تراجم

الکیمسٹ: قسط 2…… کیمیاگر، ندیا اور نرگس

الکیمسٹ نے ایک کتاب اٹھائی جو قافلے میں سے کوئی ایک لے کر آیا تھا۔ ورق گردانی کرتے ہوئے اسے (Narcissus نعسی سس) نرگس کی کہانی ملی۔
الکیمسٹ نے نعسی سس (نرگس) کی دیومالائی کہانی کے بارے میں جانا، کہ ایک نوجوان اپنی خوبصورتی کو غور سے دیکھنے کے لئے روزانہ جھیل کے کنارے گھٹنوں کے بل جھکا کرتا تھا۔ وہ اپنی ذات کے حصار میں اس قدرکھوگیا کہ ایک دن وہ ندی میں گرا اور ڈوب گیا۔ جس جگہ وہ گرا وہاں ایک پھول اُگا جو نعسی سس کہلایا۔
لیکن کتاب کے مصنف نے کہانی اس طرح ختم نہ کی۔ اس نے لکھا کہ جب نعسی سس کی موت ہوئی تو جنگل کی دیوی نمودار ہوئی، دیوی نے دیکھا کہ تازہ پانی کی جھیل نمکین آنسوؤں کی جھیل میں بدل چکی تھی۔
”تم روتی کیوں ہو“؟ دیوی نے پوچھا۔
یہ بھی پڑھیں! الکیمسٹ: قسط 1 دس سال قبل
جھیل نے جواب دیا ”میں نعسی سس کے لئے روتی ہوں“۔
”آہ، اس میں کوئی حیرانگی نہیں کہ تم اُس کے لئے روتی ہو“، وہ کہتے تھے”ہم ہمیشہ جنگل میں اس کا تعاقب کرتے تھے، لیکن اتنا نزدیک سے اس کی خوبصورتی کا نظارہ تم ہی کرتی تھی“۔
”لیکن۔۔۔ کیا نعسی سس خوبصورت تھا؟“ جھیل نے پوچھا۔
”یہ تم سے بہترکون جانتا ہے؟“ دیوی نے حیرانگی سے کہا۔ ”آخر وہ ہر روز خود کو غور سے دیکھنے کے لئے تمہارے ہی کناروں پر جھکتا تھا!“
کچھ دیرکے لئے جھیل خاموش ہوگئی۔ آخر، وہ بولی:
”میں نعسی سس کے لئے روتی ہوں لیکن میں نے کبھی محسوس نہ کیا کہ وہ خوبصورت تھا۔ میں تو اس لئے روتی ہوں کہ جب بھی ہو میرے کناروں پر جھکتا تھا تو میں اس کی آنکھوں میں اپنی خوبصورتی منعکس دیکھ سکتی تھی۔“
”کتنی پیاری کہانی ہے“، الکیمسٹ نے سوچا۔ (جاری ہے)
مترجم: کلیفورڈ۔ ای لینڈرز

Leave a Reply

Back to top button