ادبافسانہ

افسانہ: جستجو…… صبا ممتاز بانو

شب نے ستاروں کی شال اوڑھ لی تھی۔ مسافر کے اعصاب شل ہو چکے تھے اور وہ پوری طرح نڈھا ل ہو چکا تھا۔ تھکن اس کی ہمت کو پسپا کیے دے رہی تھی لیکن سفر اس کا مقدر بن چکا تھا۔
اس کا پہلا سفر اس کی زبان سے نکلنے والے پہلے لفظ کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا۔ اس ایک لفظ سے وہ اس کے معنی تک نہیں، اس کی روح تک بھی پہنچ گیا تھا۔ اسے یاد ہے کہ جب بھی وہ گھٹنوں گھٹنوں چلتے ہوئے گر پڑتا تو ا س کے منہ سے جو لفظ نکلتا۔ وہ” اللہ جی“ ہی ہوتا۔ یہ لفظ اسے ا پنی ماں کے ذریعے سیکھنے کو ملا تھا جس نے اس کی پیدائش کے بعد اپنے نیپل کو اس کے منہ میں ڈالنے سے پہلے اللہ جی کا نام لیا تھا۔ ماں کی چھاتیاں چوستے چوستے ہی اس نے یہ جانا کہ اللہ جی کا نام لینے سے درد بھی کم ہو جاتا ہے۔
اس کی ماں کوئی بھی کام کرنے سے پہلے اللہ جی کا نام لینا نہ بھولتی تھی۔ جب وہ چلتے چلتے گرنے لگتی یا بیٹھے بیٹھے رونے لگتی تو اس کے منہ سے بے ساختہ ہائے اللہ نکلتا تھا۔ اس کی ”ہائے اللہ“ میں اس کے درد کا درماں تھا۔ اس نے یہ لفظ اپنی ماں سے اتنی بار سنا تھا کہ شعور کی سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے اسے ازبر ہو گیا تھا۔ اس کی ماں نے اسے اچھی طرح سمجھا دیا تھا کہ عالم ہوشی ہو یا فراموشی، زندگی کا آغاز اس کے نام کیا جائے تو نمو پاتی ہے اور زندگی کا اختتام اس کی یاد سے کیا جائے تو سکون پاتی ہے۔ اسی کا نام لے کرہم سوتے ہیں اور جب جاگتے ہیں تو ا سی کا نام لے کر جینے کا آغاز کرتے ہیں۔ جب لڑکھڑاتے ہیں تو بھی اللہ جی کا نام لے کر خود کو گرنے سے بچاتے ہیں۔ پھر جب سنبھلتے ہیں تو اسی کا شکر ادا کرتے ہیں۔
جوں جوں وہ ہوش سنبھالتا گیا۔ آگہی کے ہزاروں دراس پر کھلتے چلے گئے۔ تب اس لفظ کی جستجو میں اس نے جانا کہ یہ اللہ جی ہی تو تھے کہ جس نے اس کے جنم لیتے ہی اس کے رزق کا بندوبست بھی کردیا تھا۔ اس کی پیدائش پراس کی ماں کی چھاتی سے پھوٹنے والی دھار کا خالق وہی تو تھا۔ اس بھری دنیا میں انسان کو بنا کسی تعصب کے رزق دینے والا بھی وہی تھا۔ وہی تھا جس کے دم سے سحر پھوٹتی تھی اور وہی تو تھا جو ظلمت شب میں اجالا تھا۔
اس نے اس لفظ کے ساتھ روحانی سفر کرنا شروع کر دیا۔ ایک رات وہ نادیدہ جہان کے سفر پر تھا کہ ایک تیز رفتار آندھی نے اسے اپنی لپیٹ میں لیا، وہ ایک دودھیاسی روشنی میں نہا گیا۔ اب اس کی تسبیح کے دانوں میں کئی رنگ جھلکنے لگے۔ کبھی سفید، کبھی کالا، کبھی سبز۔ رنگوں کی ماہیت نے اسے اپنے سحرمیں جکڑ لیا۔ کئی راز اس پر افشاء ہوئے۔ کبھی وہ صلیب پر ٹنگا گیا اور کبھی اپنے ہی ہاتھوں تراشا ہوا بت بن گیا۔ کبھی گوتم کی طرح نروان کی تلاش میں چل پڑا اور کبھی دھونی رما کر جنگل میں بیٹھ گیا۔ کبھی اس کا بسیرا مٹی کے ساتھ ہوا تو کبھی اس نے آگ سے دوستی کرلی۔ ایک بے کلی سی اس کے اندر سمائی ہوئی تھی۔ پھر اسی ایک لفظ نے اس کو پرسکون کردیا جو اس کی روح کو مسخر کر چکا تھا۔
