ادبافسانہ

افسانہ: بے نشانی

طارق بلوچ صحرائی

میرے اندر ایک عجیب سی بے چینی ہے سکون کے پنچھی بے کَلی کے گھنے جنگلوں کی طرف ہجرت کر گئے ہیں۔ زیست دُکھوں کی میلی گڈری اوڑھے ڈریکولا کے خونی نوکیلے دانتوں سے سہمی ہوئی شہ رگ کی طرح ہراساں بیٹھی ہے۔ بے نام کتبے والی کچی قبر کا دُکھ دریا کی انگڑائی لیتی ہوئی موجیں ہی جان سکتی ہیں۔ آنکھوں کے متلاشی خواب کی طرح مجھے کسی اللہ والے کی تلاش ہے۔ جو مجھے اس گرداب سے نکالے۔ مگر میں عجیب عہد میں زندہ ہوں جہاں عکس آئینے میں اُترنے سے گریزاں ہیں۔ جہاں خواب چبھن کے پتھروں کے ساتھ تولے جاتے ہیں۔ جہاں پر بھوک کا عذاب آیا ہوا ہے۔ یہاں گندم کی کھڑی پکی فصلیں بھی بھوک سے روتی ہیں۔ یہاں نسلیں نسلوں کو کھا کر پَل رہی ہیں۔ جہاں فتوے انسان اور انسانیت کو کھا رہے ہیں۔ شعور اور خیال کے پنچھی کو درباری نصابوں کے زنداں میں ڈال دیا گیا ہے۔ میں نے کئی بار یہاں دانائی کو الفاظ کا کشکول اُٹھائے بھی دیکھا ہے۔ وہ جس کی آنکھوں میں وصل کا کاجل مسکراتا تھا اور اُس کے دُکھ کا ماتم ٹوٹتی شاخوں جیسا تھا۔ کہتی تھی کردار بے لباس ہو جائے تو الفاظ معنی کی قبا کی بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔ جب وہ تنہائیوں سے بات کرتے کرتے تھک جاتی تو بڑبڑاتی اس بے حس اور تپ دق زدہ معاشرے میں کوئی کب تک لفظوں کا خون تھوکے۔ جہاں سچا قلم کار کرفیو کے درمیانی وقفے میں بازار سے روشنائی خریدنے نکلتا ہے۔ مگر اُس کا سرخ روشنائی میں نہایا ہوا بے روح جسم اُس کے گھر پہنچا دیا جاتا ہے۔ جہاں نوک شمشیر پر جمے خوں کو دیکھ کر سارے دلائل سہم کر چپ کی گود میں بیٹھ جاتے ہیں۔ شہروں کی اس بے راستہ بھیڑ میں بلا کے جنگل اُگے ہیں۔ کل کعف کی دیوار سے لپٹی کوئی روح مجھ سے صدیوں پہلا کوئی خواب مانگنے آئی تھی۔ میں نے اُس سے کہا اب یہاں خوابوں کے جنگل نہیں اُگتے۔ صرف سپنوں کا کیچڑ آنکھوں میں بھرا ہے۔ میں اُسے کیا بتاتا اس نئے دور میں ’زمینی حقائق‘ کا دیو اتنا بڑا ہے کہ کوئی اگر اُس سے ٹکرا کر بچ بھی جائے تو خواب مر جاتے ہیں۔ اس مادہ پرستی کے دور میں اب تو آنتوں کا جالا ہی کل کائنات ہے۔

مجھے اب بھی اپنا توتلا بچپن یاد ہے ماں کہتی تھی جس گھر میں محبت نہ ہو خیر مقدم کرنے والی بانہیں گونگی ہو جائیں تو اُس گھر میں ’پچھل پیری‘ آنے لگتی ہے۔ سُرخ رومال جس پر میرے والد کا نام کاڑھا ہوا تھا ماں اُس کو دھوتے ہوئے گنگنانے لگتی تھی۔ اور اُس کا چہرہ سرخ ہو جایا کرتا تھا۔ اُس کو بس ایک ہی دُکھ تھا کہ چراغ اب قبروں پہ بھی جلانے کی رسم باقی نہیں رہی۔

