کالم

انقلاب ٹو

’’غربت تھی اور غربت کے ساتھ فساد بھی تھا‘‘۔
غربت اور شدت دونوں بہنیں ہیں‘ جہاں بے صبری‘ عدم برداشت اور شدت ہوگی وہاں غربت بھی ہوگی اور جہاں غربت ہو گی وہاں برداشت کی کمی‘ بے صبری اور لڑائی جھگڑے بھی ہوں گے‘ آپ اگر اپنی ذات‘ خاندان اور معاشرے میں برداشت پیدا کرنا چاہتے ہیں تو آپ اپنی معاشی صورتحال پر توجہ دیں‘ آپ کی شخصیت جلد تبدیل ہو جائے گی اور آپ اگر کسی شخص‘ خاندان یا معاشرے میں غصہ‘ فساد اور نفرت بڑھانا چاہتے ہیں تو آپ اس کی آمدنی اور اخراجات میں عدم توازن پیدا کر دیں‘ آپ کو بہت جلد معاشرے کے تار پور ہلتے دکھائی دیں گے۔
نک ڈی الوسیو کے گھر میں بھی غربت تھی‘ اخراجات زیادہ تھے اور آمدنی کم چنانچہ نک ڈی الوسیو نے اپنے والدین کو ہمیشہ لڑتے جھگڑتے اور چیختے چلاتے دیکھا‘ وہ بلوں پر لڑتے تھے‘ پٹرول پر لڑتے تھے اور گھر کے لیے سودا سلف کی خریداری پر لڑتے تھے‘ نک ڈی چھ سال کا تھا جب اس نے پہلی بار سوچا ’’ مجھے بھی والدین کے ساتھ کام کرنا ہو گا‘‘ آپ تصور کیجیے‘ بچے کی عمر چھ سال ہو‘ وہ ابھی بمشکل اسکول جاتا ہو اور وہاں سے واپس آتا ہو اور وہ کام کرنے‘ کمانے اور خاندان کی آمدنی میں اضافہ کرنے کا سوچتا ہو آپ کو یہ بات کتنی غلط‘ کتنی عجیب لگے گی؟ نک ڈی کے والدین‘ رشتے داروں‘ اسکول ٹیچرز اور ہم عمروں کو بھی یہ سوچ احمقانہ محسوس ہوئی لیکن نک ڈی باز نہ آیا‘ وہ کوئی ایسا کاروبار تلاش کرتا رہا جس کے راستے میں عمر رکاوٹ نہ ہو‘ وہ جسے بچپن ہی میں شروع کر سکے۔
وہ تلاش کرتا رہا‘ کرتا رہا یہاں تک کہ اسے گیارہ سال کی عمر میں وہ کاروبار‘ وہ کام مل گیا‘ اس نے کمپیوٹر ایپلی کیشن بنانے کا فیصلہ کیا‘ وہ اسکول کے فالتو وقت میں کمپیوٹر لیب میں بیٹھ جاتا‘ اسکول کے بعد وہ ’’نیٹ کیفے‘‘ میں چلا جاتا اور وہ وہاں گھنٹوں بیٹھ کر کام کرتا رہتا‘ وہ ایک سال ’’ ایپلی کیشن‘‘ پر کام کرتا رہا‘ ایپلی کیشن بن گئی لیکن وہ زیادہ معیاری نہیں تھی‘ وہ اس سے مطمئن نہیں تھا‘ اس نے دوبارہ کام شروع کر دیا‘ نک ڈی کو اس بار تین سال لگے‘ اس نے 15سال کی عمر میں نیوز سملی (News۔summly) نام کی معرکتہ الآراء ایپلی کیشن بنا لی‘ نک ڈی کو شروع ہی میں نیوز سملی کے دو لاکھ استعمال کنندہ مل گئے‘ یہ ایپلی کیشن ’’یاہو‘‘ کی نظر میں آئی‘ یاہو نے نک ڈی سے رابطہ کیا اور اس سے 30 ملین ڈالر میں نیوز سملی خرید لی‘ یہ رقم پاکستانی روپوں میں 3 ارب روپے بنتی ہے۔
