HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » دین و مذہب » ام المومنین سیدہ خدیجة الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ام المومنین سیدہ خدیجة الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

پڑھنے کا وقت: 6 منٹ

حافظ کریم اللہ چشتی پائی خیل…….

امام ابن شہاب زہری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عورتوں میں سب سے پہلے ام المومنین سیدہ خدیجة الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا سرکارمدینہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پرایمان لائیں۔(المستدرک للحاکم،بیہقی) اورآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کوحضورنبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پہلی بیوی ہونے کی بھی سعادت حاصل ہے ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی ولادت باسعادت عام الفیل سے پندرہ سال قبل ہوئی۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاقریش خاندان کی بہت باوقاراورممتازخاتون تھیں ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی کنیت "ام ہند” ہے۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاحسن سیرت ،اعلیٰ اخلاق،بلندکردار،عزت وعصمت کی مالک اورشرافت ومرتبہ کی وجہ سے مکة المکرمہ اوراردگردکے علاقوں میں ”طاہرہ“کے خوبصورت اورپاکیزہ لقب سے مشہورہوئیں ۔اورایسی تمام برائیوں سے پاک تھیں جوعرب میں پھیلی ہوئی تھیں ۔

سیرت تیمی میں ہے کہ ام المومنین سیدہ خدیجة الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکالقب”سیدہ نساءقریش“تھا۔(شرح سیرت ابن ہشام)آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کانسب حضوراکرم نورمجسم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نسب شریف سے” قصی “سے مل جاتاہے ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکانسب یہ ہے ۔ حضرت خدیجہ بنت خویلدبن اسدبن عبدالعزیٰ بن قصی بن کلاب بن مرة بن کعب بن لﺅی بن غالب بن فہر، والدہ ماجدہ کانام فاطمہ بنت زائدہ بن الاصم بن رواحہ بن حجربن عبدبن معیص بن عامربن لﺅی بن غالب بن فہر(بحوالہ شرح سیرت ابن ہشام،طبقات ابن سعد)آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاقریش مکہ کی عورتوں میں سب سے زیادہ مالداراورباثروت خاتون تھیں ۔والداورشوہرکے انتقال کے بعدوہ مال جووالداور شوہر چھوڑگئے تھے اس کی مالک ہونے کے باعث آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے اس مال کونہایت سلیقے سے کام میں لگایا۔

مکہ معظمہ میںحضورنبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سچائی کاچرچا عام تھا۔ہرشخص آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کوصادق اورامین کے لقب سے یادکرتاتھا۔سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کوجب آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صادق اورامین ہونے کاپتاچلاتوآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے آقاصلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیغام بھیجاکہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم میرامال ملک شام لے جائیں اوروہاں جاکرتجارت کریں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ بات منظور کرلی اورمال تجارت کی غرض سے ملک شام لے گئے اس دفعہ تجارت میں بہت زیادہ منافع ہوا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکاغلام” میسرہ“ بھی آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ہمراہ تھاوہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے تجارتی معاملات اورصداقت ودیانت سے بہت متاثرہوا۔

میسرہ نے واپسی پرسیدہ خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بہت تعریف کی۔
غریب پروری اورسخاوت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی امتیازی خصوصیات تھیں ۔سرکارمدینہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی صداقت ،شرافت وایمانتداری سے مرعوب ہوکراپنی سہیلی نفیسہ کوبھیج کرنکاح کی خواہش کی جوکہ قبول کرلی گئی۔آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چچا حضرت ابوطالب نے نکاح پڑھایا۔اورپانچ سودرہم مہرمقررہوا شادی کے وقت آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی عمرمبارک25سال اورسیدہ خدیجة الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمرمبارک40سال تھی ۔ام المومنین سیدہ خدیجة الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دوبیٹے اورچاربیٹیاں پیداہوئیں ۔آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بیٹے بچپن ہی میں وفات پاگئے بیٹیوں کے نام یہ ہیں۔سیدہ زینب ،سیدہ رقیہ ،سیدہ ام کلثوم،سیدہ فاطمة الزہراسلام اللہ علیہا

