خبریںدنیا سے

امریکا اورایران کے درمیان بڑی جنگ کا امکان نہیں، محدود جنگ ہو سکتی ہے: سابق امریکی سفیر

ویب ڈیسک: سابق امریکی سفیر رچرڈاولسن نے کہا ہے کہ قاسم سلیمانی کی ہلاکت پرایران کاردعمل آئےگا،امریکا ایران کےجوابی حملے کیلئے تیار بیٹھا ہے، تاہم امریکا اور ایران کےدرمیان کسی بڑی جنگ کاامکان نہیں۔
سابق امریکی سفیر رچرڈاولسن نے نجی ٹی چینل اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اورایران کے درمیان کسی بڑی جنگ کا امکان نہیں تاہم محدود پیمانے کی جنگ ہو سکتی ہے۔
پاکستان کی پوزیشن کے حوالے سے رچرڈ اولسن کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان اس معاملے پر غیر جانبدار رہنا پسند کریں گے۔
سابق امریکی سفیر نے کہا کہ قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر ایران کا ردعمل آئے گا، امریکا ایران کے جوابی حملے کیلئے تیار بیٹھا ہے۔
گذشتہ روز وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ ایران،امریکہ تنازع کا حصہ بنیں گے نہ کسی کے خلاف استعمال ہوں گے، موجودہ حالات نے نئے تناؤ کو جنم دیا، جو اسامہ بن لادن اور ابوبکر الغدادی کے واقعات سے زیادہ سنگین ہو سکتا ہے۔
خیال رہے قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے، امریکی حملے پر ایران نے شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان کیا تھا اور امریکی صدر ٹرمپ کے سر کی قیمت 80 ملین ڈالر مقرر کر دی تھی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ امریکا نے حملہ کر کے بڑی غلطیاں کیں، جنرل سلیمانی کی موت کا جواب کسی بھی وقت کسی بھی شکل میں دیا جائے گا.
دوسری جانب امریکی صدر نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے امریکی تنصیبات پر حملہ کیا تو اس کا جواب دیں گے، امریکی حملہ تیز ہو گا اور انتہائی شدت سے کیا جائے گا۔
یاد رہے بغداد میں امریکی راکٹ حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت نے دنیا بھر کو ہلا کر رکھ دیا ہے، بغداد میں امریکی فضائی حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی سمیت نو افرادجاں بحق ہوگئے تھے ، ان کے قافلے کومیزائل سےنشانہ بنایا، پینٹاگون کا کہنا تھا کارروائی صدرٹرمپ کے حکم پرکی گئی۔
واضح رہے جنرل قاسم سلیمانی قدس فورس کےسربراہ تھےجو صرف رہبرِاعلی آیت اللہ خامنہ ای کوجوابدہ ہے، قدس فورس کاکام بیرون ملک خفیہ آپریشن انجام دینا ہے اور اس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کو ایران میں ہیرو تصور کیا جاتا تھا۔

Leave a Reply

Back to top button