تراجم

الکیمسٹ: قسط 3 گڈریا، ویران چرچ، بھیڑیں اور کتاب

لڑکے کا نام سنتیاگو تھا۔ جب وہ اپنے ریوڑ کے ساتھ ایک ویران چرچ میں پہنچا تو شام گہری ہو رہی تھی۔ چرچ کی چھت گرے عرصہ بیت چکا تھا اور مقدس ظروف اور پادریوں کے لبادے رکھنے والی جگہ پر ایک بہت بڑا انجیرکا درخت اُگ آیا تھا۔
اس نے وہاں رات گزارنے کا فیصلہ کیا۔ اس بات کی یقین دہانی کی کہ آیا تمام بھیڑیں تباہ شدہ گیٹ سے اند داخل ہو چکی ہیں، تب اس نے لکڑی کے کچھ تختے گیٹ میں پھنسا دئے تاکہ رات کے وقت بھیڑوں کو باہر نکلنے سے روکا جا سکے۔ اس علاقے میں بھیڑیئے تو نہیں تھے، لیکن اگر کوئی جانور رات کے وقت باہر نکل جاتا تو لڑکے کو اگلا سارا دن اس کی تلاش میں گزرا پڑتا تھا۔
اس نے اپنی جیکٹ سے فرش صاف کیا، اور وہ کتاب جو اس نے حال ہی میں ختم کی تھی، اسے تکیہ بنا کر لیٹ گیا۔ اس نے خود سے کہا کہ اسے زیادہ موٹی کتابیں پڑھنا ہوں گی کیونکہ یہ دیر تک چلتی اور زیادہ آرام دہ تکیہ بن سکتی ہیں۔ جب وہ جاگا تو ابھی خاصا اندھیرا تھا، اور اوپر دیکھ کر وہ جزوی تباہ شدہ چھت میں سے ستاروں کا نظارہ کر سکتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں! الکیمسٹ: قسط 1 دس سال قبل
اس نے سوچا ’میں تھوڑی مزید سونا چاہتا ہوں،۔ اس نے آج رات بھی وہی خواب دیکھا جو گزشتہ ہفتے دیکھا تھا، اور اس بار پھر خواب مکمل ہونے سے پہلے ہی اس کی آنکھ کُھل گئی۔
وہ اُٹھا اور ڈنڈا لے کر بھیڑوں کو جگانا شروع کر دیا جو ابھی تک سو رہی تھیں۔ اس نے یہ بات نوٹس کی کہ جونہی وہ جاگا، اس کے زیادہ تر جانوروں نے بھی ہل جل شروع کر دی تھی۔ ایسے لگتا تھا جیسے کسی پُراسرار توانائی یا طاقت نے اس کی اور بھیڑوں، جن کو لے کر وہ گزشتہ دو سال سے چارا پانی کی تلاش میں دیہی علاقے میں گھوم رہا تھا، کی زندگی میں کوئی خاص ربط پیدا کر دیا ہے، ”وہ اس حد تک میرے ساتھ مانوس ہو چکی ہیں کہ مرے معمول تک سے واقف ہیں۔“ وہ بڑبڑایا، اس کے بارے میں تھوڑی دیر سوچنے کے بعد اس نے محسوس کیا کہ معاملہ اس کے برعکس بھی تو ہوسکتا ہے، ممکن ہے کہ وہ خود ہی بھیڑوں کے معمول کا عادی ہو چکا ہو۔
ان میں کچھ ایسی بھی تھیں جنہوں نے جاگنے میں قدرے دیر لگا دی۔ لڑکے نے ایک ایک کر کے سب کو ان کا نام لے کر چھڑی سے کچکوکے لگائے۔ اسے ہمیشہ سے یقین تھا کہ بھیڑیں وہ سب سمجھنے کے قابل ہیں جو وہ کہتا ہے۔ اسی لئے تو کبھی وہ ان کو کتاب کے وہ حصے بھی پڑھ کر سناتا جو اس کو متاثر کرتے، کبھی ان کو کھیتوں والے گڈریے کی نتہائی اور خوشی کے بارے میں بتاتا اور کبھی ان کے سامنے ان چیزوں پر تبصرہ کرتا جو انہوں نے ان دیہاتوں میں دیکھی ہوتیں جن کے پاس سے وہ گزرے تھے۔
یہ بھی پڑھیں! الکیمسٹ: قسط 2…… کیمیاگر، ندیا اور نرگس
لیکن گزشتہ کچھ دنوں سے وہ ان کے ساتھ صرف اُس تاجر کی بیٹی کے بارے میں باتیں کرتا آ رہا تھا جس کے گاؤں میں وہ محض چار دن بعد پہنچنے والے تھے۔ وہ اس گاؤں میں پہلے صرف گزشتہ برس ایک بار آیا تھا۔ تاجر ڈرائی گڈز شاپ کا مالک تھا جس کا یہی تقاضا ہوتا کہ بھیڑوں کی اُون اس کے سامنے اتاری جائے تاکہ اسے دھوکا نہ دیا جا سکے۔ لڑکے کو اس دکان کے بارے میں اُس کے ایک دوست نے بتایا تھا، تب ہی وہ وہاں اپنی بھیڑیں لے کر گیا تھا۔ (جاری ہے)

Leave a Reply

Back to top button