سپیدی کا ظہور ہوا تو کالی کملی والا محبوب ہوا۔ سفید، کالے اور سبز چولے والے ٹولے کو دیکھتے دیکھتے وہ بھی اسی قافلے کا حصہ بن گیا۔ یہاں جسم اس کی روح سے الگ ہوتا گیا اور ایک جہان فانی کی طرف چل پڑا۔ روحوں نے اسے خوش آمدید کہا۔ اس نے سر کو جھکا لیا اور اپنی تسبیح ثنا میں موت کو بھی پرولیا۔ اب زندگی اس کے لیے مانند نیند تھی۔ وہ درجہ بہ درجہ چل رہا تھا اور خدا اس کے اندر سمٹ رہا تھا۔ سفر اس کی سرشت میں شامل ہو چکا تھا۔
جیسے جیسے وہ سفر کرتا گیا۔ اس کی کھوج کا دائرہ بھی وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا۔ اب چیزیں اس کے ذہن میں آکر ٹکرانے لگیں۔ اسے سمجھ نہیں آتی تھی کہ کون سی چیز کو پہلے جانے اور کون سی چیز کو بعد میں۔ کبھی کبھی تو یہ جنگ اتنی بڑھ جاتی کہ وہ ان کے درمیان کہیں پھنس کر رہ جاتا۔ وہ دریافت کی دنیا میں ایک الجھا ہوا مسافر تھا لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری تھی۔ وہ اپنے اندر اس ایک لفظ کو کبھی سونے نہیں دیتا تھا۔ وہ آشنائی کی ابھی پہلی سیڑھی تک بھی پہنچ نہیں پایا تھا کہ اسے ایک اور ہستی کا پتا چلا۔ اس کے شر سے وہ خوف کھانے لگا۔
یہ وہ ہستی تھی جو اس کے اور اللہ جی کے درمیان میں آ جاتی تھی۔ وہ تو کبھی سوچ میں نہیں سکتا تھا کہ کوئی ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ جو اس خدائے لم یزل اور انسان کے درمیا ن آنے کی ہمت کرسکے۔ یہاں پھراس کے ادراک وفہم نے اسے اس مسئلے کو سلجھا نے میں مدد کی کہ یہ وہی تھا جس نے اللہ جی کے پیار ے بندے پر پیار کی بجائے نفرت کی دھار ڈالی تھی۔ محبت کا شجر سایہ دار ہی اس سے نجات کا واحدراستہ تھا۔
”اچھا۔ تو میری وجہ سے اللہ نے اسے معتوب قرار دے دیا اور میں اپنے من میں پھر بھی شر کا جنگل اگائے بیٹھا ہوں۔ ہائے یہ ظلم میں ہی کررہا ہوں کیا۔ کیا سب میرے جیسے ہیں۔ یا مجھ سے بھی بدتر۔“
اس کی سوچیں الجھی ہوئی ڈور کی طرح آپس میں بری طرح پھنسی ہوئی تھیں اور وہ ان کو سلجھانے میں لگا رہتا تھا۔ مانو، کون سا مقا م ہو جب وہ منزل کو پا لے۔ جب وہ یہ راز جان لے کہ انسان کے من بھیدر کیا کیا چیزیں گھات لگائے بیٹھی ہیں۔ انسان کی اصل جنگ شیطان سے ہے یا اپنے نفس سے۔ انسان کی سرخروئی بھی اس کی نگاہ سے اوجھل تھی۔ وقت کے پہیے کے ساتھ ساتھ دانش وفراست کی رفتار بھی تیز ہوتی چلی گئی۔
