تراجم

الکیمسٹ: قسط 1 دس سال قبل

مجھے امریکی پبلشر ہارپر کولنز کا خط وصول ہوا جس میں لکھا تھا،”دی الکیمسٹ کا مطالعہ کرنا ایسے ہے جیسے آپ صبح سویرے اُٹھ کر سورج کا نظارہ کر رہے ہوں جبکہ باقی سب لوگ گہری نیند کے مزے لینے میں مصروف ہوں“۔ میں باہر نکلا، آسمان کی طرف دیکھا اور اپنے آپ سے کہا،”بس! کتاب انگریزی زبان میں شائع ہونے والی ہے“۔ اس وقت میں خود کو ایک مصنف ثابت کرنے کی جستجو میں تھا باوجود اس کے کہ تمام آوازیں مجھے کہہ رہی تھیں کہ یہ ناممکن ہے۔
آہستہ آہستہ میرا خواب حقیقت کا روپ دھار رہا تھا۔ امریکہ میں پہلے دس، پھر ایک ہزار اور پھر ایک ملین کاپیاں فروخت ہو گئیں۔ ایک دن ایک برازیلی صحافی نے مجھے یہ بتانے کے لئے فون کیا کہ صدر کلنٹن کی یہ کتاب پڑھتے ہوئے تصویر بنائی گئی ہے۔ کچھ عرصہ بعد میں ترکی میں تھا، میں نے وینیٹی فیئر Vanity Fairمیگزین کھولا تو اس میں جولیا رابرٹس کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ اس کتاب کو پُوجا کرنے کی حد تک چاہتی ہیں۔ میامی کے ایک ساحل پر چلتے ہوئے میں نے ایک بیٹی کو اپنی ماں سے یہ کہتے سنا ”آپ کو الکیمسٹ ضرور پڑھنی چاہیے“۔
کتاب کا ترجمہ چھپن زبانوں میں ہو چکا ہے اور اس کی بیس ملین سے زائد کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں، اور لوگوں نے یہ پوچھنا شروع کر دیا ہے کہ ”اتنی بڑی کامیابی کے پیچھے آخر راز کیا ہے؟“
اس کا ایمانداری پر مبنی جواب یہ ہے کہ میں کچھ نہیں جانتا۔ میں جو جانتا ہوں وہ یہ ہے کہ چرواہے سنتیاگو کی طرح ہم سب کو اپنے اندرکی آواز سے آگاہ رہنے کی ضرورت ہے۔ اندر کی آواز کیا ہے؟ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے، یہ وہ راستہ ہے جو اللہ زمیں پر آپ کے لئے منتخب کرتا ہے۔ جب بھی ہم کوئی ایسا کام کرتے ہیں جو ہمارے اندر جذبہ پیدا کر دے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم اپنی روایت (اندر کی آواز) کا تعاقب کر رہے ہیں۔ تاہم ہارے اندر اپنے خواب کا سامنا کرنے کی طاقت نہیں ہوتی۔
کیوں؟
اس کی راہ میں چاررکاوٹیں ہیں۔ پہلی یہ کہ ہمیں بچپن سے ہی یہ بتایا جاتا ہے کہ ہم جو بھی کرنا چاہتے ہیں وہ ناممکن ہے۔ ہم اسی تصور کے ساتھ جوان ہوتے ہیں اور جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے، تعصب، خوف اور جرم کی تہیں بھی دبیز ہوتی جاتی ہیں۔ اس طرح ایک ایسا وقت آتا ہے جب ہمارے اندرکی آواز ہماری روح کی گہرائیوں میں یوں دفن ہو جاتی ہے کہ وہ دکھائی نہیں دیتی، لیکن موجود پھر بھی ہوتی ہے۔
اگر ہم اس خواب کوکھود نکالنے کی ہمت کرتے ہیں تو ہمیں دوسری رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے، یہ رکاوٹ محبت ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم کیا کرنا چاہتے ہیں لیکن اپنے خواب کے تعاقب کے لئے دوسری ہر چیزکو چھوڑکر اپنے اردگرد موجود لوگوں کو دُکھ دینے کے خیال سے ڈر جاتے ہیں۔ ہمیں اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ محبت رکاوٹ نہیں بلکہ آگے بڑھانے والا جذبہ ہے۔ ہمیں اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ جو حقیقت میں ہمارے خیر خواہ ہیں، وہ ہمیں خوش دیکھنا چاہتے ہیں اور اس سفر میں ہمارے ساتھ چلنے کے لئے بھی تیار ہیں۔
جب ہم اس بات کو قبول کر لیتے ہیں کہ محبت ایک طاقت ہے تو پھر تیسری رکاوٹ ہمارے سامنے آجاتی ہے۔ یہ رکاوٹ شکست کا خوف ہے۔ جب کوئی منصوبہ کامیاب نہ ہو تو خوابوں کے لئے لڑنے والے ہم جیسے لوگ زیادہ اذیت جھیلتے ہیں کیونکہ ہم ”اوہ! اچھا، میں تو ایسا ہرگز نہیں چاہتا تھا“ جیسے پرانے بہانے کا سہارا نہیں لے سکتے۔ ہم تو اس کو چاہتے
