ادبافسانہ

افسانہ: لَو……. ڈاکٹر اختر شمار

ڈاکٹر اختر شمار

مجھے اچھی طرح یاد ہے، میں نے اپنے دادا جی سے ”کٹیا والے بابا“ کے بارے میں دریافت کیا تھا اور انہوں نے مجھے جھڑکتے ہوئے سختی سے منع کردیا تھا کہ اس طرف کبھی بھول کر بھی مت جانا لیکن کیوں! کیا وہ کوئی خطرناک آدمی ہے؟ میرے سوال پر دادا جی نے صرف اتنا کہا تھا کہ ”گاﺅں کے لوگوں نے اس کا حقہ پانی بند کر کے گاوں سے نکالا ہوا ہے، گاوں کا کوئی شخص اس سے نہیں ملتا نہ ہی اس سے کوئی کلام کرتا ہے“۔
لیکن کیوں؟ کوئی تو وجہ ہو گی، اس کے ساتھ اس سلوک کی۔ میں نے دادا جی سے پوچھا تو وہ بولے ”دیکھو تم شہر سے برسوں بعد آئے ہو، تم یہاں کے رسم و رواج نہیں جانتے، تمہیں کیا ضرورت ہے ایک ایسے شخص کے بارے میں جاننے کی جسے گاوں کے لوگ ناپسند کرتے ہیں بلکہ اس سے ملنے والے کو بھی عبرت کا نشانہ بننا پڑتا ہے“۔
مگر اسے گاوں سے باہر کیوں نکالا گیا؟
میں اپنی بات پر ڈٹا ہوا تھا۔ میری بات سُن کر دادا جی نے چادر کاندھے پر رکھی اور یہ کہہ کر مسجد کو چل دیے کہ ” ٹھیک ہے پھر کسی دن تمہیں اس کے بارے میں بتائیں گے ابھی ہمارا نماز کا وقت ہو گیا ہے“۔
چپ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا لیکن اندر ہی اندر اس ”بابے“ کے بارے میں جاننے کی خواہش مجھے ڈنگ مارنے لگی تھی۔ میں سوچ رہا تھا کہ آخر وہ کیا راز ہے جس کے سبب ایک شخص کو گاوں بدر کر دیا گیا اور وہ شخص ایک مدت سے تنہا ویرانے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے؟ اسی سوچ میں ڈوبا ہوا تھا کہ میرے بچپن کا دوست گلزار آ گیا۔ گلزار پرائمری تک میرے ساتھ گاوں کے سکول میں پڑھتا رہا تھا۔ پھر ابا جان ہم سب بہن بھائیوں کو شہر لے گئے۔ گلزار گاوں ہی میں رہا اور میٹرک کے بعد اُس کے والد نے اُسے آٹے کی چکی لگا دی تھی۔ گلزار سے چند روز قبل ایک عرصے بعد ملاقات ہوئی تھی، مجھے خاموش دیکھ کر گلزار بولا: ”کہاں گم ہیں سرکار! خیر تو ہے ….“
میں نے گلزار کو بیٹھنے کا اشارہ کیا، پھر دادا جی سے ہونے والی گفتگو سنا دی، گلزار ساری بات سُن کر ہنستے ہوئے بولا: ”اتنی سی بات پر جناب پریشان ہیں …. تم اس بابے چراغ کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو ناں جو ایک عرصے سے گاوں سے دور قبرستان میں کٹیا بنائے بیٹھا ہے“۔
”ہاں ہاں میں اسی بابے کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اسے گاﺅں سے باہر کیوں نکالا گیا، کیا تم اس کے بارے میں کچھ جانتے ہو؟“
میں نے تجسس کے انداز میں گلزار سے پوچھا تو وہ بولا: ”میں بھی زیادہ تو نہیں جانتا لیکن تم اس کے بارے میں جاننے کے لیے اتنی دلچسپی کیوں لے رہے ہو؟“
گلزار نے اُلٹا مجھ سے سوال کیا۔
یار اگر تم کچھ جانتے ہو تو بتاو کیا تم بھی میرے دادا جی کی طرح بحث کرنا چاہتے ہو۔ گلزار میں بہت سنجیدہ ہوں، میری سنجیدگی پر گلزار نے بتانا شروع کردیا۔
چراغ برسوں پہلے ہمارے گاوں میں قرآن حفظ کرنے کے لیے آیا تھا اور پھر یہیں کا ہو کر رہ گیا۔ لوگ بتاتے ہیں کہ اس کا اصلی وطن کشمیر تھا۔ اس کے ماں باپ فوت ہو چکے تھے، نجانے کون، کیوں اور کیسے اسے ہمارے گاوں کی مسجد میں چھوڑا گیا تھا۔ بہرحال وہ مسجد کے ایک حجرے میں رہنے لگا تھا۔ اسی مسجد میں اس نے قرآن حفظ کیا، نماز، روزہ اور بچوں کو قرآن پڑھانے کے سوا اس کی اور کوئی مصروفیت نہ تھی۔ اس کا کھانا پٹواریوں کے گھر سے آتا تھا۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ جوانی میں حافظ نہایت شریف اور بھلا مانس انسان تھا۔ گاوں کے چھوٹے بڑے سب اس کی عزت کرتے تھے، کبھی کبھی وہ لوگوں کو ”دَم درود“ بھی کردیا کرتا تھا“۔