Related Articles

یادوں کی دُھند مجھے ماضی کے خیمے میں لے جاتی ہے۔ مجھے اب بھی اپنے اندر بوڑھے فقیر کی کھانسی اور مٹی کے کھلونے بیچتی خانہ بدوش عورت کی اونچی آواز سنائی دیتی ہے۔ ہمارے گاؤں میں ابھی بجلی نہیں آئی تھی۔ ماں سرِشام چراغ جلا دیا کرتی تھی۔ جب کبھی چمگادڑیں ہمارے گھر میں اُڑتی نظر آتیں تو ماں دوسرا دِیا بھی جلا دیا کرتی تھی۔ میں نے سُنا تھا چمگادڑیں انسان کا خون پیتی ہیں اور کانوں میں گُھس جاتی ہیں۔ میں چمگادڑوں کو مارنے کے لیے کئی بار زخمی بھی ہوا تھا۔ ایک بار میری چمگادڑوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے اندھیرے میں گر کر ٹانگ بھی ٹوٹ گئی تھی۔ مجھے اب بھی یاد ہے اُس دن میری ماں بھی بہت روئی تھی۔ پھر اُس نے مجھے ہلدی والا گرم دودھ پلایا تھا اور بولی پُتر یہ دنیا چمگادڑوں کا مسکن ہے۔ کتنی چمگادڑیں مارو گے۔ بیٹا چمگادڑیں صرف اندھرے میں ہی دیکھنے پر قادر ہیں۔ ان سے بچنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے روشنی کو گُل نہ ہونے دو۔ بیٹا یہ جو چمگادڑوں کو مارنے کا سفر ہے یہ دائرے کا سفر ہے۔ دائروں کے سفر میں وصل تو ہے مگر منزل نہیں ملتی۔ اب میں کبھی کبھی سوچتا ہوں ماں صحیح کہتی تھی خون پینے والی چمگادڑوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ روشنی کو گل نہ ہونے دو چراغوں کو بجھنے نہ دو۔ ہم عمر بھر نفرتوں کی چمگادڑوں کو مارتے مارتے زندگی گزار دیتے ہیں۔ مگر محبت کا چراغ نہیں جلاتے۔

اللہ نے ہمیں بہت سے چراغ عطا کیے ہیں جیسے علم کا چراغ، اُمید کا چراغ، مثبت سوچ کا چراغ، اللہ کی یاد کا چراغ، کملی والے ؐکی محبت کا چراغ۔ رشتوں کے تقدس کا چراغ یہ سب روشنیوں کے چراغ ہی تو ہیں۔ دو دن قبل کچھ گلہریاں، جگنو، تتلیاں اور پرندے میرے پاس آئے تھے۔ اُن کی آنکھوں میں عجیب سا شکوہ تھا۔ جیسے مجھ سے پوچھ رہے ہوں کیا یہ کائنات صرف انسانوں کے لیے بنائی گئی ہے۔کیا یہاں کسی اور کا حصہ نہیں وہ سب جانتے تھے اُن کا میرا دُکھ مشترک ہے۔ وہ بھی یہ جانتے تھے کہ محبت زندگی سے بھی قدیم ہے، اُن کے آنسوؤں نے مجھے بتایا اُس پارک کے بدلے میں ایک اور پلازہ تعمیر ہو گیا ہے۔ میں انھیں کیا سمجھاؤں وقت بدل گیا ہے، بھوک نے اُن کی سوچوں کو بھی مفلس بنا دیا ہے۔ یہ تو کل کے سارے پنچھیوں کو مار دینا چاہتے ہیں۔ میں نے اُن کو بتایا ایک عہد ایسا بھی گزرا ہے جس دور میں صرف ایک ہی ابوجہل ہوا کرتا تھا کیونکہ لوگوں میں اتنا شعور تھا کہ ظلم کو ہاتھوں سے روک لینا ہی بہتر ہوتا ہے۔ وگرنہ ظلم و جبر کو گریبان سے روکنا بڑی اذیت دیتا ہے۔ میں باوجود کوشش کے اُن کو یہ نہ بتا سکا کہ انسانوں کے درمیان سے لفظ رشتہ اور انسانیت نکال دیے جائیں تو فقط چہرے رہ جاتے ہیں اور چہروں کو کیا معلوم کہ یہ کرہ ارض صرف انسانوں کے لیے ہی نہیں تخلیق کیا گیا۔ ساری مخلوق اس کی حصہ دار ہے۔

