تازہ ترینخبریںدنیا سے

امریکی بل میں پاکستان سے متعلق منفی حوالہ جات خارج

امریکی مفادات کےلیے پاکستان کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کا ایک اشارہ گزشتہ ہفتے سامنا آیا جب جوبائیڈن انتظامیہ نے اسلام آباد کو پہلے جمہوری سمٹ میں مدعو کیا جو 9 سے 10 دسمبر تک جاری رہا۔

امریکی ایوان کے نمائندگان نے کابل پر طالبان کے قبضے پر پاکستان کے کردار سے متعلق تمام منفی حوالہ جات خارج کردیے، مذکوہ ریفرنسز میں ملک کو سقوطِ کابل کا موردِ الزام ٹھہرایا گیا تھا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس کے ساتھ منفی پیشرفت دیکھی گئی ہے،جو گزشتہ ہفتے سری لنکن فیکٹری مینیجر کی المناک ہلاکت ہے، اس واقعے سے ملک میں سیکیورٹی کے حالات پر تشویش میں اضافہ ہوتا ہے، اس دوران امریکا کے وفد نے پاکستان کا خفیہ دورہ بھی کیا۔

امریکا کےقومی سلامتی ایکٹ 2022 کے متن میں امریکا کے سیکریٹریز برائےدفاع اور ریاست کو کانگریس کی کمیٹی کے حوالے سے تصدیق فراہم کرنی تھی کہ پاکستان کو ’حمایت‘ فراہم کرنا امریکا کے قومی سلامتی کے مفاد میں ضروری ہے۔

تاہم ترمیمی ویژن سے ’پاکستان‘ کو نکال کر متن تبدیل کرتے ہوئے’افغانستان کے قریب کوئی بھی ملک‘ لکھ دیا گیا، ایک اور ریفرنس جس کے حقیقی متن میں کابل میں طالبان کے قبضے میں پاکستان کے کردار کی وضاحت طلب کی گئی تھی، اسے حذف کردیا گیا اور اس ریفرنس میں مزید کچھ شامل نہیں کیا تھا۔

تاہم، ایکٹ میں امریکا کے انخلا کی وجوہات اور اثرات کی تحقیقات کی شرط برقرار رکھتے ہوئے تجویز دی گئی کہ اس عمل کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو افغانستان کےقریب اور دور دراز پڑوسیوں کے کردار کا جائزہ لے۔

امریکی مفادات کےلیے پاکستان کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کا ایک اشارہ گزشتہ ہفتے سامنا آیا جب جوبائیڈن انتظامیہ نے اسلام آباد کو پہلے جمہوری سمٹ میں مدعو کیا جو 9 سے 10 دسمبر تک جاری رہا۔

دعوت پر تبصرہ کرتے ہوئے واشنگٹن کے بارسوخ تھنک ٹینک بروکنگ انسٹی ٹیوشن نے پاکستان کو مدعو کرنے اوربنگلہ دیش کو دعوت نا دینے پر دو وجوہات کا حوالہ دیا، ایک یہ کہ ’امریکی فہرست میں کس کا اسکور قدرے بہتر ہے‘۔

بروکنگ انسٹی ٹیوشن نے وضاحت دی کہ ’2015 سے پاکستان کے جمہوری اسکور میں قدرے بہتری دیکھی جارہی ہے جبکہ بنگلہ دیش میں جمہوری نظام خرابی کا شکار ہے‘۔

انہوں نے دوسری وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکا خطےمیں جمہوری حریف کے ساتھ بھارت کی شمولیت متوازن کرنا چاہتا ہے‘۔

بروکنگز انسٹی ٹیوشن نے رپورٹ میں کہا کہ امریکا کی درجہ بندی میں بھارت درمیانے درجے پر موجود ہے سال 2020 سے 2021 تک حکومتی اختیارات میں رکاوٹ، کرپشن کی غیر حاضری اور بنیادی حقوق کی فراہمی میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔

علاوہ ازیں، 3 دسمبر کو سری لنکن فیکٹری مینجر پرینتھا کمار کے قتل کے پاکستان کی تصویر پر منفی اثرات نمودار ہوئے ہیں۔

واقعے کے بعد امریکی سینیٹ وفد نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

وفد میں سینیٹر انگس کنک، ریچرڈ بر، جوہن کورنین اور بینجامن سس شامل تھے، انہوں نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے دوران پاکستان کے ساتھ بہترین تعلقات برقرار رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

تاہم ان کے آنے اور اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کی خبر وفد کی روانگی کے بعد جاری کی گئی، بظاہر یہ امریکا کی ہدایات پر کیاگیا تھا۔

یاد رہے کہ 9/11 کے بعد امریکا اور مغربی اقوام پاکستان کے حوالے سےتشویش کا شکار ہیں، لیکن آہستہ آہستہ امریکا کی پابندیاں کم ہوتی جارہی ہیں۔

امریکی عہدیداران نے مستقبل میں سرکاری بریفنگ میں بھی پاکستان کے دورے کی باتیں شروع کردی ہیں، البتہ ان دوروں کے شیڈول کا اعلان ہرگز نہیں کیا گیا، لیکن سانحہ سیالکوٹ کے بعد لگتا ہے کہ امریکی دورے کے بعد ہی پاکستان سے متعلق گفتگو میں اپنے پرانے انداز پر لوٹ آئے ہیں۔

Leave a Reply

Back to top button