تراجم

الکیمسٹ: قسط 8 لڑکا، خواب اور بوڑھی عورت

بڑھیا لڑکے کو اپنے گھر کے عقب میں موجود کمرے میں لے گئی جسے رنگ برنگے دانوں سے بنے ایک پردے کی مدد سے دیوان خانہ سے الگ کیا گیا تھا۔ کمرے کا فرنیچر ایک ٹیبل، دو کرسیوں اور حضرت یسوع ؑ کی ایک شبیہ پر مشتمل تھا۔
عورت خود بیٹھ گئی، لڑکے کو بھی بیٹھنے کا کہا اور اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر منہ ہی منہ میں دُعا پڑھنے لگی۔
یہ کوئی خانہ بدوشوں کی دُعا لگ رہی تھی۔ لڑکا پہلے بھی سفر کے دوران خانہ بدوشوں کے ساتھ وقت گزارنے کا تجربہ کر چکا تھا۔ خانہ بدوش بھی سفر کرتے ہیں لیکن ان کے پاس بھیڑوں کے ریوڑ نہیں ہوتے۔ لوگوں کی رائے تھی کہ خانہ بدوش دوسروں کو دھوکا دینے میں زندگی گزار دیتے ہیں۔ ان کے بارے میں لوگ بھی کہتے کہ ان کا شیطان کے ساتھ معاہدہ ہوتا تھا اور وہ دوسروں کے بچے اغواء کر کے انہیں اپنے پُراسرار اڈوں پر لے جاکر انہیں اپنا غلام بنا لتیے تھے۔ لڑکے کو بچپن میں یہی خوف دامن گیر رہتا تھا کہ اُسے خانہ بدوش پکڑ کر لے جائیں گے، اور اب جب بوڑھی عورت نے اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئے تو اس کے بچپن کا وہی خوف بیدار ہو گیا۔
لڑکے نے خود کو یقین دلاتے ہوئے سوچا کہ بڑھیا ایسا نہیں کرے گی کیونکہ اس نے تو اپنے کمرے میں حضرت یسوع ؑ کی شبیہ رکھی ہوئی ہے۔ وہ اپنے ہاتھوں کو کاپنے نہیں دینا چاہتا تھا مبادا کہ عورت کو پتا چل جائے کہ وہ ڈرا ہوا ہے البتہ اس نے دل ہی دل میں دُعا ضرور مانگنا شروع کر دی تھی۔
بڑھیا نے لڑکے کے ہاتھوں سے نظر ہٹائے بغیر ”بہت دلچسپ“ کہا اور پھر خاموش ہو گئی۔
لڑکا گھبرا رہا تھا، اس کے ہاتھ کانپنے لگے، عورت نے جب یہ محسوس کیا تو اس کے ہاتھ جھٹک دئے۔
لڑکے نے یہاں آنے پر پچھتاتے ہوئے کہا”میں یہاں آپ کو اپنا ہاتھ دکھانے نہیں آیا تھا۔“
اُس نے ایک لمحے کے لئے سوچا کہ بہتر ہے وہ عورت کو اس کی فیس دے اور کچھ جانے بغیر یہاں سے چلا جائے۔
یہ بھی پڑھیں! الکیمسٹ: قسط 7 وہ جو کئی دنوں کی مسافت پر منتظر تھی!
”تم یہاں آئے تھے کہ تم اپنے خوابوں کے بارے میں کچھ جان سکو“ عورت نے کہا”خواب اللہ تعالیٰ کا کلام ہوتے ہیں۔ جب وہ ہماری زبان میں بات کرتا ہے تو میں وضاحت کر سکتی ہوں کہ اس نے کیا کہا۔ لیکن اگر وہ روح کی زبان میں بولے تو پھر صرف اور صرف تم ہی سمجھ سکتے ہو۔ مگر بات دراصل یہ ہے کہ میں تم سے مشورہ دینے کی فیس ضرور لوں گی۔“
لڑکے نے سوچا”ایک اور چال“۔ لیکن اس نے چانس لینے کا فیصلہ کر لیا، کیونکہ گڈریے تو ہمیشہ خطرہ مول لیتے ہیں، چاہے یہ خطرہ بھیڑیوں اور خشک سالی کا ہی کیوں نہ ہو، اسی سے تو ایک گڈریے کا جیون پُرجوش بنتا ہے۔
”میں نے ایک ہی خواب دو بار دیکھا ہے“ اس نے کہا”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اپنی بھیڑوں کے ساتھ ایک کھلے میدان میں ہوں، اتنے میں ایک بچہ نمودار ہوا اور اس نے جانوروں کے ساتھ کھیلنا شروع کر دیا۔ مجھے لوگوں کا یہ عمل اچھا نہیں لگتا کیونکہ بھیڑیں اجنبیوں سے ڈر جاتی ہیں۔ مگر بچے ہمیشہ اُن کو ڈرائے بغیر ان سے کھیلتے رہتے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے اور یہ بھی کہ جانور انسانوں کی عمر کے بارے میں کیسے جان جاتے ہیں۔“
”مجھے اپنے خواب کے بارے میں مزید بتاؤ“، عورت نے کہا ”میں نے کھانا پکانے جانا ہے اور پھر تمہارے پاس زیادہ پیسے بھی نہیں ہیں اس لئے میں تمہیں زیادہ وقت نہیں دے سکتی۔“ (جاری ہے)

Leave a Reply

Back to top button