کالم

انور سجاد کی کہانی امجد طفیل کی زبانی…… میم سین بٹ

لکھاریوں کی زندگی بھی بڑی عجیب ہوتی ہے دوسروں کی کہانیاں لکھنے والے بعض لکھاری خود بھی افسانوی کردار بن کر رہ جاتے، سقوط مشرقی پاکستان کے بعد متحدہ حلقہ ارباب ذوق لاہورکے آخری سیکرٹری ڈاکٹرانور سجاد پروفیشن کے لحاظ سے ایم بی بی ایس ڈاکٹر تھے اوراندرون لاہور چونامنڈی میں اپنے والد کا کلینک بھی چلاتے رہے تھے لیکن میڈیکل پریکٹس کے ساتھ ہی فنون لطیفہ سے بھی وابستہ رہے. تھیٹر اور ٹی وی کے کھیلوں میں اداکاری کرنے کے ساتھ ڈرامے، افسانے اورناول بھی لکھتے رہے،لاہور آرٹس کونسل کے پہلے چیئرمین بھی رہے،بھٹو دور سے پہلے آرٹس کونسل کا ادارہ مرکزی حکومت کے ماتحت ہوتا تھا اوراس کا سربراہ سیکرٹری کہلاتا تھا، جسٹس ایس اے رحمان، سید امتیاز علی تاج اور فیض احمد فیض بھی الحمراء کے سیکرٹری رہے تھے،الحمراء آرٹس کونسل کے پہلے چیئرمین ڈاکٹر انورسجادکی گورننگ کونسل میں موسیقارفیروز نظامی، گلوکارہ فریدہ خانم، رقاص غلام حیسن کتھک، مصور معین نجمی و خالد اقبال، ڈرامہ نگارو اکارکمال احمد رضوی و ایم شریف، اداکار و پروڈیوسرعلی اعجاز اورخالد عباس ڈار شامل تھے۔
ڈاکٹر انور سجاد لاہور میں پیدا ہوئے، اسی شہر میں پلے بڑھے، کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں پڑھتے رہے مگر زندگی کا آخری دور کراچی میں بسرکیا تاہم وفات سے پہلے اپنے شہر لوٹ آئے، یہیں آخری سانسیں لیں اور اسی شہرکی خاک اوڑھ کر سو گئے،حلقہ ارباب ذوق کے سابق سیکرٹری اورڈاکٹر انور سجاد کی طرح اندرون لاہور سے تعلق رکھنے والے ادیب ونقاد ڈاکٹر امجد طفیل نے اتوار کوشاہد شیدائی کی زیرصدارت حلقے میں ”تکمیل“ کے عنوان سے افسانہ تنقید کیلئے پیش کیا تو جاوید انور کو سپاٹ تحریر کی وجہ سے مایوسی اورافسانے میں تخلیقی جملوں کی کمی محسوس ہوئی جس پر شہزاد میاں نے انکشاف کردیا کہ چار ایکٹ کے کھیل نما افسانے میں ڈاکٹر انور سجاد کے عروج سے زوال کے سفرکا المیہ بیان کیا گیا ہے،شہزاد میاں کواعتراض تھا کہ افسانہ نگارکرداروں کے حوالے سے خود ہی جج بن گئے ہیں،فیاض ظفر نے بھی خیال ظاہرکیا کہ افسانے میں بیانیہ زیادہ موثر بنایا جا سکتا تھا،شفیق احمد خان نے بتایا کہ ماہر نفسیات پروفیسرامجد طفیل اس سے پہلے بھی حقیقی واقعات پردو تین افسانے لکھ چکے ہیں۔
جوان سالہ دانشور نے افسانے کو خاکہ قراردیا،عبدالوحید نے افسانے کے کرداروں کو تو مضبوط تسلیم کیا لیکن جواز پیش نہ کئے جانے کی وجہ سے افسانے میں عامیانہ پن کی بات کی، ناصر علی کو امجد طفیل کا یہ افسانہ ان کے پرانے افسانوں کی نسبت زیادہ پسند آیا، ڈاکٹر مختار عزمی نے وضاحت کی کہ امجد طفیل نے افسانے میں انورسجاد کی شخصیت کو تخلیقی طور پر پیش کیا،آفتاب جاویدکا موقف تھا کہ افسانے کے مرکزی کردارکی دوسری بیوی نے اپنی ذات کی تکمیل کرلی،پہلی بیوی تکمیل کیلئے آخر میں شوہرکے پاس لوٹ آئی مگرخود افسانے کا مرکزی کردار اپنی ذات کی تکمیل سے محروم رہا ہے، شاہد شیدائی نے گول مول سی صدارتی رائے دی کہ افسانہ نگارکو اگر کوئی کمی نظر آئی تو ضرورنظرثانی کریں گے۔
