تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

ادرک: صدیوں سے بے شمار بیماریوں کا سستا اور آسان علاج

ادرک ایک جراثیم کش شے ہے۔ جس میں پوٹاشیم، مینگنیز، فاسفورس، کیلشیم، میگنشیم، وٹامن B3 اور فولیٹ کی مقدار بہت زیادہ پائی جاتی ہے۔تازہ ادرک میں 80.9فیصدپانی،2.3فیصد پروٹین، 0.9فیصد کاربوہائیڈریٹ ہوتے ہیں۔دیگراجزا میں کیلشیم، فاسفورس، آئرن، کیروٹین، تھایا مین، ریبو فلاوین اور وٹامن سی شامل ہیں۔

ویسے تو زمین سے پیدا ہونے والی ہر سبزی اور جڑی بوٹی اپنی جگہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے لیکن کچھ چیزیں ایسی ہیں جو غذائیت سے بھرپور، سستی اور باآسانی دستیاب ہونے کی وجہ سے اپنے اندر ایسے کمالات رکھتی ہیں کہ سوچ بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتی۔ایسی ہی چیزوں میں ادرک اپنی مثال آپ ہے۔ دیکھنے میں جڑ کی طرح اور استعمال میں طاقت کا خزانہ۔ادرک میں قدرت نے ایسے اجزا رکھے ہیں جو نہ صرف بیماریوں کا علاج ہیں بلکہ اچھی صحت کے لیے بھی بہت ضروری ہے۔

ادرک زمانہ قدیم سے استعمال کی جا رہی ہے، حکمیوں کے نزدیک ادرک بے شمار بیماریوں کا سستا اور آسان علاج ہے۔ادرک کا ذکر قرآن مجیدمیں اور اس کی اہمیت کے بارے میں حدیث شریف میں بھی ملتا ہے۔

دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں ادرک کی خوبیوں کے گن گائے جاتے ہیں اور بکثرت استعمال ہوتے ہیں۔ عرب تاجروں کے ذریعے ادرک نے دنیا کا سفر کیا۔ جب ادرک نے یونان کی سرزمین پر قدم رکھا اور یونانی اس کی خوبیوں سے آگاہ ہوئے تو اسے دوا میں استعمال کیا گیا اور یوں یونانی طب کا اہم حصہ بن گیا۔

طب یونانی میں پیٹ کی درستگی کو اہم تسلیم کیا جاتا ہے اور ادرک اس کام میں اس کا مددگار ہے۔ عربی فارسی کے علاوہ یورپ کے کلاسیکی ادب میں بھی ادرک کا ذکر ملتا ہے۔ ہنری ہشتم نے اسے طاعون کا علاج بتایا اور ملکہ الیزبیتھ اول نے ادرک، سونف اور دارچینی کے سفوف کو ہاضمے کا دوست قرار دیا تھا۔

ادرک نہ صرف کھانے کے ذائقے کو اچھا بناتی ہے بلکہ اس کا مختلف طریقوں سے استعمال مختلف دائمی بیماریوں کے خاتمے میں بھی اہم ثابت ہوتا ہے۔ادرک کو کھانے کے علاوہ پینے اور اس کے رس، اس کے پوڈر کو مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔

دنیا بھر کے طبی ماہرین ادرک کی اہمیت اور خاصیت کے گن گاتے ہیں۔ادرک میں پائی جانی والی غذائیت سے کسی کو کوئی انکار نہیں ہے، یہی وجہ ہے طبی سائنس اور ماہرین غذا میں ادرک کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں۔

ادرک میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا
ادرک ایک جراثیم کش شے ہے۔ جس میں پوٹاشیم، مینگنیز، فاسفورس، کیلشیم، میگنشیم، وٹامن B3 اور فولیٹ کی مقدار بہت زیادہ پائی جاتی ہے۔تازہ ادرک میں 80.9فیصدپانی،2.3فیصد پروٹین، 0.9فیصد کاربوہائیڈریٹ ہوتے ہیں۔دیگراجزا میں کیلشیم، فاسفورس، آئرن، کیروٹین، تھایا مین، ریبو فلاوین اور وٹامن سی شامل ہیں۔

ادرک کے فوائد
ادرک بہت عام استعمال ہونے والی چیز ہے جو لگ بھگ پاکستان میں ہر کھانے کا حصہ ہوتی ہے۔ادرک زمانہ قدیم سے خوراک کو لذیذ بنانے او ر علاج کیلئے استعمال میں ہے۔ یہ جسم میں گرمی پیدا کرتا ہے خوراک کو ہضم کرنے میں مددگار ہے۔مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ صحت کے لیے کتنی بہترین چیز ہے؟ بدہضمی سے لے کر جسمانی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے تک یہ جڑی بوٹی متعدد فوائد کی حامل ہے۔ اسے خام کھائیں یا کھانے میں ملا کر استعمال کریں جبکہ اچار کی صورت میں بھی یہ طبی لحاظ سے فائدہ مند ہوتی ہے۔

متلی کی کیفیت کم کرے
ادرک کا ایک سب سے بڑا فائدہ متلی کی شکایت میں کمی لانا ہے، ادرک کی چائے کا استعمال اس حوالے سے فائدہ مند ہے، اس کے لیے ایک انچ ادرک کو ایک سے دو کپ گرم پانی میں 10 منٹ تک ملا رہنے دیں، جس کے بعد اس میں شہد ملا کر پی لیں۔

1 2 3 4 5 6اگلا صفحہ

Leave a Reply

Back to top button