایک تحقیق کے مطابق مغزیات میں 13 تا 20 فیصد لحمیات، 50 تا 60 فیصد روغنیات، 9 تا 12 فیصدنشاستہ، 3 تا 5 فیصد کیلوریز اور کئی دوسری معدنیات کی مقدار ایک فیصد ہوتی ہیں۔جبکہ ایک سوگرام مغزیات میں چھ سوغذائی حرارے(کیلوریز) پیدا ہوتے ہیں۔

اخروٹ موسم سرما میں استعمال ہونے والے خشک میوہ جات میں اپنی غذائی افادیت کے لحاظ سے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔سرد برفانی علاقوں کے لوگ موسم کی شدتوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اس کا بکثرت استعمال کرتے ہیں اور میدانی علاقوں کے لوگوں میں بھی یہ رغبت سے استعمال ہوتا ہے۔اپنے غذائی حراروں کے سبب موسم سرما میں جسم میں طاقت اور حرارت کا احساس دلاتا ہے یہی وجہ ہے کہ غذا اور دوا کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔اخروٹ انسانی دل، دماغ، ہڈیوں، چہرے کی رنگت، بالوں کے لیے فعال کردار ادا کرنے کے ساتھ سرطان جیسے جان لیوا مرض سے بچاؤ میں بھی معاونت کرتا ہے۔

پاکستان میں اخروٹ کے درخت بلوچستان،سوات،مری،آزاد کشمیر کے علاقوں میں بہت زیادہ ہوتے ہیں۔جبکہ ایران اور افغانستان میں اخروٹ کے درخت بکثرت پائے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ بحیرہ روم کے اطراف کے ممالک اور وسطی ایشیائی ممالک میں اخروٹ کی کاشت بھی بہت زیادہ ہے۔

اخروٹ کے درخت کی لمبائی عموماً ایک سو سے ایک سوبیس فٹ تک ہوتی ہے اور گولائی بارہ سے تیس فٹ تک ہوتی ہے۔تیس سال کے بعد اس درخت میں پھل آنے لگتا ہے اور بعض اوقات چالیس سال سے زیادہ عرصہ لگ جاتا ہے۔
جب اس کا پھل اکٹھا کیا جاتا ہے تو اسے استعمال نہیں کیا جاتا کیونکہ اس وقت ان میں دودھ جیسی رطوبت نکلتی ہے۔تین ماہ کے بعد یہ دودھ جیسی رطوبت جم کر مغز بن جاتی ہے جسے مغزاخروٹ کا نام دیا جاتا ہے اور پھر اسے موسم سرما میں خشک میوہ کے طور پر غذائیت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

اخروٹ میں پائے جانے والی کیمیائی اجزا
ایک تحقیق کے مطابق مغزیات میں 13 تا 20 فیصد لحمیات، 50 تا 60 فیصد روغنیات، 9 تا 12 فیصدنشاستہ، 3 تا 5 فیصد کیلوریز اور کئی دوسری معدنیات کی مقدار ایک فیصد ہوتی ہیں۔جبکہ ایک سوگرام مغزیات میں چھ سوغذائی حرارے(کیلوریز) پیدا ہوتے ہیں۔

اخروٹ میں پائے جانے والے غذائی اجزاء کا جو کیمیائی تجزیہ کیا گیا ہے اس کے مطابق ایک ہزار گرام اخروٹ میں حسب ذیل اجزاء پائے جاتے ہیں۔

پانی 3.1 گرام،لحمیات 20.5 گرام روغنیات 59.3 گرام،چکنائی 14.8 گرام،ریشہ 1.7 گرام، راکھ2.3 گرام، کیلشیم 0.15 گرام، فاسفورس 5.70 گرام، فولاد 6.0 گرام سوڈیم 3.0 گرام، پوٹاشیم 5.60 گرام، حیاتین بی ون 0.22،وٹامن ای، بی ون، بی ٹو، حیاتین بی ٹو0.11اور بی تھری، کاپر، اومیگا -3 فیٹی ایسڈ، کیلوریز628 گرام اور بہت سے اہم اجزا پائے جاتے ہیں۔

اینٹی آکسائیڈنٹس کے حصول کا بہترین ذریعہ:
اخروٹ میں کسی بھی گری کے مقابلے میں اینٹی آکسائیڈنٹس سرگرمیاں زیادہ ہوتی ہیں، یہ سرگرمیاں وٹامن ای، میلاٹونین اور نباتاتی مرکبات پولی فینولز سے ہوتی ہیں۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اخروٹ کھانے کی عادت کھانے کے بعد نقصان دہ کولیسٹرول کے تکسیدی تناؤ سے ہونے والے نقصان بچاتی ہے۔ یہ فائدہ مند ہے کیونکہ ایل ڈی ایل کا اجتماع شریانوں میں ہوتا ہے جس سے ایتھیروسلی روسس (دل کی ایک بیماری جس میں غیرلچکدار مادہ شریانوں میں جمع ہوجاتا ہے) کا خطرہ بڑھتا ہے۔

اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کا حصول
اخروٹ میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی مقدار دیگر گریوں کے مقابلے میں کافی زیادہ ہوتی ہے، 28 گرام اخروٹ میں ڈھائی گرام یہ فیٹی ایسڈز جسم کو ملتے ہیں۔ اخروٹ جیسی غذا?ں میں موجود نباتاتی اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کو الفا لینولینک ایسڈ (اے ایل اے) کہا جاتا ہے جو ایک ضروری جز ہے۔ انسٹیٹوٹ آف میڈیسین کے مطابق مردوں کو روزانہ 1.6 جبکہ خواتین کو 1.1 گرام اے ایل اے کی ضرورت ہوتی ہے اور کچھ مقدار میں اخروٹ سے اسے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ مختلف تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا ہے کہ اے ایل اے کا روزانہ استعمال امراض قلب سے موت کا خطرہ 10 فیصد تک کم کرتا ہے۔

پانچ اخروٹ کھانے کا فارمولا:
اخروٹ اور اس قسم کے دیگر خشک میوہ جات میں ایسے اجزاء ہوتے ہیں جو دماغ کو تقویت پہنچاتے ہیں، لیکن اب سائنس دانوں نے دریافت کیا ہے کہ روزانہ صرف 5 اخروٹ کھانے سے دل کو بھی افاقہ ہوتا ہے جبکہ آنتوں اور پیٹ کی حالت بھی اچھی رہتی ہے۔

1 2 3 4 5 6اگلا صفحہ

Leave a Reply

Back to top button