ادب

افروڈائٹی: پیرا لوئی کا شاہکار ناول

کفیل احمد صدیقی……
جدید فرانسیسی ناول نگاروں نے کتنے ہی کلاسیکل ناول لکھے ہیں لیکن فرانس کے صرف اور صرف ایک ناول نگار پیرالوئی نے قدیم یونان کے واقعات اور تہذیب پر مبنی ناول لکھا۔ رچرڈ ویگز کے بقول یونانی دُنیا کے کھنڈر بھی ہمیں یہ نکتہ سمجھا سکتے ہیں کہ دُنیائے حاضر کی تلخ زندگی کو کس طرح رسیلا اور قابل برداشت بنایا جا سکتا ہے۔
پیرالوئی نے ”افرڈائٹ“ لکھ کر رچرڈ ویگز کے اس بیان کو درست ثابت کر دیا ہے۔ اُس نے فرانسیسی ادب کو وقت کے دبیز پردوں سے باہر نکال لیا۔ فرانس میں پیرالوئی کے ہم عصر ناول نگار اگر آگ، ریت، پانی یا ایسی قبیل کی دوسری چیزوں پر لکھ رہے تھے، تو اس نے پتھروں پر لکھنا شروع کیا۔ لوئی کے ہم عصروں نے تصوراتی دُنیاؤں کے بارے میں مزاح اور جذباتی قسم کے ناول لکھے، لیکن وہ قلم کے ہتھوڑے سے چٹانوں کو توڑ پھوڑ کر حسن کے مجسّمے تراشتا رہتا تھا۔
اُس کا لکھا ہوا شہرہِ آفاق ناول ”افرڈائٹ“ ایک ایسا ہی پتھر کا مجسمہ یا ٹکڑا ہے جس کے بے شمار پہلو ہیں اور ہر پہلو سے طرح طرح کے رنگ و نور کی بارش ہوتی ہے۔ بہت سے ناقدین کی رائے ہے کہ لوئی کا یہ ناول بھی کلاسیکل انداز میں لکھا گیا ہے لیکن وہ افرو ڈائٹ کو تصوراتی فنکارانہ جوانی اور ہوس کا سنگ میل ضرور قرار دیتے ہیں۔
لوئی نے یہ ناول مفکرانہ انداز میں لکھا ہے۔ ”افرڈائٹ“ پڑھتے ہوئے اس کا فن ہمیں کہیں کہیں غیر شائستہ یا جذباتی ضرور نظر آتا ہے لیکن اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ وہ یونان کی قدیمی روایات کے تحت لکھے گئے بے شمار ناولوں سے کافی حد تک متاثر تھا۔ اسی لئے ہر وہ شخص جس نے یونانِ قدیم کے ادب کا عمیق مطالعہ کیا ہو گا، ”افرو ڈائٹ“ کو ایک یونانی مصنف کا لکھا ہوا ثابت کرنے کی کوشش کرے گا اور اسے فرانسیسی ناول ماننے سے قطعی طور پر انکار کر دے گا۔ وہ اُسے قدیم زمانے کی ایک کتاب قرار دے گا۔ بہر حال ”افرڈائٹ“ لوئی کے فن کا ایک اعلیٰ نمونہ ہے۔ لوئی کو اپنے ہمعصروں کی تحریروں میں کوئی دلچسپی نظر نہ آئی۔ اسی لئے اُس نے ان سب کی تحریروں سے الگ تھلک یونان کی تہذیب اور سکندریہ کے ماحول کو اپنی کتاب میں سمونے کی کوشش کی۔
”افروڈائٹ“ یا زہرہ یونانیوں کے نزدیک حسن کی دیوی کا نام ہے۔ لوئی نے اس دیوی کے حسن کو یونانی دیو مالائی انداز میں بڑے حوصلے کے ساتھ لکھا ہے۔ اِس میں اُس نے قدیمی یونان کے باشندوں کی زندگی کے عشقیہ اور رومانی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا۔ لوئی نے یونانی عورت کو، خواہ وہ کسی طرح کی داشتہ ہو یا کسبی، نہایت اچھوتے اور دلکش طریقے سے پیش کیا ہے۔ اُس نے اپنی اس کتاب کے بارے میں ایک جگہ لکھا ہے کہ:
