تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

ارغالی کا تیل اینٹی آکسیڈینٹ اور اینٹی سوزش خصوصیات کا حامل

ارغالی کا تیل بنیادی طور پر فیٹی ایسڈ اور متعدد فینولک مرکبات پر مشتمل ہوتا ہے۔ارغالی کے تیل میں پائی جانے والی چربی اولیک اور لینولک ایسڈ کی کی کافی مقدار پائی جاتی ہے۔ فیٹی ایسڈ تقریبا 29 سے 36 فیصد پایا جاتا ہے جبکہ اومیگا 6 کے علاوہ وٹامن ای بھی کافی مقدار میں پائی جاتی ہے۔جو ہماری غذا کا بنیادی جز ہے۔

مراکش میں صدیوں سے ارغالی کا تیل نہ صرف کھانے پکانے میں بلکہ ادویات میں استعمال ہو رہا ہے۔ یہ ارگن کے پودوں پر لگنے پر پھل کے بیجوں سے نکالا جاتا ہے۔ جو انسانی صحت کیلئے بہت مفید ہے۔

مراکش سے تعلق رکھنے والے ارغالی کا تیل اب پوری دنیا میں مختلف اقسام کی کاسمیٹک اشیاء اور ادویات میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے چند فائدے درج ذیل ہیں۔

ارغالی کے تیل میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
ارغالی کا تیل بنیادی طور پر فیٹی ایسڈ اور متعدد فینولک مرکبات پر مشتمل ہوتا ہے۔ارغالی کے تیل میں پائی جانے والی چربی اولیک اور لینولک ایسڈ کی کی کافی مقدار پائی جاتی ہے۔ فیٹی ایسڈ تقریبا 29 سے 36 فیصد پایا جاتا ہے جبکہ اومیگا 6 کے علاوہ وٹامن ای بھی کافی مقدار میں پائی جاتی ہے۔جو ہماری غذا کا بنیادی جز ہے۔

ارغالی کے تیل کے فوائد

اینٹی آکسیڈینٹ اور اینٹی سوزش خصوصیات:
ارغالی کے تیل میں موجود مختلف فینولک مرکبات اینٹی آکسیڈینٹ صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں۔وٹامن ای آزاد ریڈیکلز کے نقصان دہ اثرات کو کم کرنے کے لئے ایک طاقتور اینٹی آکسیڈینٹ کا کام کرتی ہے۔ارغالی کے تیل میں موجود دیگر مرکبات، جیسے CoQ10 اورmelatonin میں بھی اینٹی آکسیڈینٹ خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ جب ایسے چوہوں کو جن کے جگرانتہائی سوزش والے تھے کو ارغالی کا تیل دیا گیا تو ان کی سوزش میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔تیل میں موجوددیگرمتعدد مرکبات سوزش اور آکسیڈیٹو تناؤ کو کم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

دل کی صحت:
ارغالی کا تیل اولیک ایسڈ کا ایک بھرپور ذریعہ ہے، جس میں مونوسسریٹڈ، اومیگا 9 پائی جاتی ہے۔اولیک ایسڈ دیگر غذاؤں میں بھی موجود ہوتاہے،جو دل کو مختلف امراض سے بچاؤ کیلئے انتہائی موثر طریقے سے کام کرتا ہے۔ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اولیک ایسڈ خون میں موجود اینٹی آکسیڈینٹ لیول کو برقرار رکھتا ہے اور دل کی بیماریوں کے خطرات کو کم کرتا ہے۔یہ ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح کو بھی برقرار رکھتا ہے۔

ذیابیطس کے لئے انتہائی مفید:
جانوروں کی گئی حالیہ تحقیقات کے مطابق ارغالی کا تیل ذیابیطس کے امراض میں انتہائی شافی دوا کا کام کرتا ہے۔ اور اس کے استعمال سے ذیابیطس کے چھٹکارا ممکن ہے۔چوہوں پر کیے گئے تجربات میں دیکھا گیا بلڈ شوگر اور عام شوگر کیخلاف مزاحمت ہوئی اور دونوں امراض کی شدت میں کمی آئی۔

کینسر کیخلاف مزاحمت:
ارغالی کے تیل کینسر کے بعض خلیوں کی نشوونما اور تولید کو انتہائی کم کرسکتا ہے۔ایک مطالعہ سے معلوم ہوا کہ ارغالی کا تیل پروسٹیٹ کینسر کے خلیوں کو مزید بڑھنے سے 50فیصد تک روک دیتا ہے۔ایک دیگر مطالعے سے پتا چلا کہ ارغالی کا تیل میں پائے جانے والی وٹامن ای میں موجود ایک دیگر مرکب نے چھاتی اور بڑی آنت کے کینسر کے سیلوں کو مزید نہیں بڑھنے دیا۔
اگرچہ اس حوالے سے ابتدائی تحقیقات بڑی حوصلہ افزا ہیں، تاہم ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ آیا مستقبل میں آرگن آئل کا استعمال انسانوں میں کینسر کے علاج کے لئے انتہائی موثر چابت ہو سکے گا۔

1 2 3اگلا صفحہ

Leave a Reply

Back to top button