ادبافسانہ

افسانہ: دُم

طارق بلوچ صحرائی

انسان بھی عجیب ہے عمر بھر بیساکھیاں بناتا رہتا ہے اور خود چلنا بھول جاتاہے۔ وقت کے قبرستان میں کچھ لوگ تابوت کی مانند ہوتے ہیں جن کے در اور دل کسی صدا، کسی دستک سے نہیں کھلتے۔ دروازوں کو ہمیشہ کھلا رہنا چاہیے جانے والوں کے لیے بھی اور آنے والوں کے لیے بھی،اور سنت رب بھی یہی ہے۔ جب کوئی رب سے مایوس ہوجائے توآسمان والا بھی اُس سے ناراض ہو جاتا ہے پھر اُس کے اندر سے محبت کی نعمت واپس لے لی جاتی ہے اور پھر ایسا شحض تمام عمر دوسروں کی خامیاں تلاش کرتے اور کڑھتے ہوئے گزار دیتا ہے۔ غلام قوموں کا بھی عجیب مزاج اور مقدر ہوتا ہے ان کے دلوں کے برتن نفرتوں کا تیزاب رکھنے کی وجہ سے کھردرے اور بدنما ہو چکے ہوتے ہیں۔ رحمت حذاوندی ہمیشہ بے عیب اور محبت کے پھولوں سے مہکتے برتنوں میں آتی ہے۔ اُن کے سروں پر خون ہمیشہ سوار رہتاہے۔ یہاں اگر آپ الگ سوچ رکھتے ہوں۔ قابل ہوں یا سچ بولتے ہوں تو مار دیے جاؤ گے۔ یہاں غربت راج کرتی ہے خوشیوں میں غربت، رویوں میں غربت، لہجوں میں غربت، دلوں میں غربت اور ظرف میں غربت یہاں عمر بھر کی کمائی میں بھی ایک عزادار نہیں ملتا۔ یہاں اکثریت آپ کو چالاک ملے گی اور چالاک شحض سے بڑا کوئی بے وقوف نہیں ہوتا۔ ان کے کان کاسے میں گرنے والے سِکّوں کی جھنکار کے منتظر رہتے ہیں اور شاید کاسے میں پڑے ان سِکّوں کی وجہ سے وہ اس میں زندگی کا میٹھا شہد ڈال کر پینے کی لذت سے محروم رہ جاتے ہیں بابا کہتے ہیں زندگی کاجام پینے کے لیے تمھارے پاس ایک ہی کاسہ ہے ا گر اس کوسکوں سے بھر دوگے تو پھر پیاسے رہ جاؤ گے یہاں کوئی فرض اداکرنے والا نہیں ہوتا اسی لیے تو اکثریت کو حقوق نہیں ملتے۔