مگر پھر اُسے گاوں بدر کیوں کیا گیا؟ میں نے گلزار سے پوچھا تو اُس نے مزید تفصیل بیان کی۔
کہتے ہیں کہ اس نے پٹواریوں کی بیٹی کی عزت پر ہاتھ ڈالا تھا۔ گاوں کی پنچایت کے سامنے حافظ کو اپنا جرم تسلیم کرنا پڑا۔ تمام گاوں والے حافظ کے اس جرم پر حیران رہ گئے تھے کہ وہ جسے فرشتہ سمجھتے تھے اندر سے کیسا شیطان نکلا۔ گاوں کی عورتیں جو اُسے پیر مانا کرتی تھیں، اس خبر کے بعد اس پر تھُو تھُو کرنے لگیں۔ نمبردار نے کہا، یہ حافظ قرآن ہے اس کے لیے یہی سزا کافی ہے کہ اسے گاوں بدر کر دیا جائے اور اس کے ساتھ کسی قسم کی راہ ورسم یا سلام دُعا نہ رکھی جائے۔ اسی روز گاوں والوں نے اسے گاوں بدر کردیا تھا۔ دوسری طرف، اگلی رات پٹواریوں کا خاندان گاوں چھوڑ گیا تھا۔ حافظ گاوں سے تین چار میل دور قبرستان کے کنارے کٹیا میں جا بسا۔ ہمارے گاوں سے تو نہیں البتہ آس پاس کے گاوں والے اس کے پاس آتے جاتے ہیں، کئی تو آج کل اسے پیر فقیر بھی ماننے لگے ہیں۔ میں تو بس یہی کچھ جانتا ہوں۔ گلزار کی باتیں سننے کے بعد میرے تجسس میں مزید اضافہ ہو چکا تھا اور میں نے بابے چراغ سے ملنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
گاوں سے واپس آنے سے ایک روز قبل جب آسمان پر کالے بادل چھائے ہوئے تھے اور ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی، میں دھیرے دھیرے قبرستان کی طرف بڑھ رہا تھا۔
میں بابے کی کٹیا کے قریب پہنچا تو ہلکی ہلکی پھوار پڑنا شروع ہو گئی، ابھی میں کٹیا سے چند قدموں کے فاصلے پر تھا کہ مجھے کٹیا کے اندر سے مترنم آواز سنائی دینے لگی، جیسے جیسے میں آگے بڑھ رہا تھا، اشعار صاف سنائی دینے لگے، کوئی بڑی درد بھری آواز میں پیر وارث شاہ کا کلام گا رہا تھا:
رانجھا آکھدا خیال نہ پو میرے
شینہ، سپ، فقیر دا دیس کہیا
کُونجاں وانگ ممولیاں دیس چھڈے
اساں ذات صفات تے بھیس کہیا
(رانجھا بولا: شیر، سانپ اور فقیر کا کوئی دیس نہیں ہوتا، کونجوں اور ممولوں کی طرح ہم نے بھی اپنے وطن چھوڑے، ہمیں ذات صفات اور روپ بہروپ سے کیا لینا)
کٹیا کے قریب پہنچا تو کٹیا سے ہلکا ہلکا دھواں باہر نکل رہا تھا، میں نے پاوں اندر رکھا تو دیکھا کہ کٹیا کے عین درمیان میں آگ کا الاﺅ روشن تھا، سامنے ایک سفید باریش لمبی زُلفوں والا شخص بیٹھا۔ ایک طرف ایک نوجوان اپنے دھیان میں گا رہا تھا، مجھے دیکھ کر بزرگ نے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ میں چپکے سے ایک طرف بیٹھ گیا، غور کیا تو دوسری طرف بھی ایک نوجوان بیٹھا ہوا دکھائی دیا، گانے والا اپنی مستی میں گائے جا رہا تھا۔
وطن دَماں دے نال تے ذات جوگی
سانوں ساک قبیلڑا خوش کہیا
جہڑا وطن تے ذات ول دھیان رکھے
دُنیا دار ہے اوہ درویش کہیا
دُنیا نال ہے اساں پیوند کہیا
تے پتھر جوڑنا نال سریش کہیا
سبھ خاک در خاک فنا ہونا
وارث شاہ فیر تنہا نوں عیش کہیا
یعنی وطن سانسوں کے ساتھ اور ذات جوگی، ہمیں رشتے ناطوں اور قبیلوں سے کیا سروکار …. جو وطن اور ذات کو عزیز رکھے وہ درویش نہیں دُنیادار ٹھہرا …. ہمیں دُنیا سے مت جوڑیے …. پتھر گوند سے نہیں جڑتے …. سب کچھ خاک میں سما جائے گا تو پھر یہ عیش آرام کیسا.