یہ رقم جوں ہی نک ڈی کے والد کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئی‘ پندرہ سال کا بچہ ارب پتی بن گیا‘ یہ بڑے گھر میں شفٹ ہو چکے ہیں‘ یہ بڑی گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں‘ یہ وقت پر بل ادا کرتے ہیں‘ چھٹیاں گزارتے ہیں اور جو دل چاہتا ہے خریدتے ہیں‘ نک ڈی کے گھر میں اب جھگڑا بھی نہیں ہوتا‘ یہ لوگ اب کسی انقلاب کا انتظار نہیں کر رہے کیونکہ یہ لوگ جان چکے ہیں معاشروں کا انقلاب ہمیشہ افراد سے شروع ہوتا ہے‘ فرد اپنی حالت بدل لیں تو پورا معاشرہ تبدیل ہو جاتا ہے اور اگر افراد اپنی ذات پر توجہ نہ دیں‘ یہ اپنی حالت تبدیل نہ کریں تو معاشرہ خواہ کتنا ہی آئیڈیل کیوں نہ ہو یہ لوگوں کے مسائل حل نہیں کرتا‘ نک ڈی الوسیو نے تیس ملازم رکھ لیے ہیں‘ یہ لوگ کمپیوٹر اور موبائل فونز کی نئی ایپلی کیشن پر کام کر رہے ہیں‘ ان کا خیال ہے یہ لوگ ہر سال ایسی ایپلی کیشنز تیار کریں گے جو انھیں تیس چالیس ملین ڈالر سالانہ دیں گی اور یوں خوش حالی کا سلسلہ آگے بڑھتا رہے گا‘ نک ڈی الوسیو ارب پتی نک ڈی الوسیو دن کو تعلیم حاصل کرتا ہے اور شام کے وقت اپنی ذاتی لیب میں کام کرتا ہے‘ یہ سمجھتا ہے یہ 2015ء میں تین بڑی ایپلی کیشن متعارف کروائے گا۔
فوربس میگزین ہر سال دنیا کے کروڑ اور ارب پتیوں کی فہرست جاری کرتا ہے‘ مجھے چند دن قبل اس کی فہرست میں ایسے 8 نوجوان ارب پتیوں کے پروفائل پڑھنے کا اتفاق ہوا جو کم عمری میں ہی ارب پتی بن گئے ‘ نک ڈی الوسیو اس فہرست میں شامل تھا‘ نک کی کہانی حیران کن تھی لیکن باقی سات نوجوانوں کی کہانیاں اس سے کہیں زیادہ حیران کن اور سبق آموز ہیں‘ مثلاً آپ الیگزینڈر آموسو کو لے لیجیے‘ یہ نائیجیرین نڑاد برطانوی ہے اور اس وقت اس کی عمر38 سال ہے‘ یہ نوجوان 13 سال کی عمر میں ایک الیکٹرک شاپ پر چھ پاؤنڈ روزانہ کی اجرت پر کام کرتا تھا‘ ان چھ پاؤنڈ سے اس کا خاندان بریڈ‘ بٹر اور انڈے خریدتا تھا‘ الیگزینڈر نے الیکٹرک شاپ پر کام کرتے کرتے موبائل فون کی رنگ ٹونز بنانا شروع کر دیں‘ یہ رنگ ٹونز ایک موبائل فون کمپنی نے 9 ملین ڈالرز میں خرید لیں۔
یوں 24 سال کی عمرمیں ایک غریب نوجوان 90 کروڑ روپے کا مالک بن گیا‘ الیگزینڈر نے اس رقم سے فیشن کمپنی بنا لی‘ یہ اب نئی رنگ ٹونز بھی بنا رہا ہے اور یہ فیشن کمپنی کے ذریعے بھی پیسے کما رہا ہے‘ کولین تھرونٹن کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہے‘ یہ ساؤتھ افریقہ کے شہر جوہانسبرگ کا رہنے والا ہے‘ اس وقت اس کی عمر 34 سال ہے‘ یہ وِٹ واٹر سرینڈ جوہانسبرگ یونیورسٹی کا طالب علم تھا‘ یہ کمپیوٹر سائنسز میں گریجوایشن کرنا چاہتا تھا لیکن نالائق ہونے کی وجہ سے یونیورسٹی نے اسے نکال دیا‘ یہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گیا لیکن اس نے ہمت نہ ہاری‘ اس نے گھر میں کمپیوٹر ٹھیک کرنے کا کام شروع کر دیا‘ کمپیوٹر ٹھیک کرتے کرتے اس نے ’’ڈائل اے نرڈ‘‘ کمپنی بنائی‘ یہ کمپنی آئی ٹی سپورٹ کا کام کرتی ہے‘ یہ کمپنی سالانہ دس ملین ڈالر یعنی ایک ارب روپے کماتی ہے جب کہ اس کی مالیت 30 ملین ڈالر ہے۔
یہ آج ہر ہفتے یونیورسٹی جاتا ہے‘ وائس چانسلر سے ملتا ہے‘ اس کے ساتھ چائے پیتا ہے‘ اس کا شکریہ ادا کرتا ہے ’’آپ نے اگر مجھے یونیورسٹی سے نہ نکالا ہوتا تو میں آج بھی آپ کا ایک غریب اور نالائق اسٹوڈنٹ ہوتا‘‘ وائس چانسلر شرمندہ ہو جاتا ہے اور کولین مسکرا کر واپس آ جاتا ہے‘ امریکا کا کیمرون جانسن بھی اس فہرست میں شامل ہے‘ کیمرون کی عمر 30 سال ہے‘ اس نے نو سال کی عمر میں ہاتھ سے خاندان اور ہمسایوں کے لیے برتھ ڈے کارڈ بنانا شروع کیے‘ وہ یہ کارڈ معمولی رقم کے عوض بیچ دیتا تھا‘ بارہ سال کی عمر میں اس نے ڈیزائن بنا کر ایک ایڈورٹائزنگ کمپنی کو بیچنا شروع کر دیے‘ اس نے ڈیزائن سے حاصل ہونے والی رقم جمع کی اور اس رقم سے (Surfingprizes.com) کے نام سے آن لائن ایڈورٹائزنگ ایجنسی بنائی ‘ یہ بھی کامیاب ہو گیا‘ اس کے بعد اس نے DoubleClick, L90اورAdvertising.comکے نام سے ویب سائیٹس بنائیں اور یہ اب سالانہ لاکھوں ڈالر کمارہا ہے‘ فریزر ڈھورتے بھی اس فہرست میں شامل ہے۔
یہ نوجوان اسکاٹ لینڈ کا رہنے والا ہے‘ فریزر کی دادی قدرتی پھلوں کا جیم بنانے کی ماہر تھی‘ فریزر نے دادی سے یہ فن سیکھا‘ 16سال کی عمر میں جیم بنانے کا کام شروع کیا‘ یہ جیم قصبے میں مشہور ہو گئے‘ اس نے ’’سپر جیم‘‘ کے نام سے کمپنی بنائی اور قدرتی پھلوں کا نیچرل جیم بنانا شروع کر دیا‘ یہ جیم آج پوری دنیا میں بک رہے ہیں‘ یہ اس کاروبار سے دو ملین ڈالر ماہانہ کما رہا ہے‘ ایشے کوئلز بھی اس فہرست کی ارب پتی نوجوان خاتون ہے‘ ایشلے نے 2004ء میں واٹ ایور لائف ڈاٹ کام (whateverlife.com) کے نام سے ویب سائیٹ بنائی‘ اس ویب سائیٹ پر 70 لاکھ لوگ روزانہ وزٹ کرتے ہیں‘ ایشلے ویب سائیٹ سے سالانہ دس ملین ڈالر یعنی ایک ارب روپے کما رہی ہے‘ فہرست میں جولیٹ برنڈک اور ایڈم ہاروٹزبھی شامل ہیں‘ جولیٹ کا تعلق بھی امریکا سے ہے۔