یہاں تک کہ کسی کو اپنے ہی جنازے میں پہلی صف میں کھڑے ہونے کا حق بھی نہیں ملتا۔ غلام قوموں کی عمریں زندگی کی سلیج (Sledge) کو کھینچتے کھینچتے گزر جاتی ہیں۔ ان کی زندگیاں کتاب، علم اور روشنائی سے خالی ہوتی ہیں، ان کے ہاتھ میں قلم کی بجائے عقیدے کا خنجر ہو تا ہے اسی لیے یہاں انسانیت لہو لہو بھرتی ہے۔ یہاں لفظ قرطاس پر اُترنے سے گریزاں رہتے ہیں۔ شاعری اشعار اور غالبؔ و اقبالؔ مرنے لگتے ہیں لائبریریوں کی جگہ تھیٹر کھلنے لگتے ہیں اور پھر زندگی کی شاعری سے قلم اور سوچ، لفظ اور معانی خواب اور خو شبو، روشنی اور اُجال،ا رنگ اور دھنک جو جمالیات کے استعارے ہیں ہجرت کرنے لگتے ہیں۔ ادب جو جمال کو دیکھنے، سمجھنے اور محسوس کرنے کے ذوق کی تربیت کرتا ہے مفلسی کی قبا پہنے کسی ویران درگاہ میں پڑا رہتا ہے۔ یہاں محبتیں ہجر اوڑھ لیتی ہیں۔ نین دید کے فاقوں سے مر نے لگتے ہیں اور آنکھ میں ٹھہرے ہوئے لوگ اجل کی جھیل کے ٹھہرے ہوئے ٹھنڈے یخ پانی کی تہہ میں اُتر جاتے ہیں۔ غلام قوموں سے علم اُٹھا لیا جاتا ہے۔ یاد رکھو جہاں علم کی پیاس مر جائے تو وہاں خون کی پیاسی بھڑک اُٹھتی ہے۔ میں لفظوں کی جگالی کرنے والا شخص تھا مگر میرا باپ ہمیشہ گہری چُپ کی بکل لئے پھرتاتھا، وہ کہتا تھا جہاں شور ہو گا وہاں شعور نہیں ہو گا، وہ بہرہ کر دینے والی خاموشی کا قائل تھا۔ وہ کہتا تھا بحث مباحثے، فضول گفتگو اور شوربندے کو اندر سے خالی کر دیتا ہے اور جو اندر سے خالی ہو جائے وہ فٹ بال کی طرح جوتے کی نوک پر دھر لیا جاتا ہے۔ کیونکہ فٹ بال بھی اندر سے خالی ہوتا ہے۔ جوتا بھی اندر سے خالی ہوتا ہے اسی لیے پاؤں میں پہن لیا جاتا ہے۔ وہ کہتا تھا جہاں لاشوں کی بے حرمتی، ہو جہاں ضمیر نہ کانپتے ہوں وہاں زمین کانپ جایا کرتی ہے۔ میری روح کی کیمسٹری بھی عجیب ہے جب زندگی اونٹوں کے قافلے کی طرح سیدھی قطار در قطار اور خاموشی سے چل رہی تھی اور جب منزل پر پہنچانے کی ذمہ داری قافلہ سالار کی ہوتی تھی۔ مجھے اُس وقت بھی کارواں والوں سے قسمیں لینے کی عادت تھی، مجھے چاندنی ہمیشہ بیوہ کی طرح سوگوار لگی جیسے چاند کسی مقتل سے گزر کر آیا ہو۔ مجھے بھولنا نہیں آتا، میری یاد ایڑیاں نہ بھی رگڑے میرے اندر درد کے چشمے پھوٹتے رہتے ہیں۔ زندگی میں مجھے دو چیزیں کبھی نہیں بھولیں۔ گاؤں میں ہماری زمینوں پر لگے ایک سر سبز شیشم کے پیڑ سے لپٹی ہوئی وہ ایک کاسنی بیل جو مجھے ایک لمحے کے لیے وجود سے عدم میں لے جا تی تھی اور دوسرا بھورے رنگ کا وہ کُتا جو ہمیشہ بھونکتے ہوئے چیختے ہوئے اپنی دُم کو پکڑ نے کی کوشش کرتا ہوا گھومتا رہتا تھا مگر کبھی بھی وہ اپنی دُم کو نہ پکڑ سکا تھا میں اُس وقت بہت چھوٹا تھا میرے دودھ کے دانت ابھی فنا کی اذیت سے نا آشنا تھے۔ میں جب بھی بابا سے پو چھتا یہ کُتا ایسا کیوں کرتا ہے جب یہ اپنی دُم نہیں پکڑسکتا تو چلاتا اور گھومتا کیوں رہتا ہے؟ اس کو سمجھ کیوں نہیں آتی۔ بابا مُسکراتے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے دونوں ہاتھ معافی کے اندازمیں جوڑ لیتے اور خاموش ہو جاتے۔