”ناول کا مرکزی کردار، یونانِ قدیم کی ایک کسبی ہے لیکن قارئین بددِل نہ ہوں۔ آخر کار یہ کسبی اپنی گناہ الودہ زندگی ترک نہیں کرے گی اور نہ ہی کسی راہب یا دیوتا کو اِس سے محبت ہو گی۔ ایک کسبی کی حیثیت سے اِس ناول کی ہیروئن زندگی کے سٹیج پر اپنا کردار اِس بے باکی، ذوق اور تمکنت کے ساتھ نبھائے گی جیسے اُس نے سماج کے اس خود کار نظام میں خود اپنی حیثیت اور فریضہئ حیات کو منتخب کر لیا ہو۔“
اور واقعی ہم ”افرو ڈائٹ“ کی ہیروئن زرینہ کو بالکل اسی طرح کا پاتے ہیں۔ یہ ناول یونانِ قدیم کے شہر سکندریہ کے ماحول میں لکھا گیا ہے۔ شہر سکندریہ جو ایک لمبے عرصے تک حکومت کرتا رہا اور جس کے شہریوں کے نزدیک محبت کرنا جائز تصور کیا جاتا تھا اور جن میں ہوس پرستی اپنے عروج پر پہنچی ہوئی تھی۔ صرف سکندریہ ہی نہیں بلکہ ان تمام شہروں میں بسنے والے افراد جو دُنیا میں حکومت کرتے رہے ہیں، جن میں بابل، روم، ایتھنز، وینس اور پیرس بھی شامل ہیں، بہت زیادہ ہوس پرست تھے۔ سکندریہ کے لوگوں کی ہوس پرستی عظیم ترین آدمیوں کی پیشانیوں پر ایک نور کی شعاع کی طرح ناچتی نظر آتی ہے۔ شاید اس کی یہ وجہ ہے کہ شہوانیت ذہن کے ارتقاء کا نہایت پراسرار لیکن لازمی اور اخلاقی حصہ ہے اور جن لوگوں نے اپنی جسمانی آرزوؤں کا تقاضا پوری طرح محسوس نہیں کیا وہ لازمی طور پر دماغی آرزوؤں کے تقاضوں کی اہمیت کو بھی پوری طرح سمجھ لینے سے محروم رہے ہیں۔ جسم کی طاقت اور قوت بھی دماغ کو تروتازہ اور شاداب بنا دیتی ہے۔ ڈی لاکرو نے انسان کے مقابلے میں اہانت اور تذلیل کا ایک بدترین لفظ سوچا تھا اور جسے وہ اپنے دور کے کچھ ادیبوں کے لئے استعمال بھی کرتا تھا، وہ لفظ تھا ”مخنث“۔
ناول کو پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم یونانِ قدیم کے کسی عجائب گھر کی سیر کر رہے ہوں جس میں سکندریہ کی تمام تہذیب کو پتھر کا بنا دیا گیا ہے اور اِس میں رکھے گئے تمام بُت ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے زندہ ہو کر اپنی تہذیب کو اپنے عمل سے بیان کرنے لگتے ہیں۔
اِس کا شمار فرانس کے کلاسیکل ناولوں میں ہوتا ہے، جس میں پیرالوئی نے بے باکانہ انداز میں مقدس شہر عرب کی عشقیہ اور رومانی زندگی کو بیان کیا ہے۔
ابتداء میں بہت سے ادیب زیادہ تر ایسے لوگوں کے لئے ناول لکھتے رہتے تھے جن کی ذہنی اور دماغی حیثیت کسی طرح بھی کم عمر لڑکیوں اور مڈل پاس لڑکوں سے بہتر نہیں تھی، لیکن پیرالوئی نے اپنے دور کے اُن مصنفوں جیسا انداز نہیں اپنایا۔ اُس نے سکندریہ کے منظر میں محبت، حسن و عشق (جو قدیم یونانیوں کے لئے شریف ترین جذبہ تھا اور اپنی عظمت کے لحاظ سے سب سے زیادہ بار آور اور آبرو مند زندگی) کا عکس نہایت بے باکانہ انداز میں اُتارا۔
