تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

امائرس: اینٹی سیپٹک خصوصیات کا خوشبودار پودا

اینٹی سیپٹک خصوصیات کے حامل امائرس کا زردی مائل اور چپچپا تیل میں کیویوفائلین، کیڈی نین اور کیڈی نول پایا جاتا ہے۔

امائرس ایک خوشبودار پھولوں والے پودے کی قسم ہے۔ امائرس ( Amyris) یونانی زبان کے لفظ امائرون سے نکلا ہے۔ جس کا معنی شدت سے خوشبو دینے والا ہے۔اسے ویسٹ انڈین صندل ووڈ اور ویسٹ انڈین روز ووڈ بھی کہتے ہیں۔ یہ ایک چھوٹا سا جھاڑی نما پودا ہے۔ اس کے پتے بڑے اور سبز رنگ جبکہ پھول سفید رنگ کے ہوتے ہیں۔ یہ جزیرہ ہیٹی کے تمام حصوں میں قدرتی طور پر بکثرت پایا ہے۔ اس کا آبائی وطن بھی ہیٹی ہی ہے۔ لیکن اب اسے نیم استوائی ممالک میں متعارف کروایا جا چکا ہے۔ جن میں جمیکا، جنوبی اور وسطی امریکہ بھی شامل ہیں۔

تاہم امائرس کا ایسٹ انڈین یا میسور صندل ووڈ سے کوئی تعلق نہیں، یہ پودا ان سے قطعی مختلف ہے۔

ہیٹی کے مقامی لوگ اسے کینڈل وڈ بھی کہتے ہیں۔ کیونکہ اس میں تیل یا روغن کی مقدار بہت زیادہ پائی جاتی ہے۔ اس کی شاخیں کسی مشعل کی طرح جلتی ہیں۔ اسے اس وجہ سے ایک آتش گیر پودا بھی کہا جاتا ہے۔ اسے مقامی ماہی گیر رات کے وقت مشعل کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔اس کی لکڑی کو خشک کر کے اس کا تیل نکالا جاتا ہے۔

امائرس میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
اینٹی سیپٹک خصوصیات کے حامل امائرس کا زردی مائل اور چپچپا تیل میں کیویوفائلین، کیڈی نین اور کیڈی نول پایا جاتا ہے۔

امائرس کے فوائد:
امائرس کا تیل کسی قسم کے منفی اثرات نہیں رکھتا۔ یہ غیر اشتعال پذیر تیل ہوتا ہے۔ یہ اروماتھراپی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے خوشبوؤں، صابن اور کاسمیٹکس میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے مشروبات میں ذائقہ بہتر بنانے کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔اسے دواؤں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

قدرتی اینٹی سیپٹک:
امائرس کا تیل ایک قدرتی اینٹی سیپٹک آئل ہے۔ جو جلدی امراض خصوصاً زخموں کے علاج کیلئے ہیٹی میں صدیوں سے استعمال ہو رہا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے ضرور مشورہ لیں۔

Leave a Reply

Back to top button