اُس دن شام نے گہرے سیاہ بادلوں کی مئے پی رکھی تھی، اُس رات میں تاریکی کے شانوں پر سر رکھ کی بہت رویا تھا، اُس رات بھی میں ہارگیا تھا، ہمیشہ کی طرح اُس شام میں کئی ہفتوں کے بعد اپنے والدین سے ملنے پڑوس میں اُن کے گھر پہنچا تھا کئی اُس دن وہ دونوں بہت اُداس تھے۔ میری ماں کی عمرکی کلائیوں سے جو انی کی چوڑیاں کب کی اُتر چکی تھیں اُس کے بالوں میں چاندی اُتر آئی تھی اُس کے برف چہرے پر درد کی نیلی رگیں اُبھر آئی تھیں، جھریوں کے دشمن نے چہرے کو فتح کر لیا تھا۔ اور میرا باپ بھی عمر کے اُس حصے میں تھا جہاں لوگ جھولے جیسی نیند کی خواہش لئے فقط نیند کی رسم پوری کرتے ہیں ورنہ حقیقتیں انسان کو سونے نہیں دیتیں، جہاں پچھتاوے کا مرکز بن جاتے ہیں وہاں جیت ہار جاتی ہے۔جہاں زندگی کی لٹکتی رسی سے ہاتھوں کی گرفت کمزور پڑنے لگتی ہے۔ اس عمر کے حصے میں کاررواں سے بچھڑ جانے کا دھڑکا لگا رہتا ہے۔ اس عمر میں ذرا سی کسی کی بے رُخی زخم بن جایا کرتی ہے۔ دونوں علم والے تھے، علم والے ردِ عمل نہیں دیتے، خوشی ملے تو بھی خاموشی سے شکر ادا کرتے ہیں۔ دُکھ کا پہاڑ بھی گر جائے تو چیخ وپکار نہیں کرتے۔ شکوہ شکایت نہیں کرتے، ان کے اندر ماتمی دُھنیں بجتی رہتی ہیں اور ان کی آنکھیں ویران ہو جاتی ہیں۔ اُس دِن دونوں کی آنکھیں ویران تھیں، جب میں نے اُن کا حال پوچھا تو ماں بولی پُتر تم شہر کی بے راستہ بھیڑ میں گم ہو چکے ہو اور اللہ کسی کو انتظار کا دُکھ نہ دے۔ بیٹا خاموشیاں تعلق نگل جایا کرتی ہیں۔ میں نے بابا کی طرف دیکھا وہ مسکرانے کی ناکام کرتے ہوئے بولے تمھاری زباں سے گرے توتلے لفظ اب بھی گاؤں کی حویلی میں پیپل کے درخت کے نیچے گرے پڑے ہیں۔ بیٹا زہر احساس میں ہوتا ہے بچھو کی کیا اوقات ہے۔ بیٹا موت تک نہیں زندہ رہنے میں کوئی قباحت بھی نہیں ہے۔ اور پھر میں ہار گیا، میرے ساتھ بھی عجیب المیہ ہے۔ میری جیت کچھ عرصے کے بعد ہارنے لگتی ہے۔ میری ہر کامیابی کینچلی کی طرح اُترجاتی ہے۔ اُس دِن مجھے لگا میں کسی بڑے شہر کی مصروف ترین شاہراہ کے درمیان لگا ایک تنہا گرد آلود درخت ہوں جسں پر شور اور آلودگی کی وجہ سے کوئی پرندہ بھی اپناآشیانہ بنانے کو تیار نہیں۔ اُس دِن مجھے ایسے محسوس ہوا میں ہاتھ میں آئینہ لیے خود سے چھپ رہا ہوں اور اپنی برہنگی چھپانے کے لیے سیاہ شب کا منتظر ہوں۔

