انٹرویوز

ادب نظری جکڑ بندی کے خلاف بغاوت کرتا ہے: ڈاکٹر تحسین فراقی

معروف شاعر، محقق اور نقاد کا راجا نیّر سے مکالمہ
آج ہم جس ہمہ جہت علمی وادبی شخصیت سے آپ کی ملاقات کروا رہے ہیں، وہ ہیں ڈاکٹر تحسین فراقی۔ اُن کی ذات کے حوالے سے جتنی بھی تعارفی سطریں لکھی جائیں یقینا کم ہوں گی۔ آپ شاعر، ادیب، محقق، نقاد، مترجم کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔ آپ کے فکروفن کے حوالے سے کئی یونیورسٹیوں میں کم وبیش ایم فِل کے سات تھیسز کیے جا چکے ہیں۔ آپ ماہر تعلیم کی حیثیت سے پنجاب یونیورسٹی (اورینٹل کالج) میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ آج کل مجلس ترقی ادب کے ناظم کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے ہیں …… آپ گفتگو کرنے میں خاص ملکہ رکھتے ہیں، یقینا ان کی گفتگو سے کئی علمی وادبی در کھلیں گے۔ آیئے ان کی گفتگو سے لطف لیں۔
سوال: کیا آپ نئی بات کے قارئین کو اپنی اوائلِ عمری کی یادوں سے آگاہ کرنا چاہیں گے؟
ڈاکٹر تحسین فراقی: کیوں نہیں، یوں بھی میری عمر کو پہنچ کر اوائلِ عمر کی یادیں اکثر انسانی وجود کا احاطہ کیے رکھتی ہیں۔ یہ یادیں بڑی پُرکشش اور ساتھ ہی ساتھ اُداس کر دینے والی ہوتی ہیں۔ مَیں نے اپنی زندگی کے پندرہ سولہ برس ساہیوال کے ایک معروف قصبے بصیر پور میں بسر کیے جہاں میرے والد اسکول میں استاد تھے۔ میری ابتدائی تربیت میں میرے مشفق اور فرض شناس اساتذہ اور میرے والدین کا بڑا حصہ ہے۔ میں نے میٹرک تک یہیں تعلیم پائی۔ والد اُردو، فارسی (اور کسی قدر عربی) ادبیات کے عاشق تھے۔ اُنھیں حالی، اکبر اور اقبال کے سیکڑوں شعر نوکِ زبان تھے۔ اقبال کی شاعری سے تو انھیں والہانہ لگاؤ تھا۔ بصیر پور کے پاکستان بھر میں مشہور دینی ادارے دارالعلوم حنفیہ فریدیہ سے بھی کسی قدر فیض حاصل کیا تھا۔ اعلیٰ اسلامی قدروں کے امین اور داعی تھے۔ فارسی ادب خصوصاً شاعری سے غیرمعمولی طور پر وابستہ تھے۔ رومی، سعدی اور عطّار کے اکثر فارسی اشعار اوّلاً انھی سے ان کے پُرسوز لحن میں سُنے۔ جب وہ یہ اشعار اپنے گداز بھرے لہجے میں پڑھتے تو ان پر اکثر رقت طاری رہتی۔ میں نے اُردو، فارسی ادبیات کی محبت انھی سے ورثے میں پائی۔ اُنھوں نے نُور کا گلا پایا تھا۔ اذانِ فجر کے ساتھ بیدار ہوتے تھے۔ قرآن حکیم کی تلاوت ایسے پُرسوز لحن سے کرتے کہ سننے والے وجد میں آ جاتے۔ اساتذہ میں علامہ ولی محمد، ماسٹر حسن محمد اور حافظ بصیرپوری خصوصاً قابلِ ذکر ہیں۔ فارسی اور اُردو ادب اور خوش خطی سے محبت کا بیج میرے دل میں انھی اساتذہ اور میرے والد کا بویا ہوا ہے۔ اساتذہ بڑے ایثار پیشہ تھے اور تدریس کو عین عبادت سمجھتے تھے۔ ان کے سینے بے کینہ تھے اور دولت کی ہوس سے خالی تھے۔ مختصر یہ کہ یہ بے مثال اساتذہ اپنے وقت کے بے تاج بادشاہ تھے۔ میں ان کی مغفرت کے لیے ہر روز دُعا کرتا ہوں، ان کا باج گذار ہوں۔ ہمارا موجودہ تعلیمی نظام ہوس پیشہ، زرپرست، عہدہ طلب اور اجتماعی پاگل پن کے شکار اُن لوگوں کا آوردہ و پروردہ ہے جو تعلیم و تربیت کی ’ت‘ سے بھی واقف نہیں۔ ان لوگوں کی آماج گاہیں وہ لاتعداد تعلیمی ادارے ہیں جہاں صرف سکّے گھڑے جاتے ہیں۔ از چنیں مرداں چہ اُمیدِ بہی۔ میرے بس میں ہو تو میں پاکستان کے تمام تعلیمی ادارے زر کے ان فتنہ گر پجاریوں سے خالی کروا لوں۔
میرے بچپن اور لڑکپن کا بصیرپور ایک خوبصورت قصبہ تھا۔ سرسبز و شاداب باغوں، نہروں، راجباہوں کا امین…… جیتی جاگتی، ہمکتی بولتی فطرت کے بہت قریب! سادہ طرزِ زیست کے حامل اس کے مکین بڑے ایثار پیشہ تھے، سب کے دُکھ درد میں شریک اور دردمند انسان جو اب بہت کمیاب ہیں۔ میرے باطن اور میری یادوں میں میرا یہ محسن قریہ ہمیشہ سے آباد ہے اور ہمیشہ آباد رہے گا۔ ہاں ایک قریہ اور بھی…… پتّوکی، جو میری جائے ولادت ہے، مرا ننھیالی شہر، جس کی گلیاں اور بازار میرے دل میں گھر کیے ہوئے ہیں۔
سوال: زندگی میں ترقی کے لیے جدوجہد پر بہت زور دیا جاتا ہے۔ کیا آپ کو بھی مشکلات کا صحرا عبور کرنے کے لیے شدید تگ و دَو کرنا پڑی؟
ڈاکٹر تحسین فراقی: راجہ صاحب! میرا تعلق ایک متوسط گھرانے سے تھا۔ والد اسکول ٹیچر تھے۔ میرے بچپن میں بہت سے تعلیمی ادارے ڈسٹرکٹ بورڈوں کے زیرِ اہتمام کام کرتے تھے۔ اساتذہ کی تنخواہیں نہ صرف کم تھیں بلکہ کئی کئی مہینوں کے تعطل کے بعد ملتی تھیں۔ ایسے میں حصولِ علم میں بڑی دقتیں پیش آئیں۔ بعض اوقات اسکول کی معمولی فیس کی ادائیگی بھی مشکل ہو جاتی تھی مگر جیسے تیسے زندگی بہرحال رواں دواں رہی۔ حیات کے پہیے کو حرکت سے کون روک سکتا ہے۔ میٹرک کے امتحان میں پورے اسکول میں اوّل بدرجہئ اوّل رہا۔ لاہور آ کر اسلامیہ کالج میں داخلہ لیا۔ وہاں بھی مالی مشکلات حائل رہیں مگر اس زمانے کے اسلامیہ کالج انجمنِ حمایتِ اسلام کے زیرِ اہتمام کام کرتے تھے۔ اس عظیم انجمن نے کالج میں ”بُک بینک“ قائم کر رکھا تھا جہاں مستحق طالب علموں کو مفت کتابیں فراہم کی جاتی تھیں۔ مَیں نے بھی اس سہولت سے فائدہ اُٹھایا۔ الحمدللہ مالی مشکلات حصولِ تعلیم میں آڑے نہیں آئیں اور مَیں اپنے ایک شعر کے موافق اگلے تعلیمی مرحلوں میں بھی ہمیشہ سرخرو رہا۔ شعر یہ ہے:
