منتخب کالم

انقلابِ فیض اور عمران خان…… علی احمد ڈھلوں

یہ اُکھڑے اُکھڑے لہجے، بل کھاتے رویے، زمینی حقائق سے کوسوں دور غلط ملط فیصلے، آپسی لڑائیاں، عوام کی دُہائیاں، صحت، تعلیم اور روزگار جیسی نعمتوں سے محروم ہوتے پاکستانی اور ساری طاقتوں کا ایک پیج پر نہ ہونے کا تاثر …… یہ سب باتیں اور نااُمیدیاں آجکل پاکستان کی حکومت کا مقدر بن رہی ہیں، گھبراہٹ کا عالم یہ ہے کہ ایسے میں اگر کہیں سے کوئی اچھی خبر آجائے تو وزیراعظم اس کوشش میں ہوتے ہیں کہ اس کا سب سے پہلے اظہار وہ خود اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ کے ذریعے کریں۔ کریں بھی کیوں ناں؟ انہیں حالات کی گھمبیرتا کا اندازہ ہے کہ اگر وہ ناکام ہوئے تو اس ملک کے عوام پھر کسی پر اعتبار کرنے کا نہیں سوچیں گے۔ لیکن ایک بات کا انہیں اندازہ ضرور ہوگیا ہوگا کہ وہ ملک اور ہیں جہاں ٹرین حادثوں پر وزیرمستعفی ہو جاتے ہیں، وہ شایدکہیں طلسماتی دنیا کی کہانی ہے جہاں مہنگائی پر مظاہرے ہوں تو وزیراعظم گھر چلا جائے، وہ بھی کہیں بہت دور کی بات لگتی ہے کہ لوگ ٹینکوں پر چڑھ کر نظام کو بچا لیں یا ترکی میں جہازوں کی بمباری برداشت کر لیں یہاں تو موہنجو دڑو سے لے کر آج تک کی تاریخ میں ظلم، جبر اور مزاحمت کا چکر ہی چل رہا ہے۔ ضمیر، اخلاقیات اور بھلائی کا درس صرف کتابوں میں بند ہے۔
وزیر اعظم بھی کیا کرے ایک مسئلہ ختم ہوتا ہے تو دوسرا سر اُٹھا لیتا ہے، اسی لیے پاکستانیوں کے لیے تو یہ ملک پاکستان کے بجائے مسائلستان بن کر رہ گیا ہے، جسے مسائل کی دلدل سے نکالنے کے لیے کسی اور چیز کی نہیں بلکہ ”انقلاب“ کی ضرورت ہے جس کی ایک جھلک میں نے سوشل میڈیا پر ضرور دیکھی ہے۔ سوشل میڈیا بھی کیا بلا ہے، دنیا کے کسی بھی حصے میں بیٹھے کہیں کا بھی نظارہ کر لو۔ دل بہل بھی جاتا ہے اور دہل بھی جاتا ہے۔ باوجود اس کے کہ کسی نظارے کو چھو نہیں سکتے لیکن محسوس ضرور کر سکتے ہیں۔ بعض دفعہ ایک گانا ہی وطن کی سیر کو لے جانے کی قدرت رکھتا ہے۔ خیر جو جھلک میں نے دیکھی وہ یہ ہے کہ ایک لیڈر جیکٹ پہنی من موہنی سی لڑکی کو فیض فیسٹیول میں ہونے والے مجمعے میں چنگھاڑتے دیکھا۔ اپنے ساتھیوں کے ساتھ نعرے لگاتی، سرفروشی کی تمنا کرنے والی یہ لڑکی خوب تھی۔ ہمارے رونگٹے کھڑے کر گئی۔ ہمیں جھنجوڑ گئی۔ انداز پرجوش ضرور تھا لیکن شائستہ تھا۔ کسی بھی قسم کی گالم گلوچ اور بیان بازی سے عاری تھا۔ تالیوں کی تھاپ پر پڑھی جانے والی شاعری نے ہی کام دکھا دیا۔بالکل ہمیں اپنے زمانہ طالب علمی کے دن یاد آگئے، جب طلباء تنظیمیں عروج پر ہوا کرتی تھیں، ہر تنظیم کا ایک اپنا نظریہ اور مقصد ہوتا تھا، تمام تنظیمیں طلباء حقوق کے لیے کام کرتی تھیں، آپ کام کرنے کے ”انداز“ سے مخالفت کر سکتے ہیں مگر سب کا لب لباب ساتھی طلبہ کی خدمت کرنا ہوتا تھا۔ خیر اس دور سے اگر واپس آیا جائے تو ویڈیو میں موجود لڑکی عروج اورنگزیب ہیں اور وہ لاہور میں منعقد ہونے والے فیض فیسٹول کے موقع پر معروف ہندوستانی شاعر بِسمل عظیم آبادی کی نظم ’سرفروشی کی تمنا‘ گا رہی ہیں۔
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
آج پھر مقتل میں قاتل کہہ رہا ہے بار بار
آئیں وہ شوق شہادت جن کے جن کے دل میں ہے
