انٹرویوز

انٹرویو: (حصہ دوم)…… قرۃ العین حیدر پاکستانی صحافیوں کی بہت شاکی تھیں: حامد یزدانی

طارق:میرے خیال میں تو خود آپ کی زندگی بھی طوفاں خیز رہی ہے۔ حلقہ کے انتخابات سے لے کر نت نئے ملکوں کی مسافت تک۔ مسافت سے یاد آیا آپ کی اس ادبی مسافت میں ایک پڑاؤ افسانہ نگاری کا بھی تو آیا تھا۔ اس کا کیا ہُوا۔ کہِیں چَھپے وہ افسانے یا بس چُھپا رکھے ہیں؟
حامد: خوب یاد دلایا طارق آپ نے۔ پڑاؤ تو نہیں ہاں اسے ایک موڑ کہہ سکتے ہیں آپ۔ وہ افسانے جو تھے وہ بھی گویا افسانہ ہی ہو گئے۔ ان میں سے کچھ تونقل مکانی کی نذر ہوگئے اور چند ایک جو بچ رہے ہیں وہ کبھی کبھی پُرانے کاغذات میں سے جھانکتے ہیں اور پھر چُھپ جاتے ہیں۔آپ سے غالباً یہ تذکرہ ہوا ہو گا کہ میں نے پہلا افسانہ ہائی سکول کے دنوں ہی میں لکھا تھا۔ بلکہ اُس سے بھی پہلے آٹھویں جماعت میں دو ناول یا ناولٹ بچوں کے لیے لکھے تھے۔ ایک تو ہمارے اردو کے استاد قاری فضل الرحمن علیگ سے گُم ہو گیا اور دوسرا ویسے ہی دل سے اُتر گیا۔افسانہ دسویں جماعت میں لکھا تھا۔پھر یونی ورسٹی کے دور میں کچھ افسانے تراشے تھے اور کچھ ذرا اور بعد میں جو آپ نے سُن پڑھ رکھے ہیں۔ہاں، کچھ افسانے ریڈیو پاکستان لاہور سے ”گیتوں بھری کہانی“ کے رُوپ میں نشر ہو گئے تھے۔پروفیسر احمد عقیل روبی کچھ عرصہ کے لیے دستیاب نہ تھے اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں ارشاد بھائی بے پناہ اعتماد رکھتے تھے عاجز کی نام نہاد صلاحیتوں پر سو انہوں نے پروڈیوسر یاسمین طاہر سے متعارف کرا دیا یوں یہ کہانیاں ریڈیائی روپ دھار گئیں۔ چند ایک افسانے خیریہاں کینیڈا آ کر بھی سرزد ہوئے۔ کسی رسالے میں اشاعت کے لیے بھیجے نہیں اورمجموعے کی صورت دی جائے اِتنے شاید ابھی ہیں نہیں۔ آپ نے یاد دلایا ہے تو اب کوشش کروں گا ان سے گردجھاڑنے کی۔ باقی جو اللہ کو منظور۔مجھے تو دراصل آپ کے افسانوں کے مجموعے کا انتظار ہے۔
طارق: اس کے جواب میں میں بھی یہی کہوں گا کہ۔۔۔آپ نے یاد دلایا ہے تو اب کوشش کروں گا ان سے گردجھاڑنے کی۔ باقی جو اللہ کو منظور۔ (مشترکہ قہقہہ)۔اچھا جناب، نثر پر بات کررہے ہیں تو کیوں نہ ان انٹرویوز کا ذکر بھی ہو جائے جو گاہے گاہے آپ کرتے رہے ہیں۔
حامد: ادبی انٹرویوز؟
طارق: جی، ادبی شخصیات کے انٹرویوز کی بات کر رہا ہوں ورنہ وائس آف جرمنی کی اردو نشریات کے لیے تو آپ نے قومی اور بین الاقوامی بہت سی اہم سیاسی اور ثقافتی شخصیات سے بات چیت کی ہو گی۔
حامد: انٹرویوز کی بات کریں تو اسے چار ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ابتدا ماہنامہ ”محفل“ سے ہوتی ہے جس کے مدیران میں جناب طفیل ہوشیارپوری اورجناب یزدانی جالندھری شامل تھے۔ اس جریدے میں جو چند انٹرویو شائع ہوئے ان میں سے اعزاز احمد آذر کا انٹرویو مجھے اب بھی یاد ہے۔ پھر خالد احمد کے حکم کی تعمیل میں اخبار ”امروز“ کے ادبی صفحہ اور جمعہ میگزین کے لیے پینل انٹرویوز کیے۔ اس پینل میں میں اور خالد احمد صاحب تو مستقل ہوتے تھے جبکہ دیگر ارکان بدلتے رہتے تھے۔ مثلاً انیس ناگی کے انٹرویو میں ہمارے ساتھ ڈاکٹر اجمل نیازی اور ڈاکٹرسعادت سعید بھی شامل تھے۔ اور پھرعباس تابش، عارف محموداور اصغر عابد ہوتے تھے۔ ”امروز“ کے میگزین ایڈیٹر ان دنوں عزیز اثری صاحب تھے اور جن شخصیات کے انٹرویوز ہم نے کیے ان میں انیس ناگی کے علاوہ عبدالعزیز خالد، مبارک احمد، طفیل ہوشیارپوری، رفعت سلطان، گوہر ہوشیارپوری، یزدانی جالندھری، مختار حسین کھرل، زبیر فاروق کے نام فی الحال ذہن میں آرہے ہیں۔ پھر ریڈیو دوئچے ویلے کولون یعنی وائس آف جرمنی کی اردو نشریات کے لیے کچھ ادیبوں شاعروں سے بات چیت ریکارڈ کرنے کا اعزاز حاصل ہوا جن میں قراۃ العین حیدر، احمد ندیم قاسمی، انتظار حُسین،این میری شمل، اُرسلا روتھن ڈوبس، ڈاکٹر کرسٹینا اوسٹر ہیلڈ، منُو بھائی،افتخار عارف،بلراج کومل، جمیل الدین عالی، قمر اجنالوی،امجد اسلام امجد،سریندر پرکاش،عطا الحق قاسمی، ارشد لطیف، جاوید انوراور شاعری گانے والوں کو بھی شامل کر لوں تو استاد نصرت فتح علی خاں، غلام علی، پروین سلطانہ، نجمہ اختر اور ڈاکٹر امجد پرویز کا نام بھی لے سکتا ہوں۔اور پھر چند ایک انٹرویو ماہنامہ”بیاض“ کے لیے کیے جن میں اشفاق احمد اور قتیل شفائی سے کی گئی گفتگو مجھے کیا بہت سوں کو پسند آئی تھی۔
