تازہ ترینخبریںٹیکنالوجی

اس بیٹری کو کھینچیے، موڑیئے یا دھوئیے!

ٹیم میں شامل خاتون سائنسداں ، بہار ایران پور نے نئی بیٹری کو 39 مرتبہ دھویا اور اس کی افادیت برقرار رہی۔ لیکن اب اسے مزید سخت جان بنانے تحقیق جاری ہے۔ یہاں تک کہ اسے گھریلو اور دھوبی کی بڑی بڑی کمرشل مشینوں میں بھی دھویا گیا ہے لیکن بیٹری ڈھیٹ بنی رہی۔

بدلتے ہوئے تقاضوں کے تحت بیٹریوں کو طاقتور اور جدید بنانے پر کام جاری ہے۔ اب یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کے سائنسدانوں نے ایسی بیٹری بنائی ہے جو کھیچنے، مروڑنے اور غلطی سے واشنگ مشین میں دھل جانے کے بعد بھی کام کرتی رہتی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ اسے بطورِ خاص پہنے جانے والے برقی آلات یا کپڑوں میں پروئے گئے سرکٹ کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ مشترکہ کاوش ایک پروفیسر، ایک پی ایچ ڈی طالبعلم اور پوسٹ ڈاکٹریٹ کرنے والے اسکالر کی ہے۔ ان تینوں نے ملکر بیٹری کے خواص اور بیرونی حالت کو ہی بدل ڈالا ہے۔

زنک اور مینگنیز ڈائی آکسائیڈ کو باریک ٹکڑوں میں پیسا گیا ہے اور انہیں ایک ربڑ نما پلاسٹک جیسے پالیمر میں سمویا گیا ہے۔ یہ بیٹری بہت باریک پالیمر سے بنی ہے۔ اسے مکمل طور پر ہوا بند اور واٹرپروف بنایا گیا ہے۔ ابتدائی آزمائش میں موڑنے کے باوجود اور دھونے کے بعد بھی بیٹری چلتی رہتی ہے۔

ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر نوک تان گوین کہتے ہیں کہ لچکداراورمضبوط بیٹریوں کی بڑی مارکیٹ موجود ہے۔ اگرچہ ایسی بیٹریاں بنائی گئی ہیں لیکن اب تک دھوئے جانے والی بیٹری ایجاد نہیں کی گئی تھی جو اب پہلی مرتبہ بنائی گئی ہے۔

ٹیم میں شامل خاتون سائنسداں ، بہار ایران پور نے نئی بیٹری کو 39 مرتبہ دھویا اور اس کی افادیت برقرار رہی۔ لیکن اب اسے مزید سخت جان بنانے تحقیق جاری ہے۔ یہاں تک کہ اسے گھریلو اور دھوبی کی بڑی بڑی کمرشل مشینوں میں بھی دھویا گیا ہے لیکن بیٹری ڈھیٹ بنی رہی۔

دوسری جانب لیتھیئم آئن بیٹری کے مقابلے میں زِنک مینگنیز قدرے محفوظ اور کم زہریلے ہوتے ہیں۔

اس اہم تحقیق کا احوال ایڈوانسڈ انرجی مٹیریلز نامی جرنل میں شائع ہوا ہے۔

Leave a Reply

Back to top button