عیسائی قوم میں محبت کے ساتھ فحاشی اور بے حیائی کے جو تصورات وابستہ ہیں، وہ اُن پر بنو اسرائیل کی روایات کے اثر کی نشاندہی کرتے ہیں لیکن یونان میں بسنے والے لوگوں کے دِل و دماغ اس قسم کے خیالات سے یکسر خالی تھے۔ پیرالوئی اپنی کتاب کے بارے میں ایک جگہ لکھتا ہے کہ: ”میں نے اِس کتاب کے واقعات کی تحریر میں وہی سادگی ملحوظ رکھی ہے جو یونان میں رہنے والے لوگ اس طرح کی کتابیں لکھتے وقت جائز سمجھتے تھے اور مجھے اُمید ہے کہ اسی ذہنی کیفیت اور نقطہ نظر سے یہ کتاب پڑھی بھی جائے گی۔“ اور یہ بات بھی حقیقت، یونانی ادب سے دلچسپی رکھنے والے لوگ اِس ناول کو فرانسیسی ناول خیال نہیں کرتے۔
ارسطو کے بارے میں مشہور ہے کہ اُس نے جب اپنی زندگی کا آغاز کیا، تو اُس نے اپنا تمام تر ورثہ کسبیوں اور پیشہ ور عورتوں کی محبت اور لطف اُٹھانے میں ضائع کر دیا۔ سیفوکے نام ایک خاص گناہ منسوب کیا جاتا ہے۔ سیزر کو گنجا زانی کہہ کر بلایا جاتا تھا اور پھر ہمارے لئے یہ بھی حیران کن ہے کہ راسائن تھیٹر کی ناچنے گانے والیوں سے نفرت کیا کرتا تھا۔ یا نپولین معاملاتِ محبت میں اپنے آپ کو اُلجھائے رکھتا تھا۔
فرانس کے ایک انتہائی شریف اور متین مصنف بفن نے عشق کے بارے میں مشورہ کے انداز میں ایک بہت ہی پرلطف بات لکھی ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ: ”کیا وجہ ہے کہ محبت تمام جانداروں کے لئے سرمایہئ نشاط و افتخار ہے لیکن انسان کے لئے باعث زحمت و کلفت؟ جواب یہ ہے کہ جذبہئ محبت کی جسمانی حیثیت فرحت بخش اور لذت خیز ہے اور باقی ہر ایک چیز بے کار و فضول۔“
محبت دراصل ایک غیر فانی جذبہ ہے۔ یہ ہر شے میں جاری و ساری نظر آتا ہے۔ اگر محبت کا جذبہ دُنیا سے ختم ہو جائے تو ہر شے، ہر انسان بے کار اور بے لذت ہو کر رہ جائے۔ بہت سے لوگوں نے یا مصلحین نے دُنیا سے محبت، حسن اور خوب صورتی کے وجود کو مٹانے کی بہت کامیاب کوششیں کی ہیں اور ہماری دُنیا اِن بدصورتی کے حملوں کی تاب نہ لا سکی اور اُس کا شکار ہو کر رہ گئی۔ پیرالوئی کہتا ہے کہ: ”یونانِ قدیم میں الوسس تھیٹر کی نشستوں پر ہزاروں تماشائی بیٹھے انسانی جسم (جس سے کامل تر چیز نہ وجود میں آئی ہے اور نہ ہی تصور میں آ سکتی ہے کہ یہ شے خدا کے حسن و جمال کا نمونہ ہے) کی نفیس ترین خوب صورتی کو دیکھتے تھے اور یہ وہ وقت تھا کہ ہوس پرستی سے لبریز محبت بے عیب سمجھی جاتی تھی نہ اس سے بے حیائی کا تصور وابستہ تھا نہ گناہ کا۔“
اِسی لئے مصنف نے یونانِ قدیم کی اس تمام تر زندگی کو اپنے الفاظ میں سمو دِیا ہے۔ اس کے لکھنے کا انداز اتنا خوب صورت تھا کہ اس کی تحریروں کے مترجمین کہتے ہیں کہ پیرالوئی کے اندازِ تحریر کو مکمل طور پر دوسری زبان میں سمونا بہت مشکل مرحلا ہے لیکن سید عابدؔ علی مرحوم نے اپنی جوانی کے دور میں اُسے اُردو کا جامہ پہنایا جس میں انہوں نے پیرالوئی کے اندازِ تحریر کا عکس اتارنے کی بہت کوشش کی ہے اور یہ بات کہنے میں ہمیں کوئی باک نہیں کہ وہ اس کوشش میں بہت حد تک کامیاب رہے ہیں۔
ماخذ: افروڈائٹ، مترجم: سید عابدعلی عابد، ناشر: مکتبہ شاہکار، لاہور

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button