طارق: ان میں سے منفرد اور مشکل گفتگو کس سے رہی؟
حامد: جہاں تک منفرد انٹرویو کی بات ہے مجھے اشفاق احمد اور انتظار حسین کا بات کرنے کا بے تکلفانہ انداز بہت اچھا لگا اور جہاں تک مشکل انٹرویو کی بات ہے تو میں قراۃ العین حیدر یعنی عینی آپا کا حوالہ دوں گا۔ ایک تو طبعی طور پر ہی شاید کم آمیز تھیں اور دوسرے بعض موضوعات پر بات کرنا وہ پسند ہی نہیں کرتی تھیں بلکہ باقاعدہ چِڑ سی جاتی تھیں۔پاکستانی صحافیوں کی وہ بہت شاکی تھیں کہ ان سے دو ہی سوال پوچھتے ہیں ”پاکستان کیوں چھوڑ گئیں؟“ اور ”بھارت میں اردو کی صورتِ حال کیا ہے؟“تو جب برلن میں ان سے پہلی بار ملاقات ہوئی تو ابتداً وہ لِیے دِیئے ہی رہیں مگر جب گفتگو آگے بڑھی تو ان کی دل چسپی لوٹ آئی اوران سے مختصر مگر یادگار باتیں ہوئیں۔ پھر وہ کولون میں ہمارے گھر بھی آئیں۔ اچھے لو گ تھے یہ، ان کی باتیں بھی اچھی تھیں۔
طارق: ہاں، میں نے بھی ان میں سے اکثر پڑھے اور سُنے ہیں۔ بہت اچھے لگے۔ افسانوں اور انٹرویوز سے ہٹ کر آپ نے مضامین اور کالم بھی تو قلم بند کیے ہیں۔ پچھلے دنوں آپ کے کچھ تازہ ادبی مضامین نظر سے گزرے پاکستانی جرائد میں، اچھے لگے مجھے۔کیا دل کش فضا بندی اور منظر کشی ہے ان مضامین میں، صاحب۔ واہ۔ ایک کہانی کی طرح سطر در سطر منظر کُھلتے جاتے ہیں نظر پر۔ایک ڈرامائی سا ماحول تشکیل دے دیتے ہیں آپ۔ مضمون پڑھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ ہم ریڈیو پر الطاف الرحمٰن کے صوتی اثرات سے مزین کوئی خوبصورت فیچر سُن رہے ہوں۔۔۔مگر گلہ یہ ہے کہ کم کم لکھتے ہیں آپ تنقیدی مضامین۔
حامد: طارق جی،مضامین کے حوالے سے آپ نے جو دل چسپ بات کی ہے وہ میرے لیے بہت اہم ہے۔ لگتا ہے ریڈیو پر فیچر لکھنے اور پیش کرنے کی تربیت ان مضامین میں کام آگئی لیکن اس کی نشان دہی آج آپ نے کی ہے جو میرے لیے بھی ایک انکشاف ہے ورنہ مجھے تو یہ بھی پتہ نہیں وہ مضامین تنقیدکی ہماری کسی رسمی یاروایتی تعریف پر پورے بھی اترتے ہیں یا نہیں۔ ہاں آپ کی یہ بات درست ہے کہ کم کم اس جانب آتا ہوں۔ دراصل یہ سلسلہ تو ”محفل“ ہی سے آغاز ہوا تھا۔ ادبی کتابوں پر چھوٹے چھوٹے تبصرے لکھا کرتا تھا۔ پھر شعری مجموعوں کی تقریباتِ پذیرائی میں شرکت کی دعوتیں ملنے لگیں توکتابوں پر تاثراتی تحریریں لکھنے لگا۔ اب حال ہی میں جو مضامین آپ کی نظر سے گزرے ہیں وہ دراصل میرے دیرینہ دوست خالد علیم کی ادارت میں شائع ہونے والے ماہنامہ ”فانوس“ اور خوبصورت شاعر و ادیب دوست نوید صادق کے جریدے ”کارواں“ کے لیے لکھے گئے تھے۔ ایک آدھ مضمون قائم نقوی صاحب کے ”نمود“ اور عمران منظور اور نعمان منظور کے ”بیاض“ میں شائع ہوا ہے۔ نوید صادق صاحب کے ”کارواں“ میں قاضی ظفر اقبال، ڈاکٹر توصیف تبسم اور لیاقت علی عاصم کی شاعری پر جو مضامین حال میں چھپے ہیں مجھے خوشی ہے کہ وہ اکثردوستوں کو خاصے پسند آئے۔ اللہ کا شکرہے۔ناصر رانا صاحب کا ”اردوئے معلیٰ“ بھی عمدہ انتخاب پر مشتمل ہوتا ہے۔کالم، آپ جانتے ہیں ہمارے مشترکہ صحافی دوست اسرار وڑائچ کی وساطت سے،پھر میم، سین، بٹ کے تعاون سے اور اب پیارے دوست علی اصغر عباس کی محبت سے لاہور کے بعض روزناموں میں شائع ہوئے ہیں۔تاہم تعداد ان کی بھی کچھ زیادہ نہیں۔
طارق: آپ نے چند جرائد کی ادارت کے فرائض انجام دئیے تھے کسی دور میں!
