مختصر تحریریں

امام شافعیؒ، صاحبِ قرآنؐ اور قرآن

ہزاروں طلبہ کا مجمع تھا۔ امام صاحبؒ درس قرآن میں منہمک تھے کہ ایک جانب سے ایک کمزورو نحیف انسان آتا نظرآیا۔ امام صاحبؒ خاموش ہوگئے اوران کے استقبال کے لئے بڑھے۔ جیسے ہی وہ قریب آئے تو معانقہ فرمایا۔ تقریر بند کردی اور ان کی طرف ہمہ تن متوجہ رہے۔ پھر جب وہ رخصت ہوگئے تو امام صاحبؒ نے تقریرکرنا جاری فرمایا۔ طلباء نے پوچھا۔ حضرت یہ کوئی بہت بڑے مفسر ہیں؟ فرمایا ”نہیں“۔ پوچھا ”یہ محدث ہیں؟ فرمایا ”نہیں“۔ طلباء بصورت سوال تھے کہ پھر اس قدر عزت ووقارکیوں؟ امام صاحبؒ نے ان کے دل کی بات پا لی اور فرمایا:
”میں قرآن ان بزرگ سے زیادہ جانتا ہوں لیکن یہ صاحبِؐ قرآن کو مجھ سے زیادہ جانتے ہیں“۔
درحقیقت یہی علوم ظاہروباطن کی یکائی فروغ اسلام کا موجب رہی۔ اور جب نظریں محدود ہونے لگیں اور تقاضائے بشریت کا نفس پرغلبہ ہوا تو ان اقدارکا انکار ہی نہیں کیا گیا بلکہ ان سے گلو خلاصی کو لوگ ایمان اور اسلام سمجھنے لگے، اور اخوت ومحبت سے قلوب ویران ہونے لگے۔
ان بزرگ اولیاءِ کرام کو یوں سمجھئے کہ وہ سائبانِ رسالت نبی کریم ﷺ کے کناروں پر کھڑے ہیں اوراپنے اخلاق و اخلاص اور زبانِ خاموش سے قلوب کو اس دامنِ رحمت کے اندرآنے کی دعوت دے رہے ہیں۔
”دراصل یہ وہ آنسو ہیں جو غمِ امت میں ٹپک رہے ہیں۔ یہ وہ درویش ہیں جن کے سینے میں نورِ محمدیؐ کی شمع روشن ہے، اور جو اسی شمعِ ہدایت کی روشنی میں، اپنے باطن سے لے کر اپنے گردونواح کو دیکھتے ہیں، جن کے قلوب سے محبت کے چشمے پھوٹتے ہیں، جو امت کے دکھ دردکو اپناتے، بنجر قلوب کو حیاتِ نوع بخشتے ہیں۔ جن کی زبانِ خاموش اور چشمِ گویا دل میں گھرکر جاتی ہے۔ یہ مرنے سے پہلے مر جانے والوں کی ایک جماعت ہے جن پر زہدکے لباس کی جگہ خلوت خانہئ عشق کے انوار دمکتے ہیں“۔۔۔ (مقدمہ”درعینی“ از ولی الدین)
(اقتباس از نورِ مبینﷺ، مرتبہ: ڈاکٹر حامد حسن بلگرامی)

Leave a Reply

Back to top button