ادبافسانہ

افسانہ: دفن

طارق بلوچ صحرائی

سرمایہ دارانہ نظام کی عشوہ طرازیوں کا ہر کوئی اسیر ہے مگر یہ اُس مزار کی مجاوری ہے جس میں کوئی بھی دفن نہیں میرا دادا کہا کرتا تھا انسان اپنے اندر کے مزار میں ہجر کے رتجگے فاقے اور غم و الم دفن کرتا جاتا ھے اور جب یہ قبر بھر جاتی ہے تو خود بھی دفن ہو جاتا ہے شاید اسی لئے فاقوں مارا غریب جلدی دفن ہو جاتا ہے ۔

چاچا غفور میری بات سنو شہزادہ ابھی مکمل صحت یاب تو نہیں ہوا ابھی بھی اس کو سخت بخار ھے کمزوری سے اس کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں تم اسے ہسپتال سے لے کر کیوں جا رہے ہو؟ کیا جان سے بھی زیادہ کوئی قیمتی چیز ہوتی ھے لوگوں سے بات تو کرو کسی رشتہ دار سے اُدھار مانگ لو۔ لوگ تو کہتے ہیں تمھارے پاس بہت پیسہ ہے تم نے مفلسی کا ڈھونگ رچایا ہوا ہے۔ میں مسلسل بولے جا رہا تھا۔ غفور ڈاکئے نے اپنی سُرخ آنکھوں سے میری طرف دیکھا اُس کے خاموش لب سلے ہوئے تھے۔ مگر آنکھوں کی لرزتی نمی میں قیامت کا شور تھا۔ ہم ہسپتال سے چلتے چلتے گھر پہنچ چکے تھے۔ چاچے غفور نے ہڈیوں کا ڈھانچہ تپ دِق کی مریضہ اپنی گھر والی اور پھر اپنے بیمار بیٹے کی طرف دیکھا اور سسکی کو روکنے کی ناکام کوشش کی اور پھر میری طرف متوجہ ہو کر بولا خالق داد ’’رشتے اور انسان میں سے ایک مر جائے تو دوسرا خو بخود مر جاتا ہے۔ غربت وہ بیوہ ہے جسے عمر بھر تہمتوں کے جلتے صحرا میں ننگے پائوں چلنا پڑتا ہے۔‘‘ اپنے زخم اللہ کے سوا کسی کو مت دِکھائو لوگ تو ’’کھیوڑہ مزاج‘‘ ہوتے ہیں۔ قتل گاہوں اور صلیبوں کے اس نگر میں جبر کی دھوپ میں صرف غریب ہی کیوں جھلستے ہیں کیا مفلسی اتنا ہی بڑا جرم ہے؟ اور پھر اُسے خالی منڈیر کی سی چپ لگ گئی وہ خاموش ہو گیا۔ خاموشیاں کبھی کبھی بڑی تفصیل سے جواب دیا کرتی ہیں۔

کچھ زندگیاں ہجر کی راتوں کی طرح ہوتی ہیں۔ اُداس، تاریک، سنسان بے کل، نامعلوم انتظار اور تنہائی کے آسیب سے ہراساں ایک ایسی ہی زیست غفور ڈاکیے کو ملی تھی جس کی واحد خوشی منی آرڈر سے ملنے والی دو روپے کی بخشیش تھی۔ وہ ہماری ہی بستی میں رہتا تھا شدید سردی ہویا جھلسا دینے والی گرمیاں آندھی ہو یا طوفانی ژالہ باری وہ اپنے سائیکل پر ڈاک بانٹتا بھرتا تھا۔ تھکاوٹ اور بڑھتی ہوئی عمر کے باوجود اُس کے چہرے پر ایک معصوم سی مسکراہٹ ہوتی تھی۔ سب اُسی کی راہ تک رہے ہوتے تھے میرا دادا کہا کرتا تھا جس کے تینوں بیٹے پردیس گئے مگر واپس نہیں پلٹے تھے۔ خالق پُتر ’’انتظار، آگ اور عشق ایک ہی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔‘‘ کہتے ہیں خط آدھی ملاقات ہوا کرتی ہے۔ اپنے پیاروں کے خط دیکھ کر لوگوں کے ہجر زدہ چہرے کھِل اُٹھتے تھے۔ پردیس سے جب بھی کسی کا خط آتا تو نئی نویلی دُلہن کی آنکھوں میں عجیب سی چمک آ جاتی تھی وہ خوشی سے اپنے مہندی لگے ہاتھوں سے شرماتے ہوئے اپنے سِرکتے آنچل کو دوبارہ سرپر اوڑھ لیا کرتی تھی اور پھر مٹی کے چولھے میں گیلی لکڑی سلگا کر اُس کے دھوئیں میں بہانے بہانے سے رولیا کرتی تھی۔ بوڑھے ماں باپ بچوں کی طرح خوش ہو جایا کرتے تھے۔ پہلے دور میں بوڑھے بچوں کی طرح ہوا کرتے تھے اور آج بچے بوڑھوں جیسے ہو گئے ہیں۔ جو لوگ پڑھ لکھ نہیں سکتے تھے۔ غفور ڈاکیا اُن کے خط پڑھ کر سناتا تھا اور کئی دفعہ اُن کے جواب لکھ کر بھی دیتا تھا ہر خط میں یہ ضرور لکھا ہوتا تھا۔ پڑھنے اور سُننے والوں کو سلام اور تمام لوگ بیک وقت و علیکم السلام کہتے تھے۔