حامد: صحافت اور جرائد کی بھی اپنی ہی دنیا ہے۔ اپنی ہی ایک فضا ہے۔ میں نے جب ہوش ہوش سنبھالا تو ادب و صحافت کو اپنے اردگرد پایا۔ والد صاحب متعدد تاریخ ساز ادبی و ثقافتی جرائد کی ادارت کے بعد اُن دنوں پندرہ روزہ ”نیا راستہ“ کی مجلسِ ادارت سے منسلک تھے جو بعد میں ”امدادِ باہمی“ ہو گیا۔ پھر ”محفل“ اس کے ساتھ ساتھ روزنامہ ”سیاست“ اور آخر میں وہ ”اردو ڈائجسٹ“ سے وابستہ تھے۔لگے ہاتھوں آپ سے اپنی زندگی کے ایک المیّاتی اعزازکا ذکر کرتا چلوں۔ بات یہ ہے کہ میرے کتنے ہی شوق تھے جو بچپن یا لڑکپن میں یعنی قبل از وقت ہی پورے ہوگئے مثال کے طور پر صحافت ہی کو لے لیجیے تو جس جریدے کی میں نے سب سے پہلے ادارت کی وہ تھا ”الاخلاق“ اور یہ بات ہے جب میں چوتھی پانچویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ میرا چھوٹا بھائی راشد یزدانی مدیرِ معاون تھا۔ اس رسالے کا مواد تازہ ترین اخبارات اور رسالوں سے نقل کیا جاتا تھا۔ البتہ اشتہار ”طبع زاد“ ہوتے تھے۔ رسالے کی ساری کاپیاں دستی طور پر تیار ہوتی تھیں یعنی میں اور راشد مل کر اس کی کتابت کرتے، صفحے کو موڑ کے جلد بندی کرتے اور پھر خود ہی اس کی سرکولیشن کی ذمہ داری ادا کرتے۔رسالہ کی سرکولیشن صد فی صد تھی کہ دس کی دس کاپیاں ہمارے گلی محلے کے دوستوں میں بِلا محنت و قیمت ہاتھوں ہاتھ تقسیم ہو جاتیں۔ انہی دنوں ”گیلان آرٹس سوسائٹی“ کے نام سے ایک ڈرامہ کمپنی کی بنیاد بھی رکھ دی اور امّی جان کی غیر موجودگی میں گھر کے برآمدے میں چارپائی اور کمرے کے دروازے کے ذریعے سٹیج سا تیار کرلیا جاتا اور بستر کی چادر تان کر گویا پردہ تیار کر لیا جاتا۔ آس پڑوس کے لڑکے لڑکیوں میں ٹکٹ مفت فروخت کیے جاتے۔ اداکاری کے جوہر وغیرہ میں اور راشد ہی دکھاتے تھے۔کہانی بچوں کی کسی کتاب یا رسالے سے اخذ کرلیتے یا کبھی کبھی کوئی کردار ٹی وی کے کسی ڈرامے سے بھی مستعار لے لیتے تھے۔
جہاں تک شائع ہونے کا تعلق ہے تو ہائی سکول سے فارغ ہوتے ہوتے میں روزنامہ ”مشرق“، روزنامہ”مساوات“،روزنامہ ”نوائے وقت“،روزنامہ”مغربی پاکستان“، ماہنامہ ”محفل“، ماہنامہ”افکار“، ماہنامہ”بیسویں صدی“، ”اوراق“ اور کئی دیگر اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکا تھا۔بڑے بھائی ساجد یزدانی کی مدد سے ریڈیو پاکستان لاہور کے بچوں کے پروگرام میں ایک سے زیادہ بار شرکت کا موقع مل چکا تھا۔والد صاحب کے ساتھ کئی اچھے مشاعروں میں جیسا تیسا کلام بھی پیش کر چکاتھا۔ مجھے یاد ہے جب گورنمنٹ کالج لاہور پہنچا تو کالج کے ادبی جریدے ”راوی“ کی مجلسِ ادارت کے لیے انٹرویوزہورہے تھے۔ پہلے ہی سال درخواست دے دی۔پروفیسر مرزا منور امیدواروں سے انٹرویو کر رہے تھے۔ مُسکراتے ہوئے کہنے لگے: ”ابھی ابھی تو میٹرک پاس کیا ہے تم نے تو اب کیا سوال پوچھوں تم سے؟ کیا رسالہ نکالنے کا کچھ تجربہ ہے کہ نہیں!“۔ میں نے جھٹ کہا:”جی ہے۔۔۔پہلا رسالہ پانچویں جماعت میں نکالا تھا، الاخلاق۔“۔ ہنستے ہوئے بولے: ”اچھّا!پھر تو تمہیں ایڈیٹر کی پوسٹ دینا ہوگی مگر فرسٹ ائر کے طلبا کو معاون مدیر ہی بنا سکتے ہیں۔ قبول کر لو گے یہ پوسٹ؟“۔ میں نے کہا: ”جی، کر لوں گا“۔ بولے: ”تو ٹھیک ہے کل نوٹس بورڈ پر کامیاب امیدواروں کے نام لگا دئیے جائیں گے، دیکھ لینا“۔ دوسرے روز نوٹس بورڈ دیکھا تو میرا نام بطور ”مدیرِ معاون“ درج تھا۔پھر کئی سال بعد یونی ورسٹی کے دنوں میں تسلیم احمد تصور نے اپنے رسالے ”سورج“ کی ادارت کے لیے کہا تو کچھ شمارے ان کے لیے ترتیب دے دیئے۔ لیکچرر شپ کے دور میں خالد علیم صاحب مصروف ہوئے تو قدیر شیدائی نے ”فانوس“ کی ادارت مجھے سونپ دی۔ کچھ شمارے اس ادبی جریدے کے نکال دئیے۔پھر چھوٹے بھائی ماجد یزدانی کے رسالے ”بازگشت“ کے بھی چند شمارے شائع کرنے کا موقع ملا۔ارشاد بھائی کے ساتھ مل کر ”سطور“ کا آغاز بھی کیا تھا لیکن انہی دنوں مجھے جرمنی جانا پڑا تو زیادہ دیر ان کا ساتھ نہ رہا۔1993ء میں جرمنی سے واپسی سے لے کر1999ء تک جب میں کینیڈا آگیا خالد احمد کے ساتھ ”بیاض“ کے کامیاب اشاعتی سفر میں قدم بہ قدم شریک رہا اور یہ میرا اعزاز ہے۔
