جرم کہانیدلچسپ و حیرت انگیز

اسقاط حمل کے الزام میں گرفتار خاتون صحافی کے مقدمہ کا آغاز

شمالی افریقہ کے ملک مراکش میں اسقاط حمل کرانے اور شادی سے قبل کسی مرد سے جنسی تعلقات استوار کرنے کے الزام میں گرفتار خاتون صحافی کے خلاف ٹرائل کا آغاز کردیا گیا۔
خاتون صحافی ھاجر االریسونی کو گزشتہ ماہ 31 اگست کو پولیس نے اسقاط حمل کرانے کے الزام میں ایک کلینک کے باہر سے گرفتار کیا تھا۔
ان پر الزام ہے کہ انہوں نے نہ صرف غیر قانونی طور پر اسقاط حمل کروایا بلکہ ان پر شادی سے قبل مخالف جنس کے شخص سے جنسی تعلقات کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔
ھاجر الریسونی نے اپنی گرفتاری کے وقت ہی الزامات کو مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے خلاف تمام الزامات جھوٹے ہیں اور انہیں ان کی صحافتی ذمہ داریاں نبھانے سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ھاجر الریسونی کی گرفتاری پر مراکش کی صحافتی و سماجی تنظیموں کے علاوہ ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی بیانات جاری کیے تھے اور ان کی گرفتاری کو آزادی اظہار کو دبانے کے سلسلے کی کڑی قرار دیا تھا۔
ابتدائی طور پر پولیس نے ھاجر الریسونی کو 2 ستمبر کو عدالت میں پیش کرکے ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا تھا۔
رواں ماہ 4 ستمبر کو ھاجر الریسونی کے حوالے سے یہ خبر سامنے آئی تھی کہ انہوں نے ماضی میں بھی اسقاط حمل کروائے تھے۔
ھاجر الریسونی کے خلاف شادی سے قبل جنسی تعلقات استوار کرنے اور اسقاط حمل کرانے کے الزامات کے تحت رواں ماہ 9 ستمبر کو ٹرائل کا باقاعدہ آغاز ہوا تھا۔

ھاجر الریسونی کی گرفتاری پر مراکش کی صحافتی و سماجی تنظیموں کے علاوہ ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی بیانات جاری کیے تھے اور ان کی گرفتاری کو آزادی اظہار کو دبانے کے سلسلے کی کڑی قرار دیا تھا۔
ابتدائی طور پر پولیس نے ھاجر الریسونی کو 2 ستمبر کو عدالت میں پیش کرکے ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا تھا۔
رواں ماہ 4 ستمبر کو ھاجر الریسونی کے حوالے سے یہ خبر سامنے آئی تھی کہ انہوں نے ماضی میں بھی اسقاط حمل کروائے تھے۔
ھاجر الریسونی کے خلاف شادی سے قبل جنسی تعلقات استوار کرنے اور اسقاط حمل کرانے کے الزامات کے تحت رواں ماہ 9 ستمبر کو ٹرائل کا باقاعدہ آغاز ہوا تھا۔
خاتون صحافی کے وکلاء کی درخواست پر عدالت نے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی اور خیال کیا جا رہا ہے کہ آئندہ ہفتے تک ھاجر الریسونی پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔
اگر ھاجر الریسونی پر الزام ثابت ہوگیا تو انہیں 2 سال قید اور جرمانے کی سزا ہوگی۔

خیال رہے کہ مراکش میں اسقاط حمل غیر قانونی ہے اور اس میں ملوث پائے جانے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔
خاتون صحافی کے وکلاء کی درخواست پر عدالت نے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی اور خیال کیا جا رہا ہے کہ آئندہ ہفتے تک ھاجر الریسونی پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔
اگر ھاجر الریسونی پر الزام ثابت ہوگیا تو انہیں 2 سال قید اور جرمانے کی سزا ہوگی۔
خیال رہے کہ مراکش میں اسقاط حمل غیر قانونی ہے اور اس میں ملوث پائے جانے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔

Leave a Reply

Back to top button