تراجم

الکیمسٹ: قسط 7 وہ جو کئی دنوں کی مسافت پر منتظر تھی!

سرخی مائل اُفق سے سورج نمودار ہوا تو لڑکے نے باپ کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے بارے میں سوچا اور خوش ہوا، وہ پہلے بھی کئی قلعے دیکھ اور کئی عورتوں سے مل چکا تھا لیکن ان میں سے کوئی بھی ایسی نہیں تھی جو یہاں سے کئی دنوں کی مسافت پر اس کی منتظر تھی۔ اس کی ملکیت میں ایک جیکٹ، بھیڑوں کا ایک ریوڑ اور ایک کتاب تھی جس کا وہ دوسری کتاب سے تبادلہ کر سکتا تھا۔ لیکن اس کے لئے سب سے اہم بات یہ تھی کہ وہ اپنے خواب کے لئے گھر سے باہر رہ رہا تھا۔ اگر وہ اندلس کی سر زمین سے اُکتا گیا تو اپنی بھیڑیں بیچ کر سمندر کی طرف نکل سکتا ہے۔ اس طرح وہ سمندر کا بہت سا حسہ دیکھنے تک کئی دوسرے شہروں، خواتین اور خوش رہنے کے مواقع کے بارے میں جان چکا ہو گا۔ اس نے طلوع ہوتے سورج کی جانب دیکھتے ہوئے سوچا ”میں مدرسے میں خدا کو نہیں پا سکتا تھا۔“
جب بھی اسے موقع ملتا، وہ سفر کی کوئی نئی راہ تلاش کر لیتا۔ ملک کے ان حصوں میں سے کئی بار گزرنے کے باوجود وہ اس بے آباد چرچ میں پہلے کبھی نہیں آیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں! الکیمسٹ: قسط 6 اچھا! تو میں پھرگڈریا ہی بنوں گا!
دنیا تو بہت بڑی اور لامتناہی تھی لیکن اسے صرف اپنی بھیڑوں کو کچھ دیر کے لئے ان کی مرٖضی سے چلنے کی اجازت دینا پڑتی، اور اس دوران وہ خود کئی دلچسپ چیزیں دریافت کر لیتا تھا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بھیڑیں نہیں جانتیں کہ وہ ہر روز ایک نئی راہ پر چل رہی ہیں۔ وہ یہ بھی نہیں جانتی ہیں کہ ارد گرد کے کھیت نئے اور موسم بدلے ہوئے ہیں۔ وہ تو بس پانی اور چارے کے بارے میں ہی سوچتی ہیں۔
لڑکے نے سوچا کہ شائد ہم سب ایسے ہی ہیں۔ شائد میں بھی، کیونکہ میں نے جب سے تاجر کی بیٹی کو دیکھا ہے کسی اور عورت کے بارے میں سوچا ہی نہیں۔ سورج کی طرف دیکھ کر اس نے اندازہ لگایا کہ وہ دوپہر ہونے سے پہلے طریفہ پہنچ جائے گا۔ وہاں وہ اپنی کتاب کا بڑی کتاب سے تبادلہ کر سکتا تھا، بوتل شراب سے بھروا سکتا تھا، بال اور شیو بنا سکتا تھا کیونکہ اس نے خود کو لڑکی کے ساتھ ملاقات کے لئے تیار کرنا تھا۔ وہ اس امکان کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا کہ کوئی بڑے ریوڑ والا گڈریا اس سے پہلے وہاں پہنچ کر لڑکی کا ہاتھ مانگ چکا ہو۔
یہ بھی پڑھیں! الکیمسٹ: قسط 5 ملاقات میں صرف چار دن باقی تھے
”یہ ممکن ہے کہ آپ کا کوئی خواب ہو جو حقیقت بن کر زندگی کو دلچسپ بنا دے“ اس نے سورج کی طرف دیکھتے ہوئے سوچا اور چلنے کی رفتار بڑھا دی۔ اسے اچانک یاد آیا کہ طریفہ میں ایک بوڑھی عورت ہے جو خوابوں کی تعبیر بتاتی ہے۔ (جاری ہے)

Leave a Reply

Back to top button