اب وہ راہ محبت کے ہزارویں حصے میں یہ اچھی طرح جان چکا تھا کہ انسانوں میں بھی خیر ہوتا ہے۔ ان میں شر بھی ہوتا ہے اور اس سے بھی بڑھ کر ان میں بہت سی چیزیں بھیس بدل کر چھپی ہوتی ہیں۔ وہ ان چیزوں کی حقیقت کو جاننا چاہتا تھا۔ اس کے لیے اس کا وجودی سفر ضروری تھا۔ تب سے اس نے بوریا بستر باندھ لیا تھا اور اپنی لاعلم اور کم فہم روح کو شانت کرنے کے لیے سفر پر چل پڑا تھا۔ اس ڈگر پر چلتے چلتے اس نے کئی بستیوں کی تباہی کا راز جان لیا تھا۔ اس نے خوشحال داستانوں کا امر گیت بھی سن لیا تھا۔ وہ کئی صدیوں سے سفر میں تھا ۔ اب بری طرح تھک چکا تھا اور سستانا چاہتا تھا۔
دور کہیں ایک مٹیالی سی روشنی اسے پیغام میزبانی دے رہی تھی۔ ا س نے اپنی سفید چادر کو اچھی طرح اوڑھا اور کسی پناہ گاہ کی تلاش میں چل پڑا۔ قریب جانے پر معلوم ہوا کہ وہ ایک بستی میں پہنچ چکا ہے۔ گھنے جنگل میں بھٹکنے کے بعد اسے یہ بستی فردوس بریں ہی لگی۔ بستی میں داخل ہوتے ہی جس پہلے مکین سے اس کا واسطہ پڑا۔ وہ اس بستی کا ایک بچہ تھا۔ اس بچے کے چہرے کی معصومیت نے اسے گرویدہ کر لیا۔ راستے میں کئی اور بچے بھی آئے ۔سب ایک سے بڑھ کر ایک تھے۔
”کتنی دلکش مائیں ہوں گی۔ جنہوں نے ان بچوں کو جنم دیا۔ وہ چہرے مجھے دیکھنے تو ہو ں گے۔“
وہ اپنے اندر کی اس آواز سے تھرا کر رہہ گیا۔ اس کی سوچ نے پھر جستجو کوتراشنا شروع کر دیا۔ کیا شر نے تمنا کی شکل اوڑھ لی تھی یا پھر خیر کسی نیکی کی گھات میں تھا۔ یہ کون تھا جو اس کے اندر سے بولا تھا؟ اپنے اندر تانکا جھانکی کے بعد ناکام ہو کر اس نے ادھر ادھر دیکھا۔
اب وہ اس بستی میں کسی بڑے کی تلاش میں تھا۔ مگر ایک سناٹا تھا جو طاری تھا۔ آخر بچے راتوں کو گھروں سے باہر کیوں تھے۔ بڑے گھر کے اند رکیوں تھے؟
اس نے زور زور سے آواز دی۔”کوئی ہے،کوئی ہے؟“
پہلا بچہ مسکراتا ہوا آیا۔ اس کے سامنے آکر کھڑا ہو گیا۔ ”میں ہوں نا۔“
اس نے جھنجھلا کر بچے کی طرف دیکھا۔ ”لیکن مجھے کسی بڑے کی تلاش ہے۔“
دوسرا بچہ مسکراتا ہوا اس سے لپٹ گیا۔”تم میری تلاش میں ہو؟“
اس نے اس بچے کے گال پر پیار کیا۔ ”تم بھی تو چھوٹے ہو۔“
وہ پھر پکارا۔” کوئی ہے۔ سنو تم سنتے کیوں نہیں۔“
اس نے ابھی آواز ہی دی تھی کہ ایک تیسرا بچہ آیا اور اس کی ٹانگوں سے لپٹ گیا۔”ہمارے ساتھ کھیلو نا۔“
اس نے بڑے پیارسے اس بچے کو خود سے الگ کیا اور ادھر ادھر دیکھنے لگا۔
تلاش گزیدہ مسافر نے ایک گھر کے اندر جھانکا۔” اف اس قدر سناٹا، اتنی ہیبت“. اس نے ڈر کر اپنے قدم پیچھے ہٹا لیے۔
اس نے مایوس ہو کر اس پہلے بچے کو بلایا جو اپنے ہم عمروں سے کھیل رہا تھا۔
”مجھے بھوک لگی ہے۔ کیا کھانے کو کچھ مل جائے گا۔ یہ بچہ ان میں نسبتاً کچھ بڑا تھا۔“
وہ اس کی بات سن کر مسکرایا اور دیکھتے دیکھتے ہی مسافر کی نگاہوں سے اوجھل ہوگیا۔ مسافر کا پیٹ انتظار کرنے کو تیار نہیں تھا۔اس نے دوسرے بچے کو پاس بلایا ہی تھا کہ پہلا بچہ آگیا۔اس کے ہاتھ میں کچھ پھل تھے اور پانی کا ایک کٹورا۔ مسافر نے اپنا پیٹ بھر لیا۔ اتنے شیریں پھل ۔ اتنا میٹھا پانی۔
اس نے ایسا ذائقہ پہلے کبھی نہیں چکھا تھا۔”یہ تم کہاں سے لائے ہو۔“
