HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » دین و مذہب » ام المومنین سیدہ عائشة الصدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا

ام المومنین سیدہ عائشة الصدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا

پڑھنے کا وقت: 10 منٹ


حافظ کریم اللہ چشتی پائی خیل……

سرکارِمدینہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات ایک ممتازشان انفرادیت رکھتی ہیں ۔جنہیں ”امہات المومنین“کے منفردخطاب سے نوازا گیاہے۔ ارشادباری تعالیٰ ہے ۔

اے نبی (صلی اللہ علیہ والہ وسلم )کی بیویو!تم اور عورتوں جیسی نہیں ہو۔ اگرتم اللہ سے ڈرتی ہو تو بات کرنے میں ایسی نرمی نہ کرو کہ دل کا مریض آدمی کچھ لالچ کرے اورتم اچھی بات کہو۔ اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو۔ جیسے پہلی جاہلیت کی بے پردگی اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے گھر والو! اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کرکے خوب صاف ستھرا کر دے۔

ان آیات بینات میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشادفرمایاکہ اے میرے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بیویو!تم فضیلت اورشرف میں اورعورتوں جیسی نہیں ہو۔کیونکہ تم سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ازواج اورتمام مومنوں کی مائیں ہواورتمہیں میرے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے خاص قرب حاصل ہے اورجب تمہاری قدراتنی اعلیٰ اورتمہارارتبہ اتناعظیم ہے تویہ بات تمہاری شان کے لائق نہیں کہ تم دنیاکی زینت اورآرائش کامطالبہ کرو۔اے میرے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ازواج !تم اپنے گھروں میں ٹھہری رہواوراپنی رہائش گاہوں میں سکونت پذیررہو(اورشرعی ضرورت کے بغیرگھروں سے باہرنہ نکلو)۔یاددرہے اس آیت میں خطاب اگرچہ ازواج مطہرات کوہے لیکن اس حکم میں دیگرعورتیں بھی داخل ہیں۔(تفسیرروح البیان)

سرکارمدینہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشادفرمایا ۔”تم میںسے بہترین وہ ہے جواپنے گھروالوں کے ساتھ اچھاہے اورمیں اپنے گھروالوں کے ساتھ سب سے بہتر ہوں“۔(سنن ترمذی)ازواج مطہرات کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لطف ومدارت کااندازہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی گھریلوزندگی کے واقعات سے ہوتاہے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پہلی بیوی ام المومنین سیدہ خدیجة الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہاجو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے عمرمیں25سال بڑی تھیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ان کی زندگی میں دوسری شادی نہیں کی ۔

ام المومنین سیدہ خدیجة الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے انتقال کے بعدآپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے گھرکاانتظام چلانے کے لئے کوئی خاتون نہیں تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تبلیغی مصروفیات بڑھ گئیں توسرکارمدینہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک بڑی عمرکی خاتون ام المومنین سیدہ سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اورایک نوعمرخاتون ام المومنین سیدہ عائشہ الصدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح کرلیاآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکانکاح نبوت کے دسویں سال ماہ ِشوال المکرم میں ہجرت سے تین سال قبل ہوا۔ہمدم مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم بننے کاشرف ماہِ شوال المکرم ہی میں ۲ہجری کوحاصل کیا۔اس وقت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی عمرمبارک نوسال تھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نوسال سرکارمدینہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ بسرکیے یعنی جب آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کاوصال ہوااس وقت ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمرمبارک۸۱سال تھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا واحدکنواری خاتون تھیں جوآپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے عقد( نکاح) میں آئیں۔

ام المومنین سیدہ عائشة الصدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی ولادت مبارکہ سرکارِمدینہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بعثت کے چارسال بعدماہِ شوال المکرم میں ہوئی۔نام نامی اسم گرامی ”عائشہ“ لقب ”صدیقہ“ کنیت”ام عبداللہ“جو سرکارمدینہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اجازت سے اپنے بھانجے حضرت عبداللہ بن زبیررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام پر اختیارکی ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاصدق ووفاکے پیکرامیرالمومنین سیدناحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی تھیں ۔ والدہ ماجدہ کانام زینب جن کی کنیت اُم رومان بنت عامرابن عویم ہیںآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا قریش کے قبیلہ بنوتیم سے تعلق رکھتی تھیں ۔

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکاسلسلہ نسب سیدة عائشہ بنت ابوبکرصدیق بن ابوقحافہ بن عامربن عمروبن کعب بن سعدبن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی تک جاپہنچتاہے۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاعہدبچپن سے انتہائی ذہین اورسادگی پسندتھیں ۔اپنی عمر مبارک میں سرکارمدینہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کوکبھی شکایت کاموقع نہ دیااورایک وفاشعاربیوی کی حیثیت سے رہیں گھرکاساراکام خودکرتیں اگرکبھی مال کی فراوانی ہوتی بھی توراہِ خدامیں تقسیم فرمادیتیں ۔حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایاکرتے تھے کہ میں نے ان سے زیادہ سخی کسی کونہیں دیکھا۔

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ امیرمعاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی خدمت میں لاکھ درہم بھیجے توشام ہوتے ہی سب خیرات کردیے اور اپنے لئے کچھ نہ رکھا۔اس وقت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاخودروزے سے تھیں ۔جب افطارکاوقت ہواتوخادمہ کہنے لگی ۔اے ام المومنین !میں نے سب کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کردیا۔اب افطارکے لئے کھجورکاایک دانہ تک نہیں ہے ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے شکراورصبرکے ساتھ سادہ پانی سے روزہ افطارکردیا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا میں جذبہ سخاوت اسقدروسیع تھاکہ کوئی سائل خالی ہاتھ نہ لوٹتا۔

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکاحافظہ بہت تیزاورحصولِ علم کابہت شوق تھا۔سرکارمدینہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ہرطرح کے مسائل بے جھجک معلوم کرتیں اورخواتین کی رہنمائی کرتی تھیں ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے معلم کائنات سے تعلیم حاصل کی اسی وجہ سے اتنی بلندپایہ عالمہ ہوگئیں کہ آقاصلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ظاہری وصال کے بعدبڑے بڑے صحابہ کرام علہیم الرضوان ”آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا“ سے مسائل دریافت فرماتے تھے۔حضرت موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب بھی ہمیں کوئی علمی مشکل پیش آتی توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی خدمت میں حاضری دیتے ۔آپ اس کے بارے میں تسلی بخش معلومات فراہم کردیتیں“۔(ترمذی)

سرکارِمدینہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پرجب وحی اترتی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہااسے یادفرمالیتیںخلاصہ تہذیب میں ہے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے دوہزاردوسودس 2210احادیث مبارکہ مروی ہیں اسی بناءپرآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو”کثیرة الحدیث “بھی کہاگیاہے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہافن خطابت حدیث قرآن وفقہ میں بے حدماہرتھیں ۔(البدایہ والنہایہ)۔آپ رضی اللہ تعالی عنہا بے حدزاہداورعابدہ تھیں ہرسال حج اداکرتیں غزوات میں زخمیوں کی مرہم پٹی اورزخمیوں کوپانی پلانے کی ذمہ داری اٹھاکرجہادمیں حصہ لیتی تھیں۔غزوہ خیبرمیں سرکارمدینہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کادوپٹہ میدان جنگ میں بطور”علم “لہرایا۔(مواہب اللدنیہ جلد،اول،صفحہ375) اسی بناءپراللہ پاک نے مسلمانوں کوفتح عطافرمائی جوکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی عظمت کی دلیل ہے۔

جواب دیجئے