اب گانے والا خاموش ہو گیا تھا، کچھ دیر کٹیا میں خاموشی چھائی رہی، میں نے بابے کی طرف دیکھا، ان کی آنکھیں بند تھیں۔ چند لمحوں بعد انہوں نے آنکھیں کھولیں اور گویا ہوئے!
”آپ ”ٹالھی والا“ سے آئے ہیں؟“
”جی“میں نے جواب دیا۔
”لیکن آپ کو کیسے پتہ چلا کہ میں ٹالھی والا سے آیا ہوں“۔
میں نے پوچھا۔
بابا جی نے مجھے مزید قریب ہو کر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور بولے ”مدت ہوئی اس طرف سے کوئی نہیں آیا۔ یہ دونوں جوان بھی دریا پار سے آئے ہیں اور عرصے بعد ٹالھی والا کا کوئی مکین دیکھا ہے لیکن آپ کو یہاں آنے سے کسی نے روکا نہیں؟“
”روکا تھا لیکن میں آپ سے ملنا چاہتا تھا“میں نے برجستہ جواب دیا۔
انہوں نے قریب بیٹھے ہوئے لڑکے کو اشارہ کیا، اُس نے چھوٹی سی دیگچی میں پانی ڈال کر آگ پر رکھ دی۔ بابا جی دوبارہ بولے: ”آپ ہمیں کیوں ملنا چاہتے تھے؟ لگتا ہے کہ آپ اس گاوں کے نہیں ہیں؟“
”آپ ٹھیک کہتے ہیں، میں شہر میں رہتا ہوں۔ یہاں میرے دادا جی رہتے ہیں، مجھے آپ کے بارے میں کچھ باتوں کا پتہ چلا تھا…. پر میں ….“میں دانستہ چپ کر گیا تھا۔
باباجی نے ایک چھوٹی سی پوٹلی کھولی، اس میں سے چند الائچیاں نکال کر دیگچی میں ڈال دیں۔ گانے والے فنکار نے دو ڈبے بابا جی کے مزید نزدیک کردیے۔ بابا جی نے ان میں سے چینی اور شاید سبز پتی دیگچی میں ڈال دی تھی۔
میں نے جھجکتے ہوئے سوال کیا: ”کیا آپ گاوں سے دُور یہاں خوش رہتے ہیں؟ کیا آپ کو لوگوں سے ملنے کی خواہش کبھی نہیں ہوئی؟“
میری بات سُن کر بابا جی نے ایک سرد آہ بھری اور بولے:
”لوگوں سے ملنے کا تو بڑا چاﺅ ہے پر کوئی بندہ نظر ہی نہیں آتا۔ بس اب تو تنہائی میں بھی بڑا لطف آنے لگا ہے“۔
چند لمحے خاموش رہنے کے بعد انہوں نے گانے والے سے کہا: ”بشیر بیٹے! دیگچی اُتار دو اور قہوہ پیالیوں میں ڈال دو تاکہ ٹھنڈا ہو“۔
بشیر قہوہ پیالیوں میں ڈال رہا تھا، بابا جی نے میری طرف دیکھا اور بولے: ”اکیلاپن بھی اگر سمجھ میں آجائے تو انسان کو کندن کر دیتا ہے، ہم بھی بدن کو چراغ بنائے اور اس میں جان کی بتی ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اس ”دیپ“ میں لہو کا تیل جلانا پڑتا ہے۔ تب کہیں جا کر انسان ”روشن“ ہوتا ہے لیکن اس کے لیے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، بڑا کشٹ کاٹنا پڑتا ہے مگر کیا کریں ہمارے چاروں طرف لوگ پھل دار پیڑوں کی آرزو لیے ہوئے، پھل کھائے بنا نہیں رہتے“۔
بابا جی نے قہوے کی ایک پیالی اُٹھائی اور بولے ”لو پیو، قہوہ زیادہ ٹھنڈا نہ ہو جائے“۔
میں نے پیالی تھام لی اور پوچھا ”بابا جی! پھل سے آپ کی کیا مراد ہے؟“