اور پھر میں یادوں کے جنگل میں کھو گیا۔ اُداس خاموش گُم سُم یادیں، پُرانے گیتوں جیسی بھولی بسری یادیں، سیلن زدہ یادیں یہ اُس دور کی بات ہے جب ہم گاؤں میں رہا کرتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا برسات میں گھروں کی چھتیں ٹپکا کرتی تھیں اور گھر کے پُرانے برتن کیچڑ نہیں ہونے دیا کرتے تھے۔ اُس دور میں در دستکوں سے آباد اور زخمی تھے۔ گھروں کو جانے والی پگڈنڈیاں آہٹوں سے زندہ تھیں۔ محلے آباد تھے، راستے آہٹوں کے عادی تھے، دستک دینے والے بھی بہت تھے اور دستک سُن کر دوڑ کر آنے والے بھی بہت تھے۔ اُس وقت سُرخ گلابوں کے موسم میں کالے پھول نہیں اُگا کرتے تھے اور لوگ آج کی طرح تعلق کو پُرانا کر کے پھینکا نہیں کرتے تھے۔ بیوہ رُتوں میں بھی کلائیاں اُجڑی نہیں رہتی تھیں۔ لوگ محبت ناموں پر آواز سے دستخط کیاکرتے تھے۔ وہ روحوں کے نیل دیکھ لیا کرتے تھے اور غم کو ماتم نہیں بننے دیاکرتے تھے۔ ہر آدمی صرف اپنے حصے کے خواب دیکھتا تھا اسی لیے تو نیند سے خیمے آباد تھے۔ لوگ ایک دوسرے کے اس طرح محتاج تھے جیسے سخی سائلوں کا محتاج سوتا ہے۔ اُس دور میں کوئی مسافر سفر کرتا ہوا کسی آبادی میں پہنچتا تھا تو رات قیام کے لیے جو بھی در کھٹکتا تھا اُس گھر کا باسی اُسے اپنے گھر کی خوش بختی تصور کرتے ہوئے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے، اُسے مہمان بناتا تھا اور اُسے اللہ کی رحمت تصورکرتے ہوئے اُس کی خوب خاطر مدارت اور مہمان نوازی کرتا تھا اسی لیے تو لوگوں کی عمریں لمبی ہوا کرتی تھیں کیونکہ جتنا وقت آپ مہمان نوازی کو دیتے ہیں اتنا وقت آپ کی زندگی کا بڑھا دیا جاتا ہے۔ اُس دور میں لوگوں کی ضرورتیں اور خواہشات کم ہوا کرتی تھیں۔ بابا کہتے تھے میری روحانی عمر کئی صدیوں کی ہے مگر تیری ماں کی روحانی عمر شاید بگ بینگ سے بھی پہلے کی ہے لوگ زندگی کوانعام سمجھ کر شکر گزاری سے بسرکرتے تھے لوگ جانتے تھے یہ کائنات عشق کی نسبت سے ملی ہے اسی لیے تو زندگی کے ساز میں سوز بہت ہے کبھی کبھی بچہ معذور بھی پیدا ہوتا تھا مگر کبھی بھی روحانی و اخلاقی طور پر اپاہج پیدا نہیں ہوتے تھے۔

پھر ایک دِن میں نے گاؤں چھوڑ کر شہر جانے کی ضد شروع کر دی۔ میری ماں کی آنکھوں میں برسات برسنے لگی۔ بابا بولے بیٹا شہر جا کر کیا کرو گے۔ میں نے بھی پڑھائی کے دوران کچھ عرصہ شہر میں گزارا ہے۔ شہر نئے زمانوں کا کرب لئے نڈھال یادوں کے ساتھ ضعیف لمحوں میں جی رہے ہیں۔ مجھے وہ زندگی پسند نہیں آئی۔ جب میں نے ضد کی تو بولے بیٹا جو وقت کی ڈھلوان سے پھسل جائے تو اُسے بے چہرہ آوازیں بہت تنگ کرتی ہیں اور دُور تلک اُس کا پیچھا کرتی رہتی ہیں تم نے دیکھا ہے ہماری زمینوں پہ اُگے شیشم کے سبز پیڑ کے ساتھ لپٹی کاسنی بیل کتنی بھلی لگتی ہے۔ بیل اور اُس کے پھولوں کے چہروں پر کتنا پُرسکون تبسم ہے۔ اطاعت میں جو راحت ہے، وہ فتح میں بھی نہیں، شہروں میں ہرشحض نے انا کی دستار پہنی ہوئی ہے اور وہ دوسروں کے جھکنے کا انتظار کر رہا ہے۔ وجود کے تال پر اتنا ہی رقص کرو جس سے پاؤں کے گھنگھرو نہ ٹوٹیں۔ سورج کی طرف مُنہ کر کے چلو گے تو سائے تو پیچھا کریں گے۔ انسان امیر وقت کی کرنسی سے ہوتا ہے مگر شہروں میں کسی کے پاس وقت ہی نہیں ہے۔ سفر زندگی کا رس نچوڑ ڈالتا ہے۔ یہاں ہر لمحہ ہر کوئی سفر میں رہتا ہے۔ مگر کوئی بھی سفر کی دُعا پڑھتا نظر نہیں آتا۔

