منتخب کالم

افغانستان کا معاملہ اور پاکستان

ڈاکٹر حسن عسکری رضوی
31 اگست 2021 کو افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کی تکمیل عالمی مضمرات کی حامل پیشرفت ہے۔ یہ افغانستان میں ایک نئے اور چیلنجوں سے بھرے دور کے آغاز کی علامت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ پیشرفت بڑی طاقتوں کی طرف سے غیرملکی سرزمینوں پر فوجی طاقت کے استعمال کی افادیت کا جائزہ لینے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔ یہ پیشرفت دور دراز کی سرزمینوں پہ اپنے سٹریٹیجک ایجنڈے پر عمل کرنے کے حوالے سے سپر پاور کی صلاحیتوں کی محدودات کے بارے میں سوچنے کا موقع ہے‘ اور اس نکتے پر غورکرنے کا بھی کہ معاشرتی، سیاسی اور ثقافتی اقدار اور گہری جڑیں رکھنے والے کسی معاشرے میں فوجی دباؤ اور محدود پیمانے پر مادی وسائل دستیاب کرکے اپنی ترجیحی اقدار کے تحت ایک نیا سماجی اور سیاسی نظام تشکیل دینے میں ایک سپر پاور کی ناکامی کی آخر کیا وجوہ ہو سکتی ہیں۔ افغانستان کا تجربہ یہ بھی بتاتا ہے کہ کسی زورآور بیرونی طاقت کا پیداکردہ افراد کا ایک پراکسی طبقہ کسی معاشرے کے سماجی و معاشی اور سیاسی رجحانات میں پائیدار تبدیلیاں پیدا نہیں کر سکتا۔ نومبر 2001 میں طالبان کو اقتدار سے ہٹا دیئے جانے کے بعد امریکہ اور نیٹو نے کچھ مقامی اور کچھ باہر سے افغانستان واپس آنیوالے افغانوں کو یہاں بسایا۔ ان میں سے زیادہ تر نے نیٹو فوجیوں کے ساتھ مل کر کام کیا یا وہ امریکی ایجنڈے کے تحت سماجی سرگرمیوں میں مصروف رہے اور یہ تاثر پیدا کیا کہ ایک نیا افغانستان وجود میں آیا ہے جو لبرل ازم، سیکولرازم‘ جمہوریت، انسانی حقوق اور صنفی سرگرمیوں جیسی مغربی اقدار سے جڑا ہوا ہے۔ تمام مفروضے غلط ثابت ہوئے۔ جیسے ہی امریکی غلبے والا افغانستان منہدم ہوا‘ پراکسی اشرافیہ منتشر ہوگئی۔
افغانستان میں حالیہ تبدیلیوں نے پاکستان کو موقع فراہم کیا ہے کہ وہ اس کے بارے میں خود مختارانہ پالیسی اختیار کرے۔ پاکستان میں ضیاالحق کی آمرانہ حکومت اپریل 1978 میں نور محمد تراکئی کے ہاتھوں سردار محمد داؤد کی حکومت کا تختہ الٹے جانے اور افغانستان میں سوویت نواز حکومت کے قیام کے فیصلے سے پریشان تھی۔ ضیاالحق نے امریکہ سے اپنی یہ تشویش شیئر کی‘ جو خود بھی افغانستان میں ہونے والی اس تبدیلی سے یکساں طور پر ناخوش تھا۔ دونوں نے کابل حکومت پر دباؤ ڈالنے کیلئے باہمی طور پر تعاون کا ہاتھ بڑھایا۔ پاکستان اور امریکہ‘ دونوں نے افغانستان میں سوویت مداخلت کے برسوں (دسمبر 1979 تا فروری 1989) اور پھر ستمبر 2001 میں امریکہ پر دہشت گردانہ حملے اور اکتوبر 2001 میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد مل کر کام کیا؛ البتہ 1990 سے 2001 تک کے دورکو استثنا حاصل ہے جب امریکہ نے پاکستان کے خلاف پابندیاں عائد کیں اور پاکستان کی تمام معاشی امداد روک دی تھی۔ اس کے نتیجے میں پاکستان 1990 کی دہائی کے وسط میں بتدریج طالبان کی طرف مائل ہوا، لیکن ستمبر 2001 میں اس نے دوبارہ القاعدہ اور اس سے وابستہ عالمی دہشتگرد گروہوں کے خلاف لڑنے کی امریکی کوششوں میں شمولیت اختیار کرلی۔
2019 سے یعنی جب امریکہ اور طالبان کے مابین دوحہ میں مذاکرات شروع ہوئے، پاکستان نے یہ پالیسی رکھی کہ اس کا افغانستان میں کوئی پسندیدہ نہیں اور یہ کہ پاکستان افغانستان میں امن و استحکام اور سیاسی مذاکرات کیلئے مدد کرتا رہے گا۔ اس نے طالبان اور امریکی انتظامیہ کے مابین مذاکرات (2019-2020)اور طالبان اور کابل حکومت کے مابین غیرحتمی مذاکرات (2020-2021) کی سہولت بھی فراہم کی۔ طالبان کی کابل میں واپسی پر پاکستان کا ردعمل غیر جانبدارانہ رہا اور اس نے افغانستان میں وسیع البنیاد حکومت قائم کرنے کی کوششوں کی حمایت کی ہے۔ پاکستان کے لیے یہ اطمینان کا باعث ہے کہ کابل اب اس حکومت کے کنٹرول میں نہیں‘ جس کا طرزِ عمل اس کے ساتھ مخاصمانہ تھا؛ تاہم پاکستان کو افغانستان کے بارے میں تشویش کے کئی معاملات درپیش ہیں۔ چند ایک یہ ہیں: نئے طالبان کے دور میں افغانستان کا داخلی امن اور استحکام‘ عالمی برادری کابل میں طالبان کے ساتھ کیسا سلوک کرے گی‘ افغانستان کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کے پاکستان پر کیا اثرات ہوں گے؟ اور یہ کہ پاکستان کے پاس طالبان‘ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ بنانے میں مدد کیلئے کیا قابل عمل آپشن ہیں؟
