تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

اندرجو: سالہا سال سے مختلف امراض کی اکسیر دوا

طب یونانی کی قدیم مستند کتب میں بھی کڑا چھال اور بیج اندرجو کا ذکر ملتا ہے۔ طب ہومیوپیتھی کے میٹریا میڈیکا میں بھی یہ شامل ہے اور طب ایلوپیتھی کے انڈین نیشنل فارماکوپیا میں بھی اندر جو کا ذکر ہے۔اندرجو کے بیج، پتے، جڑ، چھال سب طبی افادیت کے حامل ہیں۔

اندر جو کا درخت ہندوستان کے گرم و خشک پہاڑی علاقوں میں تین سے چار ہزار فٹ کی بلندی پر ملتا ہے۔ ٹراونکور کے جنگلوں، کشمیر و کانگڑہ، بنگال، اڑیسہ اور آسام کے جنگلوں میں بھی عام ملتا ہے۔علاوہ ازیں یہ درخت پاکستان میں بھی پایا جاتا ہے۔ لاہور کے جناح گارڈن (لارنس پارک)میں اس کے کئی درخت ہیں۔

اندر جو کے درخت کی ہر شاخ پر کم و بیش 15سے 20 پتے آتے ہیں، جو چھ سے آٹھ انچ لمبے اورلگ بھگ دو سے چار انچ تک چوڑے ہوتے ہیں۔ یہ دو دو قطاروں میں آمنے سامنے نکلے ہوتے ہیں۔ یہ نوکدار امرود کے پتوں کی طرح ہوتے ہیں۔ ماہ جنوری میں اکثر سب پتے جھڑ جاتے ہیں اور مارچ، اپریل میں نئے پتے نکل آتے ہیں۔ اپریل، مئی میں سفید رنگ کے پھول گچھوں کی صورت میں آتے ہیں جو چنبیلی کے پھولوں کی شکل جیسے ہوتے ہیں۔ دسمبر سے جنوری تک اس کے درخت پر سہانجنا کے درخت کی طرح پھلیاں لگتی ہیں، یہ پھلیاں پنسل جتنی موٹی اور گول، بالشت بھر لمبی ہوتی ہیں۔ یہ موسم سرما میں پک جاتی ہیں اور مارچ، اپریل میں تڑخ جاتی ہیں اور ان کے اندر سے جو بیج نکلتے ہیں یہ جو کی شکل کے ہوتے ہیں اور یہی بیچ اندر جو کے نام سے مشہور ہیں۔

اندر جو ہندی زبان کا لفظ ہے، بنگالی میں بھی اندر جو، گجراتی میں پندھرا، فارسی میں کنجشک، سنسکرت میں کنج پھل، پنجابی میں کوار یاکورا انگریزی میں ہولا رینا اینٹی ڈائسینٹر یکا (Holarrhena Anti Dysenterica) کہتے ہیں۔

اندر جو ذائقہ کے لحاظ سے کڑوے اور میٹھے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ درخت کالا کے بیج اندر جوتلخ(کڑوے) اور درخت سفید کے بیج اندر جو شیریں (میٹھے) کہلاتے ہیں۔اس درخت کے پتے یا پھل توڑنے پر دودھ نکلتا ہے۔ اس درخت کی چھال کو کڑا چھال اور انگریزی میں کُرچی بارک کہتے ہیں۔

طب یونانی کی قدیم مستند کتب میں بھی کڑا چھال اور بیج اندرجو کا ذکر ملتا ہے۔ طب ہومیوپیتھی کے میٹریا میڈیکا میں بھی یہ شامل ہے اور طب ایلوپیتھی کے انڈین نیشنل فارماکوپیا میں بھی اندر جو کا ذکر ہے۔اندرجو کے بیج، پتے، جڑ، چھال سب طبی افادیت کے حامل ہیں۔

ٍاندر جو کے طبی فوائد:
اندر جو صدیوں سے ہندوستان میں مختلف امراض کے علاج کیلئے استعمال ہو رہا ہے۔ اس درخت کے پتے، چھال، بیج اور جڑیں سب انتہائی طبی افادیت کی حامل ہیں۔

بواسیر و پیچش:
اندر جوبواسیر خونی، عام دست، درد پیٹ اور پیٹ کے کیڑوں کے لئے مفید ہے۔اندرجو کی جڑ بھی پیٹ کے کیڑوں کے لئے مفید ہے۔ اس کی چھال پیچش کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ اندرجوتلخ کا سفوف بھی ایک دو رتی بچوں کو کھلانے سے دستوں کو آرام آجاتا ہے۔
تازہ کڑا چھال کے رس کی دس سے پندرہ بوندیں دینے سے عام دست کو آرام آجاتا ہے۔درخت کے پتوں کا سفوف ہر روز دوگرام لے کر پانی کے ساتھ کھانے سے دو تین ہفتہ میں خونی بواسیر کو آرام آجاتا ہے۔

زہریلے ڈنک کی سوجن:
یونانی طب کے مطابق اندر جوکی پھلی کو پیس کر زہریلے ڈنک پر لگانے سے سوجن اتر جاتی ہے۔

اسہال:
اندرجو کی چھال، اندر جواورناگرموتھا،ہر ایک دو دو گرام کا جوشاندہ شہدملا کر پلانے سے اسہال میں فوری افاقہ آ جاتا ہے۔

دانت درد:
انڈیا کی ماڈرن طبی فارماکوپیا کے مطابق دانت دردکے لئے اس کے پتوں کا چبانا فائدہ مند ہے۔

آنتوں کے امراض:
اندر جو تلخ کو دیگر دیسی ادویات کے ساتھ ملا کر کھانا آنتوں کے امراض اور بخار کی کمزوری میں مفید ہے۔

مردانہ طاقت:
اندر جو اعصابی امراض میں مفید ہے۔اس کے بیج مردانہ طاقت کے لئے اکسیر ہیں۔

مویشیوں کا چارہ:
اندر جو کے پتے اور پھلیاں کسان مویشیوں کے لئے چارہ کی صورت میں بھی استعمال کرتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Leave a Reply

Back to top button