ادبافسانہ

افسانہ: لمس کی دستک

طارق بلوچ صحرائی

جب سے پاؤں گھنگھروؤں کے اور گھنگھرو مال و زر کے غلام بنے ہیں ہم پاؤں کو ہاتھوں میں اْٹھائے ہوئے پھرتے ہیں۔ دولت کی بہتات اور زر کی جھنکار سماعتوں کو کمزور کر دیا کرتی ہیں اور پھر یہاں کسی کو بھی لمس کی دستک سنائی نہیں دیا کرتی۔ نجی ملکیت کی تلچھٹ کی بدبو اور سرمایہ دارانہ نظام کی سرانڈ نے ہم سے زندگی اور احساس کی خوشبو چھین لی ہے۔ اس استحصالی نظام میں غلامی کا خوگر انسان بس اتنا ہی آزاد ہوتا ہے کہ لمبی رسی کو آزادی اور پنجرے سے پنجرہ ٹکرانے کو وصل کہتا ہے۔ اب یہاں فکر اور شعور کے سفر میں آپ کو کوئی بھی آبلہ پا نہیں ملتا۔ پھر پیاس کے شہر میں فقط سرابی بکتی ہے، ترقی کے نام پر گارے اور پتھر سے بنے پلازے دھرتی کے سینے پر اپنا بھاری پاؤں رکھ کر اْس کا سانس دبانے لگتے ہیں۔ پرندوں کے گھونسلوں سے بھرے چھتنار کاٹ دیے جاتے ہیں اور پھر امن کے سفیر پرندوں اور کبوتروں کو بجلی کی ننگی دھاتی تاروں پر بیٹھنا پڑتا ہے۔ میری ماں کہا کرتی تھی، اشجار کا کٹنا ا س کائنات کا آخری دْکھ ہے۔ دادی کہتی تھی ایک دور ایسا بھی آئے گا جب وہ ہی بچ پائے گا جو بے حِس ہو گا۔ دادی کو شاید یہ معلوم نہ تھا کہ یہ دور اْس کے پوتے بھی دیکھیں گے۔

وہ وقت کی مانند دبے پاؤں بے آواز چلتا ہوا میرے پاس آیا اور مجھ سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ ظفر میرا بچپن کا دوست تھا ہم دونوں نے میٹرک کا امتحان اکٹھے ہی پاس کیا تھا، وہ ہمارے ہیڈ ماسٹر ایاز صدیقی صاحب کا بیٹا تھا جنھیں نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے بیٹے کی تعلیم کی وجہ سے گاؤں چھوڑ کر شہر جانا پڑا تھا۔
کیا ہوا ظفر خیریت تو ہے نا اتنے برس کہاں رہے، گاؤں کب آئے ہو؟ سر ایاز کیسے ہیں؟ میں نے ایک ہی سانس میں کئی سوال کر ڈالے۔ میری ماں کی کلائیاں گونگی ہو گئی ہیں۔ کیا؟ ہاں میرے دوست میرا باپ اس دھاتوں کی بچاری دْنیا سے روٹھ گیا ہے۔ وہ خاک نشین تہہ خاک جا سویا ہے۔ میری سسکی نکل گئی سر ایاز اب اس دنیا میں نہیں رہے تھے۔ ایاز صدیقی صاحب نہایت ایماندار، قابل اور محبت کرنے والے وضع دار شخص تھے۔ طبیعت میں حد درجہ سادگی تھی، دوسرے گاؤں اپنے سکول سائیکل پر جایا کرتے تھے۔ مجھے یاد آیا جب میرا دادا فوت ہوا تو میرے باپ نے روتے روتے کہا تھا باپ کے بعد آدمی زندہ تو رہتا ہے مگر صرف ایک مجسمے کی مانند۔