تاریخ وہیں پہ ٹھہری ہوئی ہے جہاں دوات کی سیاہی اور مورخ کی سچائی ناپید ہو گئے تھے۔ ویسے سچ تو یہ ہے کہ تاریخ کا دستر خوان نمک حرامی کے ’کھیوڑہ‘سے بھرا پڑا ہے۔ سفر کی اذیتیں پاؤں کے آبلوں سے بڑھ کر کون جان سکتا ہے۔ بے حسی کا یہ عالم ہے کہ لوگ صور اسرافیل سُن کر بھی سو رہے تھے اور منافقت کا یہ عالم ہے کہ فاختہ کی تصویر والی تلواریں بازار میں بک رہی تھیں۔

آج بیساکھ کا آخری دن تھا کچھ سرمئی بادل ہوا کے ساز پر رقص کر رہے تھے۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہی میں نے اندھیرے کی آواز سُنی تھی، رات کا آکسٹرا بجنا شروع ہو گیا تھا اور پھر میں ماضی کے جنگل میں نکل گیا۔ مجھے یاد نہیں میرے بچپن کا آخری دن کیسا گزرا تھا یا جوانی کا پہلا دن کون سا تھا۔ مگر مجھے یاد ہے مرا بڑھاپے کا پہلا دن کیسا تھا۔ جب میرے بیٹے نے مجھے کہا تھا۔ بابا آپ خوامخواہ ہر بات میں بولا نہ کریں یہ نیا دور ہے آپ پرانے زمانے کے آدمی ہیں اور پھر میں نے بیٹے کے ہاتھ کا سہارا چھوڑ دیا اور بازار سے لاٹھی خرید لایا تھا۔

بڑھاپے کا آغاز اُسی دن سے شروع ہو جاتا ہے جس دن سے آپ کی اولاد آپ کو نظر انداز کرنا شروع کر دے۔ مجھے اپنا دادا یاد آ گیا وہ بھی دار کی رونق ٹھہرا تھا۔ اُس نے منصفوں اور حاکم وقت سے فقط اتنا ہی کہا تھا جب تک شہر میں ایک بھی قاتل موجود ہے کوئی ماں سو نہیں پائے گی، ہر کمزور شخص غدار اور مجرم نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ بڑے باذوق ہوتے ہیں وہ زندگی سے برتر ہوتے ہیں۔ وہ صرف تاریخ ہی میں زندہ رہنا چاہتے ہیں۔ منصف بھی مر گئے حاکم وقت بھی مٹی میں مل گیا مگر میرا دادا ابھی تک تاریخ کے ایوانوں میں زندہ ہے۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے میں ایک غریب دیہاتی شودر ہوں اور زندگی کسی بڑے دیش کی راجکماری ہے۔ یہاں ہر کوئی قضائے عمری ادا کر رہا ہے یہاں خلا میں بھی اسیری کی بو ہے، جبر ایسا ہے کہ اب کھلی فضا میں بھی زنداں کا احساس ہوتا ہے۔ وہ کہتی تھی مجھے موت پر اعتراض نہیں مگر پیدا ہونے سے پہلے مرنے پر شدید دُکھ ہے۔ جس کو ادھوری نظم ڈس لے، جس کو کٹا ہوا شجر رات بھر سونے نہ دے، جس کو فاختہ کی آنکھ میں سہما ہوا آنسو ساون بھر سونے نہ دے وہ ابوجہل کی نگری میں کیونکر رہ سکتا ہے۔ مگر اس گنجھلتا میں کون اُلجھتا ہے سب کو پیٹ کی فکر ہے۔ سب زندگی سے خائف ہیں۔