بابا جی نے قہوے کا گھونٹ حلق میں اُتارا اور پھر میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولے ”بیٹا! خواہش بھی تو ایک پھل ہے ناں، بندہ تو وہ ہے جو خواہش کو مار مکا کے دامن جھا ڑ کر بیٹھ جائے“۔
بابا جی کی باتیں میرے دل کی پیاسی دھرتی پر رم جھم کی طرح برس رہی تھیں، چند لمحوں بعد بشیر اور اس کے ساتھی نے بابا جی سے جانے کی اجازت لے لی۔ اب کٹیا میں میرے اور بابا جی کے سوا کوئی موجود نہ تھا۔
آخر مجھ سے نہ رہا گیا …. میں بول پڑا: ”آپ نے میری بات کا جواب نہیں دیا کہ آپ گاوں سے نکل کر دُور یہاں اکیلے کیوں رہتے ہیں؟ آپ نے گھر بسانے کی بجائے ویرانے میں ڈیرہ ڈالا ہوا ہے“۔
باباجی کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی اور بولے ”ہم گھر کو راکھ کر کے ہی یہاں آئے ہیں، ویسے بھی گھر جلا ڈالیں تو گھر محفوظ ہو جاتا ہے اور اگر اس کی حفاظت کرنے لگیں تو گھر ختم ہو جاتا ہے“۔
میں یہ بات سُن کر جیسے چکرا سا گیا تھا۔ میرے منہ سے بے اختیار نکل گیا۔ باباجی! سچ بتاﺅں! مجھے آپ کے پاس آپ کی کہانی لے کر
آئی ہے۔ مجھے یقین ہے جو میں نے سنا ہے درست نہیں، سچ کچھ اور ہے ….
میں نے ایک ہی سانس میں بات مکمل کر دی ۔ باباجی نے الاﺅ میں کچھ اور لکڑیاں ڈال دیں اور بولے ”مجھے علم تھا تم یہ بات ضرور کرو گے، تمہاری آنکھوں میں سانس لیتے سوال کو میں نے اُسی وقت بھانپ لیا تھا جب تم یہاں آکر بیٹھے تھے لیکن ایک بات تو بتاﺅ! تم ہمارے گلے کے ”پھندے“ کو کیوں نکالنا چاہتے ہو۔ یہ پھندہ اپنے گلے میں ہم نے خود ڈال رکھا ہے، لوگ ہمارے گلے کی رسّی کو گلی گلی کھینچتے پھرتے ہیں، جگہ جگہ ہماری بدبختی کی کہانی چھڑی رہتی ہے لیکن دوسروں کی یہ نفرت ہمارے لیے ”امرت“ کا روپ دھار چکی ہے، بڑا مزہ آرہا ہے“۔
لیکن بابا جی اپنے آپ کو تہمتوں کے کنویں میں ڈالنے کا کیا بھید ہے؟
میرے سوال پر اُن کے چہرے کا رنگ تبدیل ہونے لگا۔ بولے: ”نہ یار نہ …. چھوڑ دے …. اس بات کو جانے دے …. ہمیں کیچڑ میں لتھڑا رہنے دے۔ ہم نے نہا دھو کے صاف ستھرا ہو کے کیا کرنا ہے۔ لوگوں سے الگ ہم بڑے سُکھی ہیں وگرنہ نجانے کب کا یہ نمک سا بدن پانی میں گھل چکا ہوتا …. میرے عزیز! یہ دُنیا پانی ہے اور ہمارا جسم نمک …. ہمیں اس سے دُور ہی رہنے دے“۔
لیکن میرے اندر کا کانٹا تو نکال باہر کریں …. آپ کی کہانی کا بھید پھانس کی طرح میرے دل میں اٹکا ہوا ہے۔ برسوں سے آپ نے گاوں والوں کی نفرت سینے سے لگا رکھی ہے۔ خدا کے واسطے مجھے بتایئے کہ پٹواریوں کی بیٹی والا کیا معاملہ تھا؟
مجھ پر جیسے ایک کپکپی سی طاری ہو گئی تھی۔
باباجی نے ایک لمبی سرد آہ بھری …. کچھ دیر خاموش رہے اور پھر بولے ”پٹواریوں کی بیٹی نمبردار کے بیٹے کے عشق کے جال میں پھنسی ہوئی تھی اور اسی نے اس کی عصمت کی چادر داغدار کی تھی، جب یہ مُشک پھیلی تو لڑکی کی ماں نے، جس کا ہم برسوں سے نمک کھا رہے تھے، ہمارے پاوں پر اپنا آنچل ڈال دیا، اس نے کہا تھا میری بیٹی کے کانٹوں کا بوجھ اپنے سر لے لوں ورنہ اس کی بیٹی کو اس کا باپ اور بھائی زندہ گاڑ دیں گے، آپ کے نام پر شاید میری بیٹی کی جان بچ جائے“۔
