ادب

اردو شاعری: ڈیجیٹل دور کے ستارے

نئے دور کے نوجوان شاعر فیس بک پر اپنے فن کا مظاہر کرکے لوگوں کی خوب توجہ کا مرکز بن رہے ہیں۔

یہ شعر جتنے اچھوتے اور دلچسپ ہوتے ہیں، اتنا ہی ان کو فیس بک پر لائک کیا جاتا ہے جبکہ اتنی ہی بار یہ شیئر بھی ہوتے ہیں۔

‘ان مفتیان شہر سے جب کچھ نہیں بنا

لوگوں کو دین دار بنانے میں لگ گئے

ملی ہے جب سے ان کو بولنے کی آزادی

تمام شہر کے اخبار جھوٹ بولتے ہیں’

—عمران عامی

یہ عمران عامی کی غزل سے لیے گئے چند اشعار ہیں، راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے اس شاعر نے رواں سال کے آغاز میں اسلام آباد میں ہونے والے ادبی میلے میں ایک مشاعرے کے دوران شائقین کی توجہ حاصل کی تھی۔

اس دوران جیسے ہی عمران نے اسٹیج چھوڑا، ناظرین میں شامل کئی افراد نے ان سے آکر کہا کہ انہوں نے سب سے پہلے ان کی پوسٹ فیس بک پر دیکھی تھی جبکہ تب سے ہی وہ انہیں سوشل میڈیا پر فالو کر رہے ہیں۔

ایسا ہی تجربہ اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے شاعر سعید شارق کا بھی ہے، جن سے حال ہی میں ایک مشاعرے کے بعد خواتین مداحوں نے ملاقات کی اور کہا کہ وہ انہیں فیس بک پر فالو کرتی ہیں۔

ان شاعروں کی پوسٹ سو سے زائد لوگ شیئر کرتے ہیں، انہیں ہزار سے زائد لوگ فالو کرتے اور کئی لوگ ان پر کمنٹ کرتے ہیں، فیس بک نے نئی نسل کے شاعروں کو نئی اڑان دی ہے۔

ضلع ڈیرہ غازی خان کے تونسہ شریف سے تعلق رکھنے والے تہذیب حافی کا کہنا تھا کہ ‘اچھا محسوس ہوتا ہے جب آپ اپنے فیس بک مداحوں سے ملاقات کریں، اب آپ ان سے بےخبر نہیں ہیں’۔

یہ اشعار زیادہ تر اردو زبان میں تحریر کیے جاتے ہیں جن کی فیس بک پر لکھی چند لائنز ہی کافی مقبولیت حاصل کرلیتی ہیں۔

‘یہ رات نام نہیں لے رہی تھی کٹنے کا

چراغ جوڑ کر لوگوں نے دن بنا لیا ہے’

— تہذیب حافی

26 سالہ تہذیب حافی نے 11 سال قبل سنجیدگی سے لکھنا شروع کیا، انہوں نے شروعات نظموں سے کی، تاہم بعد ازاں انہوں نے خود کو غزلوں کے ذریعے ظاہر کرنا شروع کردیا۔

تہذیب حافی جن کا اصل نام تہذیب الحسن ہے، زیادہ تر رومانوی شاعری کرتے ہیں، ان کی غزلوں میں دریا، پرندے، باغ اور سمندروں کا ذکر ہوتا ہے۔

‘میں اُس کو ہر روز بس یہی ایک جھوٹ سُننے کو فون کرتا

سُنو یہاں کوئی مسئلہ ہے تمہاری آواز کٹ رہی ہے’

تہذیب حافی کا کہنا تھا کہ ‘میں اپنے شاعری کے ذریعے فلسفے پیش نہیں کرنا چاہتا’۔

‘گزر نہ جائے سماعت

کے سرد خانوں سے

یہ باز گشت، جو چھپکی

ہوئی ہے کانوں سے

کھرا نہیں تھا مگر

ایسا رائیگاں بھی نہ تھا

وہ سکہ ڈھونڈ کے لائیں

تو کن خزانوں سے’

— سعید شارق

 اجمل سعید جو سعید شارق کے نام سے شاعری کرتے آرہے ہیں، جو اپنی غزلوں کے ذریعے ذاتی رائے بیان کرتے اور فیس بک پر توجہ حاصل کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Back to top button