تراجم

الکیمسٹ: قسط 6 اچھا! تو میں پھرگڈریا ہی بنوں گا!

”بیٹے! ساری دنیا کے لوگ اس گاؤں سے گزر چکے ہیں“ باپ نے کہا”وہ نئی چیزوں کی تلاش میں آتے ہیں، لیکن جب واپس جاتے ہیں تو بالکل ویسے ہی ہوتے ہیں جیسے وہ یہاں آنے سے پہلے تھے۔ وہ قلعہ دیکھنے کے لئے پہاڑ کے اوپر چڑھتے ہیں لیکن اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ لمحہئ موجود کے بجائے ان کا ماضی ہی بہتر تھا۔ ان میں بعض سیاہ فام ہوتے ہیں اور بعضٖ سنہرے بالوں والے، مگر بنیادی طور پر وہ وہاں موجود لوگوں جیسے ہی ہیں۔“
”لیکن میں قصبے میں اُن قلعوں کو دیکھنا چاہتا ہوں جہاں وہ رہتے ہیں۔“ لڑکے نے وضاحتی انداز میں کہا۔
اس کے باپ نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا ”وہ لوگ جب ہماری سر زمین دیکھتے ہیں تو ہمیشہ کے لئے یہاں رہنا چاہتے ہیں۔“
”اچھا! میں ان کی سر زمین دیکھ کر جاننا چاہتا ہوں کہ وہ کیسے رہتے ہیں“۔ اس کے بیٹے نے کہا۔
”یہاں جو لوگ آتے ہیں ان کے پاس خرچ کرنے کے لئے بہت زیادہ دولت ہوتی ہے، لہٰذا وہ سفر کرنا برداشت کر سکتے ہیں“، اس کے باپ نے کہا”لیکن ہم میں سے وہی لوگ سفر کرتے ہیں جو گڈریے ہیں۔“
”اچھا! پھر تو میں گڈریا ہی بنوں گا۔“
اس کے باپ نے مزید کچھ نہ کہا اور اگلے دن اسے ایک تھیلی دی جس میں سونے کے تین قدیم سپینی سکے تھے۔
یہ بھی پڑھیں! الکیمسٹ: قسط 5 ملاقات میں صرف چار دن باقی تھے
”مجھے ایک دن یہ کھیتوں میں ملے تھے۔ میں چاہتا تھا کہ یہ تمہاری وراثت کا حصہ بنیں۔ لیکن ان سے تم بھیڑوں کا ریوڑ خرید لو۔ بھیڑوں کو کھیتوں میں لے جاؤ، کسی دن تمہیں احساس ہو جائے گا کہ ہمارا دیہی علاقہ سب سے بہتر اور ہماری خواتین سب سے زیادہ خوبصورت ہیں۔“
اس نے بیٹے کو بہت سی دعائیں دیں۔ لڑکے نے باپ کی آنکھوں میں خود ساری دنیا کا سفر کرنے کے قابل ہونے کی خواہش دیکھی…… اگرچہ اس کے باپ کو اپنی اس خواہش کو کئی سالوں کی گرد، روزی روٹی کی جدوجہد کے بوجھ اور ہر رات ایک ہی جگہ پر سونے کے معمول کے نیچے دبانا پڑ تھا لیکن یہ پھر بھی زندہ تھی۔ (جاری ہے)

Leave a Reply

Back to top button