کالم

امن جیتنا جنگ جیتنے سے زیادہ مشکل ہوتا ہے

امریکی صدر بارک اوباما نے عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی جو پالیسی اختیار کر رکھی ہے اس کے مخالف امریکی باشندوں کی تعداد اس کے حامیوں سے کہیں زیادہ ہو گئی ہے۔ امریکی صدر کی مذکورہ بالا پالیسی کی حمائت 41 فیصد امریکی عوام نے کی ہے جبکہ اس پالیسی کی مخالفت کرنے والوں کا تناسب پچاس فیصد ہے۔ صدر بارک اوباما کے اقتدار کے دوران یہ امریکی رائے عامہ کا یہ رحجان پہلی مرتبہ دیکھنے کو ملا ہے۔ یہ رائے شماری نیو یارک ٹائمز سی بی ایس پول کے تحت ہوئی۔
رائے شماری کے نتائج سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ پچپن فیصدامریکی لوگوں نے امریکہ کی جانب سے شام میں فوجیں بھیجنے کی مخالفت کی ہے جبکہ 69 فیصدی اس لشکر کشی کے حق میں ہیں۔ امریکی صدر اوباما کی خارجہ پالیسی کے بارے میں 58فیصد امریکی باشندوں کا ردعمل منفی میں ہے۔ اس موضوع پر سابقہ سروے کو سامنے رکھیں تو منفی ردعمل رکھنے والوں میں بارہ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس پالیسی کی حمائت کرنے والوں کا تناسب صرف 34فیصد رہ گیا ہے۔ مجموعی طور پر 33فیصد امریکی سمجھتے ہیں کہ صدر بارک اوباما کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پالیسی نے امریکہ کو پہلے سے زیادہ غیر محفوظ بنا دیا ہے۔
سروے میں کانگریس کے بارے میں گہری مایوسی ظاہر کی گئی ہے۔ 70فیصد لوگوں نے ری پبلکن پارٹی کی کارکردگی کے بارے میں مایوسی ظاہر کی ہے جبکہ اکسٹھ فیصد نے ڈیموکریٹس کے بارے میں ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ 12ستمبر سے 15ستمبر تک کے اس سروے میں ایک ہزار نو امریکی باشندوں کی رائے معلوم کی گئی۔
صدر بارک اوباما کی دہشت گردی کے خلاف جنگ سے امریکی عوام کی مایوسی کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف امریکی صدر نے اگر جنگ جیت لی ہے تو وہ جنگ امن بحال کرنے میں ناکام رہی ہے اور دنیا پہلے سے کہیں زیادہ غیر محفوظ ہو چکی ہے۔ ان کالموں میں ممتاز عالمی دانشور آئین سٹائن کے حوالے سے بتایا گیا تھا۔ ہتھیاروں کی مدد سے جنگ جیتی جا سکتی ہو گی مگر ہتھیاروں سے امن نہیں جیتا جا سکتا۔
سال 1978 میں بتایا گیا تھا کہ آئین سٹائن کے اس فرمودے کی وضاحت اس حقیقت سے ہوتی ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد کے ”زمان? امن” کے دوران ویت نام سے افغانستان عراق، کشمیر اور فلسطین تک کے 162بڑے جنگی تصادموں کی صورت میں لڑی جانے والی ”تیسری عالمی جنگ” میں اب تک 18کروڑ سے زیادہ انسانی زندگیاں تلف کی جا چکی ہیں جبکہ پہلی عالمی جنگ میں دو کروڑ اور دوسری عالمی جنگ میں پانچ کروڑ لوگ مارے گئے تھے۔ گویا ”زمان? امن” کی جنگ میں دو سابقہ جنگوںمیں مارے جانے والے لوگوں سے دو گنا سے بھی زیادہ لوگ مارے گئے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔

Leave a Reply

Back to top button