تجزیہسیاسیات

اداروں کونشانہ بنانے کابیانیہ عوامی پذیرائی حاصل نہیں کرسکتا، نثار

سابق وزیر داخلہ اور حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنما چوہدری نثار علی خان نے قومی اداروں کو نشانہ بنانے کو غیرسیاسی عناصر کا بیانیہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہباز شریف کی پارٹی کے وزیراعظم کے امیدوار کی نامزدگی کا فیصلہ مثبت ثابت ہو سکتا ہے اگر انھیں ان کی سوچ اور صلاحیت کے مطابق کام کرنے دیا جائے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) بطور سیاسی و حکمران پارٹی ایک انتہائی نازک دور سے گزر رہی ہے اس لیے اس وقت جوش سے زیادہ ہوش سے فیصلے کرنے کی اشد ضرورت ہے اور ان فیصلوں کے پیچھے سیاسی مشاورت کی بھی اتنی ہی ضرورت ہے۔

سابق وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں ٹویٹس اور ٹکرز کے ذریعے نہیں چلائی جاتیں اور نہ ہی غیر سیاسی لوگوں کے فیصلے مسلط ہونے سے جماعتوں کی ساکھ بہتر ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر تصادم کی پالیسی کے اس لیے خلاف ہیں کیونکہ اپنی تمام تر توجہ سیاسی مخالفین پر رکھنی چاہیے اور غیر ضروری تنازعات میں الجھنے سے گریز کرنا چاہیے۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ کوئی بھی سیاسی کارکن عدلیہ مخالف تحریک کا حصہ بننے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) صرف ایک سیاسی جماعت ہی نہیں بلکہ ایک جمہوری پارٹی بھی ہے اورمجھے ہمیشہ اس بات کا اطمینان ہی نہیں بلکہ خوشی بھی رہی ہے کہ اس پارٹی میں اظہار رائے کی جتنی آزادی ہے وہ کسی اور پارٹی میں نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شاید میری مسلم لیگ (ن) کے ساتھ تقریبا 33سالہ رفاقت کی بنیادبھی یہی ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ اس اظہاررائے کی آزادی کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے کبھی نہیں تھی۔

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ وہ اس شخص کو سیاست دان نہیں سمجھتے جس نے لوکل کونسل کا الیکشن بھی نہ لڑا ہو اور ایسے غیر سیاسی لوگوں کو رائے اور مشورہ دینے کا حق ضرور ہے لیکن مسلم لیگ (ن) پراپنی رائے مسلط کرنے کی سراسر گنجائش نہیں ہے۔

حکمراں جماعت کے سینیئر رہنما نے کہا کہ وہ غیر سیاسی عناصر جو ایسا بیانیہ ترتیب دینا چاہتے ہیں جس میں نشانہ قومی ادارے ہوں کسی صورت بھی عوام میں پذیرائی حاصل نہیں کر سکتے۔

ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال کے حوالے ان کا کہنا تھا کہ آئندہ انتخابات کے تناظر میں موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے انتہائی ضروری ہو گیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) ایک انتہائی موثر اور متفقہ بیانیہ وضع کرے جو ایک ایسا بیانیہ ہونا چاہیے جس میں سیاست، معیشت اور ملک کے قومی مسائل کے حل کے خاکے کے ساتھ ساتھ اپنی ساڑھے چار سالہ کارکردگی کا عکس بھی موجود ہو۔

چوہدری نثار نے کہا کہ اس قومی بیانیے کی ضرورت بین الاقوامی حالات و واقعات اور کئی اطراف سے ملک پر بالواسطہ اور بلا واسطہ دباؤ کی وجہ سے اور بھی زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔

خیال رہے کہ سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار پارٹی کے اندر اپنے اختلاف رائے کا اظہار کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف کو جارحانہ حکمت عملی سے گریز کرنے کا مشورہ دیا تھا جبکہ اہم وزرا کے خلاف مشکل وقت میں کھل کر بیان دیتے رہے ہیں۔

نواز شریف کی نااہلی کے بعد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی وفاقی کابینہ میں بطور وزیر عہدہ سنبھالنے سے انکار کیا تھا تاہم قومی اسمبلی میں ہونے والی قانون سازی میں مسلم لیگ (ن) کے فیصلوں پر عمل کیا تھا۔

Leave a Reply

Back to top button