وہ گھنٹوں میرے کاندھے پر سر رکھے سسکتا رہا، کہنے لگا ماں کہتی ہے جب باپ مرتا ہے تو تب بھی ماں ہی مرتی ہے۔ میں نے اْس کی گلاب آنکھوں سے آنسو پونچھے، میں نے اْس کی آنکھوں میں جھانکا، اْس کی جاگتی آنکھوں میں رات سو رہی تھی۔ اْس کی بھنور آنکھوں کا سکوت مجھے لرزاں کر گیا تھا۔
میں تمھیں ایک کہانی سنانے آیا ہوں، میرے اور تمھارے درمیاں کچھ بھی تو پوشیدہ نہیں میرے دوست پرانے دوست تو ایاز کے صندوق کی طرح ہوتے ہیں، شاید سارے ایاز ایک جیسے ہی ہوتے ہیں شہروں میں تو کسی کے پاس وقت ہے نہ احساس۔ مادہ پرستی کا دیو لوگوں کا احساس اور رشتوں کی پہچان کھا گیا ہے۔ اب وہاں رونے کے لیے کوئی بھی کندھا میسر نہیں؛ ہر گھر، ہر گلی ہر چوک پر احساس کا منصور سولی پر لٹکا ہوا ہے۔

جس طرح سپیرا صرف سانپ ہی خریدتا ہے اسی طرح ہر سرمایہ کار صرف منافع کا ہی خریدار ہے چاہے اْسے خود کو اور انسانیت ہی کو کیوں نہ بیچنا پڑے۔ منافع نامی ڈائن سب کچھ کھا گئی ہے۔ لوگوں کا وقت محبت، احساس، دل کا سکون، لمس کی دولت اور انسانیت غرضیکہ سب کچھ نگل گئی ہے۔ سایہ پرست، نجومی پرست، شخصیت پرست فالی طوطا پرست آبادیاں شدید قسم کے روحانی، ذہنی اور نفسیاتی خلفشار کا شکار ہیں اور بھوک کے خوف سے لرزاں پریشان رہ رہ کر نفسیاتی ادویات پر زندہ ہیں۔ بابا کہتے تھے جہاں سرمایہ دارانہ نظام عروج پاتا ہے وہاں انسانیت کا زوال شروع ہو جاتا ہے۔
اْس نے دوبارہ اپنے آنسو پونچھے اور بولنا شروع کیا۔