میں اور شہزادہ دونوں ہم جماعت تھے۔ ہم دونوں بچپن میں اپنے والدین سے رو رو کر ہر بات منوا لیا کرتے تھے۔ بڑی دیر کے بعد ایک بات کی سمجھ آئی کہ جب رونے سے بھی کوئی مسئلہ حل نہ ہو اور کوئی بات نہ بنے تو سمجھ جائیں بچپن کی نعمت ہم سے چھن گئی ہے اور ہم بڑے ہو گئے ہیں۔

جب ڈھاکا ہم سے اجنبی ٹھہرا اُس جنگ میں سب کو غفورڈاکیے کا شدت سے انتظار ہوتا تھا۔ وہ شہر سے نئی نئی خبریں لاتا تھا۔ اُس کا جھوٹ بلا کا سچا ہوتا تھا وہ جب بھی شہر سے آتا امن کی کوئی نہ کوئی افواہ اُڑا دیا کرتا تھا اور میرے اندر جنگ کا شور کچھ عرصہ کے لیے تھم جایا کرتا تھا۔ کبھی کبھی مجھے لگتا تھا وہ ایک ایسا درویش اورصوفی ہے جو میرے خواب اپنی آنکھوں سے دیکھا کرتا ہے۔ اُس کو اپنے بیٹے سے بہت پیار تھا وہ اپنے شہزادے کو شہزادوں کی طرح رکھنا چاہتا تھا۔ مگر اُس کی قلیل تنخواہ اُس کے سارے خواب بکھیر دیا کرتی تھی اُس کے پاس ایک ہی سفید سوٹ تھا جو اب برسوں پہنتے پہنتے اُس کا رنگ خاکی ہو چکا تھا۔ جو وہ ڈاکئے والی خاکی وردی اُتارنے کے بعد پہنتا تھا۔ مگر وہ اپنے شہزادے کے لیے ہر عید پر نیا سوٹ اور نئے جوتے ضرور خریدتا تھا اور پھر اُسے خوش دیکھ کر خود بھی خوشی سے جھوم جایا کرتا تھا۔

گائوں میں جب بارش ہوتی تھی تو ہم چار لوگ ضرور بھیگتے تھے۔ چاچا فتح محمد وہ کچے راستوں پر پکی اینٹیں رکھتا تھا تاکہ لوگ کیجڑے سے بحفاظت گزر جائیں دوسرا غفور ڈاکیا جو طوفانی بارش میں بھی چٹھیاں بانٹنے ضرور آتا تھا۔ تیسرا میں سکول سے آتے ہوئے، مجھے آسمانی بجلی سے بہت خوف آتا تھا میں نے سنا تھا وہ سیاہ چیزوں پر زیادہ گرتی ہے مجھے آج بھی لپکتی آسمانی بجلی سے خوف آتا ہے شاید میرا دل سیاہ ہے یا اس میں کچھ کالک ضرور ہے۔ اور چوتھی میری ماں جو گھر کے دوازے سے باہر نکل نکل کر میرا رستہ تکتی رہتی تھی ور منہ ہی منہ میں دُعائیں مانگتی رہتی تھی۔