اور پھر آپ نے اس کے گناہوں کی گٹھڑی اپنے سر پر اُٹھا لی، میں نے پوچھا۔
باباجی نے سرد آہ بھری اور بولے ”ہاں، ہم نے سارے گاﺅں کے سامنے اپنی دستار مٹی میں رول لی، لوگ ہم پر تھوکتے رہے۔ ہم نے چپ سادھ لی، ہم نے اپنے آپ کو گنہگار مان لیا اور لڑکی کو زندہ درگور ہونے سے بچا لیا۔ سارے گاوں کے سامنے ہم مجرم اور لڑکی والے بے قصور ٹھہرے۔ وہ رات کے اندھیرے میں گاوں کو خیرباد کہہ گئے لیکن ہمیں ہمیشہ کے لیے اندھے کنویں میں ڈال گئے، ہم بدنامی کا طوق گلے میں ڈالے سب کے لیے باعثِ نفرت بن گئے اور مرنے سے قبل ہی مرمک گئے اور بندہ مرنے کے بعد قبرستان آتا ہے ناں ہم بھی یہاں آگئے …. سارے گاوں میں سے ایک شخص ہمیں بے گناہ سمجھتا تھا کیونکہ وہ حقیقت سے باخبر تھا اور وہ ہمارا دوست سلطان تھا۔ وہ پچھلے چودہ برسوں سے رات کے اندھیرے میں، دودھ کی گڑوی اور روٹی یہاں چھوڑ جاتا ہے۔ ہم نے کئی بار اُسے منع کیا، پر وہ یاری نبھا رہا ہے، بس ہم تو گیلی لکڑی کی طرح سلگ رہے ہیں۔ جس دن سلگتے سلگتے جل گئے سفر تمام ہو جائے گا۔ بیٹا نجانے تم سے پھر ملاقات ہو یا نہ ہو، بس اتنا یاد رکھنا دوسروں کو ٹھگنے کی بجائے اپنے آپ ٹھگانا بہتر ہوتا ہے۔
کٹیا سے باہر جھکھڑ تیز ہو گیا تھا۔ باباجی اپنی کہانی سنا کر چپ ہو گئے تھے۔ کٹیا میں کچھ دیر ایک چپ سی بکھری رہی۔ باہر کِن مِن کِن مِن بارش کی بوندوں کی آوازیں آرہی تھیں۔ آخرکار بابا جی نے چپ کی جھیل میں کنکر پھینکا:
وقت بہت ہو گیا ہے، چلو میں تمہیں آگے تک چھوڑ آﺅں۔
میں نے بہت منع کیا کہ میں اکیلا چلا جاﺅں گا مگر وہ نہ مانے اور اپنی لالٹین اُٹھائے میرے ساتھ چل دیئے۔ گاوں سے کچھ فاصلے پر انہوں نے مجھے گلے سے لگایا اور میری پیٹھ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولے ”اللہ کرے تجھے لو لگی رہے“۔
اب وہ اپنی کٹیا کی طرف چل دیئے تھے۔ کتنی دیر تک میں اس نورانی شخصیت کو جاتے دیکھتا رہا۔ دُور تک جیسے نور سا بکھرا ہوا تھا۔
اگلی صبح میں شہر پلٹ آیا، پھر کافی عرصہ گاوں نہ جا سکا۔ ایک روز سلطان کا مختصر خط ملا، لکھا تھا:
”آپ نے بابا جی کا گھُنڈ کیا اُٹھایا …. گلزار نے ان کی کہانی کئی لوگوں کو سنا دی …. مسجد کے مولانا صاحب نے جمعے کی نماز کے دوران بات مزید پھیلا دی …. گاوں کے لوگوں کو جب حقیقت کی خبر ہوئی تو اُسی شام وہ بابے کی کٹیا کی طرف بھاگ پڑے تھے …. لیکن …. ”کٹیا میں بابے کی جگہ ایک ”دیا“ جل رہا تھا“۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button