یہاں مجھے حسن رضوی بھی یاد آتے ہیں جو روزنامہ ”جنگ“ کا ادبی صفحہ ترتیب دیا کرتے تھے۔ بہت عرصہ میں ان کی بھی معاونت کرتا رہا۔ حسن بھائی ایک عمدہ شاعر ہی نہ تھے وہ ایک مخلص اور دوست نواز شخصیت کے مالک بھی تھے۔مجھے اپنا چھوٹا بھائی کہہ کر متعارف کراتے تھے۔ایک سے ایک با کمال ہستی تھی لاہور میں۔
طارق: لاہور کا آپ نے ذکر کیا اور آپ کی شاعری میں بھی جا بہ جا لاہور کا محبت بھرا تذکرہ ملتا ہے۔ یہاں آپ نے بہت مصروف اور زبردست تخلیقی وقت گزارا، حلقہ اربابِ ذوق، ریڈیو، ٹی وی، اخبارات، جرائد، مشاعرے، رپورٹنگ، سکرپٹ رائٹنگ، کمپیرنگ اور جانے کیا کیا۔۔۔بلکہ کیا نہیں کِیا آپ نے لاہور میں۔۔۔ کبھی سوچتے نہیں آپ واپس یہاں آکر بس جانے کے بارے میں؟
حامد: غالبؔ نے کہاتھا:
کلکتہ کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشیں
اِک تِیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے
تو یہ کام آپ نے میرے ساتھ کیا ہے یوں لاہور کی یاد دلا کر۔ طارق! مجھے تو لگتا ہے کہ میں لاہور ہی میں بستا ہوں اگر ایسا نہیں ہے تو یقین مانیں کہ لاہور مجھ میں بستا ہے اور لاہور بھی وہ کہ شام ڈھلے مزنگ کی گلی نمر40 سے نکلوں تو وسیم گوہر کی خوبصورت مُسکان ساتھ ہو لے۔ مزنگ اڈہ سے بیگم روڈ اور بابا موج دریا ؒ کے دربار کے پاس سے گزرتے ہوئے فوٹو سٹیٹ کاپی کی ایک آدھ ادھ کُھلی دکان کو نظر انداز کروں تو آگے پرنس ریستوران میں غضنفر ندیم تصنیفِ ادب کا حلقہ سجائے ہوئے ہو، چند قدم اور چلوں تو سڑک کے پار دائیں جانب ایک نیم جاں برقی قمقمے کی ہلکی زرد روشنی میں پاک ٹی ہاؤس کا تِرچھا تختہ نظر پڑے اور باہر ملگجی سی ریلنگ پر کچھ ہیولے سے ہلکے ہلکے قہقہوں کی بوچھاڑ میں دُود کش ہوں۔ دروازے کے دائیں جانب والی نشست پر انیس ناگی، مسعود اشعر، سعادت سعید،انتطار حسین کے مابین بکھرتی بحث کی کرچیاں دیوار گیر شیشے میں سے ہی چمکتی دکھائی دیں۔ ساتھ ہی دیواری گھڑی کے نیچے سجے میز کے آر پار جاوید انور کی تازہ نظم دوستوں کی سماعتوں کو مہکا رہی ہو۔ اسرار زیدی صاحب کے دوست نواز ادبی گوشہ سے ذرا پہلے مختار حسین کھرل احباب کی تواضع میں مگن ہوں۔ محمد خالد، ابرار احمد، غلام حسین ساجد کے میز کی سرگوشیوں کے پہلو میں سراج بھائی کے قہقہے ضیا الحسن، امجد طفیل، علی اصغر عباس، عباس تابش اور جانے کس کس نوجوان کے امکانی فردا کو فضاوں میں تحریر کر رہے ہوں۔وائے ایم سی اے میں پرویز ہاشمی کی پنجابی ابدی سنگت اور چینیز لنچ ہوم کے تہہ خانے میں پروفیسر یونس احقر کی پنجابی ادبی پریہا اور تحسین فراقی اور اصغر عابد حلقہ ادب سجائے ہوئے ہوں۔ چائنیز لنچ ہوم کے سامنے بچھے سبزہ زار کی مرطوب گھاس سے ٹھنڈک کشید کرکے پرانی انارکلی اور وہاں سے رات گئے مال گردی کا معمول پورا کیا جائے۔ دن میں کوئنز روڈ سے مال روڈ جا نکلوں تو شاہ دین بلڈنگ میں مدوّر زینوں پر جھولتے ہوئے د فترِ وفاق ٹھہروں، طارق کامران سے چائے کے کپ پر گپ لڑاؤں اور چیرنگ کراس عبور کرتے ہوئے واپڈا ہاوس کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے نیم دیواری کمروں اور راہداری میں گونجتے خالد احمد کے جملوں کی کاٹ پر مسکرا دوں۔