قضا نے جب بھی کڑا وقت مجھ پہ ڈالا ہے
کسی خضر نے مجھے آ کے خود سنبھالا ہے
سوال: کیا تخلیق کار کا نظریاتی ہونا ضروری ہے؟
ڈاکٹر تحسین فراقی: آپ جانتے ہیں کہ ادب و تخلیق کے سلسلے میں متعدد تصورات دُنیائے نقد میں کارفرما ہیں۔ ایک نظریہ یہ ہے کہ تخلیقِ ادب ایک آزاد ترنگ کا نام ہے، لہٰذا اسے کسی نظریے کا پابند نہیں کیا جا سکتا۔ میں اس باب اقبال کے تصورِ تخلیق کو پسند کرتا ہوں جن کا خیال ہے کہ ادب و ہنر کا مقصود سوزِ حیاتِ ابدی ہے۔ شاعر کی شاعری ہو یا مغنّی کی موسیقی ان دونوں کے فیض سے اگر زندگی کی کھیتی نمو پا کر ہری بھری ہو جاتی ہے تو ایسا فن لائقِ مبارک باد ہے اور اگر اس کا مقصد انسان کے سفلی، سطحی اور حیوانی جذبات کی آبیاری ہے تو ایسا فن قابلِ اعتنا نہیں ہے۔ یعنی تخلیق کار کو ”رہزنِ قلب“ اور ”ابلیسِ نظر“ نہیں ہونا چاہیے۔ تاہم یہ بات بھی اُتنی ہی اہم ہے جتنی مَیں نے پہلے کی ہے یعنی نظریے کو ادب کے لیے زنجیرِپا بھی نہیں بننا چاہیے۔ ادب بہرحال شدید نظری جکڑ بندی کے خلاف بغاوت کرتا ہے۔ دریاؤں کا راستہ تو متعین نہیں کیا جا سکتا تاہم ان پر بند باندھنا یقینا قرینِ صواب ہے تاکہ اس کے فیض آثار پانیوں کا صحیح اور دانشمندانہ استعمال ہو سکے۔
سوال: کیا آپ ادبی تحریکوں میں زندگی کے حقائق کی ترجمانی ضروری سمجھتے ہیں یا طے شدہ فارمولے کی؟
ڈاکٹر تحسین فراقی: ادب میں طے شدہ ریاضیاتی فارمولے نہیں چلتے۔لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ادب ایک مادر پدر آزاد سرگرمی ہے۔ ادب کی تخلیق ایک تخلیق کار کے توسّط سے ہوتی ہے جو بہرحال ایک جیتے جاگتے، سانس لیتے معاشرے میں زندگی کرتا ہے۔ اس معاشرے کا ایک فکری اور تہذیبی تناظر ہوتا ہے۔ اس کا ایک نظام اقدار و مراسم ہوتا ہے، ایک تصورِ حقیقت ہوتا ہے جو افرادِ معاشرے کے لیے سمت نمائی اور جہت سازی کا کام کرتا ہے۔ میرے نزدیک ادبی تحریروں میں زندگی کے حقائق کی، وہ تلخ ہوں یا شیریں، ترجمانی ضروری ہے مگر اس کے اسالیب متعدد ہیں۔ ایک اسلوب سفاک حقیقت نگاری کا ہے جس کا مقصد ماجرے اور معاشرے کو جیسا وہ ہے، من من وعن پیش کر دینے کا ہے۔ دوسرا وہ رمزی، ایمائی اور علامتی اسلوب ہے جس میں معاشرے کی بہت سی سنگین اور تکلیف دہ حقیقتیں بڑے فنکارانہ طریقے سے بیان کر دی جاتی ہیں۔ میرے نزدیک ادب بنیادی طور پر اسی رمزی اور ایمائی اسلوب کا متقاضی ہے۔ بڑا ادب اسی لیے بڑا ہوتا ہے کہ وہ سماعت شکن نعرہ نہیں بنتا۔ بڑا ادیب حفظِ مراتب کو ہمیشہ نہ سہی اکثر ملحوظِ خاطر رکھتا ہے۔ دراصل ادب تو اس تخلیقی مصرعے کا مصداق ہوتا ہے:صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں …… ادب، تخلیق کی اسی دھوپ چھاؤں میں اپنے ظہور و خفا کااہتمام کرتا ہے۔