یہاں ہر شحض کے چہرے پر کوئی نہ کوئی مرثیہ لکھا ہوا ہے۔ یہاں شہر کے لوگ سومنات مزاج ہیں اور کسی نامعلوم ’غزنوی‘ سے خوف زدہ پھرتے ہیں۔ یہاں لوگ کیکر اُگاتے ہیں اور فاختہ کے بیٹھنے کی خواہش کرتے ہیں۔ یہاں کی کہانیاں اپنا عنوان خود تلاش کرتی پھرتی ہیں۔ یہاں محبت کی شاعری متروک ہو چکی ہے اور لوگ اپنی عریانی چھپانے کے لیے دوسروں کو ننگا کر دیتے ہیں۔ یہاں جس کو جس کی جتنی ضرورت ہوتی ہے، نوچ کر لے جاتا ہے۔ یہاں نفسا نفسی کا عالم ہے یہاں شناسا بھی اجنبیت پہن کر پھرتا ہے کسی صوفی، سالک کے الہام کی طرح یہاں انسانیت نظر نہیں آتی اور لوگ یہاں فقط جینے کے سرطان میں مبتلا ہیں۔ امن اور سکون یہاں مسافروں کی طرح رہتے ہیں۔

پھر میں کئی دِن تک سوچتا رہا۔ میرے ساتھ بھی عجیب المیہ ہے میں دیر تلک سوچوں تو میرے سامنے سے شیشم کے ساتھ لپٹی کاسنی بیل میری نظروں سے ہٹ جاتی ہے اور میرے سامنے بھورے رنگ والا وہ کتا آ جاتا ہے جو اپنی دُم کو پکڑنے کی ناکام کوشش میں گھومتا اور بھونکتا رہتا ہے۔

جب والدین شہر آنے کے لئے راضی نہ ہوئے تو میں ان سے جھگڑا کر کے شہر آگیا یہاں آکر میں نے بہت سے کاروبار کیے، ہر جائز و ناجائز ذرائع سے میں نے بے حد دولت اکٹھی کی یہاں میں نے ایک بہت بڑا گھر تعمیر کروایا۔ دنیا جہاں سے اس کی تعمیر کے لئے اشیاء منگوائیں۔ اس کی لکڑی برازیل سے ٹائلیں ناروے سے اور دوسرا بہت سا سامان امریکہ اور یورپ سے منگوایا تو میرے گھر کو دیکھنے لوگ دور دورسے آیاکرتے تھے۔

کچھ سالوں کے بعد میرے والدین بھی زمین مزارعوں کے حوالے کر کے میری خاطر میرے گھر کے ساتھ تیسرے مکان میں منتقل ہو گئے تھے میں ہر مہینے کچھ دیر کے لئے ان سے ملنے ضرور جاتا تھا اگرچہ میری بیوی کو ان سے ملنا پسند نہیں تھا مگر میرے بچے دادا دادی کے دیوانے تھے۔

میرے پاس زندگی کی ہر نعمت موجود تھی مگر میرے ساتھ وہی ایک المیہ تھا، میری جیت کچھ عرصہ کے بعد ہارنے لگی تھی۔ میرے اندر ایک عجیب سی بے چینی شروع ہو جاتی تھی، میں شوق سے خریدی ہوئی چیزوں سے اکتانے لگتا تھا۔ انہی چیزوں سے مجھے بوریت ہونے لگتی تھی جو کبھی مجھے بے حد محبوب ہوتی تھیں۔ کچھ عرصہ بعد ہی میں نیا رنگ کرواتا تھا نئی ٹائلیں لگواتا تھا لان کے پودے بدلتا تھا مگر کچھ عرصہ بعد مجھے انہی چیزوں سے گھن آنے لگتی تھی۔
مجھے اپنے والدین سے اختلاف تھا وہ وقت کے ساتھ ساتھ نہیں چل سکے تھے ان کومال و دولت سے کوئی محبت نہ تھی میں نے ایک دن بابا سے کہا مجھے لگتا ہے آپ شاید میری کامیابی اور دولت سے خوش نہیں ہیں اسی لئے تو چپ رہتے ہیں اور میرے گھر نہیں آتے۔