اس نے 16سال کی عمر میں محسوس کیا‘ نوجوان بچیوں کو انٹرنیٹ پر بے شمار مسائل کا سامنا ہے‘ لڑکیوں کے لیے کوئی سائیٹ موجود نہیں چنانچہ جولیٹ نے 16سال کی عمر میں مس او اینڈ فرینڈ کے نام سے لڑکیوں کی ویب سائیٹ بنائی‘ یہ ویب سائیٹ دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کی لڑکیوں کی پہچان بن گئی‘ یہ ویب سائیٹ نوجوان لڑکیوں میں بات چیت‘ سوشل میڈیا‘ اسپورٹس اور اشتہارات کے حوالے سے بہت مقبول ہے‘ ہر ماہ ایک کروڑ لوگ اس ویب سائیٹ کو وزٹ کرتے ہیں‘ جولیٹ نے اس سے 15 ملین ڈالر یعنی ڈیڑھ ارب روپے کمائے‘ ایڈم ہاروٹز نے بھی ویب سائیٹس بنانا شروع کیں‘ اس کی تیس ویب سائیٹس ناکام ہو گئیں یہاں تک یہ آخر میں ایک ایسی ویب سائیٹ بنانے میں کامیاب ہو گیا جو صارفین کو یہ بتاتی ہے آپ انٹرنیٹ پر بزنس کیسے کر سکتے ہیں‘ یہ نوجوان بھی صرف ایک ویب سائیٹ کے ذریعے ارب پتی بن چکا ہے۔
آپ اگر فوربس میگزین کی ویب سائیٹ پر جا کر ارب پتیوں کی فہرستیں دیکھیں‘ آپ فہرست میں موجود نوجوانوں کے پروفائل نکال کر پڑھیں تو آپ کو ایسے درجنوں نوجوان ملیں گے جن کے خاندانی حالات آپ سے مختلف نہیں تھے مگر ان نوجوانوں نے شبانہ روز محنت سے اپنی زندگیوں میں انقلاب برپا کر دیا‘ یہ لوگ اب خوشحال‘ مطمئن‘ مسرور اور شاندار زندگی گزار رہے ہیں‘ یہ لوگ بھی ہماری طرح اسی کرہ ارض کے باسی ہیں‘ یہ بھی ہماری طرح آکسیجن‘ پانی اور خوراک استعمال کرتے ہیں‘ یہ بھی ہماری طرح بیمار ہوتے ہیں‘ہماری طرح قہقہے لگاتے ہیں‘ دوڑتے ہیں‘ بھاگتے ہیں اور یہ بھی ہمارے جتنے قد کاٹھ اور وزن کے مالک ہیں لیکن یہ لوگ اطمینان اور خوش حال زندگی گزار رہے ہیں جب کہ ہم روز کسی ایسے انقلاب کا انتظار کرتے ہیں جو آسمان سے اترے‘ ہمارے دروازے کھول کر اندر داخل ہو اور ہمیں بیٹھے بیٹھے ارب پتی بنا دے۔
مجھے یقین ہے آپ جب ان نوجوانوں کا احوال پڑھیں گے تو آپ کے ذہن میں یہ سوال ضرور سر اٹھائے گا ’’مجھ میں اور ان لوگوں میں کیا فرق ہے‘‘ آپ کے ذہن میں جب بھی یہ سوال پیدا ہو جان لیجیے آپ اور ان میں صرف اپروچ کا فرق ہے‘ یہ لوگ آپ سے پہلے سمجھ گئے تھے ’’ انسانی انقلاب چھ فٹ کے انسان سے شروع ہوتا ہے‘ انسان جس دن اپنی حالت بدل دیتا ہے وہ اس دن پورے معاشرے کو تبدیل کرنے کی صلاحیت حاصل کر لیتا ہے‘‘ یہ لوگ جان گئے تھے ’’ خامی زمین‘ ملک یا معاشرے میں نہیں‘ خامی ہمارے اندر ہے اور ہم جب تک یہ خامی دور نہیں کریں گے ہم اس وقت تک اصل انقلاب تک نہیں پہنچ سکیں گے‘‘ یہ سمجھ گئے تھے ’’معاشرے کو بدلنے سے قبل خود کو بدلو‘ یہ دنیا تبدیل ہو جائے گی‘‘ یہ لوگ یہ نقطہ سمجھ گئے چنانچہ یہ اطمینان سے زندگی گزار رہے ہیں‘ ہم نہیں سمجھے چنانچہ ہم انقلاب کے ڈنڈے پر کیلیں لگا رہے ہیں‘ ہم انقلاب کو دھرنوں میں تلاش کر رہے ہیں۔

Leave a Reply

Back to top button