اور مجمع میں جیسے ایک برقی لہر دوڑ جاتی ہے جو ان کا تالیوں اور نعروں سے بھرپور ساتھ دے رہا ہے۔اسی مجمعے میں موجود دیگر ساتھی طلبہ کسی ”سرخ انقلاب“ کی بھی بات کر رہے ہیں۔ سرخ انقلاب،جسے دراصل انقلابِ روس جسے بالشویک انقلاب، اکتوبر انقلاب یا سویت انقلاب بھی کہا جا تا ہے۔ عالمی تاریخ کا پہلا کامیاب سوشلسٹ انقلاب تھا جو کلاسیکی مارکسیت سطور پر استوار ہوا۔ اسے روس میں لینن کی قیادت میں بالشویک پارٹی نے برپا کیا۔ جس نتیجے میں یونائیٹڈ سوشلسٹ سوویت یونین(USSR)کی بنیاد رکھی گئی۔ اس انقلاب کے نتیجے میں پہلے مرتبہ محنت کشوں اور مظلوموں کی حکومت قائم ہوئی اور اس انقلاب نے پوری دنیا پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ انقلابِ روس انسانیت کی تاریخ کے عظیم ترین واقعات میں سے ایک ہے اور بالشویکوں کا اقتدار عالمگیر اہمیت کا حامل ہے۔پاکستان میں 1951 سرخ انقلاب لانے کی کوشش کی گئی تھی۔ جس میں مشہور شاعر فیض احمد فیض، فوج کے کچھ افسران اور سوشلسٹ پارٹی آف پاکستان شامل تھی۔ اس کوشش کو ناکام بنا دیا گیا۔ اور اسے تاریخ میں پنڈی سازش کیس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ہر دور میں سرخ انقلاب کے حامی رہے ہیں مگر ان کو آج تک کوئی پزیرائی نہیں ملی۔
لیکن اس بار حالات کچھ اچھے بھی نہیں ہیں کیوں کہ عوام کی آخری اُمید ”عمرانی انقلاب“بھی دم توڑتی جا رہی ہے۔لوگ پریشان ہیں، کاروبار بند پڑے ہیں، زندگی ہنگامہ خیز بن چکی ہے، عوامی لیڈر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے اپنی توانائیاں صرف کر رہے ہیں۔ عدالتیں عام آدمی کو ریلیف دینے کے بجائے حکومت اور سیاسی لوگوں کے درمیان برج کا کام کر رہی ہیں۔ دشمن ہمسایہ ممالک ہم پر حاوی ہو رہے ہیں، معیشت تباہ حال ہو چکی ہے، دنیا میں ہم ناکام قوم کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں، حکومت سے اگر کوئی پوچھے کہ یہ سب کیا ہورہا ہے تو وہ پریس کانفرنس کرنے بیٹھ جاتے ہیں، مخالفین کی دھجیاں بکھیرنے کے سوا کچھ سجائی نہیں دیتا…… ایسے لگتا ہے کہ جیسے ساری توانائیاں کرپٹ عناصر سے پیسہ ریکور کرنے کے لیے لگادی گئی ہیں، اور مزے کی بات کہ ان کرپٹ سیاستدانوں سے ایک روپیہ وصول نہیں کیا جاسکا، بلکہ اُلٹا انہیں مہینوں جیلوں میں رکھ کر کھربوں روپے خزانے سے خرچ کیے گئے۔ بدقسمتی دیکھیں کہ تحریک انصاف اپوزیشن کے پراپیگنڈے کا تو ڑ کرنے میں بھی بری طرح ناکام رہی، مخالفین نے چاروں شانے چت کیا، خفیہ NROبھی لیا، انہیں ناکام بھی بنایا اور عوام کی نظر میں سرخرو بھی رہے!تحریک انصاف اقتدار میں آئی ڈیڑھ سال میں طلبہ تک کو نہیں چھوڑا گیا، HECکا بجٹ نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔ یونیورسٹیوں میں طلباء و طالبات کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے، کیا اس سے نظر چرائی جا سکتی ہے۔بلوچستان یونیورسٹی میں طالبات کے ساتھ جو ہوا کیا اس پہ بات کرنا غلط ہے؟ دوسرے شہروں سے آنے والے طلباء کے ساتھ زیادتی اور ان کو اپنے سے کم تر سمجھنا جائز ہے؟نمرتا کا قتل، طالبات کو بلیک میل کرنا مشال کا بہیمانہ قتل۔ کیا اس پہ ہم سب بات نہیں کرتے؟