کل میں نے اُسے ایک قصہ سنایا تھا ایک مصور کو اپنی بنائی ہوئی تصویر اتنی بھائی، اتنی پسند آئی، اتنی دل کو لگی کہ اُس نے خود ہی اُسے گیلری میں پیش کیا اور پھر خود ہی منہ مانگی قیمت دے کر خود ہی خرید لیا۔ وہ مسکرائی ایسا پہلی بار نہیں ہوا مصورِ کائنات نے بھی ایک تصویر بنائی تھی پھر اُس کو اپنی بنائی تصویر اتنی پسند آئی، اتنی محبوب لگی کہ اُس نے اپنی اس تخلیق کو کائنات کی گیلری میں سجایا اور پھر خود ہی درود و سلام اور رحمت کے انمول سکے دے کر خود ہی خرید لیا اور پھر اس تخلق سے محبت کرنے والا ہر شخص اُس کے لیے معزز ٹھہرا اور اس تخلیق سے عشق کرنے والا دنیا اور آخرت کی سب نعمتوں کا حق دار ٹھہرا۔ ابو جہل ہار گیا، ابو جہل پیدا ہی ہارنے کے لیے ہوا ہے۔ ابو جہل کے پیروکار بھی پہلے آخرت ہارتے ہیں اور پھر دنیا بھی ہار جاتے ہیں۔

اور پھر میں سکون کی تلاش میں صدیوں کی تھکن سمیٹنے خوابوں کی راکھ کی پوٹلی اُٹھائے اپنے پرانے گاؤں چلا آیا۔ میں نے سُنا تھا شہروں میں فتنات ہوتے اور جنگلوں میں برکات ہوتی ہیں۔ ہماری ویران حویلی کے ساتھ خالی جگہ پر ایک ڈھلتی عمر کا شخص رہنے لگ گیا تھا۔ کسی کو معلوم نہ تھا وہ کون ہے، کہاں سے آیا ہے، اُس کا نام کیا ہے اُس نے گاؤں میں تھوڑی سی زمین ٹھیکے پر لی اور کاشت کاری کرنے لگ گیا تھا۔ اتنی تھوڑی سی زمین پر گزارہ ہو جاتا ہے؟