بابا بولے نہیں مجھے خاموش ہی رہنے دو میں نے لب کھولے تو تم اپنے ہی تعفن سے مر جاؤ گے۔ دولت سے تم سائبان تو خرید سکتے ہو مگر سکون نہیں، چاند سے مرعوب نہیں ہوا کرتے، اس کی روشنی مستعاری ہوتی ہے۔ سنو صدا کا وجود کانوں سے متصل ہوتا تو کسی کو خوشبو کی آواز سنائی نہ دیتی، شبنم کی گریہ زاری اور ہواؤں کے نغمے سنائی نہ دیتے۔ بدلتی رُت نے ایک دن بہار سے کہا کوئی بھی کہیں بھی ماورا نہیں ہے۔ سنو پہلے پہل دنیا میں کہرا ہی کہرا تھا اور اندھیرا ہی اندھیرا لوگ سردی سے ٹھٹھرتے رہتے تھے پھر اس نے پتھر سے پتھر کور گڑ آگ جلانا سیکھ لیا، یہ اس کی پہلی دنیاوی کامیابی تھی پھر اس کی ہر دنیاوی کامیابی اس کو پتھر کا بنا جاتی ہے۔

میں وہاں سے چلا آیا پھر کئی مہینے اپنے والدین سے ملنے مصروفیات کے باعث نہ جا سکا۔ وقت گزرتا رہا۔ مجھے میرا گھر برا لگنے لگ گیا، ہر چیز سے نفرت ہونے لگی تھی، پھر وہی المیہ میری جیت کچھ عرصہ کے بعد ہار میں بدلنے لگتی تھی۔ دل بے چین تھا اور عجیب طرح کی بے سکونی تھی۔ کبھی مجھے لگتا مرکز بدل گیا ہے مگر محور وہی ہے، کبھی لگتا محور بدل گیا ہے مگر مرکز وہی ہے، کبھی کبھی مجھے لگتا میں ہجر اور وصال کے درمیان کا ایک لمحہ ہوں، پھر مجھے اس کاسنی بیل کے چھوٹے چھوٹے پھول یادآتے جو سرسبز شبنم کے ساتھ لپٹی ہوئی تھی اور پھر مجھے وہ کتا یاد آجاتا جوا پنی ہی دم کو پکڑنے کی ناکام کوشش میں بھونکتا اور گھومتا رہتا تھا۔ پھر میں کچھ دنوں کے لیے گاؤں چلا گیا، گاؤں کی صبح کسی دوشیزہ کی طرح کتنی حیادار ہوتی ہے، کھیتوں کھلیانوں میں فطرت ہر لمحہ مسکراتی رہتی ہے۔ میں سوچنے لگ گیا ہم بھی کتنے ظالم ہیں۔ ہم اخلاقی، ذہنی، نفسیاتی اور روحانی اپاہج پیدا کر رہے ہیں۔ گاؤں میں ہماری حویلی خالی تھی۔ مکان مکینوں کے بغیر قبرستان ہوتا ہے اور پھر میں واپس شہر لوٹ آیا۔اس شام خلاف توقع عجیب بات ہوئی میری بیوی جو میری اس حالت پر پریشان تھی میرے پاس آئی اور بولی مجھے لگتا ہے ہم امی ابو سے زیادتی کر رہے ہیں، ان کی خدمت اور دیکھ بھال ہمارا حق بنتاہے، ہمارے بچے بھی دادا دادی کو بہت یاد کرتے ہیں، مجھے ان کے پاس لے چلو میں ان سے معافی مانگنا چاہتی ہوں اور ان سے درخواست کرنا چاہتی ہوں کہ وہ ہمارے پاس رہیں۔

