Welcome to HTV Pakistan . Please select the content and listen it   Click to listen highlighted text! Welcome to HTV Pakistan . Please select the content and listen it
Uncategorized

انتخابی اصلاحات 2021، الیکٹرانک ووٹنگ مشین، سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق اور کلبھوشن یادیو سمیت 33 بلز منظور

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومت نے اپنی برتری ثابت کر دی جس کے نتیجے میں انتخابی اصلاحات بل 2021، الیکٹرانک ووٹنگ مشین، سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق اور کلبھوشن یادیو سمیت 33 بلز منظور کرلئے گئے۔
ایوان میں مختلف بلز پر رائے شماری ہوئی جس میں حکومت نے اپوزیشن کو 203 ووٹ کے مقابلے میں 221 ووٹ لے کر 18 ووٹوں سے شکست دے دی۔
اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی اور سینیٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا تو ایجنڈا شروع ہوتے ہی اپوزیشن نے شور شرابہ کیا اور نو نو کے نعرے لگائے۔ ایجنڈے میں انتخابی اصلاحات بل 2021، الیکٹرانک ووٹنگ مشین، سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے اور کلبھوشن یادیو سے متعلق بل سمیت متعدد بلز شامل تھے۔
بتایا گیا ہے کہ پارلیمنٹ نے انتخابی ایکٹ 2017ء میں مزید ترمیم کرنے کے بل ’انتخابات ترمیم دوئم بل 2021ء‘ کی کثرت رائے سے منظوری دے دی جبکہ اپوزیشن کی طرف سے پیش کی گئیں ترامیم مسترد کردی گئیں۔
اپوزیشن نے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کا بل منظور ہونے پر واک آؤٹ کیا تاہم بل کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔ اس بل کی منظوری کے بعد عام انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (EVMs) کے استعمال اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق مل سکے گا۔
بدھ کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے انتخابی ایکٹ 2017ء میں مزید ترمیم کرنے کا بل ’انتخابات ترمیم دوئم بل 2021ء‘ آئین کے آرٹیکل 70 کی شق (3) کے تحت فی الفور زیر غور لانے کی تحریک پیش کی جس کی ایوان نے منظوری دی اور بعد ازاں ایوان سے بل کی شق وار منظوری لی گئی۔
مذکورہ بل کی شق نمبر 2 پر اپوزیشن رکن محسن داوڑ کی جانب سے ترمیم پیش کی گئی لیکن بابر اعوان نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ یہ بل کافی عرصہ سے چلا آرہا ہے، بل 90 دن سینیٹ میں زیر غور رہا، یہ اس میں تاخیر چاہتے ہیں، یہ ترمیم غیر ضروری ہے۔ اس پر ایوان سے رائے لی گئی اور کثرت رائے سے ترمیم مسترد کردی گئی۔
بعد ازاں اپوزیشن کی جانب سے چیلنج کرنے پر اس پر ووٹنگ کرائی گئی۔ تحریک کے حق میں 221 اور مخالفت میں 203 ووٹ آئے اور یوں تحریک منظور کرلی گئی۔ اس دوران اپوزیشن نے دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا اور ایوان میں شور شرابا اور اسپیکر کے ڈائس کا گھیراؤ کرلیا۔ اسپیکر نے سارجنٹ ایٹ آرمز کو ایوان میں طلب کیا جنہوں نے اسپیکر ڈائس کو اپنے حصار میں لیا۔
مشیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے دوسری ترمیم پیش کی، اس پر تاج حیدر نے اپنی ترمیم پیش کی جس کی بابراعوان نے مخالفت کی۔ اسپیکر نے بابر اعوان کی ترمیم ایوان میں پیش کی اور اسے کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔ ایوان نے تاج حیدر کی ترمیم کثرت رائے سے مسترد کردی۔
شق (3) میں تین ترامیم تھیں۔ بابر اعوان نے اس پر اپنی ترمیم پیش کی جو منظور کرلی گئی۔ سینیٹر مشتاق احمد خان نے ترمیم پیش کی، مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے اس کی مخالفت کی اور ایوان نے مشتاق احمد خان کی ترمیم مسترد کردی۔
اس کے بعد بابر اعوان نے انتخابات ایکٹ 2017ء میں مزید ترمیم کرنے کا بل ’انتخابات ترمیم دوئم بل 2021ء‘ منظوری کے لیے پیش کیا جس کی ایوان نے کثرت رائے سے منظوری دے دی۔
اس بل کے مطابق پاکستانی تارکین وطن کو ووٹ کا حق دینے کے لیے الیکشن کمیشن، نیشنل رجسٹریشن اینڈ ڈیٹا بیس اتھارٹی (نادرا) اور دیگر ایجنسیز کی تکنیکی معاونت حاصل کرسکے گا۔
اس بل کے مطابق الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (EVMs) کی خریداری بھی کی جاسکے گی۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سے متعلق ’عالمی عدالت انصاف نظرثانی و غورِ مکرر بل 2021‘ بھی منظور کر لیا گیا۔ یہ بل وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے پیش کیا جسے کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔
اس بل کا مقصد کلبھوشن یادیو سے متعلق عالمی عدالت انصاف (ICJ) کے فیصلے کو عملی جامہ پہنانا ہے۔اس بل پر بھی اپوزیشن اراکین کی جانب سے ووٹوں کی گنتی کو غلط قرار دیتے ہوئے اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کر کے احتجاج کیا گیا جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ گنتی پر ووٹنگ بالکل ٹھیک ہوئی ہے۔

Leave a Reply

Back to top button
Click to listen highlighted text!