سوال: عہدِ حاضر میں لکھے جانے والے ادب کو آپ کس زاویہئ نگاہ سے دیکھتے ہیں؟
ڈاکٹر تحسین فراقی: ہمارے عہد میں لکھے جانے والے اُردو ادب کا بڑا حصہ ادب کی تعریف پر پورا نہیں اُترتا۔ ایک دفترِ بے معنی ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ: غرقِ مئے ناب اَولیٰ۔ برنارڈشا کے بارے میں مشہور ہے کہ اس کے پاس ایک ڈراما لکھنے والا اپنا ڈرامہ لے کر حاضر ہوا اور عرض گزار ہوا کہ اس پر اپنی رائے دیجیے۔ ساتھ ہی کہنے لگا کہ اس طرح کے بہت سے ڈرامے لکھ کر میں نے اپنی الماری میں رکھے ہوئے ہیں۔ شا نے ڈراما پڑھا اور کہا عزیزم! اِسے بھی اُسی الماری میں رکھ دو اور دیکھنا کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے پائے!
ہاں معاصر ادب کا ایک قلیل حصہ واقعی سچے ادب کی گواہی دیتا ہے۔ میرے خیال میں جس طرح شر کے مقابلے میں خیر کا وجود کم رہا ہے، اسی طرح کا معاملہ ادب کے ساتھ بھی ہے۔ مذکورہ ادب مقدار میں کم ہونے کے باوجود معیار کے اعتبار سے قابلِ داد ہے۔ بقامت کہتر ضرور ہے مگر بہ قیمت بہتر کے مصداق ہے اور یہ ادب کی کئی اصناف کو محیط ہے۔
سوال: آپ کے خیال میں آج کی شاعری اُردو ادب کے بہتر مستقبل کی ترجمان ہے یا نثر؟
ڈاکٹر تحسین فراقی: اُردو ادب کے بہتر مستقبل کی ترجمان نہ تو آج کی شاعری ہے نہ نثر۔ دونوں میدانوں میں اچھی بری شاعری بھی ہو رہی ہے اور نثر بھی لکھی جا رہی ہے تاہم اگر دونوں کو بالمقابل رکھ کر دیکھا جائے تو نثر کی نسبت شاعری بہ مراتب بہتر ہے۔
سوال: آپ شاعری کی طرف کس عمر میں آئے اور اس کی کوئی خاص وجہ؟
ڈاکٹر تحسین فراقی: میرا خیال ہے کہ شاعری دُنیا بھر کے انسانوں کی فطری، آفاقی زبان ہے۔ روایت ہے اور اس کا ذکر ”نجم الغنی“ نے بھی ”بحرالفصاحت“ میں کیا ہے کہ جب حضرت آدمؑ کے بیٹے قابیل نے ہابیل کو قتل کیا تو حضرت نے بیٹے کے غم میں شدتِ جذبات سے مملو مرثیہ لکھا جسے دُنیا کا پہلا مرثیہ کہا جاتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ انسانی جذبات و احساسات کی بہترین مظہر شاعری ہے کوئی اور صنف نہیں۔ عام طور پر اکثر لکھنے والے خصوصاً برعظیم کے باسی اپنی ادبی تگ و تاز کا آغاز شاعری سے کرتے ہیں، عام اس سے کہ وہ شاعری موزوں ہو یا نثری۔ دراصل شعر و شاعری اور شعر کی طرف میلان اِس مٹی کے خمیر میں ہے۔ مَیں نے بھی آغاز شاعری ہی سے کیا اور شاعری کا یہ تسلسل اگرچہ بیچ بیچ میں تعطل کا شکار ضرور رہتا ہے مگر میں اپنے محسوسات کا موزوں ترین اظہار شاعری ہی میں کرتا ہوں اور کرتا رہا ہوں۔ مَیں نے اوائلِ عمر ہی میں شعر کہنے شروع کر دیے تھے۔ پہلا شعر غالباً تیسری یا چوتھی جماعت میں کہا۔ باقاعدہ شاعری کا آغاز بی اے کے زمانے میں کیا۔ رہا یہ سوال کہ شاعری کی کوئی خاص وجہ تھی تو عرض ہے کہ کوئی خاص وجہ نہیں تھی۔ گھر اور اسکول کے ماحول میں شاعری رچی بسی ہوئی تھی، لہٰذا اس سے فطری مناسبت نے اظہار کی راہ پا لی۔ غالب کا یہ شعر میرا اور کسی بھی شاعر کے محسوسات کا بڑا برمحل ترجمان ہے:
پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے
رُکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور
سوال: بحیثیت انسان، تحسین فراقی سے کتنی بار مکالمہ ہوا۔۔۔ اور کون جیتا؟
ڈاکٹر تحسین فراقی: تحسین فراقی سے الحمدللہ اکثر گفتگو ہوتی رہتی ہے۔ میرے خیال میں مکالمے میں باہمی تبادلہئ خیال ہوتا ہے، اس میں ہار جیت کا کیا سوال؟ ہار جیت تو مناظرے کا مقصود ہے۔ شاید اسی لیے مناظرہ ایک بے فیض سرگرمی ہے جس کا مطمحِ نظر حریف کو پچھاڑنا اور ایک طرح سے چاروں شانے چت کرنا ہوتا ہے، کسی بامعنی نتیجے تک پہنچنا نہیں ہوتا۔ مکالمے میں ایک دوسرے کی بات ہمدردانہ سنی جاتی ہے۔ بہ حیثیت انسان میرا تحسین فراقی سے مکالمہ ہوتا رہتا ہے۔ تحسین فراقی ٹھہرا ایک شاعر، نازک مزاج، انانیت کا تیز اور تیکھا شعور رکھنے والا حساس اور زود رنج آدمی، کسی قدر غصیل اور تیز مزاج! اس سے بات دراصل سنبھل کر کرنی پڑتی ہے، بڑے حلم اور بڑی حکمت سے۔ بحیثیتِ انسان مجھے یہ فن ایک حد تک آتا ہے، اس لیے تحسین فراقی سے اچھی نبھ رہی ہے۔ ہاں جب وہ تخلیق کی پُراسرار وادی میں قدم زن ہوتا ہے تو میں اسے آزاد چھوڑ دیتا ہوں، اس کی معطّر اور گوشہ گیر تنہائی میں مداخلت نہیں کرتا۔ کرنی بھی نہیں چاہیے۔ پھر جب وہ اس اقلیم سے پاؤں باہر دھرتا ہے تو میں اس کے دوش بدوش ہو لیتا ہوں، اسے زمانے کی بوالعجبیوں سے آگاہ کرتا رہتا ہوں۔ اسے اپنے تعصبات، غلط فکریوں اور غلط فہمیوں سے دست بردار ہونے کے مشورے دیتا رہتا ہوں۔ چوں کہ آدمی دل کا بُرا نہیں، میری بات سُن لیتا ہے، اور بقول اشفاق احمد قلب کا سپاہی ہے اس لیے زخم کھاتا ہے اور زخم کھانے کے باوجود مسکراتا رہتا ہے۔ اُس کی زندگی کا یہ نصب العینی مقولہ اُس کے لیے حرزِ جاں کی حیثیت رکھتا ہے کہ غالب کے وجودِ معنوی سے پھوٹا تھا: جگر خوردن و تازہ رُو زیستن۔ تاہم یہ کام ہے بڑا مشکل۔

Leave a Reply

Back to top button