ہم جب پاک ٹی ہاؤ س کی گیلری میں پہنچے تو اس بار سیکرٹری عامر فرازکے ساتھ جائنٹ سیکرٹری فریحہ نقوی بھی موجود نہ تھیں ناصرعلی قائم مقام سیکرٹری بن کر حلقہ چلا رہے تھے عامر فراز نے واٹس ایپ پر ہمیں بتایا کہ وہ اپنی والدہ بزرگ افسانہ نگارعفرا بخاری کی شدید علالت کے باعث حلقے میں شریک نہیں ہو پا رہے، بابا صادق جمیل نے غزل تنقید کیلئے پیش کی جس کا مطلع اورمقطع دونوں جاندارتھے۔۔۔
ایک،دو،تین، چار سلسلہ وار
اٹھ گئے سارے یار سلسلہ وار
ہارکرجنگ زندگی کی جمیل
چل دیئے شہ سوار سلسلہ وار
غزل سنتے ہوئے شرکاء واہ وا کرتے رہے تاہم ناصرعلی کوغزل کی ردیف پسند نہ آئی،شاہد شیدائی نے بھی صدارتی کلمات میں ردیف کوکمزورقرار دیتے ہوئے اسے بدلنے کا مشورہ دیا تاہم انہوں نے غزل پرداد بھی دی،غزل اورافسانے سے قبل احمد آکاش سبحانی نے طویل نظم ”سراپا“ تنقید کیلئے پیش کی تھی جس پر گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے قاضی ارشد بھٹی نے نظم کی طوالت کو سب سے بڑا نقص قراردیا تاہم انہوں نے شاعر کو محنت پر داد بھی دی،شہزادمیاں نے دم توڑتی ہوئی سراپا نگاری کی روایت زندہ کرنے کو سراہتے ہوئے اعتراض کیا کہ شاعر محبوب کا سراپا بیان کرتے ہوئے ناک کا ذکرگول کرگئے ہیں جس پر ہم نے سوچا کہ ممکن ہے شاعر نے نظم لکھنے سے پہلے محبوبہ کا سراپا دیکھا ہو توممکن ہے کہ سردی کی شدت سے محبوبہ کی ناک بہہ رہی ہو،مبشر حسین کو نظم میں قافیہ پیمائی تو نظر آئی لیکن دیگر خوبیاں دکھائی نہ دیں، صادق جمیل کو نظم میں جذباتیت محسوس ہوئی،واجد امیر نے مشورہ دیا کہ آخری سطریں نظم سے حذف کردی جائیں،آٖفتاب جاوید نے خواہش ظاہر کی کہ نظم ایڈٹ کرکے کسی گائیک کو گانے کیلئے دی جانی چاہیے۔
عبدالوحید کی بات میں وزن تھا کہ ماضی میں جب عورت پردے میں تھی تو سراپا نگاری جوبن پر رہی اب تو گھریلو عورت بھی پردے میں نہیں رہی،شفیق احمد خان نے وضاحت کی کہ سراپا نگاری صنف نہیں موضوع ہے،مرثیہ،قصیدہ اور نعت میں سراپا نگاری دکھائی دیتی ہے اب جدید دور میں سوشل میڈیاکی سہولت موجود ہے تاہم کرم الہٰی نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ بڑے شہروں سے دور پسماندہ دیہی علاقوں میں لوگ اب بھی اپنے محبوب کے دیدار کو ترستے رہتے ہیں،مختار عزمی نے اعتراض کیا کہ شاعرسراپا بیان کرتے ہوئے بار بار محبوبہ کی آنکھوں کا ذکرکرنے لگتا ہے۔۔۔
اسکی آنکھیں کمال آنکھیں ہیں
رعب حسن جمال آنکھیں ہیں
ہرنیوں کی مثال آنکھیں ہیں
ایک نادیدہ جال آنکھیں ہیں
جو بھی ان کا شکار ہو جائے
وہ طلسمات ہی میں کھو جائے
شاہد شیدائی نے صدارتی رائے میں نظم کی زبان کوکلاسیکی قراردیتے ہوئے اسے فنی کمزوریوں سے پاک کرنے اورآخری حصہ نکالنے کا مشورہ دیا،آخر میں مہمان شاعر سید طاہر تونسوی نے کلام سنا کر بیحد داد پائی ان کی ایک غزل کے چند اشعار تھے۔۔۔۔
یہ کاروبارفراغت تمام کرنے کو
صبح گھر سے نکلتا ہوں شام کرنے کو
خیال وخواب کی حجت نے کردیامجبور
اپنی نیند سے نکلا ہوں کام کرنے کو
کلی کو پھول بنا کر گزر گئی بہار
ٹھہر گیا ہے یہ نم احترام کرنے کو
جہاں میں کوئی میسر نہیں توکیاغم
سکوت لالہ و گل ہے کلام کرنے کو

Leave a Reply

Back to top button