بچہ حالت وجد میں اپنے ہاتھوں کو گھمانے لگا۔ زمین اس کے قدموں تلے محو رقص تھی اور فلک اس کی آنکھوں میں تھا۔ اس کے ہاتھوں سے کافور کی خوشبو پھوٹ رہی تھی۔ بہشت اپنی فسوں خیزی کے ساتھ اس کی ہتھیلی پر چمک رہی تھی۔ یہ نظارہ دیکھنے کے بعد مسافر کی آنکھیں خود بخود بند ہو نے لگیں۔ اس کی چادر نے اس کے بدن کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ نیند اس کی محبوبہ بن چکی تھی۔
دن چڑھے تک وہ سویا رہا۔ شوروغل سے آنکھ کھلی۔ وہی جگہ تھی مگر اب بستی میں بڑوں کا راج تھا۔ کالے پیلے مدقوق زرد چہروں میں ایک بھی چہرہ ایسا نہیں تھا جس پر وہ ان بچوں کے باپ ہو نے کا گما ن کر سکتا۔ اسے سفر کرنے کے لیے کچھ اشیا درکار تھیں۔ وہ ایک دکان پر گیا۔ کچھ چیزیں طلب کیں۔
”یہ دکان دار تو قاتل ہے۔“ وہ گھبرا کر پیچھے ہٹ گیا۔ اب وہ اگلی دکان کے سامنے کھڑا تھا۔ دکان دار نے ا سکی اشیا اسے تھمانے کے بعدجونہی اس کی طرف دیکھا۔وہ گھبرا گیا۔”یہ بھی قاتل ہے۔“
اس نے اشیا کو وہی پر چھوڑ دیا۔ وہ بازار میں سے آتے جاتے چہروں کو دیکھنے لگا۔ سب قاتل تھے۔ مرد وزن کوئی بھی معصوم نہیں تھا۔ سب نے کئی کئی قتل کیے تھے۔ کئی مندر توڑے تھے۔ کئی مسجدیں مسمار کی تھیں۔ یہاں شر کی طاقت کا راج تھا۔ اس کا گمان ٹوٹ گیا تھا ۔ اس نے جان لیا تھا کہ وہ تو خطا کا پتلا تھا مگر یہاں سب شر کے چیلے تھے۔ وہ تو ان سب سے اجلا تھا۔ اس کا میل تو لمحوں میں اتر جاتا تھا ۔ ان کے تو تن من میلے تھے ۔ صدیوں کی میل نے کئی ساعتوں کے پڑاﺅ کے بعد ان کے شریر کو اپنا مستقل ٹھکانہ بنا لیاتھا۔
سب کے سب منحوس شکلوں کے ساتھ دن کے اجالوں میں اپنا تن من سجا کر نکل آتے تھے اور رات کو اپنے اپنے برزخ میں سو جاتے تھے ۔ اس وقت بستی میں ایک بھی بچہ نہیں تھا۔ آخر بچے کہاں گئے تھے۔ کیا گھر کے اند رچھپے بیٹھے تھے؟ اسے اس جگہ سے خوف آنے لگا۔ اس نے اپنے قدموں کی رفتار تیز کر دی۔ وہ جلد از جلد اس قاتل بستی سے نکل جانا چاہتا تھا۔ یہ بستی قاتلوں کی ہے۔ اگر وہ یہاں سے نہ نکلا تو یہ بستی اس کے اندر کے اجلے انسان کو بھی کھا جائے گی۔ اس کی رفتار سرپٹ گھوڑے جیسی تھی۔ و ہ گھنے جنگل کے بیچوں بیچ کھڑا راستہ تلاش کر رہا تھا کہ بہت سی دلربا عورتیں نمودار ہوئیں۔ ان کی گودوں میں ان کے بچے تھے۔ وہی اجلے، روشن اور ماہتابی بچے۔
مسافر نے ان مہربان بچوں کی حسین ماﺅں کو دیکھا۔ اس کے دل نے ٹھہر جانے کی آرزو کی۔ جستجو مقام تکمیل پر تھی کہ شراب وصل کی تمنا میں اس کی سفید چادر گر گئی اور فضا میں پھریرا بن کر اڑنے لگی۔ دریائے افسوس نمودار ہوا مگرپشیمانی کی آتی جاتی لہروں میں اس کا وجود کہیں بھی تو نہیں تھا۔ بچوں نے جب یہ دیکھا تو ماﺅں کی گود سے اچھلتے ہوئے اترے اور اس کی طرف اشارہ کرکے چلانے لگے۔” قاتل ہے۔ یہ بھی قاتل ہے۔“

Leave a Reply

Back to top button