‘داخلی معاملات کیسے چلانے ہیں اور عالمی برادری کے ساتھ معاملات کو کس نہج پر رکھنا ہے‘ اس حوالے سے طالبان نے جو بیانات دیئے‘ ان سے لگتا ہے کہ وہ 1990 کی دہائی والے طالبان سے مختلف ہیں۔ یہ بیانات امید افزا ہیں کہ وہ حکمرانی کے نظام میں تنوع کی پالیسی کے تحت داخلی تناظر میں کام کریں گے ۔ چیلنج یہ ہے کہ ان دعووں کوکیسے متشکل کیا جاتا ہے۔
طالبان کا نظام افغانستان کے بیشتر اضلاع میں مناسب طریقے سے کام کر رہا ہے‘ تاہم دنیا کی توجہ کابل میں طالبان حکومت کی اعلیٰ تقرری اور قانون نافذ کرنے والی اسٹیبلشمنٹ بالخصوص فوج پر مرکوز ہے۔ حکومت سازی اور ابتدائی پالیسی بیانات اپنی طرف خاصی توجہ مبذول کرائیں گے۔ اس سے طالبان کی نئی حکومت سے معاملات کرنے میں دیگر ریاستوں کے فیصلوں پر اثر پڑے گا۔ عالمی برادری یہ بھی جائزہ لے گی کہ نئی کابل حکومت کتنی موثر ثابت ہوتی ہے۔ یہ قومی اور صوبائی دارالحکومتوں میں معاملات کو کتنے مؤثر طریقے سے سنبھالتی ہے اور نئی انتظامیہ کی طرف لوگوں کا کیا ردعمل سامنے آتا ہے۔ آیا تعلیمی ادارے، خاص طور پر خواتین کے تعلیمی ادارے کام کر رہے ہیں، کاروبار چل رہے ہیں‘ مارکیٹوں میں کام ہو رہا ہے‘ اور بینکاری نظام معمول پر آگیا ہے۔ خواتین اور نسلی یا مذہبی اقلیتوں کی صورتحال کو بھی نوٹ کیا جائے گا۔ یہ وہ مسائل ہیں جن پر طالبان کو توجہ دینا ہوگی کیونکہ ان شعبوں میں انکی کارکردگی دیگر ریاستوں کو طالبان حکومت کو سرکاری سطح پر تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ معمول کے سفارتی تعلقات جیسے معاملات کا فیصلہ کرنے کے قابل بنائے گی۔
میرے خیال میں پاکستان کو افغانستان میں ایسی وسیع البنیاد حکومت کی حمایت کی اپنی پالیسی جاری رکھنی چاہیے جو اعتدال پسندی اور رواداری کی مجموعی پالیسی کے ساتھ ریاست کی حکومت کے طور پر کام کرے اور لوگوں کے فوری سماجی و معاشی مسائل کو حل کرنے پر توجہ دے سکے۔ پاکستان کو ان دوسری ریاستوں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے جو افغانستان میں امن اور استحکام میں گہری دلچسپی رکھتی ہیں جیسے چین، ایران، روس اور ترکی جبکہ وسطی ایشیا کی ریاستوں ازبکستان، تاجکستان اور ترکمانستان کے ساتھ ساتھ قطر کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا۔ اس طرح کا مشترکہ نقطہ نظر افغانستان کو موجودہ مسائل پر قابو پانے میں مدد دینے کی کوششوں میں اضافہ کرے گا۔
یکطرفہ نقطہ نظر سے گریز کرتے ہوئے پاکستان چین، ایران، ترکی اور روس کی مشاورت سے دوطرفہ سطح پر افغانستان کی مدد کر سکتا ہے۔ ایسے اقدامات انتظامی رکاوٹوں کے بغیر افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو جاری رکھ سکتے ہیں۔ افغانستان کیلئے سامان اور کھانے پینے کی اشیا کی دوطرفہ فراہمی کو آسان بنایا جائے کیونکہ وہ ان کی قلت کا شکار ہے۔ پاکستان کو افغانوں کو پشاور اور دیگر مقامات پر کاروبار، صحت کی دیکھ بھال، تعلیم اور اپنے رشتہ داروں سے ملنے کی اجازت دینے کی پالیسی بھی جاری رکھنی چاہیے۔ پاکستان نے افغانستان سے امریکی و یورپی اہلکاروں کو اخراج کی سہولت فراہم کر کے ان ممالک کی خیر سگالی حاصل کی ہے؛ چنانچہ اسے ترکی اور قطر کے ساتھ ملکر مغربی ممالک کو یہ باور کرانا چاہیے کہ وہ افغانستان میں حالات کو مستحکم کرنے میں مدد کریں تاکہ وہ شدت پسند گروہوں کیلئے ‘محفوظ پناہ گاہ‘ نہ بن جائے جو افغانستان سے باہر دہشتگردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
بشکریہ روزنامہ دنیا

Leave a Reply

Back to top button