میرے اور بابا کے درمیان عمر بھر ایک ماتم کی سی خاموشی رہی۔ میں اْن سے زندگی بھر خفا رہا، میرا اْن سے یہی اختلاف تھا کہ ہم بہت سا پیسہ کمائیں، کیونکہ میں سمجھتا تھا کہ عزت صرف پیسے اور دولت والوں کی ہوتی ہے۔ مگر میرا باپ کہتا تھا شعوری اور لاشعوری طور پر ہم سے ایک بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے۔ ہم دولت اور خوشی کو ہم معنی سمجھ بیٹھے ہیں حالانکہ اللہ کی سب بڑی نعمتیں مفت ہیں۔ جیسے زندگی، ہوا، روشنی، صاحب ایمان ہونا، صحت اور ماں باپ، بیٹا بھوک کے خوف سے باہر نکلو وگرنہ لمس کی دستک سنائی نہ دے گی اور جس بدبخت کو لمس کی دستک سنائی نہ دے وہ انسانیت کے درجے سے گِر کر جمادات و حیوانات کے درجے پر چلا جاتا ہے۔
کہنے لگے بیٹا!
دو ہی تو متعین چیزیں ہیں، عمر اور رزق۔ اللہ رب العزت نے جب ابلیس سے پوچھا میرے بندوں کو کیسے بھٹکاؤ گے تو ابلیس نے کہا میں مخلوق کو بھوک کے خوف میں مبتلا کر کے گمراہ کروں گا اور یاد رکھو جس نے کہا میرا اللہ ہی میرا رب ہے اور اس پر کار بند رہا وہ کامیاب ہو گیا۔ بیٹا یہ جو سرمایہ دارانہ نظام ہے، یہ بھوک کے خوف سے سہما ہوا دجالی نظام ہے۔ یہ استحصالی نظام تابوت نگر سے آیا ہے اور اس کے اندر عذاب قبر رہتا ہے۔ اس نظام کے پجاری بے چارے سہمے ہوئے لوگ ہیں۔ سہمے ہوئے خوف زدہ لوگ بہت خطر ناک ہوتے ہیں۔ بھوک کا خوف انھیں ظالم بنا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے یہاں بولنے پر پابندی ہے، سوچنے پر پابندی ہے، شاہراہ شعور ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہے اور اوپر سے ہم اس جلادی فطرت کا کیا کریں جسے لفظوں کو پھانسی دینے کی عِلت پڑ گئی ہے۔ جو قوم اپنے الفاظ کے قتل کے جرم کا ارتکاب کرتی ہے، ایک ان دیکھا نامعلوم پھانسی گھاٹ اْن کا مقدر ٹھہرتا ہے۔ یاد رکھو کسی بھی قوم کی نفسیاتی صحت کا دارومدار شاعر یا ادیب کی سچ اور سماجی انصاف سے وابستگی پر ہے اور سچائی وہ ٹانک ہے جس سے قومیں اور معاشرے صحت مند اور توانا رہتے ہیں اور روحانیت کا تو password ہی سچائی ہے۔ جھوٹ اور زود رنجی سفاکیت کو جنم دیتی ہے اور سفاکیت کے اس دور میں مسخ شدہ چہروں والی لاشوں کی شناخت کا کرب تو سہنا ہی پڑتا ہے۔ بیٹا یہ سرمایہ دارانہ نظام بچھو کی طرح ہوتا ہے۔ کہتے ہیں بچھو جب ماں کے پیٹ میں کچھ بڑا ہوتا ہے تو اندر سے پیٹ کو کاٹنا شروع کر دیتا ہے اور یوں سوراخ کر کے باہر آ جاتا ہے۔

دو باتوں کی وجہ سے میں ابا سے دور ہوتا گیا، پہلی بات یہ کہ ایک دن میرے چچا نے کہا مجھے لگتا ہے تمھارے باپ کے پاس بہت پیسہ ہے۔ مگر وہ ہمیں دینا نہیں چاہتے وہ اپنا پیسہ ایک صندوق میں رکھتے ہیں۔ یہ بات تو میں نے بھی نوٹ کی تھی اْن کے پاس ایک بڑے تالے والے صندوق تھا وہ کمرہ بند کر کے اْس کو کھولتے تھے وہ جب بھی کمرے سے نکلتے تھے اْن کی آنکھیں سْرخ ہوا کرتی تیں میں کوشش کے باوجود بھی کبھی وہ چابی حاصل نہ کر سکا تھا۔ دوسری بات سونیا سے میری محبت کی ناکامی تھی جو طبقاتی فرق کی وجہ سے ممکن نہ ہو سکی اس کا قصوروار بھی میں اپنے باپ ہی کو ٹھہراتا تھا، ہم دونوں چاہتے تھے کہ ہم سفر ہو جائیں مگر میں ایک لوئر مڈل کلاس سے تھا اور وہ ایک فیکٹری کے مالک کی بیٹی تھی، وہ لمبی سیاہ کار میں سیاہ چشمہ لگائے پنکھڑی ہونٹوں میں مسکراہٹ دبائے جب گھر سے نکلتی تھی تو لوگ بْت بنے اْسے دیکھتے رہتے تھے۔ میں سمجھتا تھا اگر صندوق والی دولت میرا باپ مجھے دے تو میری اْس سے شادی ہو سکتی تھی۔
میرے باپ کو اس بات کا شدید دْکھ تھا کہ میں ہمیشہ اْس سے خفا ہی رہا کیونکہ میں نے کبھی اْس سے اْس کی غربت کی وجہ سے محبت سے بات نہیں کی۔ میں جب اْس سے زیادہ ناراض ہوتا تھا تو وہ اپنا زیادہ وقت صندوق والے کمرے میں گزرانے لگتا تھا۔
اْس کی ہچکی بندھ گئی۔
ایک دن میرے باپ نے مجھے بلایا اور میرا ہاتھ پکڑ کر کہا، باپ اور بیٹے کے درمیان اگر چاندی کی دیوار آ جائے تو باپ کی زندگی اور بیٹے کی آخرت اور زندگی دونوں جہنم بن جایا کرتے ہیں۔

