HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » دلچسپ و حیرت انگیز » امریکی اداکارہ نے خواتین کو جنسی غلام بنانے کا اعتراف کرلیا

امریکی اداکارہ نے خواتین کو جنسی غلام بنانے کا اعتراف کرلیا

پڑھنے کا وقت: 3 منٹ

امریکی عدالت نے معروف اداکارہ ایلسن میک کو متعدد خواتین کو پروفیشنل ٹریننگ دینے کی آڑ میں انہیں جنسی غلام بنائے جانے کا مجرم قرار دے دیا جب کہ اداکارہ نے عدالت کی جانب سے عائد کردہ تمام جرائم کا اعتراف بھی کرلیا۔

امریکی اداکارہ 35 سالہ ایلسن میک اور اس کیس کے مرکزی ملزم کیتھ رنائر کو گزشتہ برس پولیس نے گرفتار کیا تھا، ان کے خلاف گزشتہ ماہ مارچ سے عدالتی کارروائی کا آغاز ہوا تھا۔

اداکارہ پر الزام تھا کہ انہوں نے متعدد نوجوان اور خوبرو کم عمر لڑکیوں اور خواتین کو پروفیشنل ٹریننگ دینے کی آڑ میں ایک کمپنی کے پاس بھیجا، جہاں خواتین کو کمپنی کے بانی کیتھ رنائر کی جانب سے جنسی غلام بنایا جاتا تھا۔

کیتھ رنائر نے ’نیگزوم‘ نامی ایک ملٹی لیول مارکیٹنگ ٹریننگ کمپنی بنا رکھی تھی، جس کا مقصد متعدد افراد کو پروفیشنل ٹریننگ فراہم کرنا تھا۔

اس کمپنی کے ساتھ اداکارہ ایلسن میک سمیت کئی نامور اداکار، صحافی اور مارکیٹنگ کے شعبے کے افراد وابستہ تھے۔

اداکارہ نے عدالتی فیصلے سے قبل جرم کا اعتراف کیا—فائل فوٹو: انٹرٹینمنٹ ٹونائٹ
اداکارہ ایلسن میک بھی اسی کمپنی کے تحت پروفیشنل ٹریننگ کے لیے خواتین کو بھرتی کیا اور انہیں کمپنی کے ہیڈ آفس بھیجا، جہاں پر ان خواتین کو کمپنی کے بانی کیتھ رنائر کی جانب سے جنسی تسکین کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) کے مطابق نیویارک کے نواحی شہر بروکلن کی عدالت نے اداکارہ ایلسن میک کو خواتین کو پروفیشنل ٹریننگ دینے کی آڑ میں بھرتی کرکے انہیں جنسی غلام بنائے جانے کا مجرم قرار دیا۔

ایلسن میک کو ایک ایسے دن اس کیس کا مجرم قرار دیا گیا، جب کہ اسی کیس کو امریکا کی وفاقی عدالت کی خصوصی جیوری نے خصوصی ٹرائل کی منظوری دی تھی۔

اب یہ کیس وفاقی عدالت کی خصوصی جیوری کے ماتحت چلے گا اور اداکارہ کو کم سے کم 20 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

کیتھ رنائر کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے—اسکرین شاٹ/یوٹیوب
ایلسن میک سے قبل گزشتہ ماہ اسی کیس میں پروفیشنل ٹریننگ کے لیے بنائی گئی کمپنی کے ایک اعلیٰ عہدیدار کو بھی مجرم قرار دیا گیا تھا، تاہم انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کرتےہوئے کہا تھا کہ وہ کسی غلط کام میں ملوث نہیں۔

تاہم تاحال کیس کے مرکزی ملزم اور کمپنی کے بانی کیتھ رنائر پر فرد جرم عائد نہیں کی جاسکی، تاہم وہ گرفتار ہے اور ان کے خلاف سماعتیں جاری ہیں۔

عدالت کی جانب سے ایلسن میک کو مجرم قرار دیے جانے سے قبل ہی اداکارہ نے اعتراف کیا کہ وہ خواتین کو جنسی غلام بنائے جانے کی مہم کا حصہ رہی ہیں اور انہوں نے کئی خواتین کو کیتھ رنائر کے پاس بھیجا تا کہ وہ ان سے جنسی تسکین لینے کے بعد انہیں غلام بنا کر رکھے۔

ایلسن میک نے تمام الزامات کو تسلیم کرتے ہوئے خود کو ہی خواتین کو جنسی غلام بنائے جانے کا قصور وار ٹھہرایا۔

اسی کیس میں عدالت میں پیش کیے حکومتی دستاویزات کے مطابق کیتھ رنائر نے پروفیشنل ٹریننگ دینے کی ایک کمپنی بنا رکھی تھی اور اسی کمپنی کے تحت ٹریننگ دیے جانے کے تحت لائی گئی خواتین کو کمپنی کے بانی کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔

تاہم کمپنی کے وکلاء ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔

جواب دیجئے