لہٰذامیرے خیال میں اب ”فیضی انقلاب“ کا آغاز ہوا چاہتا ہے، فیض احمد فیض اسی انقلاب کو ترستے رہے وہ چاہتے تھے کہ اس ملک میں ترقی پسند، روشن خیال اور لبرل معاشرہ پیدا ہو۔ ایسا معاشرہ جہاں بھائی چارہ ہو، رواداری ہو۔ کسی بھی قسم کی تنگ نظری اور شدت پسندی نہ ہو۔ ہر ایک کو اظہار خیال کی آزادی ہو۔ ایسا معاشرہ جو معاشی، معاشرتی اور سیاسی میدان میں دوسری ترقی یافتہ قوموں کے شانہ بشانہ کھڑا ہو اور دنیا اسے عزت کی نگاہ سے دیکھے۔ یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب اس ملک کو روشن خیال اور خرد افروز سیاسی قیادت نصیب ہواور یہ ترقی پسند سیاسی قیادت آج کا روشن دماغ نوجوان ہی فراہم کر سکتا ہے۔ جی ہاں، روشن دماغ نوجوان۔ تنگ نظر نوجوان نہیں۔ ہماری تاریخ میں، خواہ وہ تقسیم سے پہلے کی تاریخ ہو یا بعد کی، یہ نوجوان اپنی طلبہ تنظیموں کے راستے سے ہی سیاسی اور سماجی میدان میں سامنے آئے۔ آمرانہ حکومتوں نے اسی لئے طلبہ تنظیموں پر پابندی لگائی۔ انہیں ڈر تھا کہ یہ نیا خون ہی ہے جو ان کا مقابلہ کر سکتا ہے لیکن ہماری بد نصیبی یہ ہے کہ آمرانہ حکومتوں کے بعد جو ٹوٹی پھوٹی جمہوری حکومتیں آئیں، انہوں نے بھی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلبہ کو اپنی یونین یا اپنی تنظیم بنانے کی اجازت نہیں دی۔
بہرکیف ہمارے ارد گرد ایسا ماحول اور ایسی فضا بنا دی گئی ہے کہ ترقی پسندی اور روشن خیالی گالی بن گئی ہے اور ہم ڈرتے ہیں اس کے بارے میں بات کرتے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ہندوستان میں ہندو انتہا پسندی بڑھتی ہے تو ہمیں اس ملک کا سیکولر کلچر یاد آ جاتا ہے اور ہم شور مچاتے ہیں کہ مودی سرکار نے پنڈت نہرو کا سیکولر کلچر تباہ کر دیا لیکن اگر کوئی یاد دلاتا ہے کہ آپ کے اپنے ملک میں تو یہ سیکولر کلچر نظر نہیں آتا اور آپ سیکولرازم کو گالی سمجھتے ہیں، تو آپ کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔ اصل خرابی یہ ہے کہ ہم سیکولر کلچر کا ترجمہ ”لا دینی کلچر“ کرتے ہیں حالانکہ سیکولر کلچر کا مطلب ہے ہر شخص کو اپنے مذہب، اپنے عقیدے اور اپنے نظریے کے مطابق زندگی گزارنے کا حق دینا اور اس حق کا تحفظ کرنا۔اور رہی بات عمران خان کی تو اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ آخری اُمید ہیں، لیکن آپ کر کیا رہے ہیں؟ لیکن کچھ نہیں کر سکتے تو اپوزیشن میں آجائیں، اگلی دفعہ اقتدار میں آجانا، میرے خیال میں جتنے کمپرومائز اس حکومت نے کیے ہیں شاید ہی پچھلی کسی حکومت نے کیے ہوں۔ اس کے باوجود عوام مر رہے ہیں، تبھی طلبہ بھی سڑکوں پر آرہے ہیں۔ اور اُس دن کو یاد کر رہے ہیں جب فیض کو ”غدار وطن“ کا نام دیا گیا اور وطن دشمنی کے الزامات لگائے گئے۔ذرا سوچیے کہ زنداں میں فیض کے دل و دماغ پر قیامت گزر ی ہوگی
اس راہ میں جو سب پہ گزرتی ہے وہ گزری
تنہا پس ِ زنداں، کبھی رسوا سر ِ بازار
گرجے ہیں بہت شیخ، سر گوشہ منبر
کڑکے ہیں بہت اہل ِ حکم، برسرِ دربار
پس عمران خان سے گزارش ہے کہ انقلاب آتے دیر نہیں لگتی، یہ اپنا راستہ اور مقام خود چن لیتا ہے، ابھی بھی وقت ہے کہ اس ملک کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک موقع دیا ہے، ہر اچھے کام میں عوام آپ کے ساتھ ہیں،لہٰذاانہیں مایوس مت کریں!

Leave a Reply

Back to top button