ہیں، اس کے لئے ہم نے ہر چیز داؤ پر لگا دی ہے اور یہ بھی جانتے ہیں کہ اندرکی آوازپر چلنے کا راستہ دوسرے کسی بھی راستے کی نسبت آسان نہیں، جب تک ہم اس پر دل وجان سے نہ چلے ہوں۔ پھر ہم جیسے روشی کے جنگجوؤں کو مختلف اوقات میں صبر کا مظاہرہ کرنے کے لئے بھی تیار رہنا چاہیے اور یہ جان لینا چاہئے کہ کائنات ہمارے لئے سازگار حالات پیدا کر رہی ہے، مگر ہم شائد یہ نہیں جانتے کہ کیسے؟
میں خود سے پوچھتا ہوں کہ کیا شکست لازمی ہے؟
اچھا! لازمی ہو یا نہ ہو، شکست ہوتی ضرور ہے۔ جب ہم اپنے خواب کے لئے لڑنے کا آغاز کرتے ہیں تو ہمارے پاس تجربہ نہیں ہوتا، ہم کئی غلطیاں کرتے ہیں۔ زندگی کا راز، یوں کہہ لیں کہ سات بارگرکر آٹھ بار اُٹھنے میں ہے۔
جب ہم دسروں کی نسبت زیادہ اذیت برداشت کرتے ہیں تو پھر اندرکی آوازکے مطابق زندگی گزارنا ضروری کیوں ہے؟ اس لئے کہ جب ہم ایک بار ناکامیوں پر قابو پا لیتے ہیں تو ہمارے اندر راحت کا احساس اور اعتماد بھر جاتا ہے۔ اپنے دل کی گہرائیوں سے ہم جانتے ہیں کہ ہم خود کو زندگی کے معجزے کے قابل بنا رہے ہیں۔ ہم مسرت و ولولے کے ساتھ جینا شروع کر دیتے ہیں۔ اچانک رونما ہونے والے شدید مصائب بظاہر قابلِ برداشت نظر آنے والی مشکلات کی نسبت جلد گزر جاتے ہیں۔ مؤخرالذکر مشکلات تو سالوں ڈیرہ جمائے رکھتی ہیں اور ہمیں احساس دلائے بغیر ہماری روح تک کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہیں۔ اور ایک دن آتا ہے جب ہم اس تلخی سے نجات پانے کے قابل ہی نہیں رہتے اور یوں یہ زندگی بھر ہمارے ساتھ رہتی ہے۔
اپنے خوابوں کوکھودنے، محبت کی طاقت سے ان کی پرورش کرنے اور کئی سال تک ناکامی کے زخم سہنے کے بعد شائد اگلے ہی دن اچانک ہم محسوس کرتے ہیں کہ جو کچھ ہم نے چاہا تھا وہ تو سامنے موجود اور ہمارا منتظر ہے۔ پھر چوتھی رکاوٹ سامنے آجاتی ہے، وہ رکاوٹ ہے اپنے خواب کو محسوس کرنے کی جس کے لئے ہم ساری عمر لڑتے رہے۔
آسکر وائلڈ نے کہا تھا ”ہر شخص اُسی چیزکو مار دیتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے“۔ یہ سچ بھی ہے۔ ہم جس چیزکو چاہتے ہیں اسے پا لینے کا امکان ہی عام انسان کی روح کو خطا سے بھر دیتا ہے۔ ہم اپنے اردگرد موجود ان لوگوں پر نظر دوڑاتے ہیں جو اپنی من پسند چیز کے حصول میں ناکام رہے۔ ایساکر کے ہم یہ گمان پال لیتے ہیں کہ ہم بھی اپنی من چاہی چیز حاصل کرنے کے حق دار نہیں ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ اس کو حاصل کرنے کے لئے اب تک ہم نے کون کون سی رکاوٹیں عبورکی ہیں، کون سے مصائب جھیلے ہیں اورکیا کچھ قربان کیا ہے۔ میں ایسے کئی لوگوں کو جانتا ہوں جن کے اندر کی آواز ان کی گرفت میں تھی لیکن انہوں نے ایسی ایسی احمقانہ غلطیاں کیں کہ وہ کبھی بھی منزل تک نہ پہنچ سکے جو صرف ان سے چند قدم کی دوری پر تھی۔
یہ تمام رکاوٹوں سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ اس میں خوشی اور فتح کو تیاگ دینے والا ایک بزگانہ احساس پایا جاتا ہے۔ لیکن اگر آپ خود کو اس چیزکا اہل سمجھتے ہیں جس کو حاصل کرنے کے لئے آپ نے اتنی سخت جدوجہد کی تو پھر آپ قدرت کا ایسا آلہ کار بن جاتے ہیں جو ساری دنیا کا معاون ثابت ہوتا ہے، تب آپ کو یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ آپ اس مقام پر کیوں ہیں۔ (جاری ہے)
پاؤلو کوہیلو
ریؤ دے زینارؤ
نومبر 2002ء
مترجم: مارگریٹ جُل کوسٹا
اردو روپ: نعیم سلہری

Leave a Reply

Back to top button