مائیں بھی عجیب ہوتی ہیں ایک دن بھی مدرسے نہیں گئی ہوتیں مگر علم کی ایک یونیورسٹی ان کے اندر ہوتی ہے۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ شہزادے نے مجھ سے میرا سائیکل مانگا اُسے پورا سائیکل چلانا نہیں آتا تھا۔ اُسے صرف ’’آدھی قینچی ‘‘ سائیکل چلانا آتا تھا میں ڈرتا تھا کہیں وہ میرا سائیکل گرا کر توڑ نہ دے۔ میں نے اُسے انکار کر دیا ماں نے جب دیکھا تو مجھے سمجھایا اپنے دوست کو سائیکل دے دو تھوڑی دیر چلا کر تمھیں واپس کر دے گا۔ میں نے انکار کیا اور کہا امی میں اس کو سائیکل نہیں دوں گا یہ تو میرا سائیکل ہے۔ ابو نے مجھے لا کر دیا ہے۔
ماں مُسکرائی اور بولی پُتر۔
’’ملکیت تو غلامی ہے اور چھوڑ دینا ہی ملکیت ہے۔‘‘
اور میرے بیٹے
تعلق اور رشتے بے آبرو ہو جاتے ہیں جب زندگی کی عبارت سے ’’محبت‘‘ کو حذف کر دیا جائے۔ اور پُتر دوست اور انسان بہت قیمتی ہوتے ہیں ان کی کم سے کم قیمت بھی محبت ہوا کرتی ہے۔

غفور ڈاکیا جب منی آرڈر لے کر آتا تھا تو وہ بہت خوش ہوتا تھا۔ بخشیش کے دو روپے ملنے کے بعد اُس کی آنکھوں میں شہزادے کا چہرہ گھوم جایا کرتا تھا۔ جس کے لیے اُس نے گولی والی بوتل، ڈیکو مکھن ٹافی گجک اور لچھے لے کر جانے ہوتے تھے۔ جب وہ منی آرڈر کے پیسے میرے دادا کو گن کر دے رہا ہوتا تھا تو اُس کی آنکھوں میںلالچ کی ایک عجیب سی چمک بھی آتی تھی جیسے بچوں کی آنکھوں کے میلے میں کھلونوں اور مٹھائیوں کی دُکانیں دیکھ کر آتی ہے کہ سارے کھلونے اور ساری مٹھائیاں اُن کی ہو جائیں اور جی بھر کر جھولا جھولیں کبھی کبھی میں سوچتا ہوں اس دنیا کا ابھی بچپنا نہیں گیا بچوں کی طرح لالچی سی ہے شاید مجھے اسی لیے دنیا پہ غصہ نہیں آتا مجھے لگتا ہے جب اس کا بچپن ختم ہو جائے گا تو یہ دنیا خود بخود لالچ چھوڑ کر سمجھدار ہو جائے گی۔

غفور ڈاکیا ریٹائر ہو گیا ماں کی ناراضگی کے باوجود بھی ہم گائوں سے نکل کر شہر شفٹ ہو گئے ماں کہتی تھی۔ پُتر ہم دراصل قضا کے اسیر ہیں اور قضا بگاڑتی ہے بناتی نہیں ہمیں ضائع کر دیتی ہے۔ اللہ نہ کرے کہ کوئی بڑے شہروں میں گُم ہو جائے اگر ایسا ہوا تو راستہ کون بتائے گا کہ اندر تاریکی اور باہر سانپ ہیں سانپوں کی فطرت ڈسنا ہے نہ کہ راہنمائی۔ غفور ڈاکیے نے ریٹائرمنٹ کے پیسوں سے ایک تین مرلے کا جھونپڑا نما مکان خرید لیا اور کرایہ داری کے عذاب سے آزاد ہو گیا۔ سرمایہ دارانہ نظام کا ایک تحفہ یہ بھی ہے کہ مالک مکان سارا مہینہ کرایہ دار کا خون چوستا رہتا ہے اور اُس کے بچوں کا رزق کھاتا رہتا ہے۔ غفور ڈاکیا اپنے سارے خواب شہزادے میں دیکھتا تھا۔ شہزادہ ایف اے کر لینے کے بعد ابھی تک بے روزگار تھا۔ محکمہ ڈاک والے بھی اُس کو بھرتی نہ کر پائے تھے وہ نوکری کی تلاش میں ہر جگہ مارا مارا پھرتا رہتا تھا۔ غفور ڈاکیے کے چہرے پر اب مایوسی صاف نظر آنے لگی تھی اور پھر ایک دن شہزادہ بیمار ہو گیا چاچا غفور اُسے ہسپتال لے گیا۔ گھر کی ساری جمع پونجی اُس کے علاج پر لگ گئی نوبت فاقوں تک آ گئی اب اُس کے پاس اُس کی زندگی اُس کے اکلوتے بیٹے شہزادے کے علاج کے لیے پیسے نہ تھے۔ رشتہ داروں اور تعلق داروں نے وہی کیا جو اس سرمایہ دارانہ دجالی نظام میں ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا شیطانی نظام ہے جس میں ایک ایسا جال بُنا جاتا ہے۔ جس میں لوگ چاروں سمت چلنے لگتے ہیں اور چاروں سمت چلنے والے کبھی منزل تک نہیں پہنچ سکتے۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں انسان کو دولت سے تولا جاتا ہے اور اس کے قد کو کرنسی کے میٹر سے ماپا جاتا ہے۔