خالد صاحب کی رفاقت میں میکلوڈ روڈ پر ”بیاض“ کا چکر لگا کرقدموں کو لارنس گارڈن جانے سے نہ روک سکوں۔ سہ پہر میں سٹوڈنٹس اون چوائس کی دھیمی دھیمی دھنوں پرگرم چائے کی بھاپ کا رقص خالد علیم صاحب کے سگریٹ کے دھوئیں میں مدغم ہوتا دیکھوں۔ ۴میکلوڈ روڈ پر ”فنون“ کی ندیمی محفلوں سے خاموشی اخذ کروں۔ رائل پارک کی ایک کونے والی عمارت کی چوتھی منزل پر ”محفل“ کے چوکور کمرے سے نکل کر کوپر روڈ پر روززنامہ ”سیاست“ کے مستطیل نیوز روم تک یزدانی صاحب کے ہم قدم رہوں۔ شملہ پہاڑی کی نکڑ پر چائے کے کھوکھے سے ایک کپ چائے کے ساتھ دو بسکٹ وصول کرتے ہوئے ریڈیو پاکستان لاہور جا نکلوں جہاں ارشاد بھائی کی ہلکی ہلکی گنگناہٹ میں دن بھر کی الجھنوں کو فراموش کرتے ہوئے ہوا سے مخاطب ہوجاؤں: ”یہ ریڈیو پاکستان لاہور ہے۔ پروڈیوسر ارشاد حسین کے ترتیب دئیے ہوئے ”صدف“ کے ساتھ آپ کا میزبان حامد یزدانی آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔ ہمارا آپ کا ساتھ رہے گا۔۔۔۔“ طارق جی: آپ بس میرایہ لاہور پھر سے بسا دیجئے، خود کو یہاں لا بسانے کی ضمانت میں دیتا ہوں۔ کیوں دل نہیں کرے گا میرا اپنے شہر آکر رہنے کو!
طارق: یہ تو بہت کٹھن شرط لگا ر ہے ہیں آپ۔۔وہ شہر تو اب خواب و خیال ہی ہو گیا ہے۔
حامد: تو خواب و خیال میں رہنے دیجئے ناں میرے۔۔۔وہ شہر۔اس لاہور کا کچھ تخلیقی نقشہ آپ نے میری نظم ”مِرے لاہور۔ایک کولاژ“ میں ضرور دیکھا ہو گا۔ اس نظم کی اشاعت کے لیے ظفر اقبال صاحب نے اپنا ایک پورا ادبی کالم وقف کیا تھا۔پہلے یہ نظم ”فانوس“ میں شائع ہوئی تھی۔
طارق:جی بہت شوق سے پڑھی تھی وہ نظم میں نے۔ لاہور سے اپنی محبت کا حق ادا کردیا ہے آپ نے۔ لیکن میں تواپنے طور پر یہ سوچ بیٹھا تھا کہ شائد اُدھر کینیڈا ہی میں کوئی دوسرا لاہور بسا بیٹھے ہیں آپ؟
حامد: نہیں، نہیں، لاہور تو ایک ہی ہے۔ دوسرا لاہور اگر کہِیں ہے تو وہ تو جرمنی کے شہر کولون میں چھوڑ آیا ہوں وہاں میرا دیرینہ دوست امجد علی اس کا میئر بھی ہے اور اس کا شہری بھی۔مجھے یاد آرہے ہیں وہ دن جب جرمنی میں قمر اجنالوی صاحب کے ساتھ مل کر ہم نے حلقہ اربابِ ذوق جرمنی کا آغاز کیا تھا۔طفیل خلش، رخسانہ شمیم،عارف نقوی،سیّد اعجاز حسین شاہ، شہناز حسین، مسعود دہلوی اور کتنے ہی احباب یہاں ادبی تقریبات کی رونقیں بڑھاتے تھے۔۔۔تیسرا لاہور بسا ہی نہیں۔ عمر کے ساتھ ساتھ زندگی کی ترجیحات اور مصروفیات رشتوں کی گرہوں میں کچھ یوں الجھاتی ہیں کہ حفاظتی دائرے سے باہر ہاتھ نکالتے ہوئے ڈر سا محسوس ہونے لگتا ہے۔ جب یہاں آیا تھا تو افضال نوید نے ارشاد بھائی کی یہاں موجودگی کی نوید سنائی تھی لیکن وہ جلد ہی امریکا اور پھر وہاں سے پاکستان اور پھر وہاں سے اپنے ابدی مقام کی طرف کوچ کر گئے۔ لاہور کے دوست طاہر اسلم گورا سے رفاقت بحال ہوئی تو حلقہ اربابِ زوق ٹورانٹو کا آغاز کردیا۔ سال بھر اسے نبھایا۔ تنقیدی نشستوں کی روائت کی داغ بیل پڑ گئی۔ اس دوران میں سید افتخار حیدر، اکرام بریلوی،عبداللہ جاوید، اشفاق حسین، نسیم سیّد، نسرین سیّد،تسلیم الہیٰ زلفی،رشید صدیقی، نزہت صدیقی، خالد سہیل، فیصل عظیم، منیر پرویز سامی،رفیع رضا، رشید ندیم، احمد سلمان،اور کتنے ہی باقاعدہ لکھنے والوں سے رابطے میں آگیا۔ اور بس۔۔۔ پھر سے اپنے دائرے میں آبیٹھا اور تاحال وہیں ہوں۔ پڑھتا رہتا ہوں، دیکھتا رہتا ہوں، سُنتا رہتا ہوں۔مگر اپنے حصار کے اندر رہ کر۔باہر نکلنے کی اجازت نہ وقت دیتا ہے نہ طبیعت۔ پروفیسر عاشق راحیل بھی سال کا بیشتر حصہ یہیں گزارتے ہیں اور ادبی منظر نامے کو رونق بخشتے ہیں۔مہمان لکھاری بھی متواتر آتے رہتے ہیں۔
طارق: مطلب یہ کہ اردو لکھنے پڑھنے والوں کی خوب رونق ہے وہاں۔۔۔اب آپ کترا کر گزریں تو دوسری بات ہے۔
حامد: ہاں، ہاں۔۔۔اردو لکھنے والے ہیں اور بہت ہیں یہاں۔ مثلاً آپ دیکھئے غزل میں عرفان ستار،اشفاق حسین اور افضال نویدجیسے معروف شاعرہیں ٹورانٹو میں۔ نظم میں نسیم سیّد اور امیر حسین جعفری کو کون نہیں جانتا! پھراردو اور پنجابی کی کئی فعال ادبی تنظیمیں ہیں۔ ان کے اجلاس اور مشاعرے بھی منعقد ہوتے ہیں پاکستان اور بھارت سے یہاں آبسے لکھاری ان میں اپنی تخلیقات پیش کرتے ہیں۔ بعض میں شرکت کے لیے شائقین کو ٹکٹ خریدنا پڑتے ہیں۔ اردو کے درجن بھر سے زیادہ ہفتہ وار اخبارات اور چند ماہانہ جرائد بھی شائع ہوتے ہیں۔ ریڈیو، ٹی وی پر اردو، پنجابی نشریات کے بہت سے چینل ہیں جن میں پہلے پہل میں نے بھی شرکت کی۔ مقامی اخبارات کے لیے کچھ لکھا بھی مگر کچھ جی لگا نہیں۔ جب آپ بین الاقوامی نشریاتی ادارے اور ریڈیو پاکستان اورپی ٹی وی جیسے اداروں میں باعزت وقت گزار چکے ہوں تو خواہ مخواہ کا ایک خودساختہ سا حجاب آڑے آتا رہتا ہے جو ایک خاص معیار سے نیچے اُترنے نہیں دیتا۔ کیا کِیا جائے۔ یہ کوئی ذہنی تحفظ ہے یا نفسیاتی مسئلہ۔۔۔یہ آپ جانیں۔
طارق: تو گویا کینیڈا جا کر آپ کی ادبی سرگرمیوں میں کمی واقع ہوئی!
حامد: اگر ادبی سرگرمیوں سے آپ کی مراد ادبی اجتماعات میں آنا جانا ہے تو آپ کی بات بالکل درست ہے تاہم اگر آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ لکھنے پڑھنے کے معمول میں اور ادبی سفر کی رفتار میں کمی آگئی تو یہ میرے خیال میں درست نہیں۔ جیسا کہ میں نے کچھ دیر پہلے عرض کیا تھا۔ خوب پڑھتا لکھتا ہوں، الحمد للہ۔ اور جن چند دوستوں کے نام پہلے بھی لے چکا ہوں ان سے شئر بھی کر لیتا ہوں۔ چند ادبی جرائد ہیں ان میں کچھ نہ کچھ چھپ بھی جاتا ہے۔خوش ہوں۔ اور کیا چاہئیے!
طارق: شعری مجموعے تو آپ کے سبھی کینیڈا جانے سے پہلے ہی شائع ہوئے ہیں ناں؟
حامد:نہیں تو، طارق جی، کینیڈا آنے سے پہلے تو میرا صرف ایک شعری مجموعہ شائع ہواتھا ”ابھی اک خواب رہتا ہے“ اور وہ بھی جرمنی ہی میں ترتیب دیا تھا جو بس شائع لاہور سے ہوا۔ اس کے بعد کے مجموعے یعنی نظموں غزلوں کا دوسرا مجموعہ ”گہری شام کی بیلیں“، ”ابھی اس خواب رہتا ہے“ کا دوسرا ایڈیشن، پنجابی شاعری کی کتاب ”رات دی نیلی چُپ“، پھر اردو نعتیہ مجموعہ ”اطاعت“ سبھی یہاں کینیڈا آنے کے بعد ہی شائع ہوئے ہیں۔اور اب نئی نظموں اور غزلوں کا مجموعہ تقریباً تیّار ہے۔ حال ہی میں لاہور سے ممتاز ادیب و شاعر، مترجم اور ”سویرا“ کے مدیر محمد سلیم الرحمٰن صاحب نے میری پچاس سے زیادہ نظموں کو انگریزی میں منتقل کرکے مجھے بھیجا ہے۔ وہ کتاب بھی مکمل ہے اور سلیم الرحمٰن نے کس حُسن و خوبی سے نظموں کو انگریزی کے قالب میں ڈھالا ہے اس کا اندازہ تراجم پڑھے بغیر کرنا ممکن نہیں۔ بہت عمدہ تخلیقی تراجم ہیں۔۔ ہاں، مختلف ادوار میں میں نے بھی متعدد غیر ملکی نظموں کو اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ کچھ جرمن نظمیں تھیں،کچھ ہسپانوی، کچھ کینیڈین شاعروں کی انگریزی نظمیں تھیں اور بنگلہ دیشی شاعر دوست جاہد الحق کی تیس بتیس کے قریب بنگالی نظموں کے تراجم کیے۔ ان سب کو ملا کرایک کتاب بھی بنادیا جائے تو اچھی خاصی ہو جائے گی۔اس کے علاوہ، جیسا کہ آپ نے ابھی نشان دہی کی افسانوں کا چھوٹا موٹا مجموعہ ترتیب دیا جاسکتا ہے۔