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا مہرووفاکاپیکرعظیم تھیں ۔اپنی رفاقت میں ایک گھڑی بھی سرکارعلیہ الصلوٰة والسّلام کوناراض نہ ہونے دیا۔سب سے پہلے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاآقاصلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نبوت پرایمان لائیں ۔ابتدائے اسلام میں جبکہ ہرطرف مخالفین نے مشکلات کے پہاڑے کھڑے کیے ہوئے تھے نہ صرف خودایمان وعمل صالح پرثابت قدم رہیں بلکہ نہایت جانثاری سے حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی دلجوئی اورتسکین قلب کاسامان کرتی رہیں ۔(زُرقانی ،الاستعیاب)آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اسلام کی دعوت وتبلیغ میں بے حدمددگارثابت ہوئیں۔ اوراپنی تمام دولت سرکارمدینہ علیہ الصلوٰة والسّلام پرقربان کردی ۔سیدناجبرائیل امین علیہ السلام آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے نام رب العالمین کاسلام وبشارتیں لے کرآیاکرتے تھے ۔(مسلم شریف،مسنداحمدبن حنبل،سیرت ابن ہشام)

حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شادی کے پندرہ سال بعدجب حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پرپہلی وحی نازل ہوئی توآپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم بہت گھبرائے اورگھر تشریف لے آئے ۔ام المومنین سیدہ خدیجہ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کوبہت تسلی دی اورآپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کواپنے چچازادبھائی ”ورقہ بن نوفل“ کے پاس لے گئیں انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کوتسلی دی ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کوحضورنبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے بے حدمحبت تھی ۔گھرمیں باندیاں اورغلام ہونے کے باوجودوہ خوداپنے ہاتھوں سے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کاکام کرناباعث فخرسمجھتی تھیں اورہربات میں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مرضی کومقدم سمجھتی تھیں ۔

کفارمکہ نے جب اسلام کازوردن بدن بڑھتادیکھااوراپناہرحربہ اورتدبیرناکام دیکھی توسن 7نبوی میں قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اوران کے خاندان کے خلاف ایک دستاویزتیارکرکے خانہ کعبہ میں لٹکادی قریش کاکہناتھاکہ جب تک بنی ہاشم اوربنی مطلب کے لوگ حضوراکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو (معاذاللہ)قتل کرنے کے لئے ہمارے حوالے نہیں کردیتے ان سے ہرطرح کامعاشرتی تعلق اوربول چال بندرکھی جائے ۔اس بائیکاٹ کی وجہ سے بنوہاشم خودایک گھاٹی میں منتقل ہوگئے ۔حضرت ابوطالب نے حضورصلی اللہ علیہ والہ وسلم اوراپنے خاندان کے ہمراہ گھاٹی میں پناہ لی ۔وہ گھاٹی ”شُعب ابی طالب “کہلاتی ہے ۔ام المومنین سیدہ خدیجة الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہاامیری اورخوشحالی کے باوجودآپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ گھاٹی میں رہیں تین سال اس تکلیف بھوک اورپیاس کاسامناکرتے ہوئے گزرگئے کبھی کبھی سیدہ خدیجہ الکبری کے اثرورسوخ کے سبب کھاناپہنچ جاتاآخرتین سال بعدگھاٹی” شُعب ابی طالب “سے رہائی ہوئی توآپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم مع خاندان کے اپنے گھرآئے۔

سیدہ خدیجہ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سچی مشیرکارتھیں ۔نبوت ملنے سے پہلے اورنبوت کے ابتدائی دنوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم غارِحرامیں جاکرکئی کئی روزاللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہتے تھے ۔یہ راستہ بڑاناہموارتھااس پرچلنابھی مشکل ہوتاتھا۔اس کے باوجودبھی سیدہ خدیجہ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لئے کھانا،ستو،کھجوریں اورپانی وغیرہ لے کرجاتیں اورغارمیں پہنچاتیں۔

جواب دیجئے