تراجم

الکیمسٹ: قسط 5 ملاقات میں صرف چار دن باقی تھے

اب صرف چار دن بعد وہ دوبارہ اس گاؤں میں پہنچنے والا تھا۔ وہ بہت زیادہ پُرجوش تھا مگر ساتھ ہی اس بات پر قدرے پریشان بھی کہ کہیں وہ لڑکی اسے بھول ہی نہ گئی ہو۔ کیونکہ بہت سے بھیڑیں چرانے والے اُون بیچنے کیلئے وہاں سے گزرتے تھے۔
”اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا“ اس نے اپنی بھیڑوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ”میں دوسری جگہوں پر اور بھی کئی لڑکیوں کو جانتا ہوں۔“
مگر اندر ہی اندر اسے اس بات کا احساس تھا کہ اس سے فرق تو پڑتا ہے۔ اور وہ جانتا تھا کہ گڈریے، ملاحوں اور گشتی سیلزمینوں کی طرح کوئی ایسی جگہ تلاش کر ہی لیتے ہیں جہاں کوئی نہ کوئی ایسا موجود ہو جو انہیں آوارہ گردی کی مسرتیں بُھلانے پر مجبور کر سکے۔
دن نکل رہا تھا اور گڈریے نے اپنی بھیڑوں کو سورج کی سمت ہنکارا۔ اس نے سوچا کہ انہیں تو کبھی کوئی فیصلہ کرنا ہی نہیں پڑتا۔ شائد اسی لئے یہ ہمیشہ میرے قریب رہتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں! الکیمسٹ: قسط 4 تم پڑھ سکتے ہو تو بھیڑیں کیوں چراتے ہو؟
بھیڑوں کو تو بس چارے اور پانی سے ہی سروکار ہوتا ہے۔ چونکہ لڑکا جانتا تھا کہ اندلس میں اچھی چراگاہیں کہاں کہاں ہیں، اس لئے وہ اس کی بہترین دوست تھیں۔ سورج نکلنے سے غروبِ آفتاب تک، ان کے دن بالکل ایک جیسے تھے۔ انہوں نے زندگی بھر کبھی کوئی کتاب نہیں پڑھی تھی، اس لئے لڑکا جب انہیں شہر کے نظاروں کے بارے میں بتاتا تو وہ سمجھ نہیں پاتی تھیں۔ وہ تو بس چارے اور پانی پر ہی قانع تھیں، اور اس کے بدلے میں وہ بڑی فراخ دلی سے سنگت، اُون اور کبھی کبھار گوشت دیتی تھیں۔
لڑکے نے سوچا کہ اگر میں ایک بلا بن جاؤں اور انہیں ایک ایک کر کے مارنے کا فیصلہ کر لوں تو انہیں اس وقت خبر ہو گی جب ان میں سے زیادہ تر ذبح ہو چکی ہوں گی۔ چونکہ میں ان کو پالتا ہوں، اس لئے وہ مجھ پر یقین کرتی ہیں اور اپنی جبلت پر بھروسہ کرنا بھول ہی چکی ہیں۔
لڑکا اپنے ان خیالوں پر ششدر رہ گیا، اس نے سوچا کہ شائد وہ چرچ، جس میں انجیر (سائیکامور) کا درخت اُگا تھا، آسیب زدہ جگہ ہو اور اسی وجہ سے اس نے ایک خواب دو بار دیکھا، اور یہی اس کے وفادار ساتھیوں پر غصے کا سبب بن رہا ہے۔ اس نے گزشتہ رات بچ جانے والی شراب میں سے تھوڑی سی پی، اور جیکٹ اپنے جسم پر لپیٹ لی۔ وہ جانتا تھا کہ اب سے کچھ گھنٹوں بعد، جب سورج جوبن اور حدت زوروں پر ہو گی، وہ اپنے ریوڑ کو کھیتوں کے پار نہیں لے جا سکے گا۔ یہ گرمیوں کے دِن تھے، اور ان دنوں سارا سپین دن کے وقت سویا رہتا تھا۔ سورج کی حدت رات ہونے تک رہے گی اور تب تک اسے جیکٹ کا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔ جب اس نے جیکٹ کے وزن کی شکایت کی تو اسے فوری یاد آیا کہ یہ جیکٹ ہی تھی جس نے اسے سحری کے وقت کی ٹھنڈ سے بچایا تھا۔
اس نے سوچا کہ ہمیں تبدیلی کے لیے تیار رہنا پڑتا ہے، اسی خیال کے ساتھ اس نے جیکٹ کے وزن اور اس سے ملنے والی گرماہٹ کا شکریہ ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں! الکیمسٹ: قسط 3 گڈریا، ویران چرچ، بھیڑیں اور کتاب
جیکٹ اور لڑکے، دونوں کا ایک مقصد تھا۔ اس کی زندگی کا مقصد سفر کرنا تھا تبھی تو دو سال تک اُندلس کی سرزمین پر سفر کرنے کے بعد وہ علاقے کے تمام شہروں کے بارے میں جانتا تھا۔
وہ یہ منصوبہ بنا رہا تھا کہ اس ملاقات پر وہ لڑکی کو بتائے گا کہ ایک بھیڑیں چرانے والے کے لیے پڑھنا کیسے اِتنا آسان ہے۔ وہ سولہ سال کی عمر تک ایک مذہبی سکول میں جاتا رہا تھا۔ اس کے والدین اسے پادری بنانا چاہتے تھے، کیونکہ ایک عام کسان خاندان کے لیے یہ بڑے اعزاز کی بات سمجھی جاتی تھی۔ وہ بھیڑوں کی طرح پانی اور خوراک کے لیے سخت محنت کرتے تھے۔ اس نے سپینی، لاطینی زبان اور مذہبی علوم کا مطالعہ کیا تھا۔ لیکن بچپن ہی سے اس کی خواہش تھی کہ وہ ساری دنیا دیکھے، یہ اس کے لیے خدا کی ذات اور انسان کے گناہوں کے بارے میں جاننے سے بھی زیادہ اہم تھا۔ ایک سہ پہر جب وہ اپنے والدین سے ملنے گیا، تو اس نے ہمت کی اور اپنے باپ سے کہہ دیا کہ وہ پادری نہیں بننا چاہتا بلکہ وہ سیاحت کرنا چاہتا ہے۔ (جاری ہے)

Leave a Reply

Back to top button