پھر تازہ حمد و نعت اور سلام و منقبت ہیں جن کی بآسانی کتاب بن جائے گی۔ مضامین، کالم اور تبصروں کویکجا کرکے نثری کتاب بن جائے گی اور ہاں، وہ ادبی انٹرویوز بھی تو پڑے ہیں۔ اس سب سے ہٹ کر ایک کام جو ابھی ابھی مکمل کیا ہے وہ کینیا سے اپنے استادِ محترم پروفیسر صدیق نور محمد صاحب کی ترغیب پر یمن کے ایک روحانی بزرگ اور شاعرحضرت امام الحدادؒ کی ایک نثری تالیف ”رسالۃ المعاونہ“ کا اردو ترجمہ ہے۔۔ امام االحدّاد ؒ کوئی تین سو برس پہلے گزرے ہیں۔ غالباً یہ وہ زمانہ ہو گا جب حضرت مجدد الفِ ثانی ؒ برصغیر میں دین کا پیغام پھیلا رہے تھے۔ یہ کتاب اب کمپوزنگ کے مرحلے میں ہے۔
طارق: بھئی واہ۔ یہ تو بہت شان دار کام ہے۔ میرا خیال بلکہ مشورہ یہ ہے کہ اب خود کو اپنے کام کے راستے میں نہ آنے دیں اور براہِ مہربانی ان کتابوں کو زیورِ طبع سے آراستہ کرنے میں دیر نہ کریں۔ آخر ہمارا بھی حق بنتا ہے ان تخلیقات و تالیفات پر بطور ایک دوست اور بہ حیثیت ایک قاری کے۔ کیا خیال ہے؟
حامد: خود کو اپنے کام کی اشاعت کے راستے سے ہٹانے والی بات خوب کہی آپ نے۔ واقعی بعض اوقات انسان کی ذات اور اس کے بجا یا بے جا تحفظات و معیارات اس کے تخلیقی کام کی اشاعت میں حائل ہو جاتے ہیں۔ شاید اسی لیے اِدھر مغرب میں بُک ایڈیٹرز کی بہت اہمیت ہے۔ اشاعتی اداروں نے باقاعدہ ایڈیٹرز کے پینل تشکیل دے رکھے ہیں۔ تخلیق کار جب اپنا کام مکمل کرلیتا ہے تو باقی سب ذمہ داری ایڈیٹر پر ہوتی ہے کہ وہ کتاب کی نوک پلک کیسے سنوارتا ہے، اس میں کیا تبدیلیاں متعارف کرواتا ہے اور کیسے تخلیقات کو ترتیب دیتا ہے۔ مجھے اوکتاویو پاز کا وہ یادگار انٹرویو یاد آرہا ہے جو انہوں نے ادب کا نوبل انعام حاصل کرنے کے فوری بعد دیا تھا۔ دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ اس میں انہوں نے اس میں یہ بات خاص طور پر ذکر کی ان کے تازہ ترین مجموعے کی بیشتر نظمیں تو وہی ہیں جو پہلے سے مختلف مجموعوں میں شامل ہیں مگر ان کا انتخاب اور ترتیب کا کارنامہ انجام دے کر دراصل ایڈیٹر نے جو اہم کام کیا اس نے ان نظموں کو لائقِ اعزاز و توجہ بنایا۔ یہ بڑا اعتراف تھا ایک عظیم شاعر کا اور بڑا اعزاز ایک ادبی ایڈیٹر کا اور یہ ادارتی کام کی پیشہ ورانہ اہمیت کو ہم پر اجاگر کرتا ہے۔ افسوس پاکستان میں ایسا نہیں ہے، کم از کم میں نے تو نہیں دیکھا۔ سو جو چاہے لکھیں، جو اور جیسے چاہیں چھپوائیں۔ اس سے کتابوں کے تخلیقی معیار پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، یہ سوچنے کی بات ہے۔
طارق: بات تو آپ کی درست ہے۔ ہمارے ہاں کتابیں تو بے تحاشا چھپ رہی ہیں مگر ان میں سے مواد اور پیش کش کے اعتبار سے بہت کم ایسی ہیں جو ادب کے سنجیدہ قاری کو بھاتی ہیں۔ اچھا ابھی آپ نے ادبی ایڈیٹر کی بات کی بطور پیشہ۔۔۔ تو چلتے چلتے ہمیں یہ بھی بتاتے چلیں کہ آپ بھی وہاں ایسے ہی کسی شعبے سے وابستہ ہیں؟
حامد: جی نہیں۔ آپ جانتے ہیں لکھنے پڑھنے یا تخلیقی کام کو پیشہ بنانے کی کئی بار صورتیں پیدا ہوئیں نوجوانی میں، بے روزگاری کے زمانے میں، لیکن میں ان سے بچ گیا۔ جُزوقتی صحافت سے قطعِ نظر باقاعدہ پہلی ملازمت میری جو تھی وہ پنجاب کے محکمہ تعلیم میں بطور لیکچرر سوشیالوجی تھی۔ اسی مضمون میں پنجاب یونی ورسٹی سے میں نے ایم اے کیا تھا۔ کچھ سال پڑھایا بھی اور ساتھ ساتھ ریڈیو پاکستان لاہور سے ایک گھنٹے کا پروگرام لکھا بھی اور پیش بھی کیا روزانہ کی بنیادوں پر۔ پھر وائس آف جرمنی کی اردو سروس میں تین سال بطور پروڈیوسر خدمات انجام دیں کولون میں۔ اس کے بعد پاکستان آکر لاہور میں بطور نمائندہ کام کیا اور اچھا خاصا کام کیا۔ یہاں کینیڈا آکر کچھ صورت ایسی بنی کہ مجھے ایک بار پھر یونیورسٹی جانا پڑا مگر اِس بار میں نے سوشیالوجی کے بجائے سوشل ورک کے مضمون کو چنا کیونکہ یہاں یہ کام بہت قدر و وقعت رکھتا ہے اور ڈاکٹر اور انجنیرز ہی کی طرح ریگولیٹڈ پروفیشن ہے اور ظاہر ہے روزگار کے زیادہ اور بہتر مواقع بھی اس میں ہیں۔ سو ایم ایس ڈبلیویعنی ماسٹر آف سوشل ورک کی ڈگری حاصل کی ایک قابلِ قدر تعلیمی ادارے ولفرڈ لارئیے یونی ورسٹی واٹرلُو سے ایک بار پھر خصوصی اعزاز کے ساتھ۔ اور بس تب سے سماجی خدمات کے سرکاری اور نِیم سرکاری اداروں میں پیشہ ورانہ خدمات انجام دے رہا ہوں۔موجودہ ملازمت میں بھی ایک کثیرالثقافتی ٹیم کے ساتھ کام کرتا ہوں۔ صبح نو بجے دفتر پہنچتا ہوں پانچ بجے واپس گھر آجاتا ہو ں اور چین کی بنسی بجاتا ہوں۔
طارق: چین کی بنسی؟
حامد: جی، چین کی بنسی۔۔۔محاورتاً کہتے ہیں ناں ایسا!آپ بھی ضرور بجاتے ہوں گے۔
طارق: جی، بجاتے تو ہیں مگر جو ہم بجاتے ہیں وہ ساز بنسی سے کچھ بڑا ہوتا ہے۔۔۔ اُسے ڈھول کہتے ہیں ہم۔ ”گلے پڑا ڈھول بجانا“ کا محاورہ کیا بھول گئے آپ؟ (مشترکہ قہقہہ)
حامد: بہت خوب۔ چلیں ٹھیک ہے بھائی، سرِ دست جو بھی میسر ہے اسی ساز پر اکتفا کرلیتے ہیں۔ ہیں تو دونوں آلاتِ موسیقی ہی اور تخلیقی فن سے ہی متعلق ہیں۔ یوں ہم سے کچھ نہ کچھ تعلق داری تو بنتی ہے۔
طارق: جی ہاں بالکل، بنتی تو ہے چاہے محاورے کی حد تک ہی۔ حامد، ہماری اس گفتگو کی حد تو طے ہونے سے رہی میرا خیال ہے اسے فی الحال یہیں تک رکھتے ہیں اور اسے آئندہ اور مزید بھرپور مکالمے کا پیش خیمہ خیال کر لیتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں آپ؟
حامد: میں سمجھتا ہوں ہماری یہ بات چیت بھی بھرپور ہی رہی۔ میں آپ کا شکریہ ادا کروں گا کہ آپ نے پاکستان کی نِگھ سے ہزاروں میل دور اس دور دراز ٹھٹھرتے خطے میں عاجز سے رابطہ کیا اور کتنی ہی خوش گوار اور اداس کُن یادوں کی مہکتی گلیوں کی سیر کروا دی۔ شکریہ
طارق: شکریہ تو مجھے بھی آپ کا ادا کرنا ہے مگر جنابِ من، ٹھہریں، ابھی یہ برقی رابطہ منقطع نہ کریں۔ شعر سُنے بغیر شاعر کو جانے کی اجازت کیسے دے دوں؟ جلدی سے کچھ تازہ سُنا دیجئے اور پھر خدا حافظ۔
حامد: بہتر۔ ایک غیر مطبوعہ نظم سُن لیجئے۔ یادوں بھری آج کی ہماری اس گفتگو سے بھی مربوط ہے اور آج کل یہاں میرے آس پاس، اندر باہر ہر سُو بکھرے پَت جھڑ کی تصویر بھی ہے۔ نظم کا عنوان ہے: ”دِن آغاز ہُوا“۔ سماعت فرمائیے:
دن آغاز ہُوا
اک آوارہ دن آغاز ہُوا
اک آوارہ پت جھڑ جیسا دن آغاز ہُوا
لان میں دبکے، میپل کے بوسیدہ پتے اپنی مٹھی کھولتے ہیں
جانے، کون زبان میں یہ کیا بولتے ہیں!
میں تو اتنا جانتا ہوں
عمر کی ڈھلتی دھوپ میں یادوں کی مٹّی بھی سونا لگتی ہے
کوئی بتائے
کون یہ سونا آنکھ میں بھر کر
پہروں آوارہ پھرتا ہے
سرمائی کہرے میں چُھپتی جھیلوں پر
بیتے کل کے اونچے نیچے ٹِیلوں پر
بس اک دن کو ساتھ لئے
سانس میں بجھتی رات لئے
کوئی بتائے
کیسے، کب
یہ ماضی کا جلتا بجھتا در باز ہُوا !؟
دن آغاز ہُوا۔
طارق: بہت خوب، ایک تو نظم کی تاثیر اور غنائی حُسن اور اُس پر آپ کا پڑھنے کا انداز، یہ ریڈیائی لب و لہجہ۔۔۔سبحان اللہ۔ میرا خیال ہے حامد، کہ دِن کے آغاز کے اس خوب صورت شعری اعلان کے ساتھ ہی ہم اپنی گفتگو کا بھی اختتام کرتے ہیں۔باتیں تو بہت سی باقی ہیں۔۔۔آئندہ کے لیے۔۔۔ یار زندہ صحبت باقی!
حامد: آپ کا شکریہ اور……خدا حافظ

Leave a Reply

Back to top button