آج خلاف توقع بابا کی گاڑی گلی میں نہیں تھی ہم دونوں بچوں سمیت والدین سے ملنے ان کے گھر پہنچے میں نے ماں کے پاؤں چھوئے اور ان سے معافی کی درخواست کی ماں رونے لگ گئی، اس کی سسکیاں ہی ختم نہیں ہو رہی تھیں۔ ماں بولی میں تمہیں صرف اس شرط پر معاف کر سکتی ہوں جب تمہارا باپ تمہیں معاف کر دے، میں بابا کے پاؤں سے لپٹ گیا اور روتے ہوئے کہا اور سسکتے ہوئے بولا بابا مجھے معاف کر دو، مجھے سکون نہیں ہے، میری جیت ہار میں بدلنے لگ جاتی ہے، میرے اندر اُداسی اور خوف نے بسیرا کر لیا ہے۔ میرے اندر بے چینی حد سے بڑھ گئی ہے مجھے معاف کردیں۔ شاید مجھے سکون مل جائے۔ باباکی آنکھوں میں آنسو آ گئے انھوں نے مجھے اٹھا کر گلے لگا لیا۔ بولے پتر اُداسی اور خوف سے پکی آزادی کے لئے صدقہ دینا پڑتا ہے ا ور اس کا صدقہ ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑنا ہے۔ رب ٹوٹے ہوئے دلوں میں رہتا ہے۔ زندگی کے سفر کی منزل رضائے الٰہی ہے۔ اور اس سفر کی کامیابی سکون ہے۔ سکون صرف سکون بانٹنے،Guilt free زندگی گزارنے اور اللہ کے ذکر میں ہے۔ اور ذکر کیا ہے! یہ احساس کہ عمل کرتے وقت یہ یاد رکھنا کہ نہ صرف وہ ہمیں دیکھ رہا ہے بلکہ اس عمل کے لئے ہم جواب دہ بھی ہیں یہی ذکرہے۔

بابا میں نافرمان بنا آپ دُکھ سہتے رہے، بابا آپ نے مجھے سمجھایا کیوں نہیں؟ میں نے سوال کیا؟

بیٹا اگر آپ فرائض پورے کریں گے تو آپ کے حقوق چل کر آپ کے گھر پہنچیں گے۔ جب میں کاشتکاری کرتا تھا تو مصنوعی کھاد اور کیڑے مار دوائیوں کا بے جا استعمال کر کے منافع کے لالچ میں قوم کی صحت کے ساتھ کھیلتا تھا اسی لئے تم نافرمان تھے۔ پھر میں نے زمینوں پر قدرتی طریقے سے کاشت کی اور اس کی مخلوق کی صحت کا خیال کیا تم میں کچھ تبدیلی آئی مگر پھر بھی کچھ فاصلہ رہا پھر مجھے یاد آیا میں اپنی گاڑی گلی میں کھڑی کرتا تھا۔ جس سے لوگوں کو گزرنے میں تکلیف ہوتی تھی، یہ مخلوق رب تعالیٰ کا کنبہ ہے جو اس کو ناراض کرے گا وہ خود خوش کیسے رہے گا۔ آج میں نے گاڑی اپنی گیراج میں کھڑی کر دی تھی اور آج ہی تم میرے پاس چلے آئے۔ نہیں یہ جو دنیاہے کُتے کی دم کی طرح ہے اس کو پکڑنے کی خواہش اور کوشش میں صرف چیخ وپکار اور تھکن ہی ہے، یہ دُم کسی بھی دنیا دار سے کبھی بھی پکڑی نہیں جا سکے گی۔ بیٹا میری ایک نصیحت ہے رحمت العالمینؐ کی سُنت پر عمل گرتے ہوئے اس کی مخلوق کی رحمت بن جاؤ۔
میرے والدین کے میرے گھر شفٹ سونے سے پہلے ہی میرے دل کو سکون کی دولت مل گئی تھی اور میرے یاد کے گلشن میں صرف شبنم سے لپٹی ہوئی سفید پھولوں والی کاسنی بیل تھی کیو نکہ میرے اندر کے نفس کا کتا اپنی دُم پکڑنے سے تائب ہو چکا تھا۔

Leave a Reply

Back to top button