ہسپتال سے آنے کے بعد روز بروز شہزادے کی حالت بگڑتی گئی۔ اُس کی ماں بہت روئی اور چلائی میں آنکھیں بیچ دیتی ہوں اپنا گردہ بیچ دیتی ہوں میرے بیٹے کا علاج کروائو۔ پھر گھر کو بیچنے کا فیصلہ ہوا۔ مگر غفور ڈاکیے کی ساری دعائیں ہار گئیں۔ موت کی ویران وادیوں کی پُراسرار گونج سُننے سے پہلے شہزادے نے یہ آخری الفاظ سُنے تھے غفور ڈاکیا کہہ رہا تھا۔

پُتر تم نے کئی بار مجھ سے پوچھا ہے بابا آپ کوئی کام کیوں نہیں کر لیتے۔ ہر آدمی کوئی نہ کوئی ہُنر کی نقدی ساتھ لے کر آتا ہے آپ کو کیا ہُنر آتا ہے۔ توبیٹا مجھے خط پڑھنے اور خط کا جواب لکھنے کے علاوہ مجھے گزرے ہوئے زمانے بنانے آتے ہیں۔ جس کی اس جدید دور کو اب ضرورت نہیں رہی جس زمانے میں دھاتیں قیمتی اور انسان سستے ہو جائیں وہاں بے حس اور جونک صفت معاشرہ ہی جنم لیتا ہے۔

اور پھر غفور ڈاکیا بھی اس دھاتوں کے پجاری معاشرے سے روٹھ گیا۔ اُس کی مردہ آنکھوں میں ایک زندہ سوال تھا کیا غریب ہونا اتنا بڑا جُرم ہے کہ ریاست ایک بیمار بچے کا علاج بھی نہ کر پائی۔ کیا زندگی اور صحت غریب کا حق نہیں؟ جینے میں امیر پہلے اور مرنے میں غریب ہی اوّل کیوں؟

دو قبریں کھودی گئیں جب شہزادے کو قبر میں اُتارا جانے لگا تو میں چلایا۔ پہلے غفور ڈاکیے کو دفن کرو باپ سے بیٹے کے دفن ہونے کا منظر نہیں دیکھا جائے گا۔ ویسے بھی غفور ڈاکیا شہزادے سے زیادہ غریب تھا اس سرمایہ دارانہ دجالی نظام کا اصول ہے جس میں جینے میں پہلے امیر اور مرنے میں غریب اول ہو گا جرم ضعیفی کی سزا خاموش موت ھی ہوا کرتی ہے۔

بے ہوش ہونے سے پہلے میں نے سُنا گائوں کا بڑا چوہدری کہہ رہا تھا لڑکو اپنا کام کرو اس کو چیخنے رونے دو غریب کو صرف چیخنے اور رونے کا ہی ہنر تو آتا ہے ۔ ویسے بھی غریب کے مرنے کا دُکھ کیسا؟ وہ تو زندگی میں بھی مرا ہوا ہوتا ھے بس دفن ہونا ہی باقی ہوتا ہے۔ اور ہم ان دونوں باپ بیٹے کو دفن ہی تو کر رہے ہیں۔

Leave a Reply

Back to top button