کہنے لگا تیری ماں نے ہمیشہ مجھ سے سجدے جیسے محبت کی ہے۔ اس کا خیال رکھنا میں چاہتا تھا تمھیں دولت کے ہنگامے سے دور رکھوں کیونکہ دولت کے شور میں لمس کی دستک سنائی نہیں دیتی، زندگی لمس کی دستک کی تھاپ یہ گایا جانے والا محبت کا وہ نغمہ جسے سننے کے لیے مامتا جیسی سماعت چاہیے اور پھر اْس نے اپنی جان اپنے خالق حقیقی کے سپرد کر دی۔

اْس کا سینہ ہنڈیا کی طرح کھولنے لگا تھا۔ باپ کی وفات کے بعد جب میں نے اْس کا صندوق کھولا تو اْس میں میرے چھوٹے چھوٹے بچپن کے کپڑے، میرے ہاتھوں سے ٹوٹے ہوئے کھلونے میرے ننھے پاؤں کے ننھے ننھے جوتے اور میری بچپن اور لڑکپن کی تصویریں تھیں۔ میں بدقسمت دولت کا غلام ہونے کی ناطے لمس کی حدت کی لذت سے نا آشنا رہا اور میرا باپ میرے رویے سے غمزدہ رہ کر میری تصویروں، کھلونوں اور میرے بچپن میں پہنے کپڑوں سے دل بہلانے کی کوشش کرتا رہا۔

یہ کہانی بیس سال پرانی ہے۔ زرد رتوں کی دیمک زندگی کی کتاب کے بہت سے گلاب باب کھا گئی۔ گاؤں کے قبرستان کی کچی دیوار کے ساتھ لگے پیپل کے گھنے درخت کے نیچے ایک دیوانہ بیٹھا رہتا ہے۔ ہر آنے جانے والے کو خالی نظروں سے دیکھتا رہتا ہے۔ بیس سالوں سے آج تک اْسے کسی نے بولتے نہیں سْنا، اْس کو تو یہ بھی یاد نہیں اْس کا نام ظفر تھا۔ اْس کو بس اتنا یاد ہے صندوق میں اْس کے چھوٹے چھوٹے کپڑے تھے، ننھے ننھے پاؤں والے جوتے تھے، کچھ ٹوٹے ہوئے کھلونے تھے اور اْس کی بچپن اور لڑکپن کی تصویریں تھیں اور یہ ساری چیزیں ایک باپ کے آنسوؤں سے تر تھیں۔ کبھی کبھی ایک لمبی سیاہ کار آتی ہے، اْس کے سیاہ شیشوں میں پنکھڑی ہونٹ دانتوں میں دبائے نم آنکھوں سے کوئی دور سے اْس کو دیکھتا رہتا ہے اور پھر یہ سیاہ لمبی گاڑی واپس چلی جاتی ہے۔ دیوانگی میں وہ بے چارہ لمس کی دستک بھی سْن نہیں پاتا، اْس کو تو شاید یہ بھی یاد نہیں ایک باپ نے اپنے بیٹے سے کہا تھا جسے لمس کی دستک نہ سنائی دے وہ بد بخت انسانیت کے درجے سے گِر کر جمادات اور حیوانات کے درجے پر چلا جاتا ہے۔

Leave a Reply

Back to top button