میں نے سوال کیا، وہ مسکرایا روٹی مل جاتی ہے۔ شکر کے سالن کے ساتھ کھا لیتا ہوں،شکر نہ ہو تو من و سلویٰ سے بھی ذائقہ اُڑ جاتا ہے۔ یہ میری اُس سے پہلی ملاقات تھی۔ پرسوں میرے پاس گاؤں کا امام آیا تھا، بڑا عبادت گزار شخص ہے۔ مگر عقیدے کی سختی کی وجہ سے اُس کا چہرہ بگڑا ہوا ہے۔ پوچھ رہا تھاکون سے فرقے سے ہو، میں نے جواب دیا صرف دین اسلام سے ہوں، فرقے تو تقسیم کرتے ہیں، دین تو اُن کو جوڑنے کے لیے آیا ہے۔
شہر سے کیوں بھاگ آئے ہو اُس نے سوال کیا۔
میں اُس ہوا کی تلاش میں ہوں جس نے رقصِ درویش دیکھا ہوا ہے۔ میں کسی اللہ والے صوفی کی تلاش میں ہوں شہر اب رہنے کے قابل نہیں رہے۔ اس کی دیواروں سے اب کوڑھ نکل آیا ہے۔ صلیبیں درختوں پر اُگ آئی ہیں، راہداریوں میں تلواریں لٹک رہی ہیں۔ زندہ جسم مردہ روحیں لیے پھر رہے ہیں۔ کارخانے جوانیوں کو نگل رہے ہیں۔ یہاں روٹی کے بدلے بچے اپنا بچپن بیچ رہے ہیں۔ جہاں کی ہوا بھی خالص نہیں ہے۔ دھوئیں اور گردو غبار میں لپٹی ہوئی شہروں میں بن بیاہی بیوائیں رہتی ہیں۔ شہروں میں ہر شخص ایک ایسے سفر میں ہے جس کی کوئی منزل نہیں۔
سچ کہتے ہو۔ وہ بولا۔
شہروں میں صرف دائروں کا سفر ہے دائرے کے سفر میں وصل تو ہے مگر منزل نہیں۔
میں نے سوال کیا محبت کیا ہے؟
وہ مسکرایا اور بولا محبت کے بغیر زندگی ایسے ہی ہے جیسے اعتراف کے بغیر محبت۔
محبت کائنات کا تیسرا بڑا سچ ہے۔
پہلا اور دوسرا سچ کیا ہے؟
اُس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور بولا
اس کائنات کا پہلا سچ اللہ رب العالٰمین اور دوسرا سچ رحمت اللعالمین ہیں۔
میں نے سوال کیا اور صاحب ایمان کون ہوتا ہے؟
اُس نے آنکھوں کو پونچھا اور بولا۔
جب کملی والےؐ کا ذکر ہوا اور اُس کی آنکھیں پُرنم ہو جائیں
اور دین؟
وہ مسکرایا اور بولا ایک آدمی تھا اُس نے کعبۃ اللہ کے نیچے سے کچھ مٹی اُٹھائی اُس کا بت بنایا اور اُس کی پوجا شروع کر دی اور اسی کو دین جانا شاید ہم میں سے بہت لوگ شاید یہی کر رہے ہیں۔
دین ایک راستے ایک سسٹم کا نام ہے۔
دین اسلام وہ راستہ ہے جو سراجِ منیر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا روشن کردہ ہے۔ جو قرآن کا راستہ ہے، جو محبت اخلاص، درگزر، ہمدردی، ایثار اور عاجزی کا راستہ ہے اور پھر میں شہر چلا آیا۔

کچھ عرصہ کے بعد جب میں دوبارہ گاؤں پہنچا تو معلوم ہو اوہ بابا کچھ عرصہ پہلے گھر بیچ کے یہاں سے کہیں چلاگیا ہے۔ مجھے بہت دُکھ ہوا، مجھے اُس سے مل کر ایک سکون اور اطمینان کا احساس ہوتا تھا۔ گاؤں میں کوئی نہیں جانتا تھا اُس کا نام کیا تھا، کہاں سے آیا تھا، کہاں گیا تھا، اُس کا خاندان کون سا تھا، اُس کی ذات کیا تھی مگر سب جانتے تھے وہ سنت رب یعنی خاموشی پر عمل پیرا تھا۔

میں جو کسی مردِ مومن، صوفی ولی، درویش کی تلاش میں تھا۔ ہارے ہوئے جواری کی طرح زمین پر بیٹھ گیا، مجھے اُس سے آخری ملاقات یاد آ گئی جب میں شہر جانے کے لیے اُس سے جدا ہو رہا تھا تو وہ کھیت میں بیٹھا جڑی بوٹیاں نکال رہا تھا۔ میں نے اُس سے پوچھا تھا۔ بابا یہ درویش کون ہوتے ہیں۔ درویشی اور درویش؟ ان کی پہچان کیا ہے؟

وہ مسکرایا اور بولا درویش اللہ کی رحمت کو محدود نہیں سمجھتا۔ درویش پسِ محراب جلتا ہوا دیپ ہے ……اور درویش کی نشانی؟
اُس نے مسکرا کر آسمان کی طرف دیکھا تھا اور بولا تھا جہاں بے نشانی ہی نشانی ٹھہرے۔

Leave a Reply

Back to top button